New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 08:38 PM

Urdu Section ( 23 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Look at the Life of Shibli Nomani حیات شبلی پر ایک نظر

 

شبیر احمد ندوی

23 دسمبر، 2014

نقش ہیں سب نا تمام خون جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

علامہ شبلی نعمانی کی وفات کے سو برس ہوگئے، اس موقعہ پر جی چاہتا ہے کہ انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کےلئے شبستان شبلی کے وہ تمام گلہائے رنگا رنگ ، جو اپنے اندر علم و ادب اور فکر فن کی تازگی و خوشبو سمیٹے ہوئے ہے، انہیں چن کر اور عقیدت مندانہ احساسات کے تاروں میں پرو کر، ایک گلدستہ  کی صورت میں پیش کی جائے، مگر دامن عشق تنگ ، اور  محرومی کا شکار ہے، بے کسی و بے سروسامانی کا عالم یہ ہے کہ کچھ کہنے کےلئے الفاظ نہیں ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ مرے پاس ہی درہم کم ہیں

ورنہ اس شہر میں اس درجہ گرانی بھی نہیں

سارے کردار ہیں انگشت بد نداں  مجھ میں

اب تو کہنے کو مرے پاس کہانی بھی نہیں

 شبلی کی ولادت کے وقت ہندوستان اور اعظم گڑھ کے حالات:

مولانا شبلی مرحوم کی ولادت مئی سنہ 1857 ء میں ریاست اتر پردیش کے مشرقی ضلع اعظم گڑھ کے قصبہ بندول میں اس وقت ہوئی  جب  ہندوستان میں ہر طرف سورش و ہنگامہ برپا تھا، یہ وہ زمانہ تھا جو ہندوستان کی تاریخ میں غدر کے نام سے جانا جاتا ہے،اہل وطن کے جذبۂ  انقلاب کو دبانے کے لئے انہیں تہ  تیغ  کیا  جارہا تھا ، بالخصوص علماء اسلام کو چن چن کر سولی پر چڑھایا جارہا تھا ، اور انہیں پکڑ پکڑ کر قید خانوں میں ڈالا جارہا تھا ، اور یہی وہ دن تھا جس دن اعظم گڑھ کے باغیوں کے ایک گروپ نے ڈسٹرکٹ جیل کے گیٹ کو توڑ ڈالا ، اور قید یوں کو جیل سے بھگا کر لے گئے تھے، اس ناگفتہ  بہ حالات میں شبلی نےآنکھیں کھولیں اور پرورش پائی۔

کون جانتا تھا کہ یہی شبلی ( شیر کابچہ) ایک دن جوان ہوکر مشرق و مغرب کے کوہساروں کو پاٹ کر قدیم و جدید کا ایک ایسا سنگم بنائے گا جس میں دونوں   دریاووں کے دھارے آکر مل جائیں گے ( مرج البحرین یلتقیان)، جو بظاہر نامانوس ذہنوں کے لئے دو متضاد او رمختلف الصفات تو ہوں گے مگر اسلامی تعلیمات کی روح اور اس کے مقصد و منشا کے عین مطابق  ہوگا۔ مجھ سےاگر کہا جائے کہ کسی ایسی  شخصیت کا نام بتاؤ جو مجموعہ صفات ہو، جو عالم بھی ہو، محقق بھی ہو، ادیب بھی ہو، شاعر بھی ہو، انشاء پرداش بھی ہو، خطیب بھی ہو، مفکر بھی ہو، مصلح بھی ہو، سیاسی بھی ہو، ماہر تعلیم بھی ہو،  مؤرخ و متکلم بھی ہو، اور سیرت نگار بھی ہو ، اور نئے زمانہ کے چیلنج اور حالات و مطالبات کے مطابق انقلابی بھی ہو، تو بغیر کسی تر دو کے میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ وہ شخصیت صرف شبلی نعمانی کی ہی ہے۔ بقول میر تقی میر کہ :

مت سہل ہمیں جانو پھر تا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

مولانا شبلی کے والد ( شیخ حبیب اللہ مرحوم) نے اپنے اس جگر گوشہ کا نام محمد شبلی رکھا، چونکہ شیخ صاحب صوفیانہ طبیعت کے حامل تھے ، لہٰذا انہوں نے یہ نام مشہور صوفی بزرگ شیخ شبلی بغدادی کے نام پر رکھا ۔ سید سلیمان  ندوی لکھتے ہیں کہ : ( عجب نہیں  کہ یہ نام شیخ صاحب نے اپنے صوفیانہ  ذوق سے رکھا ہو)۔

پرورش و پرداخت:

مولانا شبلی کی پرورش بڑے ناز و نعم میں ہوئی، بچپن سے ہی نہایت ذہین ور پڑھنے لکھنے کےبہت شوقین تھے، حافظہ بھی بہت قوی تھا، شعر ادب کا شوق بھی بچپن ہی سےتھا ۔ سید صاحب لکھتےہیں کہ : (بچپن میں وہ فرصت کے اوقات شہر کے ایک کتب فروش کی دکان پر بسرکرتے تھے، کتابیں  الٹتے پلٹتے  ، اور شعراء کے دیوان پڑھتے، اور مناسبت ذوق سے ان کے اچھے اشعار یاد رہ جاتے تھے ) ۔ بحوالہ حیات شبلی ۔ مولانا نو عمر ی میں ہی اچھی خاصی شاعری کرنے لگے تھے ، اور اردو شاعر ی میں اپنا تخلص تسنیم رکھتے تھے، اور فارسی شاعری میں شبلی، کہیں کہیں  نعمانی بھی استعمال کرتے تھے، نعمانی کا خطاب یا لقب ان کے استاد مولانا فاروق چریا کوٹی نے رکھ دیا تھا، جو فقہ حنفی  کے بہت بڑے شیدائی اور مؤید بھی تھے۔

تعلیم و تربیت :

ان کی والدہ بڑی نیک طبیعت اور دین دار تھیں ، خود والد صاحب بھی بڑے نیک اور صالح تھے، اور اس وقت تک ز مانہ کی آب و ہوا او رماحول سے دور تھے، اس لئے اپنی پہلی  اولاد کو علم دین کے حصول اور خدمت دین کے لئے وقف کردیا، جب کہ اپنے دوسرے بچوں کو سرسید کی تحریک او ران کی تحریر و تقریر  سے متاثر ہوکر، اعلیٰ انگریزی تعلیم دلوائی ۔ انہوں نے قرآن پاک ، اور فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی میں حکیم عبداللہ صاحب سے  حاصل کی، اور عربی کی تعلیم مدرسہ عربیہ اعظم گڑھ میں مولانا فیض اللہ صاحب سے حاصل کی۔ لیکن آپ کا اصل تعلیمی  سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا  جب مولانا فاروق چریا کوٹی صاحب کی خدمت میں غازی پور حاضر ہوتے ہیں، مولانا شبلی نے خود لکھا ہے کہ : میں نے معقولات  کی تمام کتابیں مثلاً: میر زاہد ، ملا جلال مع میر زاہد ، حمداللہ ، شرح مطالع صدرا وغیرہ انہیں سے پڑھیں ، اور میری تمام تر کائنات انہیں کے افادات ہیں، فارسی کا مذاق بھی  انہیں کا فیض ہے۔

استاد و شاگرد کے اس میل نےسونے پر سہاگہ کا کام کیا ۔ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ : ( مولانا شبلی جیسا طباع شاگرد اور مولانا فاروق جیسا متبحر استاد کی فیض  تربیت نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ چند ہی دنوں میں یہ جوہر قابل ایسا چمکا کہ نگاہیں خیرہ ہوکر رہ گئیں، اور ہونہار شاگرد استاد کے لئے مایۂ ناز بن گیا۔ مولانا فاروق اس زمانہ میں اکثر فخر یہ کہا کرتے تھے کہ : ( انا اسد، انت شبلی) ، میں شیر ہوں، اور توبچہ شیر ۔ مولانا شبلی نے درسیات کی تکمیل  اگر چہ مولانا فاروق ہی سے کرلی  تھی لیکن ان کے ذوق علمی نے ان کو دوسرے خرمنوں  کی خوشہ چینی پر آمادہ کیا۔ ہندوستان کے مختلف گوشوں میں ادب ، فقہ اور حدیث کے جو اساتذہ اپنے اپنے فن میں یگانہ عصر سمجھے جاتے تھے، ان سے بھی استفادہ کا شوق دامن  گیر ہوا، اور طلب علم کے شوق میں دیار وطن کو خیر آباد کہا ۔ اس زمانہ میں باقاعدہ مدارس  کا رواج کم تھا، زیادہ تر مشاہیر علماء اپنی اپنی جگہ پر مسنددرس و افادہ کو زینت بخش رہے تھے، یہی آستانے اس وقت کی یونیورسٹیاں تھیں ۔ لہٰذا مولانا کی فطری جودت طبع کے مطابق جہاں بھی کوئی اس جوہر کاحامل نظر آتا ، تمام تر رکاوٹوں ، او رپریشانیوں کے باوجود ان کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے استفادہ کرتے تھے، انہیں میں سے ایک  نام مشہور ادیب مولانا فیض الحسن سہارن پور ( پروفیسر اور ینٹل کالج، لاہور) کا ہے، جو اس وقت ہندوستان میں امام الادب کے مرتبہ پر فائز تھے ، مولانا نے اس چشمہ ٔفیض سے بھی اپنی  تشنگی بجھائی ، اور اس کی خاطر وطن عزیز کی تمام محبتوں اور خواہشوں کو قربان کردیا، اور لاہور کے لئے رخت سفر باندھا:

آبلے روتے ہیں خوں رنج بڑا ہوتا ہے

کوئی کانٹا  جو کف پا سے جدا ہوتا ہے

 جب لاہور سے واپس ہوئے تو اس وقت کے اپنے فن میں یکتائے روزگار ، مولانا ارشاد حسین صاحب ، اور علم حدیث کے لئے نامور محدث ، مولانا احمد علی سہارن پور ی کا انتخاب کیا، اور ان کے ساتھ  شرف تلمذ اختیار فرمایا ۔ مولانا محمد علی کا آستانہ ٔ علم شبلی کی آخری درسگاہ ثابت ہوئی ، جو سنہ 1876 ء میں ختم ہوئی، اس  طرح تحصیل علم کی کل مدت چودہ برس ہوئی ۔

اسی سال سنہ 1876 ء میں اپنے والد اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ  حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہوئے، بمبئی کے راستہ حاجیوں کے قافلہ کے ساتھ مکہ پہنچے ، اس وقت مولانا کی عمر صرف 19 برس کی تھی ۔

ترکی مسلمانوں کے لئے  مالی امداد:

ابھی مولانا کا آغاز شباب تھا کہ اسلامی دنیا میں ایک بہت بڑی تحریک زور و شور سے اٹھی، او رہر طرف پھیلنی شروع ہوگئی، وہ اتحاد اسلامی تحریک تھی ، اس تحریک کے بانی و روح رواں سید جمال الدین افغانی تھے ، اور انہیں سلطان روم ( ترکی) عبدالحمید خان کی تایید و پشت پناہی حاصل تھی، سلطان کی مقبولیت مسلمانوں کے دلوں میں گھر کر چکی تھی۔ ادھر سنہ 1877ء میں روس اور ترکی کے درمیان جنگ شروع ہوگئی، مسلمان ہر جگہ سلطان کی فتح و نصرت کی دعائیں مانگنے لگے، اور جنگ سے متاثرین و زخمیوں کے لئے چندے ہونے لگے، مولانا نےبھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ  اس نیک اور قومی کام میں لگ گئے ، اور بڑی مستعدی سے اعظم گڑھ میں چندہ اکٹھا کیا، اور یہ رقم ترکی سفیر کے ذریعہ قسطنطنیہ روانہ کروا دیا ، جو ایک بہت بڑا قابل قدر قومی کام تھا ۔

وکالت کی تعلیم :

مولانا نے والد صاحب کے خواہش او رمشورہ کے مطابق وکالت کی تعلیم شروع کی، حالانکہ مولانا کی دلچسپی اس میں بالکل نہیں تھی، بہر حال پہلے سال امتحان میں پاس نہ ہوسکے، دوسرے سال کے امتحان میں پاس ہوگئے، اور سنہ 1882 ء میں مولوی محمد کامل  ولید پوری کے توسط نے ضلع بستی میں کچھ مہینے وکالت بھی  کی۔ او رپھر سنہ 1883 ء میں محمڈن کالج علی گڑھ میں اسسٹنٹ عربک کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ یہ ایک ایسا کالج تھا جہاں ہندو، مسلمان اور انگریز سب رہتے تھے ، یہاں کے شام و سحر اور تہذیب و ثقافت بالکل جدا تھے ۔ سید صاحب لکھتے ہیں کہ : اب مولانا ایسی  آب وہوا میں تھے ، جہاں ہر طرف نئے خیالات، نئے جذبات ، زمانہ کے نئے اثرات ، قدیم و جدید کی آمیزش کے نئے انقلابات گرد و پیش تھے ۔ ان اثرات اور جذبات کی نیرنگیوں میں حق و باطل ا س  طر ح ملے تھے کہ ان کے علاحدہ  کرنے کےلئے غیر معمولی بصیرت کی ضررت تھی ، بحمد اللہ کہ مولانا میں یہ بصیرت موجود تھی ۔ حیات شبلی ۔

ایسے ماحول میں ایک بوریانشیں  عالم کا گھل مل جانا ، جو انگلش کا ایک حرف نہ جانتا ہو، معمولی بات نہ تھی ۔ کالج کو قدیم کو قدیم و جدید کی اس ہم آہنگی ، اور تعاون سے بڑا فائدہ ہوا، ان کے علمی ، ادبی، فکری، تحقیقی ، اور انقلابی تصانیف و مضامین کی بدولت  کالج کی شہرت یوروپ تک پھیل گئی تھی، او رعلمی  حلقوں میں بھونچال پیدا ہوگیا تھا ۔ بالفاظ سید سلیمان ندوی :

( ہندوستان او رہندوستان سے باہر کی اسلامی دنیا کو قلم کی روانی سےسیراب اپنی شعلہ نفسیوں سے گرم، اور اپنی نو اسنجیوں  سے پرشور رکھا)۔

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ظہور تھا

مولانا  کے علمی ، تحقیقی اورتصنیفی ذوق کے مطابق ہندوستان کے کتب خانے کافی نہیں تھے، اور اس پیاس کوبجھانے کے لئے کنووں او رنہروں کا پانی کافی نہیں تھا بلکہ سمندر کاپانی درکار تھا ۔ لہٰذا اس خواہش کی تکمیل کے لئے سنہ 1892ء میں چھ ماہ  کے لئے ہندوستان کو خیر آباد کہا،اتفاق سے مسٹر آرنلڈ ہم سفر بنے ، دوران سفر مسٹر آرنلڈ نے مولانا سےعربی سیکھی ، پورٹ سعید  تک ساتھ رہا، یہاں سے دونوں کے راستے الگ ہوئے، مسٹر آرنلڈ یوروپ کے لئے روانہ ہوئے ، اور مولانا قسطنطنیہ  کی طرف۔ مولانا تین مہینے تک قسطنطنیہ میں رہے، اس دوران یہاں کے تمام کتب خانوں  کو چھان ڈالا، نادر کتابوں سے استفادہ کیا، دینی مدارس و اسلامی اداروں کی زیارت کر کے حقیقی  صورت حال سے واقفیت حاصل کی، ترکی  مصنفین سےملاقاتیں کیں،  اور ترکی زبان بھی سیکھی ۔ اسی سفر میں غازی عثمان پاشا سے ملاقات ہوئی ، اور سلطان ترکی کی طرف سے تمغۂ مجیدیہ عطا ء ہوا۔ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ : ( مولانا  کا سفر خواہ کتنے ہی علمی پردہ میں چھپا ہوا ، پھر بھی اس حقیقت سےکوئی انکار نہیں کرسکتا کہ وہ  ہندوستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کی پہلی کڑی تھی، اور مولانا اسلامی ہندوستان کے پہلے  سفیر تھے جو ترکی گئے ) قسطنطنیہ سے فارغ ہوئے تو بیروت، شام ، بیت المقدس ، قاہرہ او رطور سے جامع ازہر کی علمی تحقیقی  زیارت کا سلسلہ شروع ہوا، اور یہ سلسلہ نومبر سنہ 1892 ء میں ختم ہوا، اور ہندوستان واپس آگئے۔ سفر سے بخیر و عافیت ہندوستان واپسی، اور تمغہ مجیدیہ سے مشرف ہونے کی مبارک دینے کے لئے علی گڑھ کالج میں متعدد جلسے منعقد کئے گئے، او رکالج پر ان کے احسانات اور کارناموں پر تقریریں  ہوئیں ۔ اس میں شک نہیں کہ مولانا کی وجہ سے کالج کو بہت شہرت ملی ۔

اب انڈین گورنمنٹ کی بھی آنکھیں کھلیں ، اور حکومت کو احساس ہوا کہ غیر تو نوازے ، اور اپنوں سے ہی محرومی، لہٰذا جنوری سنہ 1894 ء میں مولانا  شبلی کو (شمس العلماء) کے خطاب سے سرفراز کیا گیا ۔ پھر اس کے بعد تبریک و تہنیت  کے بڑے بڑے جلسے منعقد کئے گئے، اور ان جلسوں میں اکابرین و معززین نے دلچسپ تقریریں کیں ۔ اخوان الصفا ء اور لجنۃ الادب کی طرف سے بھی علی گڑھ میں ایک جلسہ ہوا، جس کی صدارت نواب محسن  الملک نے کی تھی، نواب صاحب نے اپنی  پر مغز ، صدارتی تقریر میں فرمایا:

( صاحبو! جس طرح آفتاب  اس بات کا محتاج  ہے کہ کوئی اسے آفتاب کہے، بلکہ آفتاب کا اقرار  کرنے والا خود اس بات کوظاہر کرتا  ہے کہ وہ تیرہ چشم نہیں  ہے،اور نہ اس کی آنکھ  بند ہے۔ بلکہ اس میں بینائی کی قوت اور دیکھنے کی طاقت بے کسی قسم کے خلل اور عارضہ کے موجود ہے)۔

بقول علامہ اقبال :

کھول آنکھ زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

مشرق سےابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

اس جلوہ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ

ایام جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ

بے تاب نہ ہو معرکہء بیم درجا دیکھ

خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں

آباد ہے ایک تازہ جہاں تیرے ہنر میں

جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں

جنت تری پنہا ں ہے ترے خون جگر میں’

اے پیکر گل کوشش پیہم کی جزاء دیکھ

بقول متنبی کہ:

خذ ماتر اہ و دع شیئا ماسمعت بہ

فی طلعۃ الشمش ما یغنیک عن زحل

ترجمہ: جو دیکھتےہو اسے قبول کرلو، اور جو سنتےہو اس کو چھوڑ دو، آفتاب نکل آنے کے بعد زحل کی ضرورت کیا ہے۔

یہ وہی بچہ تھا ، جو ہندوستان کے مشرق سے طلوع ہوا تھا، اور اب اس کی شہرت کا آفتاب نصف النہار کو پہنچ چکاہے، اس کی پھیلتی ہوئی کرنیں سب کو اپنی طرف متوجہ کررہی ہیں ۔ اور ارباب علم و ادب و فکر و نظر پر اصل حقیقت آشکار ہوچکی ہے ، اور جن کو بھی قوم کی فلاح وبہبود کی ترقی دلچسپی ہے، ان کو معلوم ہے کہ امت کےمسائل کا حل اسی میں ہے۔

علی گڑھ سے رخصتی :

مولانا کی علی گڑھ سے علاحدگی کے واضح طور سے مندرجہ ذیل چار اسباب معلوم ہوتے ہیں :

(1) علالت کی وجہ سے صحت کی مسلسل گرتی ہوئی صورت حال ، اور علاج کے لئے فرصت کی تلاش۔

(2) کالج سید محمود کی بڑھتی ہوئی سو مزاجی اور بیجا تصرف ۔

الفاروق کی تصنیف کے لئے یکسوئی اور تر کیز کا تقاضا۔

کالج کے پرنسپل ( مسٹربک) کی مفاد پر ستانہ سیاست کے نتیجہ میں ایک مسلمہ مسلم لیڈر  کی حیثیت اختیار کر لینا۔

ان وجوہات کی بنا پر مولانا چاہتے تھے کالج سےکب چھٹکارا ملے،مگر کشمکش کاشکار تھے، کوئی فیصلہ نہیں کر پارہے تھے، دیوان حافظ کھول کر فال دیکھی ، پھر ایک سال کی چھٹی لے کر اعظم گڑھ چلے گئے ۔

تحریک ندوہ میں شمولیت :

سنہ 1894 ء میں جب ندوہ کی تحریک شروع ہوئی ، تو مسلمانوں میں نئے جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی، او رمولانا شبلی نے آگے بڑھ کر سب سے پہلے اس تحریک  کو گلے لگایا ، گویا یہ ان کے خواب کی تعبیر ، اور دل کی آواز تھی، جو اس تحریک کی شکل میں ظاہر ہوئی تھی ۔ سید صاحب رقمطراز ہیں کہ:

( اس صدا پر سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں ایک نام اس کا بھی ہے، جو ہندوستان کے علاوہ روم و شام و مصر کے مدرسوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا تھا، اور اس کے دل میں رہ رہ کر مدرسوں کی زبوں حالی، ابتری اور ضروریات زمانہ سےبے خبری کا درد اٹھتا تھا، جس کے لئے مضمونوں ، تقریروں ، اور تصنیفوں میں اس کا یہ احساس ہر دفعہ نئے رنگ میں ظاہر ہوتا تھا)۔

پھر اس کے بعد یہ ان کی زندگی کا حصہ بن گیا، ندوہ کے ہر جلسہ میں بڑی مستعدی سے شریک ہوتے ، اور اپنی تجاویز پیش کرتے ، اور علماء کو یاد دلاتے تھے کہ ان کے علمی، اخلاقی، اصلاحی اور سیاسی فرائض کیا ہیں ۔ مضامین اربعہ کے نام سے اب بھی یہ تقریر موجود ہے، اور اب بھی ضرورت ہے اسے علماء کے سامنے پیش کی جائے، اور انہیں ان کے فرائض منصبی یاد دلائی جائے ۔  12 نومبر سنہ 1900 ء میں مولانا کے والد سخت علالت کے بعد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ، حادثہ تمام رشتہ داروں پر بجلی بن کر گرا، او رپورے شہر میں کہرام مچ گیا، مولانا پر اس سانحہ کا صدمہ لازمی تھا، والد مرحوم نے 30،000 ہزار روپیے قرض چھوڑے تھے، چونکہ مولانا گھر میں سب سے بڑے تھے اس کی ادائیگی کا تقاضا بھی مولانا سے ہی ہونے لگا تھا، ان حالات سے بد برداشتہ  ہوکر حیدر آباد دکن چلے گئے ، چار سال تک یہیں مقیم رہے، اس دوران متعدد علمی و تصنیفی  کام کئے، موازنہ انیس و دبیر بھی اسی زمانہ کی لکھی ہوئی ہے۔ مولانا شبلی نے سنہ 1905 ء میں حیدر آباد کو الوداع کہا۔ انہیں دنوں ندوہ کے معتمد تعلیمات کی ذمہ داری آپ کو سونپی گئی ۔ ذمہ داری سنبھالتے ہی سب سے پہلے عربی  طریقہ تعلیم اور نصاب تعلیم کی اصلاح مصروف ہوگئے، اور قدیم نصاب تعلیم میں جو خرابیاں تھیں،  ان سب کی نشان دہی کی ، اور ان خامیوں کو دور کرنے کےلئے ( الندوہ) میگزین میں  مضامین لکھے اور اپنی تقریروں میں بر ملا اس کا اظہار فرمایا ۔ اور آج مدارس میں جو کچھ بھی ، کم و بیش تبدیلیاں  نظر آرہی ہیں ، یہ انہیں کوششوں کا پرتو ہے ، اور آج تک ان کے یہ افکار ذہنوں سفر کررہے ہیں ۔ بقول شاعر جاوید اختر جاوید کہ:

جسم مرجائے گا مگر روح نہیں مر سکتی

فلسفہ تیرا ہر اک ذہن کو گرمائے گا

دل میں جلتے رہیں گے تیری  یادوں کے چراغ

کوئی طوفان بھی ان کو نہ بجھاپائے گا

23 دسمبر، 2014 بشکریہ: روز نامہ عزیز الہند، نئی دہلی

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/shabbir-ahmed-nadvi/a-look-at-the-life-shibli-nomani--حیات-شبلی-پر-ایک-نظر/d/100654

 

Loading..

Loading..