New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 06:57 PM

Urdu Section ( 21 Nov 2012, NewAgeIslam.Com)

Qasab’s Real Sentence Will Begin Nowقصاب کی سزا تو اب شروع ہوگی

 

شکیل شمسی

22 نومبر ، 2012

ممبئی کے وی ٹی اسٹیشن کے آس پاس چار سال قبل نومبر کے ہی مہینے میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والے دہشت گرد ، عامر اجمل قصاب کو آخر کا ر کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا ۔ 26 نومبر 2008کو اجمل اور اس کے 9 دوسرے ساتھیوں نےمظلوم انسانوں کے خلاف جن جرائم کا ارتکاب کیا تھا ان کے لئے موت کی سزا کوئی سزا نہیں ہے ،کبھی کبھی جرم اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کا ارتکاب کرنے والوں کو دی جانے والی ہر سزا چھوٹی لگتی ہے ۔ ویسے بھی قصاب جیسے دہشت گرد وں کے لئے سزا ئے موت کوئی سزا ہے ہی نہیں ، کیونکہ وہ تو مرنے کے لئے آمادہ ہوکر ہی دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم بھلے ہی یہ کہہ کر خوش ہوجائیں کہ آج مظلومین کے ساتھ انصاف ہوگیا، لیکن اصل انصاف ابھی تک باقی ہے، کیونکہ وہ تمام لوگ ابھی پھانسی کے پھندوں سے دور ہیں ، جنہوں نے ہندوستان کی سرزمین پر 10 دہشت گردوں کو خون کی ندیاں بہانے کے لئے بھیجا تھا ۔ اس دہشت گردانہ کا رروائی میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کا ایک ممبر ڈیوڈ کو لمین ہیڈلی اور اس کا ایک ساتھی تہور رانا بھی شامل تھا اور یہ دونوں ابھی تک ہندوستان کے حوالے نہیں کئے گئے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کی سرزمین پر یہ سازش تیار کرنے والے ذکی الرحمن لکھوی اور حافظ سعید جیسے انتہا پسند بھی آرام سے گھوم رہے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قصاب اور اس کے ساتھیوں کی ممبئی پر حملے میں ایک مہرے سے زیادہ کی حیثیت نہیں تھی۔ ان کو بساط پر ادھر سے ادھر کرنے والے ہاتھ آج بھی محفوظ ہیں ۔ جب تک یہ سزایاب نہیں ہوں گے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔

وہ تو ہمارے ملک کی خوش قسمتی تھی کہ قصاب زندہ گرفتار ہوگیا اور اس نے اس سازش کے بہت سے راز افشا کردئے ، ورنہ اگر 9 دوسرے دہشت گردوں کی طرح وہ بھی موقع پر ہی مار دیا جاتا تو اس سازش کے تمام رازوں پر سے پردہ اٹھنا نہایت مشکل ہوجاتا ۔ ممبئی کے حملے کی سازش اتنی گہری تھی کہ جس کے ہر حصے تک پہنچنے میں ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کو بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر ہیمنت کر کرے جیسے فرض شناس پولیس افسر کو گھات لگا کر قتل کئے جانے کے بعد یہ  لگا کہ پاکستانی دہشت گرد اس افسر کو مارنے کے لئے بھیجے گئے تھے ، جس نے بھگوا دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب کر کے ہندوستان میں دہشت گردی کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھ دیا تھا ۔ ممبئی میں دہشت گردوں کی گولیوں نے جہاں ڈیڑھ سو عام شہریوں کو ہلاک کیا وہیں انہوں نے کئی فرض شناس پولیس افسروں کو بھی مار کر یہ سوالیہ نشان ضرور چھوڑ دیا تھا کہ پاکستان سےہیمنت کر کرے کو مارنے کے لئے  دہشت گرد کیوں بھیجے گئے تھے ؟ اس گروہ نے ممبئی کے کچھ یہودیوں کو نشانہ بنا کر صیہونیوں کو اپنی مظلومی کی داستانیں بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا موقع بھی دیا تھا ، لیکن اس حملے میں ہلاک ہونے والے تقریباً چالیس مسلمانوں کا ذکر شائد ہی کہیں ہوا ہو ۔ پاکستانی  دہشت گردوں کی بربریت کا شکار ہونے والوں میں ہندوستانی مسلمان برابر کے شریک تھے ۔ کتنے ہی مسلمان مسافروں کے خانوادے ممبئی وی ٹی پر سفر کرنے سے پہلے ہی موت کی آغوش میں پہنچا دئے اجمل قصاب اور اس کے ساتھی ابو اسماعیل نے ، لیکن ان مظلوموں کا تذکرہ کوئی نہیں کرتا۔ ہاں چھبد ہاؤ س میں مرنے والے یہودیوں پر گریہ وزاری آج تک جاری ہے ۔ قصاب کے خاتمے کے بعد آج ان مسلمان خانوادوں نے بھی چین کی سانس لی ہوگی اور وہ یہ سوچ کر خوش ہورہے ہوں گے کہ وہ مجرم آج اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا حساب دینے کے لئے پہنچ گیا ہے جس نے نہتے مسافروں کوگولیوں سے چھلنی کرتے وقت ایک ذرا سی انسانیت نہیں دکھائی ۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ قصاب اور اس کے جیسے تمام دہشت گردوں کو جہنم کی آگ کا حصہ بنائے گا اور قصاب کی اصل سزا تو موت کے بعد شروع ہوگی۔

22 نومبر ، 2012  بشکریہ : انقلاب  ، نئی دہلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قصاب کی پھانسی

اداریہ

22 نومبر ، 2012

جس سرعت اور رازداری کے ساتھ اجمل عامر قصاب کو پھانسی دی گئی ہے اس کی ستائش کئےبغیر نہیں رہا جاسکتا ۔ سرعت سے کام نہ لیا گیا ہو تو اس سفاک قاتل کو کیفر کردار تک  پہنچانے کا معاملہ طول پکڑتا جاتا ۔ ویسے بھی کافی تاخیر ہوچکی تھی۔ راز داری نہ برتی گئی ہوتی تو اس موضوع پر بحثیں شروع ہوجاتیں ، مختلف قسم کی باتیں ہوتیں اور، جیسا کہ ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے کہا ہے، سیکوریٹی کے مسائل بھی پیدا ہوتے ۔اس اقدام میں بڑے واضح طور پر یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ حکومت مسائل کو معرض التوا میں رکھ کر داد عیش دینے کے اپنے اب تک کے رویہّ کو ترک کر کے حرکت و عمل کو ترجیح دے رہی ہے اور فائلوں کا انبار لگانے کے بجائے مسائل کے حل او رمعاملات کے نمٹارے کی جانب توجہ دینے پر آمادہ ہوگئی ہے ۔ طرز عمل کی یہ تبدیلی بھی قابل داد ہے ، چاہے اس کی وجوہات کتنی ہی سیاسی کیوں نہ ہوں۔

ممبئی پر ہونے والے خوفناک اور وحشیانہ حملے کی یادیں چار سال گزر جانے کے باوجود آج بھی اُتنی ہی تازہ ہیں جتنی کہ 2008 میں تھیں ۔ قصاب کے جن دوسرے درندہ صفت ساتھیوں نے عروس البلاد اور اس حوالے سے پورے ملک پرحملہ کیا تھا ، وہ اگر موقع پر ہی ٹھکانے نہ لگ جاتے اور زندہ گرفتار ہوتے تو آج اُن کا بھی وہی حشر ہوتا جو قصاب کا ہوا ہے ۔ وطن عزیز کے جیالے اور بہادر جوانوں نے دیگر کو تو وہیں ڈھیر کردیا تھا، زندہ بچ رہنے والے اس قاتل کو اپنے کئے کی سزا اب ملی ہے۔ اس سلسلے میں ہندستانی عدلیہ نے ایسے قابل نفریں شخص کو قانونی نقطۂ نظر سے اپنے دفاع کی پوری اجازت او رموقع دے کر یہ ثابت ہی نہیں کیا بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ ہم اپنے بدترین دشمن کے ساتھ جو بھی سلوک کرتے ہیں، قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کرتے ہیں۔ اس سے ،قانون کی بالادستی میں ہمارے دیانتدارانہ ایقان کی تاریخ کا ایسا باب مرتب ہوا ہے کہ جس کی ستائش پر ہر وہ ملک اور حکومت مجبور ہوگی جو انصاف اور قانون پر یقین رکھتی ہے۔

قصاب کی پھانسی سے اُن متاثرین کو بھی تسکین حاصل ہوگی جو 11/26 کے وحشیانہ حملوں کی براہ راست یا بالواسطہ زد میں آئے ۔ ان میں ،دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں جان عزیز کا نذرانہ پیش کرنے والے فوج اور پولیس کے بہادر جوانوں کے اہل خانہ بھی شامل ہیں اور وہ عام شہری بھی جو اُس وقت ہونے والی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے ۔ قصاب کی پھانسی دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی جنگ کا ایک اہم پڑاؤ تو ہے ہی، اس سے ہمارے اس عزم کی عکاسی بھی ہوتی ہے کہ ہم ،وطن عزیز کے خلاف سازشوں میں مصروف کسی بھی فرد یا گروہ کو قطعاً معاف نہیں کرینگے ۔

جہا ں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ کل بھی ان خوفناک حملوں سے اپنا پلّہ جھاڑ نے کیلئے کوشاں تھا، اب بھی ہے۔ اُسے یہ جان لینا چاہئے کہ جرم قبول نہ کرنے سے جرم کی حقیقت متاثر نہیں ہوتی ۔ اُسے ، ممبئی حملوں کی سازش رچنے والے دیگر مجرموں کے خلاف غیر جانبدارانہ اور ٹھوس کارروائی کرنی ہوگی بالخصوص قصاب اور اس کے ساتھیوں کو اس جرم پر آمادہ کرنے، اُنہیں تربیت دینے اور وسائل فراہم کرنے والے اُن جنونی افراد کے خلاف جو اب بھی سرزمین پاکستان پر موجود ہیں اور جن کے خلاف لازمی کارروائی میں حکومت پاکستان پس و پیش او رٹال مٹول کررہی ہے۔ وہ  بھی ایسی ہی سزا کے مستحق ہیں کیونکہ ممبئی پر ہونے والے حملے میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں ہے۔ جب تک وہاں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، حکومت پاکستان بھی مجرم ہی کہلائے گی۔ اور یہ تو نہیں ہوسکتا کہ اسلام آباد ایک طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے اور دوسری طرف پیٹھ میں خنجر گھونپنے والوں کی پشت پناہی کرے!

22 نومبر ، 2012  بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi-شکیل-شمیh/Qasab’s-real-sentence-will-begin-nowقصاب-کی-سزا-تو-اب-شروع-ہوگی/d/9389

 

 

Loading..

Loading..