New Age Islam
Sun Oct 17 2021, 09:33 PM

Urdu Section ( 17 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

History Repeats Itself تاریخ اپنے آپ میں دوہراتی ہے

شکیل شمسی

18 اگست،2021

2014 ء میں عراق کی سرحدوں میں جب داعش کی فوج داخل ہوئی تو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ایسی فوج تھی جس کو امریکہ نے ٹریننگ او رہتھیاردیئے تھے، وہ فوج بھی منھ کھولے دیکھتی رہی اور عراق کے کئی شہروں پر داعش کا قبضہ ہوگیا۔ اس وقت بھی کچھ سادہ لوح مسلمانوں کو لگا تھا کہ کوئی ایسی تنظیم آگئی ہے جو اسلام کے پیغام کو دنیا میں عام کرنے والی ہے اور تمام دنیاکے مسلمانو ں کو ظلم وجور سے نجات دلوانے والی ہے،ابوبکر البغدادی کو کسی نے صلاح الدین ایوبی کہا تھا کسی نے محمد بن قاسم کہا مگر عراق اور شام میں داعش نے کیا کیا ستم ڈھائے اور کیسے کیسے گل کھلائے؟ وہی مسلمان جو کبھی بغدادی کی طرف فخر سے دیکھ رہے تھے آج اس کا نام لینا گوارہ نہیں کرتے۔کیسی عبرتناک بات ہے کہ وہی مغربی ممالک جن کی سازشوں سے داعش کا قیام ہوا تھا داعش کو تباہ وبرباد کرنے میں لگ گئے حالانکہ ان کی کوششیں جھوٹی اور  گمراہ کن تھیں۔ داعش افغانستان میں دوہرائی گئی او ریہاں بھی طالبان کا داخلہ بغیر کسی مزاحمت کے ہوگیا۔ یہاں بھی طالبان کا مقابلہ ایک ایسی فوج سے تھا جس کو امریکہ کے فوجی ماہرین نے ٹریننگ دی تھی اور جس کو جدید ترین ہتھیار بھی امریکہ نے فراہم کئے تھے۔ خیر، اس ذکر سے اب کوئی فائدہ نہیں،اب افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے اوراس بار طالبان کہہ رہے ہیں کہ پہلے جیسے طور طریقے اختیار نہیں کریں گے اور اپنے ان ارادوں کا اظہار کرنے کے لئے انہوں نے سرکاری ملازمین کو عام معافی دئے جانے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بہت سی حیرت انگیز طو رپر افغان خواتین سے بھی کہا ہے کہ وہ حکومت کو جوائن کریں۔

افغانستان پر قبضے کےبعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے( تصویرپی ٹی آئی)

---------

 اتنا ہی نہیں طالبان نے وہاں رہ رہے ہندوؤں سکھوں کو بھی تحفظ کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ایک اور حیران کرنے والی بات یہ دیکھنے میں آئی کہ کابل کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں انہوں نے محرم کے جلوسوں کو چھوٹ دی اور اتنا ہی نہیں طالبان کے کچھ لیڈروں نے شیعہ فرقے کی عبادت گاہوں میں جاکر تقریریں کیں اور شیعہ فرقہ کو تحفظ کا یقین دلایا۔ ایک طالبانی لیڈر کی جو تقریر مجھے ایک صاحب نے فارورڈ کی اس میں طالبانی لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ان کی پالیسی داعش کی جیسی نہیں ہے او روہ اہل بیت کا بھی احترام کرتے ہیں اور خلفائے راشدینؓ کا بھی۔ یہ سب  باتیں فی الحال تو اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہیں کہ طالبان نے اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ ملک کو چلانے کے لئے ان کو کیا کیا کرنا ہے۔ ویسے طالبان کے بدلتے رخ کا غمازیہ بھی ہے کہ پچھلی بار امریکہ ان کے ساتھ تھا اور وہ سوویت یونین جیسے بڑے ملک کو شکست دے کر آئے تھے، اس بارہ وہ امریکہ کو شکست دے کر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں او رامریکہ کے دو مخالفوں یعنی چین اور روس کی حمایت ان کو حاصل ہے۔

 ادھر افغانستان کے پڑوسی ایران نے بھی کہہ دیا ہے کہ امریکی افواج کی ناکامی نے افغانستان میں دیر پا امن کی راہ ہموارکردی ہے۔ وہاں کے نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی نے مزید کہا کہ وہ افغانستان میں استحکام کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور پڑوسی او ربرادرملک کی حیثیت سے ایران چاہتا ہے کہ افغانستان میں تمام گروہ قومی معاہدہ تشکیل دیں، یعنی اس بار طالبان کو حکومت چلانے میں زیادہ مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،مگر شرط یہی ہے کہ وہ اسلامی شریعت پر عمل کریں دہشت گردوں کی سیرت پر نہیں۔ ہندوستان کے ساتھ بھی طالبان اگر بہتر رویہ اختیار کریں اور پچھلی بار کی طرح پاکستان کے ہاتھوں کا کھلونا بننے کے بجائے ایک آزاد گروہ کی طرح حکومت چلائیں تو اچھا رہے گا۔ واضح ہو کہ طالبان کی پچھلی حکومت نے ہندوستان کے اغوا شدہ جہاز کے سلسلے میں پاکستانی دہشت گردوں کی بہت مدد کی تھی، اس کے علاوہ گوتم بدھ کے تاریخی مجسمہ کو بھی بم سے اڑایا تھا اور کشمیر کے معاملے میں بھی طالبان علاحدگی پسندوں کی حمایت کررہے تھے، ان وجوہات کی وجہ سے طالبان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کبھی بہتر نہ ہوسکے او رہندوستانیوں کی نظر میں طالبان ایک انتہا پسند او ردہشت گرد فورس ہی رہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چندنا عاقبت اندیش مسلمان ہندوستان میں بیٹھ کر طالبان او رالقاعدہ کی حمات کررہے ہیں، جب کہ ان کو معلوم ہے کہ اسلام کو بدنام کرنے والا میڈیا پوری طرح سے اس بات میں لگا ہوا ہے کہ کس طرح ہندوستانی مسلمانوں کو انتہا پسند ثابت کیا جاسکے۔ مگر ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت ہر قسم کی انتہا پسندی کو مسترد کرتی ہے۔ ہم بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ چاہے ہندو انتہا پسندہوں یامسلمان دونوں قابل مذمت ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم غیر مسلم انتہا پسندوں کی مذمت کریں اور اپنی صفوں میں بیٹھے انتہا پسندوں کو نظر انداز کردیں۔

18اگست،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/history-repeats/d/125234

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..