New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 10:07 AM

Urdu Section ( 25 Dec 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Loss Or Gain From The Non-Participation Of Ulema? علماء کی عدم شمولیت سے نقصان یا فائدہ؟


شکیل شمسی

25دسمبر،2019

شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ،علی گڑھ مسلم یونیور سٹی،جے این یو اور دہلی یونیور سٹی کے طلباء نے جو تحریک بارہ دن پہلے شروع کی تھی اب وہ ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس تحریک کانہ کوئی چہرہ ہے، نہ کوئی رہنما، نہ کوئی نیتا ہے،نہ کوئی قائد،نہ کوئی ایک ملی تنظیم اس تحریک کی بانی ہے، نہ کوئی عالم دین،نہ تو علمائے کرام کا ہجوم اسٹیج پر نظر آرہا ہے،نہ دھر نا دینے والوں کے درمیان جذباتی تقریریں کرنے والے خطیب ہیں اور نہ ہی جسم کو کپکپادینے والی سردی میں سڑکوں پر بیٹھے لوگوں کے جذبات بھڑکانے والے شعلہ بیان مقررین۔ ہر طرف پرجوش لڑکیاں ہیں، ہر جگہ بلندہمت خواتین ہیں، ہر مظاہرے میں پر امید نوجوا ن ہیں اور اسی بھیڑ میں عمر رسیدہ اورتجربہ کار بزرگ بھی موجود ہیں جو بڑی حیرانی سے دیکھ رہے ہیں کہ قائدین کے بغیر شروع ہونے والی اس تحریک کا ہر نوجوان اس کا قائد اوریہ طلبا ء اور طالبات اس کا چہرہ کیسے بن گئے؟ ان میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جو مظاہروں اور احتجاجی دھرنوں میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی مسلسل سرگرم ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تحریک شروع توہوئی مسلمانوں سے ناانصافی کئے جانے کے خلاف،مگر کسی ایک جگہ بھی اس تحریک نے فرقہ واریت کو اپنے درمیان آنے نہیں دیا۔ فسادیوں،مفسدوں، فسطائی طاقتوں اور فرقہ پرستوں نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح سے اس تحریک کو کمزور کردیا جائے مگر جینس،ٹی شرٹ او رجیکٹ میں ملبوس نوجوانوں نے کرتہ پائجامہ اور شیروانی پہننے والے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایسی ایکتا دکھائی کہ فرقہ پرستی بے لباس ہوگئی۔

اس تحریک سے پہلے مسلمانوں کے حقوق کی بحالی کے لئے ہم نے جو بھی تحریکیں شروع ہوتے دیکھی تھیں ان میں علماء یا ملی تنظیموں کی طرف سے نعرے دئے جاتے تھے، پوسٹر لگائے جاتے تھے، مسلم اکثریتی علاقوں کی مساجد سے اعلان کیا جاتا تھا کہ فلاں دن فلاں جگہ پر آپ کو نکل کر اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے آواز بلند کرنا ہوگی اور پر جوش مسلمانوں کے جتھے ٹوپیاں پہن کر نعرہئ تکبیر لگاتے ہوئے نکل پڑتے تھے، مگر اس بار ایسا کچھ بھی نہیں ہوا،اس بار مسلم  نوجوانوں نے ہاتھ میں ترنگا تھاما، ہاتھ میں ڈاکٹر امبیڈکر او رمہاتما گاندھی کی تصویریں اٹھائیں اور نکل پڑے۔ اس بار وہ کسی عالم دین کو اپنی رہنمائی کے لئے تلاش نہیں کر رہے تھے، اس بار ان کی نگاہیں محراب و منبر پر نہیں تھیں بلکہ وہ اپنے عزم کو اپنا رہنما بنا کر نکلے او ران کے انسانی اور شہری حقوق کی حفاظت کے لئے غیر مسلم لڑکے او رلڑکیاں جس طرح ساتھ ہولئے اس کو دیکھ کر تمام فرقہ پرست طاقتیں دل مسوس کر رہ گئیں۔شاید اسی کامیابی سے کھسیا کر سیکولر طلباء کی تحریک کو اب پولیس کے افسران ایک مسلم تنظیم کی سازش قرار دینے میں لگے ہیں جب کہ ایک عام انسان بھی جانتاہے کہ عوام خود بخودسڑکوں پر نکلے، ان کو بھڑکانے والا کوئی نہیں تھا۔

 دوسری طرف مسلمانوں کا ایک طبقہ اس بات کی شکایت کررہا ہے کہ علمائے کرام اس مہم میں شامل کیوں نہیں ہیں؟ شاید اس طبقے کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ علماء او رمولویوں کے میدان میں نہ آنے کی وجہ سے ہی ابھی تک شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے خلا ف چل رہی تحریک پرفرقہ واریت کاکھیل شروع نہیں ہوسکا۔ ہمیں لگتا ہے کہ جس دن علمائے کرام او رمولوی حضرات اسٹیج پر آجائیں گے اسی دن سادھو، سنت اور سنیاسی ان کے خلاف میدان میں اتار دیئے جائیں گے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ فسطائی طاقتوں کی طرف سے اس بات کی پوری کوشش ہورہی ہے کہ سی اے اے کے معاملے کو فرقہ پرستی کا روپ دیا جاسکے۔ اسی لئے اب اس قانون کی حمایت میں مظاہروں کااہتمام بھی کیا جارہا ہے۔ظاہر ہے کہ سی اے اے کی حمایت میں نکلنے والے مظاہرین کا سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں سے ٹکراؤ بھی ہوسکتا ہے او رپھر اس تصادم کوبہانہ بنا کر شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کی مہم کو کمزور بھی کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ہم سب کی کوشش یہی ہوناچاہئے کہ ہندوستان کے سیکولر عوام اور فرقہ پرست طاقتوں کے درمیان چل رہی یہ معرکہ آرائی فرقہ واریت کی لڑائی میں تبدیل ہونے نہ پائے۔ اسی وجہ سے ہم یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ علماء کی سربرائی کے بغیر ہی یہ تحریک چلناچاہئے، تاکہ سیکولرازم کے جو رنگ اس میں شامل ہیں وہ دھومل ہونے نہ پائیں۔ ہمیں امید ہے کہ سو شل میڈیا پر علماء کی عدم شمولیت کے خلاف جو لوگ اظہار ناراضگی کررہے ہیں کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خاموشی اختیار کریں گے او رمذہبی قائدین کو میدان میں اترنے کیلئے نہیں کہیں گے، کیونکہ ان کے میدان میں آتے ہی ان فرقہ پرستوں کے چہرے پر سرخی دوڑ جائے گی جو فرقہ وارانہ کشیدگی کا ہمیشہ سے فائدہ اٹھاتے آئے ہیں۔

25دسمبر،2019، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/loss-gain-non-participation-ulema/d/120624

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..