New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 09:28 PM

Urdu Section ( 26 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Spiritual aspect of Holi ہولی کا روحانی پہلو

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنت راجندر سنگھ جی مہاراج

27مارچ، 2013

پھاگن مہینے میں ہر طرف پھول کھل  آتے ہیں اور بڑی  رنگ برنگی بہار ہوتی ہے ۔ ہولی کا تہوار اسی پھاگن مہینے میں بڑے جوش و خروش  اور جذبہ  کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ جس میں لوگ ایک دوسرے سےگلے مل کر ہولی کی مبارکباد  دیتے ہیں ۔ اس طرح ہولی  کے تہوار  کا ظاہری پہلو جس  کے تحت ایک دن ‘ہولیکا’  جلائی جاتی ہے اور اس کے اگلے دن ایک دوسرے پر رنگ و گلال  ڈال کر  اس تہوار کو روایتی طور سے  منایا جاتاہے ، لیکن اس کی ایک روحانی  اہمیت بھی ہے۔

دنیا میں ہمیشہ  ہی ایک دور چلتا رہتا ہے حق  و باطل کی ہمیشہ  لڑائی ہوتی رہتی ہے  حق کو دبانے  کے لیے باطل ہمیشہ  ہی بڑی کوشش  و سعی کرتا ہے کہ کسی نہ کسی  طرح دب جائے یا چھپ جائے مگر درحقیقت  حق ایک ایسی چیز  ہے جو کبھی بھی چھپ  نہیں سکتا ہے کیونکہ  خالق کائنات دنیا  کی شروعات  میں حق تھے ، آج  بھی حق ہیں اور رہتی دنیا تک حق ہی رہیں گے۔

ہولی کے سلسلے میں ایک پرانی روایت ہے ۔ بھگت پر ہلاد کے والد‘ ہرناکشیپ ’ جو اپنے  آپ کو کہتے تھے کہ میں  خدا( پرماتما)  ہوں سب لوگ میری عبادت کرو ۔ جو لوگ غرض مند تھے جو اصولوں سےگرے ہوئے تھے انہوں نے ‘ ہرناکشیپ ’ کی بات تسلیم کرلی اور انہیں خدا و پرماتما  کی حیثیت  سےقبول کرلیا، لیکن بھگت پر ہلاد جو حقیقی خالق کائنات کو ماننے والے تھے  اور انہی کی پوجا و عبادت کرنے والے تھے ،انہوں نے اپنے والد کی بات کو تسلیم نہیں کیا اور انہیں ایک عام انسان ہی مانتے تھے اور حقیقی خالق کائنات کی عبادت کرتے رہے خواہ ان کے  والد  نے ان پر کتنا ہی ظلم  کیوں نہ کیا اور ان پر کتنی ہی سختیاں  کیوں نہ کیں لیکن انہوں نے ان سب کا کچھ بھی خیال نہیں کیا ۔

جب بھگت پرہلاد نے اپنے والد کو کسی بھی طرح ‘پرماتما ’ تسلیم نہیں کیا تو انہیں  جان سے مار دینے کی ترکیب سوچی۔ ‘ ہرناکشیپ’ کی ایک بہن تھی ، ‘ہولیکا ’۔ جس کو یہ ‘وردان’ ملا تھا کہ اگر وہ آگ میں بیٹھے تو  بھی  وہ جل نہیں  سکتی ، اس نے سوچا کہ وہ پرہلاد کو لے کر آگ میں بیٹھ جائے گی پر ہلاد جل جائے گا  اور وہ محفوظ رہے گی۔ اسی بات پر عمل  کیا گیا  لکڑیوں  کا انبار لگا یا گیا اس میں آگ لگادی گئی اور ‘ہولیکا’ پر ہلاد کو گود میں لے کر آگ کے بیچ  میں بیٹھ گئی۔ آخر  کار اگلے دن دیکھا گیا کہ پر ہلاد  محفوظ تھا ور ‘ہولیکا’ جل گئی تھی ۔ اسی واقعہ  کی یاد میں ہوکی تہوار منایا جاتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ حق کی ہمیشہ  جیت ہوتی ہے اور باطل  کو ہمیشہ ہی شکست  کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

سنتوں کے مطابق ہولی جلانے کی روحانی اہمیت یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کی برائیوں  کو جلاکر نیک اور ایماندار انہ زندگی بسر  کریں اور جس طرح ہم باہر ایک دوسرے پر رنگ گلال ڈال کر اس تہوار کو مناتے ہیں اسی طرح ہم مکمل ‘گرو’ کی مدد سے مراقبہ ‘ میڈیٹیشن’ کے ذریعہ اپنے اندر ‘پر بھو’ کے مختلف رنگوں  کو دیکھ کر حقیقی  ہولی کھیلیں ۔

اس تہوار کادوسرا پہلو  ایک دوسرے کو رنگ لگانا بھی ہے ۔ اس تہوار کے دن لوگ سفید کپڑے پہنتے ہیں اس  میں بھی  ایک روحانی  پہلو ہے ۔ سفید رنگ میں دیگر تمام رنگ شامل ہیں اسی طرح ‘پر بھو’ ہم سب کے اندر ہیں ۔ جس طرح سفید  رنگ سبھی رنگوں کا وسیلہ ہے اسی طرح ‘ پر بھو’ یا پرمیشور  ساری دنیا کا وسیلہ ہیں۔

اس سلسلے میں  ایک نوبیاہتا جوڑے کی کہانی ہے۔ یہ جوڑا اپنی زندگی میں ایک دوسرے  کے ساتھ بہت ہی پیار و محبت  سے رہتا تھا لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد وہ ایک دوسرے کی غلطیوں و خامیوں  کو دیکھ کر باہم بحث  کرنے لگے ۔ رفتہ رفتہ ان کی زندگی میں باہمی خلوص  و محبت میں کمی آنے لگی اور ان کی زندگی  بے لطف  ہوگئی ۔ ان کے کنبے کی ایک بزرگ خاتون نے ان کی زندگی میں اس تبدیلی  کو دیکھتے ہوئے ان میں پھر سے محبت پیدا کرنے کے لیے انہیں کایک پارک میں کھانے پر مدعو کیا ۔ اس جوڑے نے مختلف قسم کے کھانوں اور خوبصورت ماحول کا لطف اٹھایا ۔ اس کے بعد اس جوڑے سے بزرگ خاتون نے ڈھلتے ہوئے سورج  کو دیکھنے کو کہا جو دھیرے دھیرے مختلف قسم کے رنگوں ، نیلے،  سنگتری ، پیلے او رگلابی  میں تبدیل ہوکر ماحول کو خوبصورت  بنارہاتھا ۔ بزرگ خاتون نے اس منظر کو دیکھ کر کہا ‘‘کتنا خوبصورت نظارہ ہے’’ جو اس جوڑے نے تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد بزرگ خاتون نے کہا کہ ‘‘ میں نےآپ  میں سے کسی  سے بھی نہیں  سنا کہ  وہ خالق کائنات سے دعا کرے کہ ان رنگوں  کی سمت کو تبدیل  کرکے ڈھلتے سورج کی سرخی کو کم یا زیادہ کردے۔’’ اگر خالق  کائنات کے بنانے ہوئے ڈھلتے سورج  کے اس نظارے  کو ہم بغیر تبدیلی کے تسلیم کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح خالق کائنات نے ہم سب کو بنایا ہے تو ہمیں  کسی میں کمی نہ دیکھتے  ہوئے اسے خوشی خوشی قبول کرنا چاہئے ۔

جس طرح ہولی میں  مختلف رنگ ہمارے کپڑوں پر کئی رنگوں  کی مختلف  شکلیں  بناتے ہیں  اور ہم ان شکلوں  کو تبدیل کرنےکی کوشش نہیں کرتے اسی طرح ہمیں اپنی زندگی  میں ایک دوسرے کو محبت کے ساتھ قبول کے ساتھ  قبول کرنا چاہئے ۔ اگر ہم ایک دیش یا کمیونٹی  کے ممبر ہیں  تو ہمیں دوسرے کو اسی طرح تسلیم کرنا چاہئے  جس طرح خالق کائنات  سب کو قبول کرتے ہیں ۔

آئیے  ہولی کے اس مقدس تہوار  پر ہم سب اپنے اندر کی برائیوں  کو جلاکر  اور ایک دوسرے پر محبت اور بھائی  چارگی کا رنگ ڈالتے ہوئے حیات انسانی کے اہم  ترین مقصد کو حاصل کریں۔

27 مارچ، 2013  بشکریہ : روز نامہ صحافت، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/sant-rajendra-sing-maharaj-سنت-راجندر/spiritual-aspect-of-holi--ہولی-کا-روحانی-پہلو/d/10907

 

Loading..

Loading..