New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 07:12 AM

Urdu Section ( 8 May 2020, NewAgeIslam.Com)

Budh Purnima and Gautam Buddha's Message بدھ پورنیما اور گوتم بدھ کا پیغام


شکیل شمسی

8 مئی 2020

ہندوستانی کیلنڈر کے بیساکھ ماہ کی پورنیما( چودھویں کے چاند) پر عظیم مبلغ، فلسفی،اوتار، روحانی رہنما اور بودھ مذہب کے ماننے والوں کے رہبر اعلیٰ گوتم بدھ کا یوم ولادت ہرسال منایا جاتا ہے۔اسی وجہ سے اس دن کا نام بدھ پورنیما پڑ گیا ہے۔گوتم بدھ ۵۶۳؍ سال قبل مسیح نیپال کے لمبنی کے راجہ شوددھن کے گھر میں پیداہوئے تھے۔ راجہ شوددھن ہندووں کی سب سے اعلیٰ ذات( برہمن )کے ایک فرد تھے، انھوں نے اپنے بیٹے کا نام سدھارتھ رکھا تھا۔راجہ شوددھن نے اپنے بیٹے کے آرام و آسائش کے لئے ایسا اہتمام کیا تھا کہ جاڑے، گرمی اور برسات کے لحاظ سے تین الگ الگ محل بنوائے تھے۔ مگر سدھارتھ کو یہ عیش و عشرت راس نہیں آئے۔ پہلی بار جب انھوں نے اپنے محل کے باہر ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا تو متفکر ہوگئے اور سوچنے لگے کہ جوانی تو رہنے والی نہیں، دوسری بار ایک مریض کو دیکھا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ صحت اور تندرستی ہمیشہ باقی رہنے والی چیز نہیں اور پھر جب ایک لاش جاتے ہوئے دیکھی تو ان کو معلوم ہوا کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔

 ان واقعات کے بعد وہ راج محل کی آسائشوں کو چھوڑ کر سچ کی تلاش میں نکل پڑے۔ انھوں نے گھور تپسیا( عبادت )کی، کھانا پینا ترک کیا، برسوں تنہائی میں گزار دئے اور پھر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ زندگی اس چنگاری کی طرح ہے جو دو پتھروں کی رگڑ سے پیدا تو ہوتی ہے، مگر وہ کہاں سے آتی ہے اور کہاں جاتی ہے اس سے کوئی واقف نہیں ہے۔ انھوں نے  دریاو ں میں اٹھنے والی لہروں پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ایک موج دوسری موج کو دھکہ دے کر آگے تو بڑھتی ہے، مگر ساحل پر پہنچنے کے بعد وہ کہاں چلی جاتی ہے کسی کو نہیں معلوم ۔ انھوں نے زندگی کے بارے میں یہی نتیجہ اخذ کیا کہ زندگی ختم نہیں ہوتی، بلکہ ایک روپ سےدوسرے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔ انھوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ اس زمین کا کوئی خالق ہے۔ ان کو لگا کہ پورا نظام ہستی اپنے آپ ہی چل رہا ہے ، بس آواگمن ہی زندگی ہے۔ انھوں نے ہزاروں برس پرانے ذات پات کے نظام اور اعلیٰ ذات کے تسلط کوبھی تسلیم نہیں کیا ، جس کے باعث ان کی تعلیمات ہندوازم کے لئے چیلنج بن گئیں کیونکہ ہندوازم تو یہ مانتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے، جو نراکار اورپالن ہار ہے، جو ہر جگہ موجود ہے اور کہیں نہیں ہے۔ ہندوازم میں سورگ نرک (جنت اور جہنم) کا تصور بھی موجود تھا، مگر گوتم بدھ نے اس کو تسلیم نہیں کیا، انھوں نے اس دنیا کو نروان کا تصور دیا۔ ہندو مذہب میں دیوی دیوتاوں اور اوتاروں کا تصور بھی تھا مگر گوتم بدھ کا نظریہ اس سلسلے میں بھی مختلف تھا۔اپنی الگ فکر اور اپنے الگ راستے کی وجہ سے گوتم بدھ ہندوستان میں بہت مقبول ہوئے اور لوگ ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے لگے، جس کی وجہ سے آگے چل کر بودھ کے نظریات پر مبنی پورا ایک مذہب تشکیل پا گیا۔ جس کو دنیا نے بودھ دھرم کا نام دیا۔

گوتم بدھ کے نظریات کو پھیلانے میں ہندوستان کے ایک عظیم شہنشاہ سمراٹ اشوک نے کافی اہم رول ادا کیا۔چونکہ بودھ دھرم کے نظریات یہاں کے اکثریتی فرقے کے نظریہ سے بالکل مختلف تھے ، اس لئے اس مذہب کے ماننے والوں پر عہد قدیم میں ہندوستان کی زمین تنگ ہونے لگی اور اس مذہب کے پیرو چین، جاپان کمبوڈیا، تھائی لینڈ، برما، سری لنکا، ویت نام ، بھوٹان، لاوس، منگولیا اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں بسنے پر مجبور ہوئے۔ واضح ہو کہ جب اکبر اعظم نے صلح کل کے نام سے ہندوستان کے تمام مذاہب کے رہبروں کو دعوت دی تو اس میں کوئی بدھسٹ رہنما شامل نہیں تھا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اکبر کے دور سے قبل ہی بودھ مذہب کے ماننے والے اس ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے، مگر اب ایسا نہیں ہے، اب ہندوستان میں بودھ ازم پھر سے پھل پھول رہا ہے اور اس کو ایک نئی زندگی دینے کا کام عظیم دلت رہنما ڈاکٹر امبیڈکر نے کیا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے ۱۹۵۶ء میں ہندوازم کو چھوڑ کر اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ بودھ مذہب اختیار کیا ، اس کے بعد سے لاکھوں دلت بودھ دھرم کو اپنا چکے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ امبیڈکر کی جانب سےاجتماعی تبدیلیٔ مذہب کی مہم کی ہندووں نے کوئی مخالفت نہیں کی، کیونکہ آر ایس ایس والوں نے اپنے منشور میں سکھ، بودھ اور جین فرقہ کو ہندو قرار دے رکھا ہے، جبکہ ان تینوں مذہبوں اور سنگھ کے عقائد میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خود بودھ فرقہ بھی دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے ۔ ایک فرقہ کو ’’ تھراودا‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ فرقہ میانمار، سری لنکا، کمبوڈیہ اور لاوس میں بڑی تعداد میں موجود ہے( برما میں روہنگیا مسلمانوں پر اسی فرقے نےہزاروں قسم کے مظالم ڈھائے ہیں) بودھ فرقہ کا اصل پر امن چہرہ دلائی لامہ والے فرقے میں دکھائی پڑتا ہے جس کو’ مہایانہ‘ کہا جاتا ہے اور یہ فرقہ جاپان، تبت تائیوان،کوریا اور منگولیا میں موجود ہے۔

8 مئی 2020  بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/budh-purnima-and-gautam-buddha-s-message--بدھ-پورنیما-اور-گوتم-بدھ-کا-پیغام/d/121799

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..