New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 10:19 PM

Urdu Section ( 8 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

Compilation and Formulation of the Qur'an مَعَھُمُ الْکِتٰبَ با لْحَق

 

 

شیخ راشد احمد ( القرآن ٹرسٹ)

قرآن کریم میں کِتابً کا لفظ قانونِ الہٰی یا ضابطہ الہٰی کے لئے آیا ہے او رچونکہ قرآنِ کریم خود ضابطہ الہٰی کا مجموعہ خاص ہے اس لئے یہ ایک محفوظ شکل میں مرتب ‘‘ کتاب اللہ ’’ ہے ۔ قرآن کریم کی تعلیم کا بنیادی نقطہ ‘‘ قانون مکافات عمل ’’ ہے یعنی  اللہ کا یہ قانون ہے کہ انسان کا کوئی عمل بغیر نتیجہ نہیں  رہ سکتا ۔ سورہ انفطار میں اللہ فرماتےہیں ۔ وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ ۔ كِرَامًا كَاتِبِينَ ۔ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ( 82:10:11:12) تم پر ایسی قوتیں مسلط ہیں جو تمہیں ہر طرح سےاپنی نگرانی میں لئے ہوئے ہیں  وہ ‘‘معزز لکھنے والے’’ ہیں جو یہ جانتےہیں کہ تم کیاکرتےہو ۔ صحرائے عرب میں مشکیزہ یا بوری کے منہ کوسی کر بند کردینے کو کَتَبَ کہتے تھے یہیں سےلفظ کِتَابً ماخوذ ہے، جس سے مراد منتشر اوراق کی حلقہ بندی  کر کے انہیں اس طرح جمع اور یکجا کر دینا تھا جس طرح بوری میں سامان بند کر کے اِسے اوپر سے سی دیا جاتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم کو اللہ نے کِتَابً کہا ہے تو قرآن کریم منتشر اوراق ، کھجوروں کے پتوں یا ہڈیوں کے ٹکڑوں پر بکھرا ہوا نہیں تھا ، بلکہ ایک مجموعے کی شکل میں مرتب شدہ  تھا، منتشر حالت میں اِسے  کِتَابً کہا ہی نہیں جاسکتا تھا ۔ قرآن کریم میں کِتَابً کے معنی فیصلہ اور حکم کے بھی آتے ہیں قرآن میں ہے۔  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ( 2:178) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ( 2:183) اِن آیات میں یہ لفظ فرض ، لازمی و راٹل قانون کے معنوں میں آیا ہے  یعنی جو کام قانوناً لازم قرار دیا جائے ، اِسی لئے مجموعہ قرآن کو کِتَابً کہا جاتاہے  کیونکہ اِس میں اللہ کے احکام جمع ہیں، جب قرآن کو کِتَابً کہا گیاہے تو اِس   کے معنی  ایک جگہ محفوظ اٹل ضابطہ قوانین کے ہیں ۔ کتاب  تو کوئی بھی ہوسکتی ہے مگر اللہ نے قرآن کو الکتاب کہہ کر مخصوص کردیا یعنی الکتاب صرف اور صرف قرآن کریم  ہی ہے، جس میں انسانوں  کے لئے معلومات ، تعلیمات ، احکامات او رہدایات یکجا اور محفوظ ہیں۔

قوموں کی زندگی میں  تباہی و بربادی ‘‘مادی اور نفسیاتی ’’ اسبا ب کے ذریعے سے آتی ہے ، مادی  اسباب طبیعی قوانین تعلق رکھتے ہیں اور نفسیاتی اسباب معاشرتی قوانین سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم نے ایک عظیم حقیقت  کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ بتاتا یہ ہے کہ انسانوں کی زندگی میں آسانی او رمشکلات کا انحصار دو قسم کے قوانین کی نگہداشت یا اِن سے غفلت برتنے پر ہے، ایک طبیعی قوانین ہیں جو خارجی کائنات کی طرف و دیعت کئے گئے ہیں او ریہ قوانین کائنات کے ذرے ذرے میں پنہا ں ہیں ۔دوسرے معاشرتی قوانین ہیں جو بذریعہ وحی اِنسان کو عطاء کئے گئے ہیں۔ خارجی کائنات میں تو اللہ کے عطاء کردہ طبیعی قوانین از خود کار فرما ہیں ، مگر انسانی معاشروں میں اللہ کی عطا ء کردہ وحی کا نفاذ انسانوں کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ انسانوں  کی راہ نمائی  کے لئے جو کچھ اِس وحی کے مجموعہ ( الکتاب) میں بتایا جار ہا اِس کے دو حصے ہیں، ایک حصہ طبیعی یا قوانین  فطرت (Law of nature) پر مشتمل ہیں اور دوسرا حصہ معاشرتی  قوانین پر مشتمل  ہیں جنہیں مستقل اِقدار ( Permanent value) یا اِخلاقی قوانین بھی کہتےہیں ، اِن دونوں حصوں ( Portion) کا علم حاصل کرنا اور اِن کو پیشِ نظر رکھنا انسانوں کی ذمہ داری ہے۔ طبیعی  قوانین ہوں یا معاشرتی قوانین اِن سے بر آمد ہونے والے نتائج کااطلاق  انسانوں کی ‘‘ معاشرتی زندگی’’ پر ہوتا ہے۔اِن دونوں قوانین کو مجموعی طور پر قرآن حکیم نے ‘‘الکتاب’’ کہا ہے الم (2:1) ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (2:2) مفہوم :اللہ جو تمام جہانوں کا مالک ہے اُس کی طرف سے ۔ یہ ایک خاص کتاب ہے  یہ کائنات  میں پوشیدہ طبیعی  معلومات، معاشرتی  تعلیمات  اور احکامات  میں کوئی الجھن ، کوئی پیچیدگی ، کوئی ٹیڑھ پن او رکوئی مخمصہ  نہیں، اِس میں موجود معلومات ، تعلیمات اور احکامات میں ہدایت ہے انسانی  حقوق کی نگہداشت کرنے والوں کے لئے ۔ جو قوم یا افراد اپنی زندگی کے معاملات میں ‘‘الکتاب’’ میں موجود  طبیعی معلومات ، معاشرتی تعلیمات اور الٰہی اِحکامات کو پیش نظر رکھتی  ہے اور اِن الگ الگ حصوں پرمتوازن ویکساں بیک وقت عمل کرتی ہے، یعنی طبیعی  قوانین پر تحقیق او رمعاشرتی تعلیمات کی پابندی اور اِلٰہی اِحکامات کو قانون کا درجہ عطاء کر کے اِن کے مطابق زندگی بسر کرتی ہے اِس طرح وہ سلامتی کے راستے پر چل پڑتی ہے اُن کی زندگی مسرتوں کے جھولوں میں جھولتی ہے، یہی  اسلام ہے۔

قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کے صحیح اور یقینی ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے، اِس کی ترتیب و تشکیل ( Formulation) میں کوئی  ذہنی اور نفسیاتی اُلجھن نہیں ہے اس لئے اِس کے اُصولوں  اور ہدایت سےدِل میں کسی قسم کا اضطراب پیدا نہیں  ہوناچاہئے ، لیکن کوئی فارمولا کتنا ہی ٹھیک کیو ں نہ ہو، اِس کی کامیابی  کے لئے ضروری  ہے کہ اِس میں ملاوٹ ( Adulteration) نہ کیا جائے ، اِس پر خالصتاً عمل کیا جائے، اگر کوئی شخص کچھ اجزاء ایک فارمولے کے لے لے اور کچھ اجزاء کسی او رمارفولے کے لے تو اپنے پروگرام کےلئے کتنی ہی  محنت کیوں نہ کرے، اسے کامیابی حاصل نہیں  ہوسکے گی۔ جو مریض کچھ دوائیاں  ڈاکٹر کے نسخہ سے لے لیتا ہے او رکچھ کیسی عطائی حکیم کےنسخے سے اور دونوں کو ملا کر اپناعلاج  شروع کر دیتا ہے ، وہ شفاء کے بجائے موت کو آواز دیتا ہے ، قرآن کی اصطلاح میں اِسے ‘‘شرک’’ کہتے ہیں ۔ جو قوم اللہ کی عطاء کردہ الکتاب کے ساتھ انسانوں کی فکر پر مبنی  کتابوں سے ہدایت لے کر اپنے لئے نظام زندگی کی واضع کرتی ہے وہ نظام شرک میں زندگی  گزارتی  ہے۔ جو قوم الکتاب کے کسی ایک حصے پر عمل کرتی ہے اور دوسرے حصوں کو نظر انداز کرتی ہے اِن کے حصے میں بھوک، تنگدستی، بے حیائی  ، فساد اور ذلت و خواری آتی ہے۔الکتاب کے کسی ایک حصے کو اپنانے کےمعنی یہ ہیں کہ ‘‘ جو قوم مستقل اِقدار پر مبنی تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر معاشرے  کی تشکیل کرتی ہے، لیکن طبیعی  قوانین (Law of nature) یعنی طبیعی  علوم کی تحقیق ( Physical science) سے پہلو تہی کرتی ہے وہ خانقاہیت کی زندگی بسر کرتی ہے جس سے وہ دنیا میں زندہ قوموں  کی صف میں کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہتی ‘‘اِس کے برعکس’’ جو قوم صرف طبیعی  قوانین کی تحقیق پر انحصار کرتی ہے او رمعاشرتی تعلیمات  میں موجود مستقل اِقدار کو اہمیت  نہیں دیتی بلکہ اِن سے اعراض  برتی ہے، اِس کا معاشرہ اِخلاقی نا ہمواریوں کی نذر ہوجاتا ہے، جس کے سبب یہ قوم بھی تباہ و برباد ہوکر راکھ کا ڈھیر ہوجاتی ہے، اور جو قوم الکتاب کے تینوں حصوں کو لازم و ملزوم سمجھ کر اِن تینوں حصوں پر عمل کرتی  ہے وہ زندگی کے سفر میں فلاح و فتح پاتی ہے۔

قر آن حکیم اِس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے سوال کرتا ہے ۔ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (2:85)  تو کیا تم الکتاب کے ایک  حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کرتے ہو؟ تو اس کی سزا جو تم میں ایسا کرتا ہے سوائے اس کے کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں رُسوائی  ہو اور آخرت کے دن زیادہ سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتےہو۔

 یعنی قرآن حکیم نے کہا کہ تمہاری حالت یہ ہے کہ تم الکتاب کے کسی ایک حصہ پرایمان رکھتے ہو اور اس کے دوسرے حصوں سے انکار کرتے ہو، الکتاب سے اِس قسم کا برتاؤ کرنے کا لازمی نتیجہ اِس کے سوا کچھ او رہو ہی نہیں سکتا کہ اسی قوم کے حال کی  زندگی بھی ذلت اور رسوائی کی زندگی ہو اور مستقبل  کی زندگی بھی اندوہناک تباہیوں سے لبریز یعنی دُنیا میں بھی ذلت اور آخرت میں بھی رُسوائی ۔ کیونکہ قانون  مکافات  کی نگاہوں سے انسانوں کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح انسانی زندگی کے حصے بخرے نہیں  کئے جاسکتے، اُسی طرح اِس الکتاب کو بھی حصوں میں تقسیم یا ٹکڑے  ٹکڑے نہیں کیا جاسکتا ، اِسے مانا جائے گا کہ سب کا سب مانا جائے گا او رعمل کرنا ہوگا تو مکمل الکتاب پر عمل کرنا ہوگا، اور اِنکار کیا جائے گا تو پوری الکتاب سے اِنکار کیا جائے گا، دراصل الکتاب کے ایک حصے کا انکار پوری الکتاب کا انکار ہے۔

جس طرح جسم کے دو ٹکڑے کردینے سے کوئی ایک حصہ بھی زندہ نہیں رہ سکتا ، اُسی طرح جو قوم الکتاب کے اُس حصے پر جو حصہ اپنے مفاد کے مطابق مفید اور فائدے مند ہو اُس پر عمل کرتی ہے اور دوسرے حصوں کو چھوڑ دیتی ہے تو اِس کا نتیجہ کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ ایسی قوم کے حال کی زندگی بھی ذلت و رُسوائی کی زندگی ہو اور مستقبل کی زندگی بھی اندوہناک تباہیوں سے لبریز یعنی دُنیا میں بھی ذلت اور آخرت میں بھی رُسوائی ۔ جو لوگ یا جو قوم محض ذاتی  مفاد کی خاطر ‘‘ الکتاب’’ کے ساتھ اِس قسم کا سلوک کرتی ہے اور طبیعی  زندگی کی آسائشوں کے لئے آخرت کی سر فرازیوں کو بیچ ڈالتی ہے،اُس کی یہ زندگی بھی تباہ ہوجاتی ہے اور آخرت  کی زندگی بھی خراب ، اور یہ تباہی بڑھتی  ہی چلی جاتی ہے اور کوئی ایسا نہیں ہوتا جو اِس تباہ کُن حال سے نکلنے میں اِ س قوم کی مدد کرسکے!

جو قوم الکتاب کو جھٹلا  کر طبیعی  علوم پر تحقیق اور معاشرتی تعلیمات کی پابند نہیں رہتی وہ اپنے معاشرے میں اخلاقی نا ہمواری  پیدا کرکے فتنہ و فساد برپا کردیتی ہے، اُس کے معاشرے میں بد عملی ( Corruption) گمراہی ، فساد جھگڑے ، فساد، تنازعے ( Anarchism/Turmoil) عام ہوجاتے ہیں۔اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اِن کے ہاں کی حکومت کے زیر انتظام اداروں کی کار کردگی اور نظم و نسق بگڑ جاتا ہے، اِس کے سبب ملک کے حفاظتی انتظامات  اِس قدر ناقص او رکمزور ہوجاتے ہیں کہ یہ قوم زمینی اور آسمانی حادثات کامقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتی ، قرآن نے اقوام سابقہ کے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلاں قوم  سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئی ، فلاں آندھی کے طوفان کامقابلہ نہ کرسکی، فلاں کو آتش فشاں کی آتش ریزی اور سنگ باری نے ہلاک کردیا۔ تباہی کی دوسری  شکل یہ ہوتی ہے کہ اِس    قوم میں خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے ۔ سورۃ انعام  میں اللہ فرماتے ہیں۔

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ (6:65) اِن سے کہو کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ تم پر اُوپر سے تباہی کے اسباب بھیج دیا نیچے سےیا تم مختلف پارٹیوں میں بٹ کر باہمی خانہ جنگی شروع کر دو، دیکھو ! ہم کس طرح حقائق کو مختلف انداز سے تمہارے سامنے لاتے ہیں تاکہ بات سمجھ جاؤ۔ اِس آیت میں فوق اور  تحت کے عذاب سے مراد ہواؤں ، آندھیوں یا زلزلہ وغیرہ لی گئی ہے مگر زیادہ قرین قیاس کسی بھی قوم کا اعلیٰ و ادنیٰ طبقہ ہیں،بعض اوقات ایک قوم اس لئے ہلاک ہوجاتی ہے کہ اُن کااعلیٰ طبقہ خراب ہو جاتاہے اور بعض اوقات اس لئے کہ وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتےہیں یعنی عوام الناس یا ادنیٰ طبقہ خراب ہوجاتا ہے ، تو وہ بڑوں کو ہلاک کردیتاہے اور باہم بغض اور عداوت کا رنگ اُن کے لئے عذاب کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔

اُمت مسلمہ کی ہلاکت کا سبب اِن کا باہمی بغض ، عداوت اور فساد ایک عذاب کی صورت اختیار کرچکا ہے، اِن کے اپنے لوگوں کے سواء دوسرا دشمن اِن پر کوئی مسلط نہیں  جو اِن کوبالکل نیست و نابود کردے بلکہ یہ قوم باہم جنگ و جدال سےہلاک اور کمزور ہوتی چلی جارہی ہے ، مسلمانوں کی تاریخ پر جو شخص  غور کرے گا وہ دیکھ لے گا کہ مسلمانوں کے باہمی ‘‘ اختلافات ’’ ہی اِن میں فساد اور اِن کی ہلاکت کا سبب بنے ہیں ۔یہ ایک عام اُصول ہے کسی بھی  قوم کے باہمی اختلافات کے ماحول سے کوئی دوسری قوم فائدہ اٹھاکر، اِس فسادی قوم پر حملہ کردیتی  ہے جو لسانی اورمذہبی فساد میں مبتلا ہو اور اِس طرح اِس کی تباہی کاموجب بن جاتی ہے۔ اگر یہ حملہ آور قوم میں الکتاب میں درج معلومات ، تعلیمات  اور احکامات پر ایمان نہیں رکھتی تو یہ مقابلہ دونوں قوموں کی صرف طبیعی قوتوں کا ہوتاہے اور نوع انسان کو ایک شکست اور دوسری کامیابی سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔کیونکہ  اِس سے ایک مطلق  العنان قوت کی جگہ دوسری مطلق العنان قوت برسراقتدار آجاتی ہے۔ لیکن اگر یہ دوسری قوم مجموعی طور پر ‘‘ الکتاب’’ کی پابند  ہوتو اِس کا غلبہ انسانیت  کے لئے موجب برکات و سعادت ہوتاہے کیونکہ اس کا غلبہ عدل و احسان کی برتری کےلئے ہوتا ہے ۔ بہر حال یہ ہے اقوام کی وہ غلط روش یعنی ‘‘الکتاب’’ کے قاعدے، قانون اور نسخہ کو اہمیت نہ دینا اور اُن کی غلط رو ش کےنتائج جو اِس قوم کی تباہی بن کر اِس دنیا میں اِس قوم کے سامنے آجاتے ہیں ۔

قرآن حکیم میں اقوام سابقہ کی تباہی کی مختلف شکلوں کا ذکر تفصیل سے آیا ہے، اِس میں اقوام سابقہ کی تاریخی سر گزشتوں ( Biographies) کے بیان  کا اندازہ کچھ اِس قسم کا ہے کہ وہ ایک  قوم کے جرائم ( بد عملی اور اخلاق نا ہمواریوں ) میں اِس جرم کو نمایاں طور پر سامنے لاتا ہے جو اِس قوم میں سے  زیادہ عام ہوچکا  تھا اور وہ جرم اُس قوم میں طرح طرح کی خرابیو ں کا  موجب بن رہاتھا۔ ایسے نا ہموار حالات میں اِن کی طرف اللہ کا نبی  اللہ کا رسالہ ( الکتاب) پہنچانے  والا اِن کی طرف آتا ہے جو اُنہیں الکتاب کے ذریعے اُن کی اُس غلط روش کے خطرناک نتائج سے آگاہ کر کے، اُنہیں  صحیح روش پر چلنے کی تلقین  کرتا ہے، وہ قوم  اُس رسول کی ہدایت پر کان نہیں  دھرتی او راپنی غلط روش میں آگے ہی آگے بڑھے چلی جاتی ہے اور بلآخر اُن کی غلط روش زندگی کے نتیجے میں کوئی زمینی یا آسمانی  حادثہ اُس قوم کو تباہ کر دیتا ہے ۔ بظاہر اُن کے اُس اِخلاقی جرم اور اُس قدرتی حادثے میں کوئی ربط نظر نہیں  آتا، اس لئے عام طور پر یہ سمجھا جاتاہے کہ اللہ نے اِس قوم کی تباہی کے لئے اِس ‘‘عذاب’’ کو فوق الفطرت (Super Natural) طریقہ سے بطور معجزہ نازل کردیا تھا۔ لیکن درحقیقت بات یہ نہیں  ،اُس قوم کی اُس غلط روش اور اُس تباہی میں گہرا ربط ہوتا تھا ، اُس قوم قوانین فطرت کے سبب رونما ہونے والے حادثات سے محفوظ رہنے کی حفاظتی تدابیر کی طرف سے غافل اور لا پرواہ ہوجاتی تھی ۔ اللہ کا رسول انہیں صرف ‘‘ اخلاقی نصیحت ’’ ہی نہیں کرتا بلکہ اِس بات سے خبر دار اور آگاہ ( Warn) کرتاتھا کہ معاشرے میں معاشی نا ہمواری اور عدم مساوات کے سبب اخلاقی ناہموار یاں اور جرائم جنم لے رہے ہیں اور اِن جرائم کی وجہ سے ایک معاشرے میں بے اطمینانی پھیل رہی ہے اور دوسرے وہ اپنی قومی حفاظتی تدابیر کی طرف سے لا پرواہ ہوچکے ہیں ، اِس لئے اگر کائنات میں رو نما ہونے والے  فطری حادثات میں سے کوئی ایک حادثہ بھی آپہنچا  تو وہ انہیں تہس نہس کر کے رکھ دے گا۔ کائنات میں فطری یا قدرتی حادثات آج بھی  کچھ کم نہیں ہوتے لیکن ایک تو اُس زمانے کے عام جغرافیائی حالت کی وجہ سے اور اُس زمانے میں سائنٹفک تحقیقات و ایجادات کے فقدان کے باعث یہ حادثات بڑی سخت تباہی کا سبب بن جاتے تھے ۔ آج بھی جن قوموں میں معاشرتی خرابیاں عام ہوجاتی ہیں اور وہ زمین پر رونما ہونےو الے یا قدرتی حادثات کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات نہیں کرتیں ، اِس قسم کے حادثات انہیں بری طرح تباہ کردیتے ہیں ، اس کے بر عکس ، جو اقوام اِن حادثات کی روک تھام کی حفاظتی تدابیر  اِختیار کر لیتی ہیں ، وہ اِن تبا ہیوں  سے کسی حد تک محفوظ رہتی ہیں لیکن  معاشرتی خرابیوں کی وجہ سے اِن کی تباہی کی گئی  اورشکلیں  پیدا ہوجاتی ہیں، یہ تھا وہ ربط اُن اقوام  کی معاشرتی خرابیوں  اور قدرتی  آفات و حادثات سے اُن  کی تباہی میں ۔  اُس بد مست قوم کے جو  افراد اللہ کے نامزد کردہ نبی و رسول کی باتوں کو سچا سمجھتے تھے وہ اگراتنی قوت نہیں رکھتے کہ اُس قوم کے معاشرہ میں انقلاب  پیدا کردیں یا انفرادی طور پر اپنی حفاظت کا سامان خود کرلیں تو وہ اِس حادثہ کے رونما ہونے سے پہلے وہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل ہوجاتے اور وہاں اپنے معاشرے کی تشکیل  نوکر لیتے تھے ، اُن کی اِس طرح منتقلی  کو قرآن حکیم  کی اِصطلاح میں ہجرت کہا جاتا ہے۔

قر آن حکیم قوموں کی تباہی کے تذکرے کا سلسلہ ‘‘ قوم نوح’’ سے شروع کرتاہے، وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اُس قوم میں معاشی نا ہمواری کے سبب طبقاتی امتیاز اس قدر شدید ہوچکا تھا کہ دولت مند طبقہ محنت کش اور مزدوروں کو بڑی ذلت کی نگاہ سے دیکھتا  اور اِن کے ساتھ اُٹھنےبیٹھنے تک کو اپنے لئے باعث ذلت سمجھتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اِس بستی کی جغرافیائی پوزیشن ایسی تھی کہ وہ نشیب میں واقع تھی اور بارش کےوقت اِرد گردکی پہاڑیوں کا پانی اِس راستے سے گزرتا تھا ، چونکہ قوم کے رِزق کے ذرائع پر قابض دولت مند طبقہ اپنی دولت کےنشہ میں بدمست تھا اِس لئے وہ ممکنہ سیلاب یا طوفان کے خطرے  سےبچاؤ کےلئے کوئی حفاظتی تدبیر نہیں سوچتے تھے۔حضرت نوح علیہ السلام اِن میں پیدا ہوئے انہوں نے قوم اور اُن کے وڈیروں کی توجہ اِن کی غلط روش اور غلط طرز عمل کی طرف دلائی، لیکن قوم کے دولت مند طبقے نے اِن کی سخت مخالفت کی ۔ جہاں تک سیلاب کے خطرے کاتعلق  تھا، انہوں نے اس خطرے سےبھی قوم کو آگاہ کیا لیکن انہوں نے اِس کی طرف دھیا ن ہی نہ دیا، خطرہ اِس طرح سر پر منڈلا رہا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کی بتائی ہوئی تدبیر کے مطابق ایک سفینہ ( جہاز) بنانا شروع کردیا، وہ لوگ اِس عمل پر بھی اُن کا مذاق اُڑاتے رہے۔ یہاں تک کہ اُن کی  بد مستی میں وہ وقت آپہنچا کہ ایک بڑے زور کی بارش ہوئی اور اِرد گرد سے پانی اُمنڈ کر آگیا، جہاز نے حضرت نوح علیہ السلام  اور اُن کے ساتھیوں کو بچالیا اور باقی قوم کے افراد پانی کے طوفان میں غرق ہوگئے۔اِسی طرح قوم عاد کے متعلق قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ وہ قوم بڑی قوت و حشمت اور دولت و ثروت کی مالک تھی، سامان زندگی     کی فراوانیاں ، وسیع و عریض محلات ، مستحکم قلعے لیکن رفتہ رفتہ یہ قوم معاشی نا ہموار ی کا شکار ہوگئی، رزق کے وسائل پر قابض افراد کے ظلم و ستم کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے پنجہ فولادی کی گرفت سے کمزوروں کی ہڈیاں توڑ دیا کرتے تھے۔ دولت و قوت کی فراوانی اور ظلم و تشدد اور استبدادی حکومت کی حدود فراموشی او رمعاشی  نا ہمواری سے معاشرے میں جو خرابیاں پیدا ہوسکتی  تھیں وہ  سب اُن  کے معاشرے میں موجود تھیں ۔ حضرت ہود علیہ السلام نے ہزار کوشش کہ  وہ اپنی غلط روش کو چھوڑ کر ‘‘ الکتاب ’’ کو سمجھ لیں ،لیکن انہوں نے اُن کی ایک نہ سنی اور خرابیاں بڑھتی اور قدرتی آفات اور قومی حفاظتی  تدابیر کی طرف سے اِس قوم میں غفلت او رلا پرواہی عام ہوتی چلی گئی ۔ ایک دفعہ آندھی کا ایسا خطرناک طوفان  آیا کہ اُس نے اُن کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا اور یوں وہ قوم تباہ ہوگئی ۔ دولت و قوت کے نشہ  نے اُن   کو ایسا اندھا او ربہرہ کر دیا تھا کہ اِن کی عقل و فکر او ربدمستی اُن کے کسی کام نہ آسکی۔

قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ قرآن حکیم ہمارے سامنے لاتا ہے ۔ اِس قوم کے وڈیروں اور ذی قوت طبقے نے رزق کے سر چشموں  پر ذاتی قبضہ جما رکھا تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کمزور اور غریبوں اور دیگر جانداروں کو پیٹ بھر کھانا نہ ملتا تھا ۔ حضرت صالح علیہ السلام نےاُن کی توجہ اُن کی غلط روش او ر اُس  کےنتیجے میں پیدا ہونے والی معاشرتی خرابیوں کی طرف کرائی اور اُن سے کہا ‘‘ اللہ کی زمین اور اُس سے پیدا ہونے والے رزق کو اللہ کی مخلوق کے لئے یکساں طور پر کھلا رہنے دو’’۔معاشرے میں معاشی نا ہمواریاں مت پیدا کر و اِن ناہمواریوں  کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ دولت مند طبقہ بغیر محنت و مشقت کے ‘‘امیر سے امیر تر’’ ہوتا چلاجارہا ہے اور دولت کی فراوانی نےانہیں ایسا بد مست کردیا ہے کہ وہ انسانوں کی فلاح و بہود (Welfare) اور اُن کی حفاظتی  منصوبہ بندی کی طرف مد ہوش ہوچکے ہیں او رنیچے کا کمزور و غریب طبقہ اپنی مصیبتوں سے اِس قدر پریشان ہے کہ اسے کسی دوسری طرف  دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں ! تمہارے علاقے میں آئے دن زلزلے آتے رہتے ہیں ، اگر تم نے اِس سلسلے میں حفاظتی تدابیر  اختیار نہ کریں تو تم تباہ ہو جاؤگے ۔ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی ایک نہ سنی اور آخر زلزلے کے جھٹکوں نے انہیں تباہ  کردیا۔ اسی طرح  حضرت لوط علیہ السلام کی قوم  بحیرہ  میت ( Dead sea) کےاِس علاقے میں آباد  تھی جو آتش فشاں  پہاڑی کے دامن میں تھا۔ رہزنی اور قزاقی اِن کاشیوہ تھا، چرب زبانی اور جنسی بے راہ روی اِس قدر عام ہوچکی تھی کہ اِس کو معاشرے میں معیوب  ہی نہ سمجھا جاتا تھا ۔ ظاہر ہے ایسی وحشی اور جاہل قوم اپنے معاشرے کےلئے حفاظتی  اقدامات کیا کرتی؟ حضرت لوط علیہ السلام    نے ہزار کوشش کی کہ انہیں راہ راست پر لے آئیں لیکن انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی ایک نہ مانی اور اپنی انسانیت  سوز  حرکات میں آگے ہی آگے بڑھتے ہی چلے گئے۔ معاشرے  کا نظم و نسق تہس نہس ہوگیا اور کوہ آتش فشاں کی سنگ باری نے انہیں  تباہ کردیا۔

قرآن حکیم ہمیں مدین  میں بسنے والی شعیب علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتاتے ہوئے  کہتا ہے کہ قوم شعیب کو بڑا کاروباری فروغ حاصل تھا لیکن ان  کا یہ فروغ ان کے نظام سرمایہ  داری کا رہین  منت تھا، اُن کی اِنتہائی کوشش یہ ہوتی تھی کہ ‘‘ دوسروں سے لیا زیادہ جائے اور دیا کم جائے’’ حضرت شعیب علیہ السلام انہیں الکتاب کی حکمت سے آگاہ کرتے اور اِن سے کہتے ‘‘ تم اپنے ناپ تول کے پیمانے صحیح رکھو ، دھوکا اور فریب سے لوگوں کی چیزیں  نہ ہتھیا لیا کرو’’، اِس سے معاشرے میں سخت نا ہمواریاں پیدا ہوجاتی ہیں جن کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ۔ دولت کے نشے میں بدمست  اُن کی قوم کا سرمایہ دار طبقہ ان کا مذاق اڑاتا اور حضرت شعیب علیہ السلام سے کہتا کہ ‘ تم اللہ پرست  انسان ہو تو اپنے صوم و الصلوٰۃ سے کام رکھو’ تمہیں اِن دنیاوی دھندوں  سےکیا واسطہ؟ یہ ہمارا کاروبار ہے ، اسے ہم جس طرح چاہیں سر انجام دیں ۔ غریبوں اور ناداروں  کا سارا ‘‘ درد’’ تمہارے  ہی جگر میں  کیوں ہے؟  ہم جانتے  ہیں کہ یہ غریب اور کمزور لوگ کس سلوک کے مستحق  ہیں او رانہیں کتنا دینا چاہیے۔ اِس قسم کی باتیں  کر کے تم  انہیں یونہی  سر نہ چڑھاؤ (11:87) اِس قسم کے غلط  معاشی نظام سے معاشرے کے نظم و نسق میں جو ابتری پھیل سکتی ہے وہ ہم اپنے پاکستانی معاشرے میں بھی اپنی کھلی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں ، اِس کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتاتھا ۔ یہ ہیں اُس  تباہی کی مثالیں  جو معاشی  ناہمواری ، رِزق کی غیر منصفانہ  تقسیم اور اِس کے سبب معاشرے کے نظم و نسق کی خرابی کی وجہ سے قدرتی حادثات اور دہشت گردی سے حفاظت کی تدابیر اِختیار نہ کرنے کے باعث قوموں پر تباہی وار د ہوتی ہے۔ اللہ کے انبیاء آتے رہے اور انسانوں کا تزکیہ نفس ( اِن کی نفسیاتی  اُلجھن حوس، عداوت، بغض ، نفرت ضبط) کرتے رہے ، اور الکتاب کی غرض و غایت سے آگاہ کرتے رہے۔

امت مسلمہ ‘‘ الکتاب’’ کاعملاً انکار کر چکی ہے یہ قوم نہ طبیعی علوم کو اہمیت دے رہی ہے نہ ہی اخلاقی اقدار کی پابند رہی ہے، یہ صرف مادی نظریہ حیات ہی کے ہوگئے ہیں، مال و دولت کی حوس میں اللہ کے عطاء کردہ  نظریہ حیات ( دین) کی اِنہیں پرواہی  نہیں رہی اور اعتقاد ہ ہوگیا ہے کہ ہر طرح کے جرائم تو اللہ بخش ہی دے گا اِس باطل عقیدے کےسبب اِس نام نہاد اُمت کی حالت یہ ہے کہ اِن کاجرائم پر مسلسل اصرار ہے حالانکہ مغفرت کی اُمید تو اِس حال میں رکھنی چاہئے جب انسان جرائم پر اِصرار نہ کرے یہ مسلم قوم محض ظاہر پرستی کا شکار ہوکر حقیقی نیکی اور تقویٰ کو صرف چند ظاہری مذہبی شعار و اُمور  کی پابندی تک محدود کرکے اندرونی  پاکیزگی اور حقیقی  تقویٰ کی راہوں سے غافل ہوکر مردہ ہوچکی ہے،مسلم قوم پر قانونِ مکافات  کی رو سے عذاب کا آنا تو اِس لئے ضروری ہے کہ یہ قوم ‘‘ الکتاب’’ کی مخالفت کو ترک کر ہی نہیں رہی ہے۔ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو ہی دیکھ  لیجئے بحیثیت  قوم  مسلسل لسانی او رمذہبی فتنے کا شکار ہیں فتنہ دُکھ اور عذاب کو کہتے ہیں ، پاکستان میں سیاسی ، مذہبی اور لسانی بغض و عداوت پاکستانی قوم کے لئے ‘‘عذاب’’ کا رنگ اِختیار کر چکا ہے۔ پاکستانی قوم کی تباہی و بربادی ، زبوں حالی ،ویرانی ، قتل و غارتگری اور دیگر  مصائب اور تکلالیف  کی ذمہ داری ایک حد تک اِس قوم کے سیاسی وڈیروں اور مذہبی وڈیروں کی ناعاقبت اندیشی اور غلط روش پر ہے۔ مذہبی  وڈیرے یہ وہ طبقہ ہے جو اپنے نظریات ، اپنے خیالات  اور ا پنے فرقے کو لازوال سچ سمجھتا ہے جب کہ دوسرے فرقے ، دوسرے خیالات اور دوسرے کے نظریات کوباطل عظیم سمجھتے ہیں۔ یہ ایک سب سے بڑی حقیقت ہے کہ پاکستان مذہبی اور لسانی تعصب کی وجہ سے اپنا معاشرتی توازن کھو چکا ہے ، پاکستانی  انتہا پسندی کاشکار ہوچکے ہیں، کچھ پاکستانی انتہا درجے کے لبرل ہیں اور کچھ لوگ جنون کی حد تک فرقہ پرست ۔ لبرل لوگ مذہبی طبقے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں او رمذہبی طبقہ لبرل لوگوں کے وجود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ۔ اِس اِنتہا  پسندی کا یہ نتیجہ  نکلا ہے کہ آج پورا معاشرہ خوف او ربدامنی کاشکار ہے۔

اِس قوم پرطاری خوف او رموجودہ کسمپرسی اور بے چار گی ،مفلسی اور محتاجی ،بے سرو سامانی اور لاوارثی بڑی حد تک بالائی طبقے کی غفلت کاثمر ہے۔ اِس قوم کی پریشانیاں اور رُسوائیاں بالائی طبقے کی بد نظمی ، بد عنوانیوں اور مفاد پرستوں کا نتیجہ ہے۔ اِس قوم کو کھانے کے لئے روٹی ، پہننے کے لئے کپڑا ، رہنے کے لئے مکان اور دیگر ضروریات ِ زندگی بآسانی میسّر آسکتی تھیں۔ اگر اِس ملک  کے اہل سیاست او راہل مذہب میں بد دیانت ، خائن ، نالائق اور ناہنجار نہ ہوتے ۔ اِس قوم کی مجبوریو ں کا بہت سا بوجھ ہلکا ہوسکتا تھا ، اگر اِن اربابِ نظم و نسق جن کا تعلق لسانی سیاست او رمذہبی سیات سے ہے اِن میں ایسے لوگ نہ ہوتے جو مردوں کے کفن تک اُتار لینے میں کوئی شرم محسوس نہ کرتے ہوں۔ اِس قوم کی بہت سی قیمتی  جانیں پاکستان کی سرحدوں کے اندر بھوک ، سردی اور بمباری  میں ضائع ہونے سے بچ سکتی تھیں اگر یہ جمود و  تعطل کی برف کی سلیں جو اِس قوم کے سروں پر مسلط ہوچکی ہیں ، جذبات ِ مہر و محبت کی گرمی  سے بروقت پگھل جاتیں ۔

ایک مردہ قوم کس طرح زندہ ہوسکتی ہے اس کی حیات نو کے اسباب اِس کے عمل صالح سے پیدا ہوجاتے ہیں کہ وہ بھلائی  کے کام جو انسانوں کی فلاح کاموجب  ہوں اُن کو کرنے میں لگ جائے۔ بلآخر بحیثیت  قوم پاکستانی یہ سب کچھ بھول جائیں کہ یہ ذی قوت و ڈیرے ، اربابِ اِقتدار و سیاست ، اربابِ دولت و سطوت  او رمذہبی  وڈیرے اِس وقت کیا کررہے ہیں، صرف یہ یاد رکھیں ! کہ پاکستان کے خطہ زمین کے تحفظ کے لئے آپ نے کیا کرنا ہے۔ کیونکہ اس وقت حالت یہ ہے کہ پاکستان میں ہمہ گیر خلفشار ہے۔ بد عنوانیوں اور اقراباء پروری نے حکومتی کار کردگی او رملکی نظم و نسق کو بہت بُری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

دسمبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/sheikh-rashid-ahmad/compilation-and-formulation-of-the-qur-an--مَعَھُمُ-الْکِتٰبَ-با-لْحَق/d/100385

 

Loading..

Loading..