New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 05:43 AM

Urdu Section ( 10 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

Political Prisoners of Gilgit-Baltistan گلگت بلتستان کے سیاسی قیدی


شاہ نواز علی شیر ایڈوکیٹ

7جولائی،2020

گلگت بلتستان کی جیل میں قیدی و ترقی پسند راہنما ء کامریڈ بابا جان کی بہن نے گذشتہ روز بابا جان کی صحت کی بگڑتی ہوئی تشویشناک صورت بارے درد ناک اپیل فیس بک پر جاری کی ہے۔اپیل میں باباجان کی بہن شگفتہ خانم گفتو نے مطالبہ کیاہے کہ ”کتنامشکل ہوا وہ عرصہ اس ماں کے لئے جس کا لخت جگر پچھلے نو سالوں سے پابند سلاسل ہے۔کامریڈبابا جان کی والدہ پچھلے نو سالوں سے ریاست،حکومت اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے اپنے بے قصور بیٹے کے لئے انصاف کی امید لگا کے بیٹھی ہیں۔ بے گناہ لخت جگر کے ساتھ ہونے والے ظلم نے ماں کو شدید تکلیف پہنچا ئی ہے پچھلے سات دنوں سے شدید بیمار ہیں،ڈاکٹر ز کا کہنا ہے کہ شدید ڈپریشن کی وجہ سے طبیعت بہت خراب ہوئی ہے، میں بابا جان کی بہن آج گلگت بلتستان سمیت پاکستان اور دنیا کے علمبردار وں اور اہل گلگت بلتستان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس ماں کے بے گناہ بیٹے کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے گلگت بلتستان و ریاست جموں کی طرف سے بابا جان کی رہائی کے لئے خاموش پالیسی پر اظہار افسوس کرتے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی رہائی کے لئے آواز بلند کی جائے۔ آئین،قانون، انصاف، جمہوریت اور بنیادی انسانی،سیاسی،معاشی و شہری حقوق سے محروم گلگت بلتستان میں 1947کے بعد سے اب تک یہا ں لاکھوں عوام،تمام تر بنیادی حقوق جدید سہولیات وحکومتی مراعات سے محروم ہیں۔

آزاد ی اظہار رائے کی روح بری طرح مجروح ہے۔عرصہ دراز سے قائم رہنے والے ریذیذنٹ و پولیٹیکل ایجنٹس اور ان کا قائم کردہ فرنٹئر کرائمز ریگولیشن کے اثرات و تسلسل اب بھی جاری و ساری ہے۔ ریاستی جبر و تشدد اور استحصال کو سلیف گورنینس،شیڈول فور،نیشنل ایکشن پلان کا نام دے کر سیاسی حقوق کیلئے متحرک متعدد سیاسی و پرامن لیڈروں،راہنماؤں کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے۔پاکستانی الیکٹرانک وپرنٹ اور عالمی میڈیا کو سری نگر میں ہوتا ظلم و ستم دیکھائی دے دیتاہے لیکن دوہرے معیار کایہ عالم ہے کہ اپنی ناک کے نیچے ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں نظر نہیں آتی ہیں؟ بھارت کا قانون ریاست باشندہ کا خاتمہ اور اس سے آبادی کاتناسب بکھڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے لیکن گلگت بلتستان میں پاکستان کی جانب کئی عرصہ قانون باشندہ کا خاتمہ اور پختوانخواہ سے بسائے جانے والے ہزارو ں لاکھوں غیر ریاستی عناصر سے بگاڑ دیا گیا تناسب نظر نہیں آتا؟ یہی عالم انسانی حقوق کے لئے سرگرم قومی و عالمی این جی اوز کا ہے جن کی نظروں سے گلگت بلتستان اوجھل ہے۔ جہاں پر امن طور پر سیاسی کارکن حکومت سے اپنے عوامی مسائل کے بارے میں مطالبات کرتے ہیں تو انہیں پولیس آفیسر ان، حکومتی و استعاری طاقتوں کی ایماء پر گولیوں سے بھون ڈالتے ہیں۔آزادی اظہار رائے کی اس قدر،خلاف ورزی کی گئی کہ آواز بلند کرنے والوں کو عمر قید کی تین گناہ زائد سال قید او رلاکھوں جرمانے سنائے گئے ہیں۔ عوامی ہیرو اور ”چے گویرا“ کہلانے والے جیل کے اندر اور جنہیں،جیل کے اندر ہونا چاہئے وہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں؟ اس وقت حقوق کے لئے بلند ہونے والی سینکڑوں آوازوں کو قتل کردیا ہے۔ایسی تشویشناک صورتحال پر یورپین یونین کی رکن ممبر ایما نکلسن کی رپورٹ 2007 میں گلگت بلتستان کو دنیا کے نقشے پر کالا دائرہ ”Black Hole“ قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے سر گرم ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر نے 16اگست 2016 میں اپنے تین روزہ دورہ کے دوران گلگت بلتستان کے جوڈیشل سسٹم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور چالیس سال کے لئے قید کا مریڈ بابا جان سے ملاقات کی۔

گلگت بلتستان کے عوام میں کامریڈ ”چے گویرا“ کہلائے جانے والے کامریڈ بابا جان اس وقت گاہکوچ جیل میں اسی سال عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ بابا جان ایک نوجوان سیاسی راہنماء ہیں جو لیبر پارٹی پاکستان میں 2003 میں شمولیت سے قبل پیپلز ستوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماء تھے۔ لیبر پارٹی میں شمولیت کے بعد بابا جان نے گلگت بلتستان میں پرگریسویوتھ فرنٹ کو مقبول بنادیا۔جب لیبر پارٹی پاکستان نے 2012 دیگر پارٹیوں سے مل کر عوامی ورکز پارٹی کی بنیاد رکھی تو وہ اس کے نائب صدر منتخب ہوئے۔آخر کار بابا جان نے اپنے ہم فکردوستوں کو عوامی مسائل و مقامی طور پر منظم کرنا شروع کیا۔ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے ہنزہ میں دھاتوں کو نکالنے کے خلاف موثر احتجاجی مہم چلا ئی جو کامیابی کی دہلیز تک پہنچی۔جنوری 2010 میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہنز،ادریا کا عطا آباد کے قریب راستہ رکنے پر بننے والی نئی جھیل سے متاثرہ دیہاتوں کے لئے ایک موثر تحریک چلائی۔تحریک چلانے کی وجہ یہ تھی کہ عطا آباد جھیل میں دریا کے پانی جمع ہونے کی وجہ سے پانی کے شدید بہاو کی بدولت 20آدمی جان بحق،دو درجن زخمی ہوئے اس سانحہ پربابا جان نے حکومت گلگت بلتستان و مقامی انتظامیہ کی توجہ فوری عملی اقدام اور عوام کے بچاو کی جانب مبذول کرائی لیکن حکومت کی طرف سے کوئی دلچسپی یا ذمہ داری پوری نہیں کی گئی۔

جس کی وجہ سے دوسری مرتبہ پھر پانی کے شدید بہاو کی وجہ سے 19افراد ہلاک، ایک سو سے زائد گھر تباہ اور ہزاروں عوام بے گھر و متاثر ین کو یقین دہانی کرائی کہ ابتدائی مرحلہ میں نقصا ن کا تخمیہ لگاتے ہوئے فوری معاوضے ادا کیے جائیں گے۔ کامریڈ بابا جان او ران کے ساتھیوں نے لاہور کراچی اور اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر عطا آباد جھیل کے مسئلے کو ایک قومی ایشو بنا دیا تھا۔ کئی ماہ گزر نے کے بعد جب متاثرین کی معاوضہ جات کی ادائیگی عمل میں نہ لائی گئی تو 200 سے زائد خاندانوں نے اگست 2011 میں مین ہائی وے روڈ، علی آباد کو بلاک کردی۔جس کے رد عمل میں ڈی ایس پی بابر علی نے دو باپ بیٹے افضل بیگ اور والد،شیر اللہ بیگ کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔ یاد رہے کہ متاثرین کا یہ احتجاج سیاسی، قانونی و آئینی او رمکمل طور پر پر امن تھا(پاکستان و دیگر مقامات ایسے درجنوں احتجاج ہفتے میں ہوتے ہیں)۔ جس پر پوری وادی ہنزہ اور گلگت بلتستان میں کہرام مچ گیا اور عوامی رد عمل میں سرکاری عمارتوں و املاک کو نقصان بھی پہنچا یا گیا۔ چار دن کے بھرپور احتجاج کے بعد پولیس آفیسر کے خلاف دو نہتے افراد کے قتل کی ایف آئی آر کاٹی گئی تو احتجاج ختم ہوگیا کیونکہ عوام،مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ڈی ایس پی کو گرفتار کیا جائے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔بعد ازاں ایف آئی آر بھی جعلی بوگس نکلی۔ ستمبر 2011 بابا جان، افتخار کربلائی،اجلال حسین، عرفان کریم و دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ جیل میں جانے کے بعد بابا جان نے یہاں پر قیدیوں میں شیعہ و سنی یگا نگت،اتحاد بارے اپنی سرگرمیاں تیز کریں۔

جیل میں شیعہ و سنی کو الگ الگ طورپر رکھا ہوا تھا ان کی آپسی ملاقات، بات چیت پر پابندی تھی تاکہ فرقہ پرستی کی بنیاد پر ان کے درمیان اتحاد و یک جہتی کی کسی طرح کی فضاء قائم نہ ہوسکے۔ستمبر 2014 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کی غیر حاضری میں بابا جان اور ان کے گیارہ ساتھیوں کو تین کیسوں میں چالیس چالیس سال کی سزائیں سنادیں۔ اس وقت با با جان نیلسن منڈیلا بن چکے ہیں۔کامریڈ بابا جان و فاق اسلام آباد کے حکم اور گلگت بلتستان کے ریاستی جبر و تشدد اور بدترین استحصال کا شکار ہیں۔ جس سے یہاں قائم نام نہاد اسلامی جمہوریہ مملکت پاکستان اور ان انتظامی خطوں میں صورتحال،قانون کی حکمیت، وکالت اور سفارت کاری کے دعووں کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔سری نگر میں ہونے والے مظالم پر پاکستانی حکومتیں اور میڈیا زمین و آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کے نام پر ورغلاء کر پراکسی وار کی آگ میں دھکیل دیتا ہے لیکن یہاں خود ہی سی ریاست اور سری نگر کے بھائیوں کو جو اس کے اپنے قبضے میں ہیں دوہری سزائیں سنا کر نو سال سے جیل میں بند کیا ہوا ہے؟ کیا یہ دوہرا معیار،منافقت اور غاصبانہ سوچ پاکستان کے نام نہاد چہرے کو بے نقاب نہیں کرتی ہے؟ یہ اسیران کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ ایکشن کمیٹی کی شکل میں ہویا گندم سبسڈی کی بحالی کی تحریک ہویا ٹیکس نامنظورکی عوامی تحریک ہو تمام تر مسلکی و مذہبی تعصب و نفرت سے دستکش ہوکر یہ عوام اب سری نگر کے عوام کے عین متوازی کھڑے ہیں۔وقت کے جبر نے انہیں جتنا پسماندہ رکھا یہ اسی کی دوگنی رفتار سے انقلاب کی جانب گامزن ہوچکے ہیں۔

پاکستانی آئین و قانون کے مطابق،اگر گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں اقوام متحدہ میں متنازعہ حیثیت سے اس خطہ کی اپنی اہمیت ہے جس کا تصفیہ ہوناابھی باقی ہے تو پاکستان میں دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے کے لئے پاکستانی بنایا ہوا نیشنل ایکشن پلان، کا نفاذ اب گلگت بلتستان میں کیوں ہے؟ اس طرح ان علاقہ جات پر غیر ملکی قانون کا نفاذ غیر قانونی وغیر آئینی اقدام ہے؟ گلگت بلتستان میں پاکستان نے شیڈول فور اور نیشنل ایکشن پروگرام کا نفاذ کالعدم تنظیموں،فرقہ پرستی و مذہبی و مسلکی منافرت کے خاتمے کے لیے بنایا گیا تھا جب کہ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ عوام جب،گلگت بلتستان میں سیاسی و عوامی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں اور عوامی مسائل کی طرف حکومتوں کی توجہ مبذول کراتے ہیں،حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں تو حکومت ان کے خلاف شیڈول فور، نیشنل ایکشن پلان کی کاروائی عمل میں لاتی ہے۔جب کہ سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمان کے خود کالعدم تنظیموں کے ساتھ رابطے ہیں اور گذشتہ الیکشن میں انہی تنظیموں کی سپورٹ تعاون سے برسراقتدار آئے۔ اس بات کا مزید انکشاف پیپلز پارٹی جی بی کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے بھی کیا کہ شیڈول فور اور نیشنل ایکشن کا حقیقی حقدار حفیظ الرحمان ہے جو رات کی تاریکی میں کالعدم تنظیموں کے راہنماوں سے ملاقات کرتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں اب خود نیکٹا کے کردار پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ کرونا کرائسس کے حالات کے پیش نظر او رحالیہ دن بدن بگڑ تی صحت کے بارے میں ریاست جموں کشمیر کی عوام اور ورثاء کو سخت تشویش ہے۔ بابا جان کی زندگیوں کو خطرہ ہے، انہیں جان بوجھ کر مریض بنایا جارہا ہے اور علاج معالجے کی قانونی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ بابا جان و دیگر سیران کو فوری رہا کرنا وقت کا تقاضا بن چکا ہے۔

7جولائی،2020، بشکریہ: روز نامہ چٹان، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/shah-nawaz-ali-sher-advocate/political-prisoners-of-gilgit-baltistan-گلگت-بلتستان-کے-سیاسی-قیدی/d/122340


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..