New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 10:57 AM

Urdu Section ( 20 May 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Immature Journalism of YouTube یو ٹیوب کی نابالغ صحافت


شکیل شمسی

20 مئی 2020

ہندوستانی نیوز چینلوں کے جانبدار اور مسلم مخالف ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ بات بہت بے چین کرتی رہی ہے کہ ان کا کوئی چینل نہیں ہے، اسی کمی کو پورا کرنے کے لئے بہت سے مسلم نوجوانوں نے youtube   کے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اپنے چینلز بنا لئے ،جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کے اندر پھیلی بے چینی اور ان کے ساتھ منسوب کی جا رہی غلط باتوں کی تردید کرتے ہیں۔واضح ہو کہ ۲۰۰۵ء میں گوگل نے دنیا کو یو ٹیوب کی شکل میں ایک ایسا تحفہ دیا جس کے ذریعہ انسان اس قابل ہوگیا کہ گھر بیٹھے وہ اپنے گانے بجانے، کھانا پکانے ، ہنسی مذاق کرنے اور نیوز نشر کرنے والا چینل شروع کر سکے ۔ اسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ہمارے نوجوان اور آج اپنی بات عالمی پیمانے پر کہنے کی جدوجہد میں لگے ہیں۔ یہاں پر یہ کہنا ضروری ہے کہ یو ٹیوب پر چلنے والے ان چینلوں میں کچھ تو بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں اور کچھ نوجوان جھوٹی اور من گڑھنت خبریں نشر کرکےیہ بتا رہے ہیں کہ ان کی صحافت ابھی بالغ نہیں ہوئی ہے۔ ایسی ہی نابالغ صحافت کا ایک نمونہ یو ٹیوب کے ایک چینل پر دیکھنے کو ملا ،جس میں ہندوستا ن کےمسلم دانشوروں کی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کسی خفیہ ملاقات کا ذکر کیا گیا تھا اور دانشوروں میں مجھے بھی شامل کیا گیا تھا۔ پوری خبر مفروضہ ، قیاس آرائی، سنی سنائی باتوں اور آدھی ادھوری معلوما ت پر مبنی تھی، کیونکہ نہ تو ایسی کوئی میٹنگ ہوئی نہ کسی سےوزیر اعظم ملے۔ اگر وزیر اعظم سے ملاقات ہوتی اور مسلمانوں کے بارے میں کوئی بات ہوتی تو یقیناً وہ ہمارے اخبار کی پہلی سرخی ہوتی۔

ویسے بھی لاک ڈاون میں وزیر اعظم اپنے کابینی رفقاء تک سےنہیں مل رہے ہیں تو بھلا مسلم دانشوروں کو کیا بلاتے؟ اصل میں اس طرح کی خبریں بی بی سی کی نشر کردہ اس خبر کو بنیاد بنا کر چلائی جا رہی ہیں جس میں بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر رام مادھو اور کچھ ہندو مسلم دانشوروں اور صحافیوں کے درمیان ہونے والی ٹیلی کانفرنسنگ کو مسلم دانشوروں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کہا گیا تھا ۔ اس ویڈیو کانفرنسنگ میں ’زوم‘ کے ذریعہ انقلاب کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے گھر سے ہی میں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔چونکہ یہ ایک آف دی ریکارڈ میٹنگ تھی،تو صحافتی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے اس کی خبر بنانا صحیح نہیں تھا ،مگر اب اس معاملے میں چونکہ جھوٹی باتیں کہیں جا رہی ہیں اس لئے وضاحت ضروری ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ میٹنگ نہیں تھی بلکہ زوم کے ذریعہ ٹیلی کانفرسنگ تھی، جس میں رام مادھو بنارس میں اور شرکاء اپنے اپنے گھروں میں تھے۔ دوسری بات یہ کہ اس میں صرف مسلم دانشور نہیں، بلکہ ہندو اور مسلم برابر کے شریک تھے ،جن میں اے ایم یو کے وائس چانسلرطارق منصور، کشمیر یونی ورسٹی کے وائس چانسلر طلعت احمد، دہلی کے سابق ایل جی نجیب جنگ، پرسار بھارتی کے سربراہ سوریہ پرکاش، سابق وزیرجینت سنہا، ممبر ان پارلیمنٹ سوپن داس گپتا، راجیو راج شیکھر، جئے پانڈا، سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر، اسلامک سینٹر کے سربراہ سراج الدین قریشی، سابق جسٹس آفتاب انصاری، آر این آئی کے سابق سربراہ ایس ایم خان اور صحافی سلطان شاہین شامل تھے ، لہٰذا اس کو مسلم دانشوروں سے کی گئی خفیہ میٹنگ کہنا سراسر جھوٹ ہے۔

چونکہ اب بات نکل ہی آئی تو بتاتا چلوں کہ میں نے اس ٹیلی کانفرنسنگ میں رام مادھو کو بالکل صاف الفاظ میں بتایا کہ ملک جس دور کا سامنا کر رہا ہے اس کے بارے میں وہ ہندووں سے بات کریں تو بہتر ہوگا، کیونکہ اس ملک کے حالات کو درست رکھنے کی پوری ذمہ داری اکثریتی فرقے پر ہے۔میں نے کہا ان کو چاہئے کہ وہ ہندووں کی تنظیموں سے بات کریں اور ان سے پوچھیں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیسا برتاو کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ جمہوریت میں اقلیتوں کے حقوق کی ساری ذمہ داری اکثریت پر عائد ہوتی ہے۔ میں نے یہ بھی کہا کہ کورونا کے معاملے کو ایک سازش کے تحت فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا اور تبلیغی جماعت کا نام تو لیا گیا، لیکن دوسرے مذاہب کے مقدس مقامات میں موجود بھیڑ کو بالکل اچھالا نہیں گیا۔ میں نے رام مادھو سے کہا کہ میں نہیں کہتا کہ آپ میڈیا کا گلا گھونٹ دیں، لیکن میڈیاپر قدغن لگانے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ میڈیا جان بوجھ کر فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے۔ چونکہ اس ٹیلی کانفرنس میں سابق مرکزی وزیر مسٹر جینت سنہا بھی حصہ لے رہے تھے (جنھوں نے جھارکھنڈ کی ماب لنچنگ کے ملزمین کو ہار پھول پنہائے تھے) تو میں نے جان بوجھ کر کہا کہ بی جے پی والوں نے پال گھر میں سادھووں کی ماب لنچنگ کے معاملے میں جس رد عمل کا اظہار کیا، اگر اس نے مسلمانوں کی ماب لنچنگ کے بارے میں بھی یہی رویہ اختیار کیا ہوتا تو شاید آج حالات دوسرےہوتے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ بعد میں رام مادھو صاحب کا میسج آیا کہ انھوں نے میری باتیں نوٹ کی ہیں، جن کو وہ جلد ہی پارٹی والوں کے درمیان رکھیں گے۔

20 مئی 2020 بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/immature-journalism-of-youtube--یو-ٹیوب-کی-نابالغ-صحافت/d/121906

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..