New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 02:26 AM

Urdu Section ( 2 Jun 2020, NewAgeIslam.Com)

Pakistan Mullahs Getting Sick in the Grief of Indian Muslims ہندوستانی مسلمانوں کے غم میں دبلے پاکستانی ملا


شکیل شمسی

2 جون 2020

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے مذہبی لیڈروں کو اسلام کے غم میں ایک پل بھی نیند نہیں آتی ہے، کیونکہ اسلام ان کو ہر وقت خطرے میں نظر آتا ہے اور اسلام ان کو سب سے زیادہ ہندوستان میں خطرے میں نظر آتا ہے۔ اسی لئے صبح سے لے کر شام تک ان کی زبان پر صرف ہندوستانی مسلمانوں کا ذکر رہتا ہے، اپنے ملک کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے تو وہ بس ہندوستان کے خلاف زہر اگل کر خود کو سچا پاکستانی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے کئی ملا ہندوستان کی دشمنی میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ منبر پر کھڑے ہوکر جھوٹ بولتے ہیں اور بہتان لگاتے ہیں۔ان کا جمعہ کا خطبہ ہندوستانی مسلمانوں کے درد سے شروع ہوتا ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کے غم میں ہی ختم ہوتا ہے، کیونکہ یہ خطبہ ان کوپاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے لکھ کر دیا جاتا ہے۔جن پاکستانی ملاوں کے جمعہ کے خطبات اور دوسرے اجتماعات کی تمام تقاریر ہندوستانی مسلمانوں کے درد سے بھری ہوتی ہیں ان میں ہی سے ایک ملا ہےجواد نقوی،جس نے ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ان سے جھوٹا اظہار ہمدردی کرنے میں ساری حدیں ہی پار کردی ہیں۔

 اس نے گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں منبر سے یہ جھوٹ بولا کہ ہندوستان میں مودی سرکار نے مسلمانوں کے سامنے تین شرائط رکھی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ وہ ہندو ہوجائیں، دوسری یہ کہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں اور آخری شرط یہ ہےکہ دونوں شرطوں کو نہ ماننے والےمسلمان مرنے کو تیار رہیں۔ اپنے اس جھوٹ کا مزید آگے بڑھاتے ہوئے اس شخص نے ہندوستان کے شیعہ علما پر الزام لگایا کہ ان کے دو گروہوں نے مودی کی طرف سے رکھی گئی ان ہی تین شرائط سے ڈر کر اب حکومت کے سامنے درخواست گزاری ہے کہ شیعہ فرقے کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے۔اس نے کہا کہ اس کو یہ خبریں وکی پیڈیا سے ملی ہے اور اس کی تصدیق ہندوستان میں موجود اس کے ذرائع (ایجنٹوں) نے کی ہے ۔کیا آپ نے کوئی خبر اس طرح کی انڈیا میں سنی؟کون سے شیعہ علما ء ہیں جنھوں نے حکومت کے سامنے یہ تجویز رکھی ہے کہ ان کے فرقے کو غیر مسلم قرار دیا جائے؟ اپنی تقریر میں اس شخص نے ہندوستان کے حالات کو ایسے پیش کیا کہ جیسے ہندوستانی مسلمانوں کو گھر سے نکلتے ہی قتل کردیا جاتا ہے اور جیسے ہر قدم پرمسلمانوں کی ماب لنچنگ ہورہی ہو ،جبکہ کل ہی گجرات میں دو ہندووں کی ماب لنچنگ ہوئی اور کچھ دن پہلے پال گھر میں دو سادھووں کی ماب لنچنگ بھی ہندووں کے ہاتھوں ہی ہوئی اور خود پاکستان میں مشعل خان نام کے ایک مسلم نوجوان کی ماب لنچنگ محض اس لئے ہوگئی تھی کہ اس نے عبد الحمید عدم کا ایک شعر آن لائین پوسٹ کردیا تھا۔ افسوس کہ جواد نقوی جیسے ملا صرف ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہیں ، ان کو کراچی میں ٹارگیٹ کلنگ میں مارے جانے والےدرجنوں مسلمان دکھائی نہیں دیتے،پارہ چنار میں ہر دن بہتا خون نظر نہیں آتا، ہزارہ برادری کے لوگوں کو چن چن کر قتل کئے جانے ، مزاروں، درگاہوں اور امام باڑوں پر ہونے والے خود کش حملے اور ایران و عراق جانے والے زائرین کو بسوں سے اتار کر قتل کئے جانے کے ویڈیو دیکھنے کی فرصت نہیں ہے۔

 جہاں دہشت گردی کو جہاد کہا جائے، جہاں خود مسلمانوں کے لئے سانس لینا دشوار ہو اور جہاں سوشل میڈیا پر حکومت یا سرکاری ملاوں کے خلاف لکھنے والےمسلم نوجوانوں کو پولیس اٹھا کر لے جاتی ہے اور پھر ان کی کوئی خیر خبر نہ ملتی ہو،اسی بد نصیب ملک کے رہنے والےجواد نقوی جیسے ملا ہندوستانی مسلمانوں کے غم میں دبلےکیوں ہوئے جا رہے ہیں؟پاکستان میں ہو رہے مظالم پر ان کی زبانیں کیوں گنگ ہیں؟ یہاں پرواضح کر دوں کہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو سنگھ پریوار کی جانب سے ہونے والے حملوںکا سامنا ہے، مسلمانان ہند نفرتیں پھیلانے والوں کے مظالم کا شکار ہیں، ہم حکومت ہند کے بنائے ہوئے نئے قوانین کی زد پر ہیں اور فرقہ وارانہ تشدد کا شکار بھی ہم بنتے ہیں،مگر اس کے باوجود ہم اس ملک سے بے انتہا پیار کرتے ہیں اور اس ملک میں پیدا ہونے پر فخر کرتے ہیں، کیونکہ یہاں کے ہندووں کی اکثریت مسلمانوں سے بہت محبت کرتی ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کے حق میں ہندو ہی آواز بلند کرتے ہیں۔ ہم بھلے ہی گوڈسے کے حامیوں کے نشانے پر ہوں مگر سچے ہندووں اور گاندھی نوازوں کا پیار ہمارے ساتھ ہے۔آخر میں کہتا چلوں کہ پاکستانی ملا یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ان کے گھڑیالی آنسو ہندوستانی مسلمانوں کو فائدہ نہیں پہنچاتے بلکہ مسلمانان ہند کے مفادات پر تیزاب بن کر گرتے ہیں اور اس بات کو بھی دھیان سے سن لیں کہ ہم ہندوستانی مسلمان اپنی حکومت کے خلاف ہوسکتے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں، مگر ہم سب کبھی اپنے ملک یعنی ہندوستان کے خلاف نہیں ہوسکتے۔

2 جون 2020 بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/pakistan-mullahs-getting-sick-in-the-grief-of-indian-muslims--ہندوستانی-مسلمانوں-کے-غم-میں-دبلے-پاکستانی-ملا/d/122016


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..