New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 05:47 AM

Urdu Section ( 21 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

Terrorism Is the Product of Corrupt Minds, and Arrogant Egos دہشت گردی برے دماغ، سخت دل، اور متکبر انانیت کی پیداوار ہے

 

دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے

شیخ علی گوما

(انگریزی سے ترجمہ  ،  نیو ایج اسلام)

دہشت گردی مذہب کی پیدا نہیں ہو سکتی ۔ دہشت گردی برے دماغ، سخت دل، اور متکبر انانیت کی پیداوار ہے، اور بدعنوانی، تباہی، اور تکبر اس دل میں نا پید ہیں جو  خدا کے ساتھ منسلک ہے ۔

اسلام افراد اور معاشرے دونوں کے طور پر تمام انسانیت کے ساتھ رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا مذہب ہے۔ اسلام لوگوں کو ان کے مذہب، نسل، یا رنگ سے قطع نظر  ایک معزز مخلوق کے طور پر دیکھتا ہے ۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے‘‘اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی’’ [17:70] ۔ اسلام نے ایک ہی  معاشرے میں رہنے والے غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کا ایک اصول پیش کیا ہے : ‘‘جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا۔ خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے’’ [60:8] ۔ خدا غیر مسلموں کے ساتھ یہ کہتے ہوئے   کہ‘‘ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرو (تبروھم )’’ جس میں تمام اچھےاعمال شامل ہیں ۔ گو کہ خدا ہمیں حکم دے رہا ہے کہ تمام اچھے راستے میں غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کرو اس ان کے ساتھ تعاون کرنے کو ترجیحی بناؤ۔

وہ تمام لوگ جو حقیقی معنوں میں اسلام کو جانتے ہیں عالمی امن کے لئے اس کی تشویش سے آگاہ ہیں اس لئے کہ اس نے اسے اس کے  اہم ستونوں میں سے ایک قرار دیا ہے ۔ امن (السلام) اللہ رب العزت  کے ناموں میں سے ایک نام  اور اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے ، اس نے فرمایا  کہ، ‘‘وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بادشاہ (حقیقی) پاک ذات (ہر عیب سے) سلامتی امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے [59:23] ’’۔ اس نے امن کو اپنے بندوں کے لئے سلام بنا یا ہے اور انہیں بھی اسے اپنا سلام بنانے کا حکم دیا ہے، جب بھی وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو  اسب  کا تبادلہ کرتے ہیں، یہ مسجد، اسکول، کارخانے، اور مارکیٹ میں ان کی امتیازی علامت  ہے۔ جنت کا نام دارالسلام رکھا گیا ہے  ، اللہ فرماتا ہے : ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے [6:127] ، اور دیگر بے شمار آیات ہیں جن میں "امن" کا ذکر ہے ۔

اسلام کی آمد کے دن سے اب تک  امن مشرق اور مغرب میں مسلمانوں کی الگ امتیازی علامت  رہا ہے۔ یہ ایک سلام ہے  جو وہ ایک دوسرے کو ‘‘السلام علیکم ’’ کہتے ہوئے پہنچاتے ہیں  جب وہ  ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور بچھڑتے ہیں۔

یہ امن اور سلامتی صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ تمام انسان ان کے مذہب سے  قطع نظر ہمیشہ مسلم ممالک میں امن اور سلامتی میں رہنے کے حقدار ہیں ۔ کسی کی سرحدوں کے اندر ظلم سے دوسروں کی حفاظت ایسی چیز ہے  جسے اسلام لازمی  قرار دیتا ہے اس پر زور دیتے ہوئے اور مسلمانوں کو بات یا عمل سے نقصان پہنچانے اور ان لوگوں کے خلاف دشمنی سے روکتے ہوئے جو  ان کے تحفظ میں ہیں ۔ اللہ رب العزت ظالم سے محبت نہیں کرتا  یا ان کو ہدایت نہیں دیتا، یا تو وہ انہیں اس دنیا میں وقت سے پہلے سزا دیتا ہے، یا  انہیں آخرت میں دوہری سزا کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔

ایسی بہت ساری قرآنی آیات اور احادیث نبوی ہیں  جن میں ظلم کے عدم جواز  ، اس کی غلاظت  اور برے اثرات کا ذکر ہے ۔ احادیث بیان کی گئی ہیں خاص طور پر غیر مسلموں کے ساتھ ظلم کے خلاف تنبیہ کرتے ہوئے  جو مسلمانوں کے تحفظ میں  ہیں یا جنہوں نے  ان کے ساتھ معاہدے کئے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا  کہ " جو کوئی بھی ان کے ساتھ کچھ غلط کرتا ہے جن کے ساتھ  مسلمانوں  نے  معاہدہ کیا ہے انہیں ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے  ان کی صلاحیت سے زیادہ ان پر بوجھ ڈالتا ہے ، یا ان کی مرضی کے بغیر ان سے کچھ لیتا ہے میں قیامت کے دن اس شخص کا مخالف ہوں ۔" 1

اسلام امن اور سلامتی کو فروغ دیتا ہے اس لئے کہ  وہ انسانیت کے لئے وہ زندگی کو مستحکم بنانے اور تمام شعبوں میں ترقی کو ممکن بنانے میں بہت اہم طریقے سے اثر انداز  ہیں ۔ عوام کی ترقی میں  امن اور سلامتی کے اثر کی وسعت کو  سمجھنے کے لئے، ہمیں  جنگ کے تباہ کن اثرات پر ایک نظر ڈالنے  کی ضرورت ہے ،  جیسا کہ ایک کہاوت ہے،‘‘کسی بھی چیز  کی اچھائی اس کے عکس سے  ظاہر ہوتی ہے ۔ چونکہ کمیونٹی کی ترقی اور اس کے فروغ  کے بنیادی اجزاء معاشرے کے افراد کی جسمانی تندرستی ہے  تا کہ وہ اپنا  کردار ادا کر سکیں، ہم یہ پاتے ہیں کہ  جنگیں اور اقتصادی پابندیاں صحت اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہیں ۔

دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لئے ان لوگوں کی طرف سے رواداری جن کی ساری زندگی ایک مذہب پر مبنی ہے اور جس کے ذریعہ انہیں  فتح اور برتری دی گئی ہے، کچھ ایسی چیز ہے جو مذاہب کی تاریخ میں پہلے نامعلوم تھی ۔ جس پر خود مغربی گواہ ہیں ۔ صاحب  علم فرانسیسی اسکالر گستاو لی بون ہم نے کہا کہ،‘‘اس پہلے ذکر کردہ  قرآنی آیات میں  ہم نے دیکھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے تئیں  محمد کی بلند ہمتی عظیم الشان تھی، کچھ ایسا  جو پہلے کےمذاہب خاص طور پر یہودیت اور عیسائیت کے ذریعہ نہیں  بیان کیاگیا ۔ اور ہم یہ  دیکھیں گے ان کے نائبین کس طرح اس پر عمل کرتے ہیں ۔ "

ایسا سوچنا باطل اور ظلم دونوں ہے کہ اسلام دہشت گردی کی وجہ ہے صرف اس لئے کہ  یہ  ایسی جماعتوں کے ذریعہ قائم کیا گیا ہے جنہوں نے خود کو اسلام کے ساتھ وابستہ رکھا ہے  بلکہ یہ دعوی تمام مذاہب کی تباہی کو دعوت ہوگا ۔

مثال کے طور پر، ہمیں یہ پتہ ہے کہ عیسائیت محبت کا داعی ہے ، اور اس کے پیروکاروں کو ظلم و جبر کا شکار بنایا گیا تھا جب وہ کمزور تھے، لیکن کیا ہمیں اس یہ سوچنا چاہئے کہ مسلمانوں اور یہودیوں پر جو  جبر اور تشدد اسپین میں چرچ کے ذریعہ کئے گئے تھے  وہ عیسائیت کی تعلیمات کا نتیجہ تھے ؟ چرچ نے  ابن رشد کے  فلسفے اور نظریات کی اشاعت کی وجہ سے یہودیوں اور مسلمانوں پر اپنا غصہ نکالا ، خاص طور پر یہودیوں کے درمیان، اور یہ فرمان جاری کیا کہ وہ تمام یہودی جو مسیحیت کو قبول نہ کریں انہیں  ملک سے نکال دیا جائے۔ اگر وہ چاہتے  تو  انہیں اپنی جائداد کو فروخت کرنے کی اجازت تھی، لیکن جب وہ چھوڑ دیں تو  انہیں ان کے ساتھ  کوئی سونا یا چاندی لے جانے کی اجازت نہیں تھی، اس طرح وہ  اپنی جائیداد کے بدلے میں تجارت کا مال قبول کرنے کے لئے مجبور تھے ۔ یہودی اپنی زندگی بچانے کے لئے اپنے پیچھے اپنی جائداد  چھوڑ کر اسپین سے بھاگ گئے ، اگرچہ ان میں سے بہت سارے  اپنی غربت کی وجہ سے بھوک اور  سفر کی مشکلات سے شکست کھا گئے  ۔ چرچ نے  1052 عیسوی میں اسپین اور اس کے سرحدی علاقوں سے   تمام مسلمانوں کے اخراج کا حکم  بھی جاری  کیا اگر انہوں نے عیسائیت کو تسلیم نہیں کیا  ۔ ان پر یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ روانگی میں وہ کسی مسلم ملک کا راستہ اختیار نہ کریں  اور جو کوئی بھی اس کے حکم کے خلاف جائے  اسے مار دیا جائے ۔2

ہم بھی عیسائیت کی تعلیمات پر صلیبی جنگوں پر الزام عائد کرنے کے لئے  ناراض  ہیں، اور ہم ان کے اور بعض عیسائی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے معمولات  کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بیسویں صدی، کمیونسٹ اور نازی انقلابات کی تمام بربریت سمیت اس کے انقلابی تجربات کے ساتھ، جلد ہی دوسرے عیسائیوں کے خلاف صلیبی جنگوں کے مظالم کا سامنا کرتی ہے، ان میں سے کچھ نے غداروں کی لاشوں کو  کھیتی کے سامان کی  طرح زمین پر پھیلا دیا ! وائیدھم نے یہ ذکر کیا کہ  وہ جنگیں مظالم سے بھری ہوئی تھیں ، اس لئے کہ علماء  آگ پر تیل ڈالنے کے لئے اور جب وہ شکوک و شبہات اور کمزوری سے شکست کھاتے  تو وہ فوجی مظالم کو بحال کرنے کے لئے ہمیشہ تیار تھے ۔ ہو سکتا ہے کہ فوجی سفاک ہوں  لیکن ایک ایسا وقت تھا جب وہ رحمت کی طرف مائل تھے، جہاں تک علماء کا سوال ہے وہ اعتدال پسندی اور رحمت کو غداری سمجھتے تھے  ۔3

تحقیق کے تعلق سے  شیخ محمد عبدہ کہتے ہیں کہ، "اس تحقیق    کا ظلم و ستم ایسا تھا جو اس وقت کے لوگوں نے کہا کہ  ایک عیسائی ہونا  اور گھر میں کسی کے بستر پر مرنا  تقریبا ناممکن تھا۔" سال 1481 اور 1808 کے درمیان تحقیقات کی  عدالتوں نے 000 ، 340 لوگوں کا فیصلہ کیا تھا جن میں 000 ،200کو زندہ جلا دیا گیا تھا ۔ "4

ہم سے بہت قریب آج افغانستان میں ایسے بہت سارے دیہات ہیں جنہیں ایک شخص کو سزا دینے کی غرض سے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، صرف ایک شخص کو سزا دینے کی غرض سے بغداد آج بھی جل رہا ہے کیوں کہ اس کے پاس  بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود تھے، جس کا ارادتاً جھوٹ کےعلاوہ اور کوئی وجود نہیں تھا۔5

اسی طرح صیہونی تنظیموں کے ذریعہ  واضح اور بے شرم  دہشت گردی کے اس عمل کے لئے یہودیت کی تعلیمات کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا اس لئے کہ تمام مذاہب عوام کے لئے رحمت بن کر آئے تھے اور ان کےدرمیان انصاف اور بخشش کو  پھیلانے کا ایک ذریعہ تھے ۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس تباہی اور  دہشت گردی کے عمل سے انکار کرتے ہیں جو  ہمارے محفوظ ممالک میں ظاہر ہوتے  ہیں، بلکہ  وہ گمراہ  ذہنوں، سنسان  دلوں اور تکبر کا نتیجہ ہیں۔ اللہ فرماتا ہے : ‘‘یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار کیا) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ [35:43] ’’ در اصل اللہ کے کلام  تقریبا براہ راست منطبق ہوتے ہیں جب وہ یہ فرماتا ہے: ‘‘اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ [206 - 2:204] ’’۔

ہم خدا سے دعا گو ہیں کہ وہ اپنی ہدایت سے  ہمیں متاثر کرے اور ہمارے  بچوں، ہمارے ممالک، اور پوری مسلم کمیونٹی پر رحمت نازل کرے ۔ اور خدا سب سے بڑا ہے اور زیادہ جاننے والا ہے ۔

ماخذ :

http://www.ali-gomaa.com/?page=scholary-output&so_details=32

URL for English article:

http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/sheikh-ali-gomaa/terrorism-is-the-product-of-corrupt-minds,-hardened-hearts,-and-arrogant-egos/d/12486

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/sheikh-ali-gomaa,-tr-new-age-islam/terrorism-is-the-product-of-corrupt-minds,-and-arrogant-egos-دہشت-گردی-برے-دماغ،-سخت-دل،-اور-متکبر-انانیت-کی-پیداوار-ہے/d/12698

 

Loading..

Loading..