New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 08:20 AM

Urdu Section ( 2 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Brief Story of Baluchistan بلوچستان کی مختصر داستان

 

 

 

شکیل شمسی

26 اگست، 2016

دس سال قبل آج ہی کے دن یعنی 26 اگست 2006ء میں بلوچستان کے مشہور و مقبول لیڈر نواب اکبر شہباز خان بگتی کو ان کے کئی ساتھیوں سمیت پاکستانی افوان نے بہت بے دردی کےساتھ ہلاک کردیا تھا اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان کے جنازے کو کوئٹہ لاکر نماز جنازہ ادا کرنے کی اجازت بھی پاکستانی حکام نے نہیں دی تھی ۔ آج پورے بلوچستان میں مرحوم اکبر بگتی کو یاد کیا جارہا ہے۔ اس بیچ ایک ڈیولپمنٹ یہ ہوا کہ پہلی بار بلوچستان کے ایک علاقے میں ہندوستان کا پرچم لہراتے ہوئے بلو چ نوجوانوں کی تصویریں بھی وائرل ہوئیں ۔ مرحوم اکبربگتی کی دسویں برسی کےموقع پر میں نے مناسب سمجھا کہ بلوچستان کی تاریخ، وہاں کی جغرافیائی صورتحال اور وہاں کی خود مختاری کی تحریکوں کے بارے میں کچھ دلچسپ اور نا قابل تردید حقائق پیش کروں۔

اس صوبے کو سیکڑوں سال سے ہندوستان کاہی ایک حصہ مانا جاتا رہا ہے۔ صدیوں قبل ‘بلوچ’ لفظ سنسکرت کے دو لفظوں ‘بل’ (طاقت) اور ‘اُچ’ (بلند) سے مل کر بنا تھا ۔ جس سے مراد یہ تھی کہ اونچائی پر رہنے والا ایک طاقتور قبیلہ۔ بلوچستان کی سرحدیں، ایران سے بھی ملتی ہیں اور افغانستان سے بھی اور یہاں کے لوگوں کےلئے سمندر کے راستے بھی کھلے ہیں ۔ اس علاقے کو قدیم ترین تاریخی حوالوں (انڈس ویلی سویلائزیشن) میں کوہساروں سے گھرے ایک ایسے خطے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جہاں زمین کا ایک بڑا حصہ کاشتکاری کے قابل تھا ۔ بلوچستان سیکڑوں سال سے ہندوستان کا ہی ایک ناقابل تسخیر حصہ تھا ۔ ساتویں صدی میں پہلی بار یہ علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں اس وقت گیا جب گورجر قبیلے کے راجہ ‘‘ناگبھاٹا’’ اول کے دور میں مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کے سیستان میں تعینات گورنر عبدالرحمٰن بن سامرہ کی فوج نے 654ء میں ‘ناگبھاٹا’ کے لشکر کو شکست دےکر بلو چستان کے ایک بڑے علاقے کو خلافت راشدہ کا حصہ بنا دیا، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری سال اور حضرت علی کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں خلافت راشدہ کو خانہ جنگی ، بغاوت اور اندرونی حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور سرحدی علاقوں کی طرف توجہ دینے کی کسی کو فرصت نہیں ملی ۔ اسی وجہ سے بلوچستان کےمکر ان علاقے میں بغاوت ہوگئی ۔ ایک طرف تو مسلمانوں کے آخری خلیفہ حضرت علی علیہ السلام کو جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں خلافت راشدہ کی حفاظت کےلئے جنگ کرنا پڑ رہی تھی تو دوسری طرف سرحدی علاقے میں مقامی سردار شورش پر آمادہ تھے۔ خلافت راشدہ پر اندرونی حملوں کی وجہ سے مسلمانوں کی گرفت اس علاقے پر کمزور ہوگئی اور مقامی باشندے اس علاقے پر دوبارہ قابض ہوگئے ۔

 مگر اپنی خلافت کے تیسرے سال میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ایک کمانڈر حارث رضی اللہ عنہ ابن مرہ عبدی کو بلوچستان کی شورش دبانے کےلئے 660ء میں بھیجا۔ تو نہ صرف یہ کہ حارث رضی اللہ عنہ نے مکران کی شورش کو رفع کیا بلکہ پورے بلوچستان کو فتح کرتے ہوئے سندھ کی سرحدوں تک اپناپرچم لہرا دیا ۔ مگر 661ء میں ستمبر کے مہینے میں خلافت راشدہ کا خاتمہ ہوگیا اور بادشاہت کا سلسلہ شروع ہوگیا تو لشکر شام کو مقامی حکمرانوں نے 663ء میں شکست دے کر بلوچستان کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ۔ کافی دن تک یہ علاقے آزاد رہے اور پھر 679ء میں پشکر برہمنوں کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے راجہ داہر سین کی سندھ او ربلوچستان پر حکمرانی قائم ہوگئی ۔ داہر سین کےعنان حکومت سنبھالنے کے ایک سال بعد شام کے تخت پر یزید بیٹھ گیا ، جس کی وجہ سے آل رسول علیہ السلام اور ان سے محبت کرنے والوں کی زندگی دشوار ہوگئی۔ کہا جاتا ہے کہ راجہ داہر سین نے اپنی مملکت میں ایسے مسلمانوں کو پناہ دی جن پر یزید نے عرصہ حیات تنگ کردیا تھا ۔ اس کی مملکت میں پناہ پانے والوں میں خاص نام حضرت علی علیہ السلام کےایک ساتھی بن الفی کابھی ہے۔ تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ راجہ داہر سین نے حضرت امام حسین علیہ السلام ہندوستان جانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ راجہ داہر نے تقریباً 43 سال تک حکومت کی ، لیکن 712ء میں بنی امیہ کے گورنر حجاج ابن یوسف کے کمانڈرمحمد بن قاسم ثقفی کی افواج کا مقابلہ کرتےہوئے راجہ داہر سین میدان جنگ میں مارا گیا ۔ مشہور سندھی قائد ‘جی ایم سید’ نے راجہ داہر سین پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا ‘‘ اہل سندھ حسین علیہ السلام پر بھی روئے اور راجہ داہر سین پر بھی روئے ’’۔

داہر سین کے بارے میں کچھ حوالوں میں لکھا ہے کہ اس پر بنی امیہ نےاس لئے حملہ کیا کہ اس کےسپاہیوں نے مسلمانوں کےکئی قافلوں کولوٹ لیا تھا، بہر کیف راجہ داہر سین کے بعد سندھ تک کاعلاقہ بنی امیہ کے قبضے میں آگیا ۔ بنی امیہ کے بعد 750ء میں یہ علاقہ بنی عباس کی علمداری میں آیا، پھر طویل عرصہ تک یہاں مسلمانوں کا راج رہا ، لیکن 1024ء میں راجپوتوں کے سمرون قبیلے نے مسلم افواج کو شکست دے کر وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ پھر سماں قبیلے کے لوگ وہاں حاکم ہوگئے دلچسپ بات یہ کہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں غوری کی فتوحات کے بعد مسلم سلطنت قائم ہوگئی مگر اس علاقے میں ہندو راجاؤں کی حکومت رہی ۔ اس علاقے کو 1362ء میں فیروز شاہ تغلق نے فتح کر کےدہلی سلطنت کا حصہ بنایا ۔ پھر مختلف فرماں رواؤں سے ہوتا ہوا ، یہ انگریزوں کی وسیع و عریض مملکت کا حصہ بنا۔ برطانوی حکومت کے بعد اب اس علاقے پر پاکستان کا قبضہ ہے۔ واضح ہو کہ قیام پاکستان کے وقت یہ مشرق بنگال ، سندھ ، پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کی طرح برطانوی راج کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا بلکہ 1947ء تک موجودہ بلوچستان کا صوبہ پانچ حصوں میں منقسم تھا ۔ پانچ میں سے چار حصوں میں شاہی ریاستیں تھیں جن کے نام قلات خاران، مکران اور لسبیلہ ایک برٹش انڈیا کا علاقہ برٹش بلوچستان تھا ۔ قلات، خاران، مکران اور لسبیلہ پر برطانوی ایجنٹ بھی نگراں تھے ۔ قلات، لسبیلہ ،خاران او رمکران کے علاقے وہی تھے جو آج بھی اسی نام کے ڈویژن کی صورت میں موجود ہیں ۔

 برٹش بلوچستان میں موجودہ بلوچستان کی پشتون پٹی (لورالائی، پشین ، مسلم باغ، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ ، ژوب ، چمن ) کے علاوہ کوئٹہ، او ربلوچ علاقہ ضلع چاغی او ربگٹی اور مری ایجنسی ( کوہلو) کےعلاقہ شامل تھے ۔ اس وقت گوادر کا ساحلی علاقہ خلجی ریاست عمان کا حصہ تھا جو کہ خان آف قلات نے عمان کو دیا تھا ۔ مکران اور لسبیلہ کے پاس سمندری پٹی تھی جب کہ باقی تین علاقہ قلات، خاران اور برٹش بلوچستان خشکی میں گھرے تھے ۔ قیام پاکستان کے وقت تین جون کےمنصوبہ کے تحت برٹش بلوچستان کے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے اراکین کو کرنا تھا ۔ انہوں نے پاکستان کوبھارت پر ترجیح دی جب کہ باقی چاروں علاقوں لسبیلہ ، خاران ، قلات او رمکران کے حکمرانوں کو بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک میں شمولیت کافیصلہ کرناتھا ۔ لسبیلہ ، خاران اور مکران کے حکمرانوں نے پاکستان سےالحاق کااعلان کردیا جب کہ قلات نےایسا نہیں کیا ۔ قلات میں گوکہ خان آف قلات حکمران تھے مگر دو منتخب ایوان بھی تھے اور ان دونوں ایوانوں نے پاکستان سے الحاق کی اکثریت سےمخالف کی تھی ۔ تاہم ان ایوانوں کی حیثیت مشاورتی تھی اصل فیصلہ خان آف قلات کو ہی کرنا تھا ۔ جب لسبیلہ ، مکران اور خاران کے حکمرانوں نے پاکستان سے الحاق کرلیا تو قلات کی ریاست مکمل طور پر پاکستانی علاقہ میں گھر گئی ۔ انگریزی میں ایسے علاقہ کو انکلیو کہاجاتا ہے۔

 سب سے آخر میں مارچ 1948 میں قلات نے بھی پاکستان سے الحاق کا اعلان کردیا ۔ خان آف قلات میر احمد یار خاں کے اس فیصلے کے خلاف ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ میر عبدالکریم نے مسلح جد و جہد شروع کردی جس میں انہیں افغانستان کی پشت پناہی حاصل تھی اس مسلح جد و جہد کا نتیجہ پاکستان کی فوجی کارروائی کی صورت میں نکلا اور پاکستانی افواج نے بلوچیوں کا خوب خون بہایا۔ پاکستانی فوج کی اس کارروائی کے نتیجے میں شہزادہ میر عبدالکریم کو افغانستان کی طرف فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ بعد میں برٹش بلوچستان کو بلوچستان کا نام دے دیا گیا ۔ جب کہ قلات ، مکران ، خاران او رلسبیلہ کو ایک اکائی بنا کر بلوچستان اسٹیٹس یونین کانام دیا گیا ۔ بلوچستان کے لوگ لگاتار خود مختاری کامطالبہ کرتے رہے او رپاکستان کی حکومت بلوچستان کےلوگوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بناتی رہی ،مگر اس زمانے میں پنڈت نہرو کی سربراہی والی ہندوستانی حکومت نے ان تمام معاملات سے خود کو بالکل الگ رکھا۔ ہندوستان سےکوئی مدد لئے بغیر بلوچستان کےعوام نے اپنی خود مختاری کی جد وجہد کو جاری رکھا ۔ ان ہی کوششوں کے تحت شام کی راجدھانی دمشق میں 1964ء میں ایک علاحدگی پسند بلوچ لیڈر جمعہ خان نے بلوچ لبریشن فرنٹ کے نام سے ایک تنظیم قائم کرلی ، مگر حیرانی کی بات یہ تھی کہ آج ہندوستان کو مورد الزام ٹھہرانے والی پاکستانی حکومت نے شامی حکومت سے نہ تو کوئی شکوہ کیا اور نہ یہ مطالبہ کیا کہ وہ جمعہ خان کو شام سے نکال کر اور اس کےحوالے کرے۔

بلوچستان کی خود مختاری پر پوری طرح کدال چلانے کے لئے 1970ء میں جنرل یحییٰ خان نے وہاں بھی گورنر کو تعینات کرنے کا سلسلہ شروع کردیا، مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ بغاوت کے شعلے مزید بھڑ کے۔ اس آگ میں ہندوستان نے تو پٹرول نہیں ڈالا البتہ کچھ مسلم ممالک تو ایسے ضرور تھے جو ڈھکے چھپے یا کھلے عام بلوچستان کے مجاہدین کو مدد کررہے تھے ۔ ان میں شام اور عراق شامل تھے ۔ ادھر شام میں بیٹھ کر خان بلوچستان کی خود مختاری کی تحریک چلارہے تھے تو ادھر عراق کے صدر احسن البکر کےایما پر اسلام آباد میں واقع عراقی سفارت خانے کی معرفت بلوچستان کے باغیوں کو ہتھیار پہنچائے جارہے تھے ۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو جب علم ہوا کہ عراقی سفارت خانے میں بڑی تعداد میں ہتھیار رکھے ہیں تواس نے 1970ء میں 9 اور 10 فروری کی درمیانی شب میں عراقی سفارت خانے پر دھاوا بول کر بڑی تعداد میں ہتھیار بر آمد کر لئے، بعد میں یہ معلوم ہواکہ کراچی میں واقع عراقی کونسلیٹ سے بھی بڑی تعداد میں گولا بارود بر آمد ہوا تھا جس کوبلوچستان کے انقلابیوں تک پہنچنا تھا ، مگر پاکستان نے ہتھیار برآمد ہونے پر عراق کے خلاف متحدہ اقوام سے شکایت کی نہ ہی کھل کر احتجاج کیا ’ بلکہ بہت ہی عیاری کے ساتھ اپنے عوام سےسارے واقعہ کو چھپا لیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہتھیار بر آمد ہونے کے کچھ ہی عرصے کےبعد بلوچستان کی خود مختاری کی مانگ کرنے والے بلوچ رہنما شیر محمد مری نے بغداد کا دورہ کیا اور اپنی حکومت پر یہ بات واضح کردی کہ ہتھیار کس کے لئے بھیجے گئے تھے ۔

 پاکستانی حکومت کو یہ بھی علم ہے کہ بلوچستان کی جنگجو تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی مدد کس مسلم ملک نے کی تھی ۔ وکی لیکس نے جو کیبل لیک کئے ہیں ان سے انکشاف ہوا کہ پاکستان کا قریبی دوست لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار فراہم کرنے والا ملک متحدہ عرب امارات بھی گوادر کے ساحل کو ایک جدید ترین بندرگاہ میں تبدیل کئے جانے کے فیصلے سے ناخوش تھا اور اسی وجہ سے وہ بلوچستان لبریشن آرمی کو مالی امداد فراہم کرتا رہا ۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ شجاع پاشا نے اپنی حکومت کو اس بارے میں اطلاع دی تھی کہ بلوچستان کے مجاہدین کی یو اے ای بھی مدد کررہا ہے، مگر پاکستان کی حکومت کے پاس اپنے گہرے دوست کی پردہ پوشی کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا ۔ خاموشی کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ متحدہ عرب امارات میں تقریباً پانچ لاکھ بلوچی رہتے ہیں اوران بلوچستانیوں کی اکثریت بلوچستان کو ایک خود مختار ملک کی شکل میں دیکھنا چاہتی ہے۔ یہاں پر پاکستانی حکام سے یہ سوال پوچھا جانا چاہئے کہ بلوچستان کی تحریک آزادی کا ہندوستان پر الزام تھوپنے سے پہلے ان عرب ممالک کے رول پر بھی ذرا روشنی ڈالیں جو بلوچستان کی تحریک میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہیں ۔

 اگر باالفرض محال اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ مودی حکومت نے اس معاملے کو اٹھایا تو پاکستانی اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ بلوچستان کےاسکولوں میں بلوچی بچے پاکستان کا قومی ترانے کےبجائے بلوچوں کا قومی نغمہ گانے کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ کیا ہندوستان نے ان سےکہا ہے؟ دسمبر 2005ء میں جب بلوچستان کے حریت پسندوں نے جنرل مشرف کی جان لینے کی کوشش کی تو اس کے پیچھے کون تھا؟ 2013 ء میں جب بلوچستان کا مطالبہ کرنے والوں نے قائد اعظم کی آخری رائش گاہ ‘‘قائد اعظم ریزیڈنسی’’ پر راکٹوں سے حملہ کیا اور اس پر آزاد بلوچستان کا پرچم لہرایا تو اس وقت ہندوستان میں مودی حکومت نہیں تھی، تو پھر بلوچستانیوں کو کس نے ورغلایا تھا؟ کیا بلوچستان کے نماز روزے کے پابند مسلمان اپنے دل کی بات نہیں بلکہ ہندوستانی حکومت کی بات سن رہے ہیں؟پاکستان کے حکام کو ہندوستانی حکومت پر یہ الزام دھرنے کے بجائے اپنے گرد و پیش پر نظر کر کے سوچنا چاہئے کہ اب بلوچی ہی نہیں بلکہ کراچی کے پریس کلب پر دھرنا دینے والے مہاجرین بھی پاکستان مردہ باد کےنعرے لگانے پر کیوں مجبور ہوگئے ہیں؟ یہی مہاجرین تو ہیں جن کے اجداد نے پاکستان کی شکل میں ایک جنت کا خواب دیکھا تھا ، آج وہی اپنی ہی جنت کو کیوں کوس رہے ہیں ؟ کیا کراچی میں نعرے لگانے والے بچے، بوڑھے اور خواتین ہندوستانی ایجنٹ ہیں؟ ہمارے خیال میں پاکستانی حکمراں اپنے عوام کو تو بے وقوف بنا سکتےہیں لیکن بین الاقوامی برادری کو بے وقوف بنانا اس قدر آسان نہیں ہے۔

قیام پاکستان کے چند برسوں کے اندر بلوچیوں پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ ان کے یہاں موجود گیس کے بڑے ذخائر اور معدنیات کے وسیع و عریض خزینوں پر قبضہ کرنے کی غرض سے پاکستانیوں نے ان کے ملک کو اپنی ایک ریاست بنا لیا ہے۔ اسی وجہ سے بلوچیوں نے پاکستان کی مخالفت شروع کردی، مگر پاکستان کے سیاستدانوں نے کبھی بلوچیوں کے دل میں موجود خوف اور بے اعتمادی کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان کے جذبات کو کچلنا مناسب سمجھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہواکہ وہاں مسلح مزاحمت شروع ہوگئی اس مزاحمت کو دبانے کےلئے پاکستانی فورسز نے ظالمانہ طور طریقے اپنائے۔ 1950ء 1960ء اور 1970 ء میں وہا ں کے مسلح بغاوتوں کو کچلا گیا ۔ خیال رہے کہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان ، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اگر بلوچستان کو ہٹا دیا جائے تو پاکستان کا رقبہ 44 فیصد کم ہوجائے گا۔ بلوچستان کا بیشتر حصہ غیر آباد ہے اسی لئے اتنے بڑے صوبے کی آبادی صرف ڈیڑھ کروڑ ہے۔ جس میں بلوچی محض 55 فیصد ہیں ۔ یوں تو پاکستان کے ہر شہر میں بلوچی آباد ہیں او ران کاکل آبادی تقریباً 70 لاکھ ہے ، مگر بلوچستان کے بعد ان کی سب سے بڑی آبادی سندھ میں ہے۔

 پاکستان کے علاوہ ایران میں بھی تقریباً 15 لاکھ بلوچی رہتے ہیں ۔ افعانستان میں بھی 3 لاکھ بلوچی آباد ہیں ۔ جب کہ یو اے ای او رعمان میں تقریباً پانچ پانچ لاکھ بلوچی آباد ہیں۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض کردوں کہ ہمارے ملک میں بھی بلوچی پٹھانوں کی نسلوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں خانوادے صدیوں ے گجرات اور یوپی میں آبا دہیں ۔ یوپی میں مظفر نگر اور غازی آباد کےقرب و جوار میں شیر خان، عامر خان، بہرام خان، اور ہاشم خان نام کے چار بلوچ سرداروں کےکنبوں سےتعلق رکھنے والے سیکڑوں بلوچی پٹھان آباد ہیں ۔ ان کے اجداد کو مغل شہنشاہ اورنگ زیب نے بڑی بڑی جاگیریں عطا کی تھیں تب سے ہی یہ لوگ یہاں رہتے ہیں مگر یہ لوگ ہندوستان کےرنگ میں اس طرح رنگ چکے ہیں کہ ان کی زبان اور ثقافت پوری طرح ہندوستانی ہوگئی ہے۔ البتہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی سو ایسے قبائلی ہندوستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں جنہوں نے اپنا تشْخص بر قرار رکھا ہے۔ یہ لوگ پہلے خانہ بدوش تھے اور چاقو ، چھریاں ، قینچیاں اور تالے وغیرہ بیچنے کے لئے شہروں شہروں پھرا کرتے تھے ۔ آزادی کے بعد ان لوگوں نے خانہ بدوشی ترک کر کے ہندوستان میں ہی آباد ہونے کا فیصلہ کیا او رکئی شہروں میں اپنی بستیاں بسالیں ۔ ملک کے مختلف شہروں میں آپ کوبلوچی خانوادے مل جائیں گے۔

بھوپال، رائے پور او رپونہ میں آباد بلوچی خاندانوں کے کئی افراد سےمجھے بات کرنے کا موقع ملا تو ان کےبارے میں بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئیں ۔ میں بلو چیوں کے رابطے میں پہلی بار پونہ کےفلم اینڈٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں ٹریننگ کے دوران آیا ، کیوں کہ میں اپنی ٹریننگ کی فائنل ایکسر سائز کے لئے پونہ میں آباد بلوچیوں پر دستاویزی فلم بنا رہا تھا ۔ اس دستاویزی فلم کو میں نے ‘‘ٹھہر گئے بنجارے’’ کا ٹائٹل دیا تھا ۔ اس دستاویزی فلم میں بلوچیوں کے خانہ بدوشی ترک کرنے کےفیصلے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی گئی تھی۔ فلم کی شوٹنگ کےدوران مجھے معلوم ہوا کہ ان کے معاشرے میں خواتین کوبر تری حاصل ہے۔ پورے کنبے کے اہم ترین فیصلے خواتین ہی کرتی ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ بلو چی مردوں کا لباس تو پوری طرح ہندوستانی ہوچکا ہے لیکن بلوچی عورتوں نے ابھی تک اپنی قبائلی پوشاک ترک نہیں کی ہے، بلوچی خواتین کی رنگا رنگ پوشاکوں اوراپنے بچوں سےدری (قدیم فارسی) میں بات کرنے کی وجہ سے پورے قبیلے کی شناخت آج بھی باقی ہے۔ بہت سے بلوچیوں نے پکے مکان بنا لئے ہیں او رمساجد ، مدارس و امام باڑے بھی قائم کر لئے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ ان کی بستیاں ریلوے اسٹیشن کے آس پاس ہی ہیں جن میں کئی بلوچی ابھی تک خیموں میں رہتے ہیں ۔ ان کو نہ تو بلوچستان کی آب و ہوا یاد ہے ،نہ موسم۔ ہندوستان کی آب و ہوا ان کو اتنی پسند آئی کہ انہوں نے خانہ بدوشی چھوڑ کر ایک ہی جگہ ٹھہرنے کافیصلہ کیا۔ شاید اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ ہندوستان کی فضاؤں میں آزادی کی سانس لے سکتے ہیں ۔ ہمارے خیال میں پاکستانی حکومت کو ہندوستان میں آباد بلوچیوں سے معلوم کرناچاہئے کہ وہ اتنی آسانی سے ہندوستانی کلچر میں رچ بس کیسے گئے او رپاکستان میں آباد بلوچی کیوں ابھی تک اپنے آپ کو پاکستان کاحصہ سمجھنے کو تیار نہیں ہیں ۔

26 اگست، 2016 بشکریہ : انقلاب نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/brief-story-of-baluchistan--بلوچستان-کی-مختصر-داستان/d/108449

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..