New Age Islam
Sun Apr 11 2021, 03:15 PM

Urdu Section ( 4 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Real Enemies Of Islam Are Terrorists اسلام کے اصل دشمن دہشت گرد ہیں


شکیل شمسی

4 نومبر 2020

اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے اس وقت تین گروہ ہیں۔ ایک گروہ تو وہ ہے جو مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا بدلہ لینے کے لئے خون بہاتا پھرتا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جواپنے تکفیری نظریات کی وجہ سے خون بہانے کو باعث ثواب سمجھتا ہے اور تیسرا گروہ وہ جو بلا کسی جواز اور بلا کسی سبب کے محض دہشت پیداکرنے کے لئے خون بہاتا ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کے لئے کچھ واقعات یاد دلاتا چلوں۔ہندوستان میں دہشت گردی کا جو پہلا واقعہ مسلمانوں کے ساتھ منسوب ہوا وہ ممبئی میں مارچ ۱۹۹۳ء میں ہونے والے دھماکے تھے۔ یہ دھماکے بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی کے فسادات میں ہونےو الےقتل عام کے بعد انجام دئے گئے تھےاور جنھوں نے یہ دھماکے کئے تھے انھوں نے اپنے خیال میں ان مسلمانوں کے خون کا بدلہ لیا جو ممبئی کے فسادا ت میں مارے گئے تھے، حالانکہ بدلے کے لئے اسلام نے بہت سخت شرائط رکھی ہیں۔

کسی قاتل کے گناہ کا بدلہ اس کے بھائی یا باپ یا کسی دوسرے عزیز یا رشتے دار سے نہیں لیا جاسکتاتو بھلا کسی راہگیر یا بالکل ہی غیر متعلقہ شخص کو مارنے کو کس طرح جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟  اس کے بعد تو ہندوستان میں بم دھماکوں اور دہشت گردی کا ایسا سلسلہ چلا کہ ابھینو بھارت جیسی تنظیم نے اسی لہر میں اپنا زہر بھی ملا دیا اور مکہ مسجد، اجمیر کی درگاہ، سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگاوں میں مسلمانوں کے علاقوں میں بم بلاسٹ کرکے ان کا الزام بھی ان ہی پر تھوپ دیا وہ تو کہیئے کہ ہیمنت کرکرے نے ابھینو بھارت کے دہشت گرد ٹولے کو بے نقاب کر دیا ورنہ سارا ملک یہی سمجھتا کہ مسلمان ہی مسلمان کو مار رہے ہیں۔مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لینے کے نام پر ہی امریکہ میں نائین الیون کا واقعہ انجام دیا گیا۔مگر کیا کسی بے خطا ، کسی نہتے شہری کو قتل کئے جانے کو ایک انتقام کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے؟کیا اسلامی تعلیمات کی رو سے اس قسم کی حرکتوں کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ بہر کیف بے گناہوں کے قتل یا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لینے والے مختلف گروہ اب دنیا بھر میں سرگرم ہوچکے ہیں۔ وہ فرانس کے صدر کے کسی دل آزار جملے کا بدلہ کسی بھی  راہ چلتے شخص سے چکا کر اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں۔اس گروہ کے لوگ اہانت رسولؐ کے معاملے میں یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو کسی کا بھی سر کاٹنے کا حق مل گیا ہے۔ مسلمانوں کے مجروح جذبات پر وہ دہشت گردی کا مرہم لگانا چاہتے ہیں مگر اصل میں وہ تیزاب چھڑک رہے ہوتے ہیں۔یہی لوگ آسٹریا میں راہگیروں کو گولیاں مار کر مسلمانوں کے ساتھ ہو رہی نا انصافی کا انتقام لیتے ہیں اور  ان کی اس ناروا اور غیر اسلامی حرکت کا فائدہ اٹھانے کے لئے ساری دنیا کی اسلام مخالفت طاقتیں مسلمانوں پر تھو تھو کرنے کو کھڑی ہوجاتی ہیں جبکہ ہر سچا مسلمان بھی ان حرکتوں کے خلاف بیان دے رہا ہوتا ہے۔ دہشت گردوں کا دوسرا گروہ ایسا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کوجینے کا حق نہیں۔ یہ تکفیری گروہ مسلمانوں کو مسلک کے نام پر اور غیر مسلم افراد کو مذہب کے نام پر خاک و خون میں غلطاں کرتا ہے اور پھر ان مظلوموں کے لہو سے وضو کرکے نماز پڑھنے کے لئے صفیں باندھ لیتا ہے۔اس گروہ کے لوگ اسکول کی ڈھائی  سو لڑکیوں کو اغوا کرتے ہیں اور ان کو اپناجنسی غلام بناتے ہیں۔ یہ گروہ خود کوکہتا ہے بوکو حرام ( مغربی طور طریقے حرام) مگر خون بہانے کے لئے ہتھیار وہی استعمال کرتا ہے جو مغربی ممالک کی اسلحہ ساز فیکٹریوں میں بنتےہیں، گاڑیاں وہی استعمال کرتا ہے جو اہل مغرب نے فراہم کی ہیں۔

 دہشت گردی میں ملوث گروہ بالکل الگ ہے یہ کبھی مدرسوں میں گولیاں چلاتا ہے، کبھی کسی اسکول میں گھس کر ڈیڑھ سو بچوں کو موت کی نیند سلا دیتا ہے۔ کبھی کسی یونی ورسٹی میں گھس کر گولیاں برسانے لگتا ہے یا پاکستان کے کسی مدرسے میں بم کا تھیلا رکھ کر چلا جاتا ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم  اور آپ سوشل میڈیا پر اسلام کے دفاع میں لگے ہوتے ہیں کہ اچانک خبر آتی ہے کہ کابل یونی ورسٹی میں دہشت گردوں نے گھس کر دو درجن سے زیادہ مسلمان طالبعلمو ں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور ان کی خطا کیا تھی؟ کیا بس یہی کہ وہ اپنے ماں باپ کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کے لئے اس یونی ورسٹی کے احاطے میں داخل ہوئے تھے ؟  ہماری تو سمجھ میں نہیںآتا کہ خود کو دھماکے سے اڑادینے والے شخص کی خودکش دھماکے کے وقت ذہنی کیفیت کیسی رہی ہوگی ؟ہم یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر اسلام جیسے امن پسند مذہب کا رشتہ فساد، تشدد اور قتل وغارت گری سے جوڑنے والی طاقتوں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے اور کب نجات ملے گی عالم اسلام کو ان بھیڑیوں سے جنھوں نے کافروں اور مشرکوں کے ساتھ جنگ کے نام پر سب سے زیادہ خون مسلمانوں کا بہایا ہے؟

4 نومبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/the-real-enemies-of-islam-are-terrorists-اسلام-کے-اصل-دشمن-دہشت-گرد-ہیں/d/123373


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..