New Age Islam
Sun Nov 28 2021, 09:48 PM

Urdu Section ( 29 May 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Urdu Language and Literature's Global Scenario اردو زبان و ادب کا عالمی منظر نامہ

  

شاہد ماہلی

28 مئی 2015

اردو اس وقت دنیا کی چند بڑی زبانوں میں سے ایک ہے ۔ یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق عام طور پر بولی جانے والی زبانوں میں چینی اور انگریزی کے بعد دنیا کی یہ تیسری سب سے بڑی زبان ہے۔ اردو اپنی شکلیں زبان کے فطری ارتقاء اور فطری تغیر کے تحت بدلتی رہتی ہے۔ مختلف ادوار نے اسے مختلف ناموں سے پکارا رہے ۔ اردو کی سب سے قدیم شکل زبان دہلو ہے جو زبان دہلوی کہلائی۔ اور بعد میں ریختی ، کھڑی، لشکری، ہندی، ہندوستانی وغیرہ ہوتے ہوئے اردو کی شکل میں مشہور ہوگئی ۔ جہاں تک اردو کے عالمی منظر نامے کا سوال ہے تو یہ بات اب اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ اردو زبان جو کہ ترقی کے نئے نئے مدارج طے کررہی ہے اس کا حلقہ نہایت وسیع ہے۔ آج یہ عالمگیر سطح پر ایک بڑی زبان تصور کی جارہی ہے ۔ اس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے ہر ملک میں ہر کونے میں موجود ہیں ۔ جب انگریز ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ زبان اور تہذیب و تمدن بھی لائے ۔ ٹھیک اسی طرح معاشِ معاش کی غرض سے اِن ممالک میں بر صغیر سے لوگ گئے تو وہ اپنے ساتھ زبان بھی لے کر گئے ۔ جب معاشی     دشواریوں سے یک گونہ سکون حاصل ہوا تو اِن اردو مہاجرین نے وقت گزارنے اور اپنی دلچسپی کے لیے شعری و ادبی  نشستیں منعقد کرنی شروع کیں ۔

آہستہ آہستہ اِس زبان کے توسط سے ان کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہونے لگا ۔ اور ارد وزبان نے ایک نیا علاقہ تشکیل دینا شروع کیا ۔ یہ سلسلسہ بتدریج چلتا رہا ۔ جس نے ہندو پاک کے اردو داں طبقے کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور سب کو حیران کردیا ۔ اردو داں طبقہ اس بات کو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اردو کی یہ نئی بستیاں کس طرح زبان و ادب کے فروغ میں نمایاں رول ادا کررہی ہیں ۔ بقول نّیر جہاں : کہ اردو زبان عجب و غریب صلاحیتیں رکھتی ہے۔ اس کی تربیت اور ترویج کے لیے صرف محبت کی فضا اور پیار کی آب و ہوا درکار ہے۔ یہ موسم سےبالکل بےنیاز ہے ۔ اسی لئے قطب جنوبی سے لپٹے براعظم آسٹریلیا آئی لینڈ تک میں اس کی توانائی اِس طرح قائم ہے ۔ براعظم افریقہ، یورپ اور ایشیا، کوئی ملک کوئی شہر ان براعظموں کانہیں ہے جہاں اردو کے چاہنے والے نہ ہوں ۔

امریکہ کےشمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک پھیلتی ہوئی ریاستوں کے ہر شہر میں اردو کے پرستار موجود ہیں ۔ اس کے حسن کو نکھارنے اور گیسوؤں کو سنوارنے میں امریکہ کے مغربی ساحل پر واقع ریاست کیلی فورنیا کا بہت بڑا دخل رہا ہے ۔ اردو جن جن علاقوں میں پھیل رہی ہے اُس نے اردو طبقے کو متحد کرنے کی کوشش ہے ۔ اردو زبان چونکہ ہندو پاک میں سیاست کاشکار رہی ہے ۔ اس لیے بھی نئی زمین کی تلاش ضروری تھی ۔ اس ضرورت کے پیش نظر بھی یہ اردو کی نئی بستیاں وجود میں آئیں ۔ نئی جگہوں پر اردو کے وجود کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ ان ممالک میں مقیم ایشیائی مہاجر اپنے بچوں کے بارے میں اس بات کے لیے بھی منتفکر رہتے ہیں کہ وہ مغرب کی اس رنگین زندگی کے ساتھ ساتھ مشرق کی روایات سے ناطہ نہ توڑ لیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے سامنے موجودہ صدی اور اردو کی ترویج و ترسیل کے لیے کئی مسائل ہیں اور چیلنجز ہیں۔ اور ہمارا یہ فرض ہے کہ اس صدی میں ہم آنےوالے کل کے لئے اردو کا ایک پورا لائحہ عمل ابھی ہی سے تیار کرلیں ۔

بالکل اُسی طرح جس طرح سرسید نے اواخرِ انیسوی صدی میں بیسوی صدی کی منصوبہ بندی کر کے اپنی اور اپنے حلقہ احباب کی ساری صلاحیتوں کو جھونک دیا جس کے نتیجے میں ملک و ملّت ان کے شیریں ثمرات سےآج تک مستفیض ہورہی ہے، یہ تو ہر ذی فہم انسان کو پہچان ہے کہ حالات جیسے جیسے بدلتے ہیں اس کی فکر بھی نئے راستوں پر چل نکلتی ہے ۔ بصورت دیگر اس کے لیے ترقی کے راستے خود بخود مشکل سے مشکل تر ہوتے چلے جاتےہیں ۔ ادیب اور محقق کا بنیادی  کام یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشاہدات اور تجربات یا بیتے ہوئے لمحات کو بھر پور قلمی عکس آنے والی نسل کے سامنے صاف صاف رکھے تاکہ اگر اس میں سے فائدہ حاصل ہوسکتا ہے تو آئندہ نسل تیزی سے بڑھ کر اس سے فائدہ حاصل کرسکے اور نقصان دہ ہے تو اس سے بغیر نقصان اٹھائے کنارہ کرلے یا پہلے سےکوئی نیا انداز اپنا کے اس نقصاندہ رُخ کو اپنے فائدہ کے لیے استعمال کرسکے ۔ اس نظریے کو سامنے رکھتےہوئے تقاضا ئے وقت کو ہم سبھی کو سمجھنا چاہئے تاکہ زبان کی ترقی سے دلچسپی رکھنےوالے افراد کی تعداد میں کمی کے بجائے تیزی سے اضافہ ہوسکے ۔ اب ہمارے سامنے سوال یہ ہے کہ اکیسویں صدی جو کہ کمپیوٹر کی صدی ہے اس صدی میں ہماری زبان کاپودا کس طرح ہرا بھرا او رپھل دار وہ سکتا ہے ۔

آس پاس کا ماحول ٹکنالوجی کے زور سے مزید رنگین ہوتا جارہاہے ۔ اس سے جڑے ہوئے مضامین خود بخود نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں تو ایسی صورتِ حال میں ہم خادمین اردو پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ زبان کی معرفت بنیادی باتوں کو بلیک اینڈ وائٹ دکھانے کی بجائے مزید محنت کر کے رنگین دکھائیں تاکہ وقت کی رفتار سمجھانے والے وقت سے پیچھے نظر نہ آئیں ۔ میری اس گفتگو کامقصد یہ بھی ہے کہ اکیسویں صدی اور خصوصاً عالمی تناظر میں اردو زبان کے فروغ اور بنیادی وسائل کیا ہونے چاہئے ۔ اس لیے میں اپنی گفتگو براہِ راست پرائمری باتوں سے کرنا چاہتا ہوں ۔ براہِ راست تو پرائمری سےیونیورسٹی کا کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن میرے خیال میں اپنی حدود میں یونیورسٹی کا سب سےبڑا تعلیمی ادارہ ہونے کے ناطے اس کا تعلق خود بخود چھوٹےتعلیمی اداروں سے جڑ جاتا ہے ۔ ویسے براہِ راست جوڑنا بھی چاہئے کیونکہ پرائمری میں پڑھنے والے بچے ہی تو آگے آکر یونیورسٹی کے طالب علم او رملک کے دانشور اور سائنسداں بنتے ہیں ۔ پرائمری سطح پر زبان کو جدید انداز سے متعارف کروانے کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ بچپن کی عادتیں بہت دیر سے بلکہ اکثر نہیں چھوٹتیں اس لیے زبان سے دیر پا محبت بچپن ہی میں دلچسپ پڑھائی کے ذریعے سے بآسانی پیدا کی جاسکتی ہے۔

پرائمری سطح پر الف ب سے لے کر شاعری او رنثر کہانیوں کا کمپیوٹرائز سلیبس بنا کر متعارف کرواناچاہئے ۔ آج کل ہر اسکول میں کمپیوٹر موجود ہے۔ کمپیوٹر بچوں کو سکھایا بھی جارہاہے اور اُس کی معرفت پڑھایا بھی جارہا ہے ۔ لیکن صرف ان مضامین کو جو انگریزی زبان میں پڑھائے جاتےہیں اور جب اردو یا کسی مقامی زبان کی باری آتی ہے تو دوبارہ بچے کو کمپیوٹر سے ہٹا کر صرف کتاب اور کاپی پر بٹھا دیا جاتا ہے اور انہی کی معرفت اُسے الف ب پڑھنا او ر لکھنا سکھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بچہ اردو یا مقامی زبان سے دلچسپی کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے بجائے مجبوری سے رشتہ جوڑے رکھتا ہے ۔

یہ تو رہی پرائمری سطح کی بات اعلیٰ سطح پر یونیورسٹی کے شعبہ اردو پر فرض بھی عائد ہوتاہےکہ یونیورسٹی کی حدود میں پرائمری سے پوسٹ گریجویٹ سطح تک یہ مقابلےکروائے اور سال کا بہترین مضمون نظم ، افسانہ، گیت قرار دے کر اسے یونیورسٹی ویب سائٹ کے اردو حصے میں رکھا جائے جس سے یقیناً تمام عمر کے طلبہ وطالبات کی زبان و ادب سے دلچسپی بڑھ جائے گی اور نئے نئے تجربات ہمارے سامنے آئیں گے ۔ انہی طالب علموں میں ہی سے آگے چل کر اچھے شاعر ، محقق ، نقاد، نثار یا ادب دوست بنیں گے جو جدید موضوعات ہمارے سامنے لائیں گے اور اس طرح تحقیق کے لیے خود بخود خام مواد تیار ہونا شروع ہوجائے گا۔ایک بات جو موجود ہ ماحول میں سب سے زیادہ قابل توجہ ہے کہ سائنس کے طالب علموں کی اکثریت کو موجودہ صورت حال اور اردو زبان سے کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ زبان کے لیے موجودہ ماحول ہے ۔ ہمیں اس پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔ تراجم کے سلسلے میں انسانیت کے شعبے کی نسبت سائنس کا طالب علم مفید ثابت ہوسکتا ہے ۔کیونکہ ہمارے یہاں ایسے تمام مضامین انگریزی میں پڑھنا پڑتے ہیں دیگر زبانوں کے ادب کے تراجم خود بخود شامل ہوتے رہتےہیں اور دوسری طرف سائنس کے طالب علم کو باہر جانے کے مواقع بھی زیادہ میسر آتے ہیں ۔ اس لیےاگر ہم سائنس کے طالب علم کی مخصوص تعداد کے اندر ہی اچھا لسانی ذوق پیدا کردیں او راس میں لکھنے کی عادت ڈال سکیں تو طالب علم اگر تخلیق کار، محقق ،نقاد کے روپ میں نہ سہی مترجم کے روپ میں ہی سہی اپنی زبان میں نئے پھول کھلا سکتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اِن حالات میں ادیب اور شاعر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ اردو کی شمع کو روشن رکھے ہوئے ہیں ۔ خصوصاً وہ شعراء جو مشاعرے کے ذریعے سےاپنے خیالات اور محسوسات دوسروں تک پہنچاتے ہیں ۔

مگر اس میں بھی اب زیادہ تر Stage Performance کو ترجیح ملنی شروع ہوگئی ہے ۔ پاکستان او رہندوستان کےباہر بھی مشاعرہ ایک ثقافتی سرگرمی کےطو رپر مقبول ہے جو نسل تازہ تازہ ملک چھوڑ کر گئی ہے ۔ یہ سرگرمی اس کےلئے طمانت قلب کاباعث ہے مگر اِن محفلوں میں نوجوان نسل بہت کم نظر آتی ہے ۔ اردو کے شائقین اور دنیابھر کےمختلف اداروں کی کوششوں سے انٹرنیٹ پر بہت سے اردو کے پروگرام شروع ہوچکے ہیں،اتنا ہی نہیں بلکہ اردو کے مصنفین سے متعلق معلومات انٹرنیٹ پر آسانی سے دستیاب ہیں ۔ اسی طرح کئی ایسی سائٹ بھی موجود ہیں جس سے ہم عالمی سطح پر اردو زبان و ادب کی صورتِ حال کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ تفصیل سے قطع نظر اردو زبان نے عالمی سطح پر بڑی سرعت کے ساتھ اپنی ہر دل عزیز ی ثابت کی ہے۔ اردو چینل بھی مارکیٹ میں آچکے ہیں او راپنے ناظرین سے دادِ تحسین وصول کررہے ہیں ۔ ٹی وی کے علاوہ پوری دنیا میں درجنوں ایسے ممالک ہیں جہاں کے ریڈیو اسٹیشن سے اردو کے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں اور اِن پروگرام کے سننے والوں کی تعداد بالخصوص ہندوستان میں بہت زیادہ ہے۔ یہ جملہ امور اردو کی مقبولیت کو ثابت کرتےہیں لیکن افسوس کہ اردو سے متعلق ایسی غلط فہمیاں پیدا کردی گئی ہیں جو نئی نسل کو اردو سے کبھی کبھی متنفر کردیتی ہیں ۔ اگر انہیں دور نہیں کیا گیا تو نئی نسل اور اردو دونوں کا شدید نقصان ہوگا کیونکہ اردو ہی ایک ایسی زبان ہے جو پوری دنیا کے اردوداں طبقے کو متحد کرنےمیں اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ اس ضمن میں سب سے بڑی او رمضحکہ خیز بات یہ ہے کہ عام طور پر ہندوستان    میں یہ کہا جاتاہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا زبان کی کوئی حد مقرر کی جاسکتی ہے ۔ اگر اردو مسلمانوں کی زبان ہے تو پنڈت رتن ناتھ سرشار، پریم چند، رگھوپتی سائے فراق گورکھپوری ، پنڈت دیا شنکر نسیم، برج نارائن چکبست ،گیان چند جین وغیرہ نے اردو میں کیو ں لکھا ۔ اس قسم کی غلط فہمیاں وہی پیدا کرتاہے جس کا علم محدود ہو ۔

دراصل زبان ا س کی ہے جو اُسے بولے، اس میں سوچے اور اپنے خواب سجائے ۔ اگر آپ اردو کی مقبولیت کو ہندوستان کے تناظر میں دیکھیں تو ہندوستان میں لگ بھگ 1652 زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ ان میں سے لگ بھگ 1455 زبانیں اور بولیاں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے یعنی 197 زبانیں ایسی ہیں جنہیں بڑے خطوں میں بولی جانے والی زبان کا درجہ حاصل ہے جن میں سے محض 18 زبانوں ہی کو آئین کے آٹھویں جدول میں جگہ ملی ہے ۔ اِن تمام زبانوں میں محض اردو ہی ایسی زبان ہے جس کا کوئی مخصوص علاقہ یا صوبہ نہیں ہے ۔ وہ پورے ملک کی مشترکہ تہذیب کی زبان ہے۔ آج کی نئی نسل کے سامنے اردو زبان کی یہ انفرادیت واضح ہے اور یہ زبان میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کررہی ہے۔نئی نسل جو اردو زبان سے جذباتی سطح پر وابستہ ہے اس کے نزدیک اردو سے متعلق پیدا کی جانے والی بے بنیاد غلط فہمیوں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ نئی نسل بخوبی   واقف ہے کہ دنیا کی کوئی بھی زبان محض حکومت کے بل بوتے پر زندہ نہیں رہ سکتی ۔ دراصل زبانیں اپنی جاذبیت ، دلکشی ، اور نمایاں اوصاف کی بنیادوں پر زندہ رہتی ہیں ۔ ضرورت ہے کہ نئی نسل میں اپنی زبان سے محبت کا جذبہ بیدار کیا جائے ۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اردو درس و تدریس کو فروغ حاصل ہورہا ہے ۔ ایک تخمینے کے مطابق زبان میں O level اور A level میں اردو میں امتحان دینے والے بچوں کی تعداد آٹھ نو ہزار تک پہنچ گئی ہے یعنی اردو کی ایک ایسی پود پوری دنیا میں تیار ہورہی ہے جس کے سبب کئی    ممالک میں اردو یونیورسٹی قائم کرنے  کی مانگ کی جارہی ہے۔

امریکہ میں بھی اردو یونیورسٹی قائم کرنے کی مانگ کی جارہی ہے ۔ امریکہ میں اردو کی صورت حال بہتر ہے نہ صرف امریکہ میں بلکہ ڈنمارک ، ناروے، سعودی عرب ، اور دیگر خلیجی ممالک میں بسے ہوئے اردو داں طبقے کے بچوں کےلیے اسکول میں اردو پڑھانے کا انتظام ہے۔ ابو ظہبی ، دوبئی، عمان، شارجہ وغیرہ میں رابطے کی سب سے اہم زبان اردو ہے۔ پاکستان، ہندوستان ،اور بنگلہ دیش کے لاکھوں محنت کش یہاں آباد ہیں ۔ یہاں اردو زبان کی مقبولیت کے پیش نظرایرانی ، عُمانی بھی اردو بولنے لگے ہیں ۔ ایران میں بھی اردو تدریس کے دو قدیم ادارے موجود ہیں ایک پاکستانیوں کے لئے دوسرا ایرانیو کے لیے ۔ انقلاب کے بعد اردو رسالے بھی شائع ہوئے ۔ تہران کےساتھ ساتھ اصفہان، مشہد اور شیراز کی جامعات میں بھی انقلاب برپا ہونے تک اردو پڑھائی جاتی رہی ۔ ایران میں اردو تدریس کا اصل مرکز ایرانی جامعات ہیں ۔ ریڈیو ایران کے دو اسٹیشنوں تہران اور زاہدان سے اردو نشریات پیش کی جاتی ہیں ۔ جاپانی جامعات میں کبھی کبھی اردو کے خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں ۔ ریڈیوجاپان سے ہر روز جنوبی ایشیا کے لئے اردو پروگرام نشر کیا جاتاہے ۔ چین میں بھی اردو کا ماحول کافی خوشگوار ہے چین میں اردو کی تدریس کا آغاز ستمبر 1954 میں ہوا ۔ سویت یونین میں تاجکستان اور ازبیکستان کی زبانوں سے لسانی اور ثقافتی رابطہ ہے۔ ریڈیو ماسکو سے ہر روز پاکستان کے لیے اردو پروگرام نشر کیا جاتا ہے ۔ اردو زبان کی تعلیم ازبیکستان میں سب سے پہلے اعلیٰ تعلیم کی درس گاہ میں شروع ہوئی اور 1944 میں تاشقند یونیورسٹی میں بھی مشرق فیکلٹی کے شعبہ زبان ہند کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ تاشقند ریڈیو کا اردو شعبہ روزانہ ایک گھنٹہ کا پروگرام پاکستان اور ہندوستان  کے سامعین کے لیے پیش کرتا ہے۔ اسی طرح جرمنی میں بھی اردو زبان کا فروغ تیزی سے ہورہا ہے ۔ یہا ں بھی اردو دانوں کی تعداد رتقریباً ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ پہلی جنگ عظیم کےبعد برلن یونیورسٹی میں اردو پڑھانے کا انتظام کیا گیا ۔ اردو زبان پرتحقیق کاکام جرمنی میں بہت تھوڑا ہوا ہے مگر جو بھی ہوا ہے وہ مستحکم ہے۔ جرمنی کا ریڈیو اسٹیشن ہر روز اُردو زبان میں پروگرام نشرکرتا ہے ۔ جرمنی میں وقتاً فوقتاٰ اردو اخبار ات و جرائد کی اشاعت ہوتی رہتی ہے۔

28 مئی ، 2015 بشکریہ : روز نامہ صحافت ، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/shahid-mahli/urdu-language-and-literature-s-global-scenario--اردو-زبان-و-ادب-کا-عالمی-منظر-نامہ/d/103245

 

Loading..

Loading..