New Age Islam
Tue Oct 27 2020, 05:03 AM

Urdu Section ( 13 Oct 2019, NewAgeIslam.Com)

Bhakts Happy with News Channels and Unhappy with the Entertainment Channels نیوز چینلوں سے بھکت خوش تفریحی چینلوں سے ناخوش


شکیل شمسی

14اکتوبر،2019

ہماری میڈیا انڈسٹری کے اس وقت دو روپ ہیں۔ ایک روپ تو نیوز چینلز دکھا رہے ہیں اور دوسری تصویر میں تفریحی چینلوں نے اپنے رنگ بھرے ہیں۔ نیوز چینل سماج کو تقسیم کرنے اور فرقہ واریت پھیلانے میں لگے ہیں تو تفریحی چینلز مختلف مذاہب کے درمیان محبت اور اخوت پیدا کرنے والے پروگرام دکھا رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر نہایت خوشی ہوتی ہے کہ سونی اور کلرس جیسے بڑے چینلوں کے مشہور ومعروف شو ز کے مسلم شرکاء کے ساتھ بہت اچھاسلوک کیا جاتا ہے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین بہت خوشگوار رشتوں کی ترجمانی ہوتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان سب رشتوں میں نقلی پن بالکل نہیں ہوتا بلکہ ہندوستان کی زمین میں اتحاد کا جو شجر لگا ہوا ہے اسی کا سایہ پورے پروگرام میں نظر آتا ہے۔ چاہے رقص کے پروگرام ہو ں یاموسیقی کے، چاہے رئیلٹی شوز ہوں یا کوئیز کے مقابلے یا ڈرامے ہوں سب میں روز مرہ کی زندگی میں مسلمانوں کا جو کردار ہے وہی نظر آتا ہے۔ جب کہ نیوز چینلوں نے نفرتیں اور مخاصمتیں پیدا کرنے کا جو ٹھیکہ لیا ہے اس کے تحت وہ ہر دن کسی غیر معروف سے مولوی کو پکڑ لاتے ہیں اور پھر اس سے کسی کے خلاف بیان دلواتے ہیں اور پھر دن بھر اس غیر معروف مولوی کی ہجوکرنے کی آڑ میں مسلمانوں پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیوز چینلوں سے کسی کو شکایت نہیں ہے اور تفریحی چینلوں پر مسلسل کوئی نہ کوئی ہندو تو وادی تنظیم یا بی جے پی کا لیڈر برق گرانے کو نکل پڑتا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے بی جے پی کے دو لیڈروں نے انوراگ کشیپ کی ویب سیریز سیکرڈ گیمز میں ایک سین دکھائے جانے پر سخت اعتراض کیا او رکہا کہ اس میں سیف علی خان (جو ایک سردار کا رول کررہے ہیں) نے سکھوں کے لئے بہت مقدس درجہ رکھنے والے کڑے کو سمندر میں پھینک کر کڑے کی توہین کی۔ اس پر اکالی دل کے مننجندر سنگھ سرسا اور بی جے پی کے تیجندر پال بگا نے بہت سخت الفاظ میں بیانات دئیے او رانوراگ کشیپ سے معافی مانگنے کو کہا اور دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ کے تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کروادی۔اب کرنی سینا اور اکھاڑا پریشد نے مشہور رئیلٹی شو بگ بوس کے خلاف زبردست پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں ہندوستانی ثقافت کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور ہندوستانی معاشرے کو خراب کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بگ باس میں برہمن لڑکیوں کو مسلم لڑکوں کے ساتھ دوستی کرتے ہوئے دکھایا جارہا ہے۔ ان تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پروگرام کے شرکاء کو ایک ہی بستر پر سوتے ہوئے دکھا جا رہا ہے۔اس لئے اس پروگرام پر پابندی لگائی جائے۔ اب ہندوتووادی تنظیموں کے ساتھ ساتھ غازی آباد سے بی جے پی کے ایم ایل اے نند کشور گجر نے بھی اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ اس شوز کو فوراً بند کیا جائے۔ ہم ان کے اعتراض کا کوئی جواز نظر نہیں آتا کیونکہ بگ باس میں جو کچھ دکھا یا جارہا ہے اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ ہر فلم میں ہیرو ہیروئین ایک بستر پر سوتے بھی ہیں اور اکثر ہم بستری کے شوٹس بھی دکھائے جاتے ہیں۔ جہاں تک انگریزی طور طریقوں کا سوال ہے تو کون سی ایسی فلم ہے جس میں مغربی تہذیب کی عکاسی نہیں ہوتی ہے؟ ہاں بس اس شو کی دوباتیں فرقہ پرستوں کو بے حد کھل رہی ہیں، پہلی تو یہ کہ اس شو کی میزبانی کے فرائض مشہور فلم اسٹار سلمان خان انجام دے رہے ہیں۔ ان کی مقبولیت اور شہرت کی وجہ سے اس شو کو بھی بہت فائدہ پہنچ رہا ہے۔ سلمان خان کا نام چونکہ سلمان ہے اس لئے بھی فرقہ پرستوں کو چین نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ پرگرام میں ہندو اور مسلم شرکاء کے درمیان جو دوستانہ رشتے ہیں ان کو بھی ہندو تو وادی طاقتیں ہضم نہیں کر پارہی ہیں، کیونکہ یہ لوگ چاہتے ہی نہیں ہیں کہ ہندو او ر مسلمان ایک دوسرے کے دوست بنیں یا مسلم لڑکوں کے غیر مسلم لڑکیاں قریب آئیں (ہاں ہندو لڑکوں کے قریب جتنی بھی مسلم لڑکیاں جائیں اتنا ہی بہتر ہوگا) اصل میں کافی دنوں سے کچھ انتہا پسند تنظیمیں ملک میں ثقافتی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ کبھی ان کو پدومات پر اعتراض ہوتا ہے، کبھی آرٹیکل 15/نام کی فلم اور کبھی جھانسی کی رانی کی زندگی پر بنی فلم منی کرنیکا کے خلاف میدان میں اتر آتے ہیں ہندوستانی ثقافت کے نام نہاد پہر یدار۔ ہماری حکومت ہند سے درخواست ہے کہ فلموں، ویب سیریز یا ٹی وی شوز کے خلاف مہم چلانے والی تنظیموں کی حوصلہ شکنی سختی کے ساتھ کرے،کیونکہ بہت دنوں سے اس قسم کے مطالبات کے ذریعہ پروڈیوسرس اور فلم میکرس کو بلیک میل کیا جارہا ہے۔ کسی سیریل یا رئیلٹی شو سے کسی ملک کا کلچر تباہ وبرباد ہوسکتا ہے اس پر ہنسنے کے علاوہ کیا کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا تو یہی ماننا ہے کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو برباد کرنے کا کام یہی تنظیمیں کررہی ہیں جو میڈیا کے برے اثرات کا رونا روتی ہیں۔

14اکتوبر، 2019، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/bhakts-happy-with-news-channels-and-unhappy-with-the-entertainment-channels--نیوز-چینلوں-سے-بھکت-خوش-تفریحی-چینلوں-سے-ناخوش/d/119984

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..