New Age Islam
Fri May 20 2022, 08:44 AM

Urdu Section ( 4 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Consider How Much Time We Devote To the Qur'an and the Nature of Our Relationship with It سنجیدگی سے غور کیجئے کہ قرآن مجید سے ہمارا تعلق کس قدر اور کس نوعیت کا ہے

سید نورالعارفین

4 مارچ 2022

قرآن مجید پر ایمان لانے کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اس کے احکام کو بلاچوں و چرا قبول کرلیا جائے۔

-----------

آن مجید اللہ کی جانب سے انسانوں کے لئے بھیجا ہوا آخری ہدایت نامہ ہے۔ انسانی تاریخ کی ابتداء سے وحیٔ الٰہی کے نزول کا سلسلہ جاری رہا اور ہر دور میں تعلیمات الٰہی کا خلاصہ وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا (ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو) ہی رہا ۔

قرآن کی بھی بنیادی تعلیم یہی ہے ۔ گزشتہ انبیاء کی تعلیمات اور حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ ملی ہدایت میں فرق یہ ہے کہ سابق میں علم و عقیدہ کا محور اُس دور تک اور جس قوم کی طرف نبی مبعوث کئے گئے اس قوم تک محدود تھا۔ حضرت محمدﷺ کا پیغام سارے عالم کے لئے اور تا بہ قیامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نہ صرف جامع و مکمل بنایا گیا بلکہ ہر قسم کی تحریف سے بھی محفوظ رکھا گیا۔ دنیا کی کوئی قوم اتنی خوش قسمت نہیں کہ اس کے پاس ایسی کتاب موجود ہو اور کوئی قوم اتنی بدنصیب بھی نہیں کہ جو ایسی عظیم کتاب کی ناقدری کی مرتکب ہو۔ ’’قرآن مجید کی ناقدری‘‘کا الزام معمولی نہیں جسے نظر انداز کردیا جائے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ آخروہ کیا ناقدری ہے جو امت مسلمہ اس نسخۂ کیمیا کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ کتاب دلوں کی شفاء، تعمیر ِسماج کی بنیاد، قوموں کا افتخار اور جہاں گیری کا مسلمہ و آزمودہ اصول ہے۔

اس الزام پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک کا جتنا احترام ہم کرتے ہیں وہ اس کی قدر دانی کا ثبوت ہے۔ کسی اہم معاملہ میں قسم کھانا ہو تو اس کتاب سے بڑھ کر ہم کسی چیز کو نہیں سمجھتے ۔گھر میں سب سے اونچی جگہ اس کتاب کے لئے مختص ہوتی ہے وہ بھی ایسی کہ وہاں صاف ستھرے کاغذ اور کپڑے بچھائے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ قرآن مجید کے نسخے غلاف میں لپیٹ کر آنکھوں سے لگاکر چوم کر طاق میں سجائے جاتے ہیں۔ نو مولود کا نام رکھنا ہو تو اسی کتاب کو کھول کر صفحہ کے پہلے حرف سے نام رکھتے ہیں ۔ کسی کے مرنے پر یہی کتاب تو ہے جو میت کے بازو بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے اور پھر اسی کتاب کا دور کرکرکے ہم اپنے مردوں کو بخشتے ہیں لیکن یہ جواب دینے والوں کو بتانا ہوگا کہ قرآن مجید کی قدردانی کا کیا یہی مطلب ہے ؟ کیا قرآن انہی مقاصد کے لئے نازل ہوا؟ کیا قرآن و حدیث میں کہیں مذکورہ بالا امور کو مقاصد ِ نزول کی حیثیت سے پیش کیا گیا؟

جہاں تک احترام کا معاملہ ہے، اس کتاب کا جتنا احترام کیا جائے کم ہے لیکن اصل قابل غور نکتہ اس کے مقصدِ نزول کو سمجھنے کا ہے ۔ گویا یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن کا ہم پر کیا حق ہے؟ اگر ہم نے اس کے حقوق کو نہ پہچانا تو اتنا سب کرنے کے باوجود ہم پر قرآن مجید کی ’’ناقدری‘‘ کا ہی الزام عائد ہوگا کیونکہ یہ قرآن کے حقوق میں سے نہیں ۔ یہ قرآن کے ساتھ ہمارا خودساختہ سلوک ہے ورنہ اس کی اصل قدر دانی تو یہ ہے کہ اس کا وہ حق ادا کیا جائے جس کا تقاضا خود قرآن مجید ہم سے کرتا ہے۔

قرآن کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے ۔ ارشاد ربانی ہے:’’پس ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسولؐ پر اور اس روشنی (قرآن) پر جو ہم نے نازل کی ہے۔ ‘‘(التغابن:۸)

ایک اور مقام پر مطالبہ یہ ہے کہ یہ ایمان محض زبانی نہ ہو بلکہ سچے دل سے ہو : ’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے ، وہ اس (قرآن) پر سچے دل سے ایمان لے آتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں ،وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘ (البقرہ:۱۲۱) سچے دل سے ایمان لانے کے نتیجہ میں انسان عقیدہ وفکر کی گمراہ کن تاریکی سے نکل کر اس روشنی میں آجاتا ہے جسے ا للہ کی توفیق کہتے ہیں اور جو صراط مستقیم اور سبیل الحمید ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’(اے محمدؐ !)یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائو اُن کے رب کی توفیق سے اُس پروردگارکے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ۔‘‘ (ابراہیم:۱)

وحی کی حکمت اور مقصد ِ نزول بتانے کے بعد کہا گیا :’’ اور اس سے قبل وہ (یعنی وحی سے محروم قوم) صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ (آل عمران:۱۶۴) گویا یہ قرآن ہی ہے جو لوگوں کو گمراہی سے نکالنے کا ذریعہ ہے۔ حضرت علیؓ سے مروی ایک طویل حدیث میں نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص غیر قرآن میں ہدایت کا متلاشی ہوگا اللہ اس کو گمراہ کردے گا، وہ (قرآن) اللہ تعالیٰ کی ایک مضبوط رسی ہے اور وہ ایک محکم اور مضبوط ذکر ہے اور وہ ایک سیدھا راستہ ہے …‘‘(ترمذی) حقیقت یہ ہے کہ اگر امت مسلمہ میں پائی جانے والی گمراہیوں کے اسباب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ ایک حدیث ہی کافی ہوگی ۔ یعنی امت مسلمہ غیر قرآن سے ہدایت کی متلاشی ہے۔مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس مستند و مسلمہ ہدایت نامہ کو رکھنے کے باوجود دنیا بھر کی کتابیں پڑھ لیتے ہیں لیکن اس قرآن سے فیض یاب ہونے کی انہیں توفیق نہیں ہوتی۔ بیشتر لوگوں نے اس کتاب ہدایت کو کتاب ِایصال ثواب بنا دیا ہے۔ یہ کتاب تو زندوں کیلئے نازل کی گئی لیکن اسے مردوں کیلئے مختص کردیاگیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ قرآن تمام تر نور کے باوجودلحافوں میں بند ہے۔قرآن کریم میں ہے: ’’اور ہم نے اُن کو (یعنی نبیِ مکرّم ﷺکو) شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ اُن کے شایانِ شان ہے۔ یہ (کتاب) تو فقط نصیحت اور روشن قرآن ہے،تاکہ وہ اس شخص کو ڈر سنائیں جو زندہ ہو اور کافروں پر فرمانِ حجت ثابت ہو جائے۔‘‘ (یٰسین:۷۰۔۶۹)

حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ایک حدیث کا خلاصہ ہے کہ نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا : ’’تم لوگوں میں ایک گروہ ایسا پیدا ہوگا کہ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ، اسلام سے وہ ایسے نکل جائیں گے جس طرح تیر ۔‘‘

یہ ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے جس میں رسولؐ اللہ نے خبردار کیا ہے ایسے زمانے سے جبکہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یعنی دل تک نہیں پہنچے گا محض زبان و حلق کی مشق ہوگی۔ تلفظ کی ادائیگی میں تو کوئی فرق نہ ہوگا لیکن نہ اس کے مفہوم سے آشنا ہوں گے ،نہ اس کی کیفیات کو محسوس کریں گے، نہ اس کے احکام کو جانیں گے اور نہ اس پر عمل کی رغبت رکھتے ہوں گے۔ حلق سے نیچے نہ اترنے کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اس پاک کلام کی دل تک رسائی نہیں ہوگی ۔لازمی بات ہے کہ شرک و نفاق سے لے کر اخلاقی بیماریوں تک تمام گناہوں اور نافرمانیوں کا گھر دل ہوتا ہے اور اگر قرآن کی تاثیر حلق سے نیچے اترکر دل تک نہ پہنچے تو اس کا پڑھنا پڑھانا کیسے باعث فیض و حصولِ پاکیزگی ہوسکتا ہے۔

قرآن مجید پر ایمان لانے کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اس کے احکام کو بلاچوں و چرا قبول کرلیا جائے۔ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے سے جی چرانا اور تاویلات کے ذریعہ بچ نکلنے کی کوشش یا عملی انحراف کرنےکو منافقت سے تعبیر کیا گیا ہے: ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول( ﷺ) کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں ۔ ‘‘ (النساء:۶۱)

قرآن پر ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام تسلیم کیا جائے ۔اگر حلال و حرام کو جاننے کا معیار قرآن مجید کو نہ مانا گیا تو ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔ حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے نبی کریم نے ارشاد فرمایا :

’’جس شخص نے قرآن میں حرام کی ہوئی اشیاء کو حلال سمجھا وہ گویا قرآن پر ایمان ہی نہیں لایا۔‘‘ (ترمذی)

اس کتاب کے نزول کے جو مقاصد بتائے گئے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں کے درمیان پائے جانے والے تنازعات حل کئے جائیں چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’اے نبیؐ !بیشک ہم نے آپ کی طرف حق پر مبنی کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں میں اس (حق) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے ۔‘‘ (النساء:۱۰۵)

 گویا اس کتاب پر ایمان کا تقاضاہے کہ اس کے فیصلوں کو تسلیم کیا جائے اور اپنے تنازعات کی یکسوئی کے لئے اسے حَکَم(جج) بنایا جائے۔

سنجیدگی سے غور کیجئے کہ قرآن مجید سے ہمارا تعلق کس قدر اور کس نوعیت کا ہے۔ اسے فراموش کردیا ہے یا محض تلاوت پر اکتفا ہے۔ اسے سمجھ تو لیتے ہیں لیکن اپنی مرضی کے مطابق یا پھر ٹھیک معنوں کو پالینے کے باوجود عمل سے محروم ہیں۔

ترک قرآن اور کتاب حکمت کی ناقدری کی وضاحت اس آیت سے ہوتی ہے:

’’ (بروز قیامت )رسول (حق تعالیٰ سے شکایت کے طور پر) کہیں گے کہ اے میرے پروردگار !میری قوم نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کررکھا تھا۔‘‘(الفرقان:۳۰) اس آیت میں لفظ ’’مہجورا‘‘ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ’’نظر انداز ‘‘ کیا گیا ہے۔ ’’مہجورا‘‘ کا لفظ ’ہجر‘ سے مشتق ہے۔ ہجر کے معنیٰ ہیں ترک کرنا، چھوڑنا، قطع تعلق کرنا، رخ پھیر لینا وغیرہ۔ اسی سے ہجرت بنا ہے یعنی کسی چیز یا مقام کو چھوڑ کر دوسری چیز یا دوسرا مقام اختیار کرنا۔ مذکورہ بالا آیت میں ترک قرآن کی جو شکایت نبی کریم کی زبانی سامنے آئی اگرچہ اس سے مراد کفار ہیں کہ قرآن کا انکار کرنے والی قوم تو وہی ہے لیکن بعض روایات کی بناء پر مفسرین و علماء نے ایسے مسلمانوں کو بھی اس آیت کے ذریعہ تنبیہ کی ہے جو قرآن پر ایمان تو رکھتے ہیں لیکن نہ اس کی تلاوت کا اہتمام کرتے ،نہ اس کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی اس پر عمل کرتے ہیں۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے : ’’اس (قرآن) کا نہ پڑھنا بھی چھوڑ دینا ہے ،اس کا نہ سمجھنا بھیچھوڑ دینا ہے اور اس پر عمل نہ کرنا بھی اسے چھوڑ دینا ہے۔‘‘ حضرت انسؓ سے مروی ہے نبی کریم نے ارشاد فرمایا:

’’جس شخص نے قرآن پڑھا مگر پھر اس کو بند کرکے معلق کردیا،اس کی تلاوت کی پابندی نہیں کی ،اس کے احکام پر غور نہیں کیا تو بروز قیامت قرآن اس کے گلے میں پڑا ہوا آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرے گا کہ آپ کے اس بندہ نے مجھے چھوڑ دیا تھا اب آپ میرے اور اس کے معاملہ کا فیصلہ فرمادیجئے۔‘‘ ثعلبی کی اس روایت میں قرآن کی شکایت ’ان عبدک ھذا اتخذنی مھجوراً‘ کے الفاظ کے ساتھ آئی ہے اور یہاں بھی لفظ ’’مہجورا‘‘ استعمال ہوا ہے۔

 قرآن کا ایک حق اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا، اس کی تعلیم کو عام کرنا بھی ہے لیکن اس کا اطلاق تو اس وقت ہوگا جب ہم قرآن کی تلاوت کو حرز جان بنائیں۔ان حقوق کی ادائیگی ہی اصل قدر دانی ہے ۔ یہی قدر دانی ہے جس سے قرآن دنیا میں ہمارے لئے رہنما اور آخرت میں نور و ذریعۂ شفاعت بن سکتا ہے۔

4 مارچ 2022، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/consider-quran-nature-relationship/d/126508

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..