New Age Islam
Fri Apr 23 2021, 01:00 AM

Urdu Section ( 22 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Human Sacrifice and the Taliban انسانوں کی قربانی اور طالبان

 

سینجے ایچ سیرنگ

17 اکتوبر ، 2013

طالبان اللہ کو خوش کرنے کے لئے دوسرے انسانوں کی جان لیتے ہیں ۔ ایک طالبانی اپنے بیٹے یا بھائی کی گردن پر چھری رکھ کر اسے کاٹ دیگا اگر  اللہ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ۔

طالبان کا یہ ماننا ہے کہ اللہ ہمارے تقوی ، ایمان، اطاعت اور وفاداری کو جانچنے کے لئے ہمارا امتحان لیتا ہے اور دوسرے انسانوں کی جان لینا بھی اللہ کے حضور اپنی اطاعت ثابت کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک انسان اپنے ساتھی انسانوں کے مقابلے میں اللہ سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔ اس سے ان کے عقیدے میں کمال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے لئے اس کے اپنے بیٹے یا بیٹی کے مقابلے میں بھی اللہ سے زیادہ قابل قدر کوئی چیز نہیں ہے ۔

وہ اللہ جو قادر مطلق ہے جس نے عربوں اور کھربوں کہکشاؤں اور کائنات کو پیدا کیا اور کسی وقفے کے بغیر ہی جس کے ذریعہ تخلیق کا عمل جاری ہے ۔

وہ قوت جو لامتناہی تخلیقی عمل جاری رکھتی ہے انسانوں کے قتل جیسی اس ذلیل حرکت سے اپنی توہین محسوس کرے گی ۔ اس حقیقت کے باوجود کہ وہ اس کائنات اور اس سے ماورا تمام چیزوں کو کنٹرول کرتا ہے کیا ہمارا اللہ اتنا کمزور اور غیر محفوظ ہے کہ وہ ایک مخلوق کے ذریعہ دوسرے کے گلے پر چھری چلوا کر وفاداری اور اطاعت کا امتحان لے گا ؟

کیا وہ اللہ ایسا کرے گا کہ انسانوں کے لئے جس کی محبت اپنے بچے کے لئے ماں کی محبت کے مقابلے میں 70 گنا زیادہ گہری ہے ؟۔

اگر یہ سچ ہے تو کیا اس کا اطلاق انسانوں میں خدا کے اعتماد اور بھروسے جیسی دیگر خوبیوں کے معاملے میں بھی نہیں کیا جانا چاہئے؟ کیا انسانوں پر اس کا اعتماد اپنے بچے پر اس کی  ماں کے اعتماد کے مقابلے میں 70 گنا زیادہ گہرا نہیں ہونا چاہئے؟ کوئی ماں اللہ کے لئے اپنی محبت ثابت کرنے کے لئے اپنے بچے کا گلا نہیں کاٹے گی ۔

اگر اس کا کوئی مطلب ہے تو بھر اتنا عظیم اللہ یہ نہیں چاہے گا کہ انسان اپنی اہمیت ثابت کرنے یا اس کی خوشی حاصل کرنے کے لئے اس حد تک بربریت پر اتر آئے ۔ اللہ یہ چاہے گا کہ وہ ایک دوسرے کی حفاظت اور دیکھ بھال کریں ۔ اللہ یہ چاہے گا کہ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور پیار و محبت پر انسانی تہذیب کی بنیادیں تعمیر کریں ۔

اتنا عظیم اللہ اس قدر اذیت پسند نہیں ہو سکتا کہ اسے اطاعت کے ثبوت میں کسی کو تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے اور قتل ہوتے ہوئے دیکھنے مین خوشی ملتی ہو ۔ اذیت پسندی ایک ذہنی بیماری ہے اور اس کے علاوہ اللہ کسی بھی قسم کے خبط سے برتر و بالا ہے ۔

اللہ کو راضی کرنے کے لئے ایک عمل کے طور پر انسانی جانوں کی قربانی پیش کرنے سے ناقدین کو امن کے مذہب کے طور پر اسلام کی شبیہ کے بارے میں سوالات پیدا کرنے کا بھی موقع ملتا ہے ۔ اس سے ان لوگوں کی اصلیت کا بھی پردہ فاش ہوتا ہے جو قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے یہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں کہ  ایک شخص کا قتل دراصل پوری انسانیت کی موت ہے ۔

ایک مسلمان کو امن پسند اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لئے غیر مضر اسی وقت مانا جا سکتا ہے جب وہ اپنے خاندان اور دیگر مذہبی کمیونٹی کے ارکان کے لئے حفاظت ، محبت اور دیکھ بھال کی ضمانت دے اور کسی بھی مغالطے یا جنون کے تحت ان کو مارنے کی اپنے غیر فطری خواہش پر لگام لگائے ۔

اس کے علاوہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ حلق پر چھری چلا کر ایک انسان کے قتل یا قتل کی کوشش کو اسلام میں اللہ کو خوش کرنے کا ایک طریقہ بیان کیا گیا ہے ۔ اللہ نہیں بلکہ وہ شیطان ہی ہو سکتا ہے جو طالبان اور ان کے ساتھیوں کو ایسا کرنے کا حکم دیتا ہے ۔

یا یہ طالبانیوں کی ذہنی پرآگندگی یا ان کا پاگل پن ہی ہو سکتا ہے جو انہیں اپنے ساتھی انسانوں کی گردن کاٹنے پر ابھار رہا ہے۔ دوسروں کو مارنے کے لئے ان کا جنون خالص ایمان کی نشانی نہیں بلکہ ایک ذہنی پاگل پن کی علامت ہے ۔

خوفناک ، دماغی مریض ، پرفریب اور مریض شقاق طالبان کے بارے میں بہت کافی باتیں ہو گئیں خاص طور پر ایسے وقت مین جب کہ دنیا بھر میں ڈیرھ ارب مسلمان عید کی خوشی منا رہے ہیں اور ان کے پاس دوسرے انسانوں کے سرقلم ہونے کے بارے سوچنے یا بات کرنے کا وقت نہیں ہے ۔

ہمارے عظیم نبی ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دہانی کرانے کے لئے اس مبارک و متبرک دن دنیا کے تمام مسلمانوں کو عید کی بہت بہت مبارک بادیاں ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

سینجے ایچ سیرنگ انسٹی ٹیوٹ آف گلگت بلتستان اسٹڈیز کے صدر ہیں اور ان کا تعلق بلتستان کے تبتی بولنے جانے والے اس علاقے سے ہے جسے اقوام متحدہ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان متنازعہ فیہ قرار دیا ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان میں تقریباً600,000  بلتستانی رہائش پذیر ہیں جو اسلام کا اعلان کرتے ہیں اور قدیمی تبتی زبان بولتے ہیں۔

ماخذ:  http://www.sharnoffsglobalviews.com/taliban-human-sacrifice-202/

URL:

http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/senge-h-sering/human-sacrifice-and-the-taliban/d/14026

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/senge-h-sering,-tr-new-age-islam/human-sacrifice-and-the-taliban-انسانوں-کی-قربانی-اور-طالبان/d/14096

 

Loading..

Loading..