New Age Islam
Wed Oct 21 2020, 02:13 PM

Urdu Section ( 30 Oct 2019, NewAgeIslam.Com)

Lauborers Were Given Death Instead of Their Labour Charges مزدوروں کو مزدوری نہیں موت دی


مزدوروں کو مزدوری نہیں موت دی

شکیل شمسی

31اکتوبر،2019

کشمیر میں جہاد کے نام پر جو غنڈہ گردی چل رہی ہے،اس کے نتیجے میں وہاں منگل کے روز پانچ بنگالی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور ایک کو شدید طور پر زخمی کر دیا،ان سب کی خطا یہ تھی کہ وہ بنگال کے مرشدآباد سے کشمیر کے کلگام تک کا سفر طے کر کے اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے کے لئے وہاں محنت و مشقت کرنے گئے تھے –واضح ہو کہ مرشد آباد سے کلگام تک کا فاصلہ بائیس سو نو کلومیٹر ہے اور ان دونوں علاقوں کے درمیان ٹرین اور بس سے سفر کرنے میں تین دن لگتے ہیں- اتنا لمبا سفر کر کے اپنے کنبے کی کفالت کرنے کے لئے کشمیر جانے والے ان مسلمان مزدوروں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ جن باغوں میں کام کرنے کے لئے جا رہے ہیں، وہاں کے باغوں میں صحت بخش سیب کی ڈالیاں نہیں بلکہ موت کے منہ میں پہنچانے والی بندوقیں لچکتی ہیں-

دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے ان مزدوروں کو کہاں معلوم تھا کہ دو وقت کی روٹی کی طلب ان کو موت کے منہ میں پہنچا دے گی –شاید وہ بھی بچپن سے آ نحضور صلی اللہ علیہ وسلّم  کی یہی حدیث سنتے  آ ے  ہوں گے کہ "مزدور کی اجرت اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو-" ان بدنصیب مزدوروں کو کہاں علم تھا کہ وہاں مزدوری کے بدلے موت ملے گی- وہ جب پہلی بار کشمیر پہنچے ہونگے تو ان کو لگتا ہوگا کہ جس وادی میں وہ آے  ہیں وہاں چارو طرف جو اونچے اونچے گنبد و مینار ہیں اور جن سے پانچوں وقت ا ذان کی آواز یں آتی ہیں اس لئے ان کو بھی ایک عام مسلمان کا جیسا ہی درجہ ملے گا- انکو کہاں معلم تھاکہ کشمیر کے دہشت گرد صرف کشمیریوں کو ہی مسلمان سمجھتے ہیں، ہندوستان کے دوسرے حصوں میں رہنے والے مسلمان انکی نظر میں مسلمان نہیں ہیں ان کو بغیر قصور کرے مار دیا جانا دہشت گردوں کے نزدیک بلکل جائز ہے-

 یہاں پر ایک بات کہتا چلوں کہ آج این آر سی کے نام پر سب سے زیادہ خوفزدہ بنگالی مسلمانوں کو کیا جا رہا ہے- اتنا ہی نہیں ملک بھر میںب جہاں جہاں وہ روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں وہاں کی مقامی  پولیس ان کو بنگلہ دیشی کہ کر طرح طرح سے پریشان بھی کرتی ہے- ہو سکتا ہےکلگام پہنچنے والے مسلم مزدوروں نے سوچا ہوکہ یہاں کی پولیس انکو محض بنگالی مسلمان ہونے کی وجہ سے پریشان نہیں کریگی ، مگر انکو کیا معلوم تھا کہ وہاں ایک ایسا سفاک گروہ سرگرم ہے جس کی نظر میں مسلمان ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کو تو خون بہانا  ہے- چاہے ان کو بے قصور ٹرک ڈرائیور مل جائیں چاہے بنگالی مزدور مل جائیں ، ان کو تو اپنی گولیوں کی ہلاکت خیزی کا مظاہرہ کرنا ہے اور فر پاکستان کے کاندھے پر سر رکھ کر دنیا بھر میں اپنی مظلومی کا رونا روتے پھرنا ہے- کس قدر قابل رحم ہیں وہ کنبے جن کی کفالت کرنے والے اپنے گاوں  سے بائیس سو کلومیٹر دور مار دیئے گئے ، لیکن نہ تو سرحد کے اس طرف کوئی ان پر آنسو بہانے والا ہے اور نہ سرحد کے اس طرف- میں تو یہی سوچ رہا تھا کہ خدا نخواستہ کشمیری دہشت گردوں نے چھ ہندو مزدوروں کو مار دیا ہوتا نٹو نیوز چینلوں نے کیسا ہنگامہ مچایا ہوتا؟کیسے کیسے بھگوا دھاری مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے لئے کھڑے  ہو گئے ہوتے؟ اسلام کی تعلیمات پر نشانے لگا ئے جا رہے ہوتے، مگر اب سب خاموش ہیں اب کوئی نہیں کہہ  رہاہے کہ ہندوستانی مسلمان مظلوم ہیں؟ اب کسی کو مقتولوں کا مذہب یاد نہیں آ رہا ہے؟ کیوں سب لوگ ہمیشہ قاتلوں کا ہی مذہب بتانے کو بیتاب رہتے ہیں-

 

ہم بتا دیں کہ بنگالی مزدوروں کے علاوہ وادی میں جو چار ٹرک ڈرائیور مارے گے ان میں سے بھی دو مسلمان تھے مگردہشت گردوں نے قتل کرتے وقت کسی کا مذہب نہیں دیکھا ، کیونکہ ان کی نظر میں مذہب کی کوئی اہمیت ہے ہی نہیں، ان کو تو کشمیر کی طرف رخ کرنے والوں کو دہشت میں مبتلا کرنا ہےاور نہتوں ، بے گناہوں اور بے قصوروں کو قتل کرنے کے عوض اپنے سینوں پر مجاہد اور حریت پسند کا تمغہ لگانا ہے- ہم یہ بات ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اسی لئے ان سفاکوں نے افغانستان سے لے کر شام تک ، عراق سے لے کر نا ئیجیریا تک ہزاروں مسلمانوں کو ہی تہہ تیغ کیا- ہندوستان میں کچھ بعد بخت عناصر دہشت گردی پر اسلام کا لیبل لگاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں دنیا بھر میں سب سے زیادہ مسلمان ہی مارے گئے ہیں، لیکن ایک سچ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام کو بدنام کرنے میں پاکستان جیسے ملکوں کا نام سر فہرست ہے جو اپنے ملک میں ہونے والے خود کش حملوں، بیم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کو تو دہشت گردی کہتے ہیں لیکن اپنے پڑوسی ملک میں ہونے والی دہشت گردانہ کار ر وا ئیوں کو جہاد اور دہشت گردوں کو مجاہد کہہ کر مخاطب کرتے ہیں-

31اکتوبر،2019  بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

URL:  http://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/lauborers-were-given-death-instead-of-their-labour-charges--مزدوروں-کو-مزدوری-نہیں-موت-دی/d/120135

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..