New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 06:32 PM

Urdu Section ( 16 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

Conspiracy of Driven People away from Islam لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کی سازش

 

 

شکیل شمسی

16 دسمبر، 2014

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کل رات ایک مسلح شخص نے ایک ریسٹورینٹ میں گھس کر کئی لوگوں کو یرغمال  بنا لیا اور خود کو بم سےاڑادینے کی دھمکی دی۔ اس واقعہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اس شخص نے بار بار کھڑکی سے ایک سیاہ کپڑا لہرایا جس پر سفید رنگ سے کلمۂ طیب تحریر تھا ۔ اس چھوٹے سےبینر کو دیکھ کر میرے دل کو بہت تکلیف ہورہی تھی ۔ میں سوچ رہا تھا کہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دینے والے یہی متبرک الفاظ اگر کہیں لکھے ہوئے نظر آتے تھے تو مصیبتوں میں گھر ے ہوئے لوگوں کو آنکھوں میں یقین  او ر اطمینان کے  ہزاروں دیپک جل اٹھتے تھے ۔ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دینے والے پاک حروف کی چھاؤں میں پہنچنےوالا  ہر شخص اس بات کا اطمینان کر سکتا تھا کہ اس پر چم کے سائے میں اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی، لیکن جب سے دہشت گردی نے اپنے منحوس پاؤں پھیلائے ہیں پاکیزہ اورمقدس الفاظ کا استعمال بھی خلاف شریعت اور اسلام مخالف کاموں کے لئے کیا جارہا ہے ۔ عام لوگوں کو شعار اسلامی اور اسلامی  علامتوں سے ڈرایا جارہا ہے۔ یہ غور کرنے کی ہےکہ وہ لوگ جو ابھی چند دنوں پہلے ہی مسلمان ہوئے ہیں، وہ لوگ جنہوں نے کچھ روز قبل ہی یہودیت یا عیسائیت کا دامن چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے کا اعلان کیا ہے ، وہ اچانک اتنے متحرک اور فعال کیسے ہوگئے کہ پشتہا پشت سے اسلام پر عمل  در آمد کرتے آرہے مسلمانوں سےاتنے آگے بڑھ گئے ؟ وہ لوگ جن کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں مسلمان ہوئے وہی اسلام کی نئی تصویر دنیا کو کیسے  دکھانے لگے ؟ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ نام نہاد جہاد میں شامل جنگجوؤں  میں ایسے دہشت گردوں کی تعداد کیوں زیادہ  ہے جو دوسرے مذاہب  کا دامن چھوڑ کر اسلام قبول  کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ چاہے القاعدہ کا نائب سربراہ آدم یحییٰ غدن ہو، چاہے ممبئی  پرد ہشت گرد انہ حملے کا اصل ملزم ڈیوڈ کولمین ہیڈلی ہو، چاہے شام کے صحراؤں میں  صحافیوں اور امدادی کارکنان کا سر قلم کرنے والا جان نام کا برطانوی سفاک ہو، چاہئے نائیجریا کی بدنام  زمانہ ڈائین وہائٹ ویڈو ( گوری بیوہ)  ہو، چاہے اپنے سات سالہ بیٹے  کے ہاتھ میں ایک عراقی کا کٹا ہوا سر پکڑا کر اس کی فوٹو فیس بک پر ڈالنے والا آسٹریلیا کے پیٹر نیلیٹن کا بیٹا خالد ہو اور چاہے برطانیہ کے ایک سپاہی کو لندن میں مارنے والے سابق عیسائی برادران ہوں، مجھے لگتا ہے کہ یہ سب اسلام  میں کسی سازش کے تحت داخل ہوئے    تھے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ بے گناہوں کا خون بہانے والے ان نام نہاد مسلمانوں کے مقاصد پر ابھی تک کوئی بات نہیں ہورہی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسلام قبول   کرنے کے نام پر اسلام کی جڑیں  کھودنے والے ان ایجنٹوں کے رول پر کھل کرگفتگو ہونا چاہئے ۔

 اگر مسلمانوں نے اس بات پر غور کرنا شروع کر دیا کہ اسلام کی بدنامی کاباعث بننے والوں کااصل مقصد کیا ہے تو بہت سے مسائل حل  ہوجائیں گے ۔ سوچئے ! کہ عراق اور شام میں جس مسلکی   ناانصافی کا پروپیگنڈہ کیا جارہاتھا اس کے خلاف لڑنے کےلئے مقامی مسلمان کیوں نہیں کھڑے ہوئے ، کیوں جنگجوؤں میں اکثریت ایسے  لوگوں کی ہے جن کا تعلق کسی نہ کسی عیسائی ملک سےہے یا وہ ماضی  میں عیسائی او ریہودی تھے؟ اسی طرح ہندوستان پر حملہ ہوا تو اس میں ایک یہودی ماں کا بیٹا ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کیوں شامل تھا؟ کناڈا کی پارلیمنٹ میں گولی چلانے والا شخص  پہلے عیسائی کیوں تھا اور مسلمان ہونے کے بعد اتنا سخت گیر کیسے ہو گیا؟ جس شخص نے آسٹریلیا میں ریسٹورنٹ میں لوگوں کو یرغمال بنایا ہے وہ بھی صورت سے کوئی انگریزی  معلوم پڑتا ہے،یہاں تک کہ اس کے پاس تو آئی ایس آئی ایس کا جھنڈا بھی نہیں ہے وہ داعش  کاجھنڈا اور آسٹریلیا ئی وزیر اعظم سے گفتگو کرنے کامطالبہ کررہا ہے،  لیکن اس شخص نے کلمہ طیبہ والابینر  لہرا کر اسلام  کے پیغام کو زک پہنچانے میں کوئی  کسر باقی نہیں رکھی ۔ ہم کو تو یہ سب حرکتیں دیکھ کر محسوس ہوتاہے کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے تشخص کو مشکوک بنانے اور وہاں کے مقامی لوگوں کو اسلام   کی طرف سے بدظن کرکے اسلام کی تبلیغ روکنے کی کوئی گہری سازش چل رہی ہے اور سڈنی میں رسٹورنٹ  پر حملہ اسی سازش کی ایک کڑی ہے۔

16 دسمبر، 2014  بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/conspiracy-of-driven-people-away-from-islam--لوگوں-کو-اسلام-سے-بدظن-کرنے-کی-سازش/d/100523

 

Loading..

Loading..