New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 01:13 PM

Urdu Section ( 8 Aug 2011, NewAgeIslam.Com)

Karbala or Madina? کربلا یا مدینہ

By Samiullah Malik

How to celebrate Independence Day? It was Lal Masjid and Jamia Hifsa bathed in blood, yesterday. Soil of the grave of deceased hasn’t dried yet. We celebrate Independence Day. Minarets of Lal Masjid are quiet and people are depressed, and yet you can’t see the tears? These minarets look at us strangely. Bruised with bullets and bathed in blood and fire, the soul of the Lal Masjid is crying. Innocent boys, who were offering namaz, became victims of the blast.

URL: https://newageislam.com/urdu-section/karbala-or-madina?--کربلا-یا-مدینہ/d/5216

 

کربلا یا مدینہ

سمیع اللہ ملک

ہاں بھول جائیں گے ہم بہت جلد....سب کچھ بھول جائیں گے....لیکن اس بار مجھے آوا ز آتی تھی ،نہیں اسےنہیں بھولیں گے۔ بھول ہی نہیں سکتے۔ ناممکن ہے ۔ لیکن پھر وہی ہوا ۔بھول گئے ہم سب کتنی آسانی سے بھول گئے ۔دل کا زخم بھی کوئی بھولتا ہے بھلا ۔کیسے بھول جاتے ہیں۔اگست کے آغاز سے ہی ٹی وی چینل پر جشن آزادی شروع ہوچکا ہے ۔رمضان المبارک کا مہینہ بھی ہے.....ہاں اسی مہینے میں تو دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک معرض وجود میں آیا تھا .....27رمضان المبارک کی قیمتی شب تھی جب یہ نیا ملک آزاد ہوا تھا۔ ہم نےاپنے رب سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس ملک میں تیرے نام اور پیغام کی حکومت ہوگی۔ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں داخل کیا جائے گا جہاں وہ آزادی کے ساتھ تیری عبادت کریں گے، اپنی زندگی کے شب وروز امن و آشتی سے گزاریں گے۔ میں نے ٹی وی کھولا اور ریمورٹ سے چینلز کھنگا لنے لگا۔ ہر جگہ رقص وموسیقی ،قہقہے اور ہلاگلا۔مسرت وشادمانی ،خوشی وسرشاری کا سر چڑھا جا دو، شہنائی اور طبلہ ، ہارمونیم اور گٹار، اور اس رقص سے جھومتے جھامتے بے خود لوگ ،سرمستی اور رعنائی اترتی ہوئی۔

ٹھیک ہے۔ خوشی کا دن ہے۔ کوئی تو خوش ہونا ں .....اور پھر ایک چینل پر بڑا عجیب سا منظر تھا۔ سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے ۔ تیرا ہر ایک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا ۔تیرے دم سے شان ہماری ۔تجھ سے نام ہمارا ۔ جب تک ہے یہ دشیاباتی ۔ہم دیکھیں آزاد تجھے ۔سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے ۔ میں نے اشک بار ہوکر آمین کہا۔ لیکن اس دل کی پھانس کو کیسے نکالیں ۔ یہ قومی گیت شہناز بیگم نے گایا تھا اور کیا ڈوب کے گایا تھا ،کون شہناز بیگم ، جی جناب وہ ایک بنگالن ہے۔ میرے سامنے مشرقی پاکستان آکھڑا ہوا۔ خوشی کا لمحہ اور دکھ کا سمندر ......کیسے بھول جائیں۔ نہیں بھولتا ناں میں اپنے جسم کے ایک کٹے ہوئے بازار کو بھول جاؤں ۔ممکن ہے یہ؟ یہ 16دسمبر 1971تھا۔ آزٓدی کا جشن منائیں تو کیسے ؟مجھے معاف کردیجئے نہ جانے کیوں آپ کو یاددلاتا رہتا ہوں۔

جشن آزادی کیسے منائیں ؟ ابھی کل ہی تو لال مسجد اور جامعہ حفصہ لہورنگ ہوئی ہے۔ ابھی تو ان معصوموں کی قبروں کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی، خون تو کبھی مٹتا نہیں ، تازہ رہنے والا لہو۔ بہتا ہوا تازہ لہو۔ آزادی کا جشن منائیں ۔ اس مملکت خداداد پاکستان کے دارالخلا فہ اسلام آباد کی لال مسجد کے مینار خاموش اور صفیں اداس ہیں آپ کو اس کے آنسو  نظر نہیں آتے ؟ میرے رب کی کبر یائی بیان کرنے والے میرے رب کی عظمت اور بڑائی کا آواز بلند کرنے والے اداس مینار خاموش ہیں۔ اور میں حیرت سے تکتے ہیں۔ گولیوں سے چھلنی اور آگ وخون میں نہلائی ہوئی لال مسجد تڑپ رہی ہے اور گواہ ہے جہاں سجدوں میں جھکے یتیم بچے اور بچیاں فاسفورس بموں سے بھسم کریئے گئے ۔ اور ہم ہیں .......کی بات کروں چلئے جشن مناتے ہیں۔

یہ ملک میرے رب نے ہمیں عطا کیا۔ یہ عطا ئے رب جلیل ہے۔ ٹی وی پر ایک ملی نغمہ بھی گونج رہا ہے ، ہمارا پرچم ،یہ پیارا پرچم، یہ پرچموں میں عظیم پرچم ،میرے رب نے اپنی رحمت سے یہ ملک ہمیں دیا۔ آج کل کے کسی سیاسی لیڈر نے کوئی جنگ نہیں لڑی اسے حاصل کرنے کے لئے ۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کا تلخ جام پیا او رہزاروں نے شہادت کا۔ ان بچیوں کو آپ بھول جاتے ہیں ۔ جو اپنی عصمت کی قربانی اوراپنی جان کا نذرانہ اس وطن عزیز کے لئے پیش کر کے خاک اوڑھ کر سوگئیں اور وہ بھی توتھیں جو وہاں جبراً روک لی گئیں۔ کہیں شانتی او رکہیں بلونت کور بن کر ،اور اپنی شناخت قربان کرگئیں ،اس وطن عزیز پر ۔نیز وں ، بھالوں ،خنجروں اور تلواروں سے معصومووں کو چیر دیا گیا او رپھر بلوائیوں کے خونی رقص میں اپنی جاں اس وطن پروار گئے ۔ خون ہی خون، قربانیاں ہی قربانیاں ہیں اس وطن کی بنیادوں میں ۔رہنے دیجئے ۔لمبی ہوجائے گی بات۔ داستاں درداستان لکھے بھی کون۔ آپ کا بھاشن اپنی جگہ۔

بس ذرا سا ٹھہر جائیے۔ صرف اتنا بتائیے ،اس وطن عزیز کو آپ نے کیا دیا؟ بیرونی آقاؤں کے ترتیب دیئے ہوئے این آر او کے سہارے ایوان اقتدار تک پہنچ گئے یہی ناں کبھی کسی ادارے کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ملک کے تمام اداروں میں کھلم کھلا کرپشن کا آغاز کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا، عدالت عالیہ نے ملکی دولت لوٹنے والوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تو عدلیہ کو اختیار ات میں مداخلت کا پیغام دے کر چیلنج کردیا۔ وہ ایٹم بم جسے ہم نے اپنی حفاظت کے لئے بنایا تھا۔ اب ہم اسے چھپا تے پھرتے ہیں۔ نہ جانے کیا تاریخ ہے ہماری آزادی کا جشن منائیں تو کیسے؟ جی جناب آپ منائیے آزادی کا جشن۔ آپ ہیں آزاد ، ہرطرح سے آزاد، چاہیں، جو چاہیں کرسکتے ہیں آپ ۔ضرور منائیے جشن ، ناچئے ، گائیے مزے اڑائیے مادر پدر آزاد جو ٹھہرے آپ۔ یہ وطن عزیز میرے رب کی عطا ہے۔ قائم رہے گا۔ میرے رب نے پہلے بھی لاج رکھی ہے۔ پھر بھی رکھے گا۔ ا س وطن عزیز کے خلاف جس نے بھی سوچا تھا پہلے بھی رسوا ہوا ہے اور آئندہ بھی رسوا ہوتا رہے گا۔

ذرا سادم لیجئے۔ میں تو بہتا چلا جارہا ہوں۔ آپ سے مخاطب ہوں۔ جی جناب آپ سے ۔ یہ ہم نے اور آپ نے اس وطن پاک کو دیا ہے؟ کبھی یہ لمحہ بھر کے لئے سوچا بھی ہے کہ ہم اپنے وطن عزیز کو بچانے کے لئے کیا کریں؟ میرے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، کراچی جل رہا ہے۔رمضان المبارک کی حرمت کا بھی کوئی احساس نہیں؟ اپنے سیاسی مقصد کی تکمیل کیلئے، اپنے قبضے کومضبوط کرنے کے لئے غریب دیہاڑی واروں ،ٹھیلہ لگانے والوں کو گولیوں کی تڑتڑاہٹ کا شکار کر رہے ہیں۔ سیاسی مقصد کیلئے جو نہی کسی آرڈنینس کا اجرا ہوا تو ایک دوسرے کے ساتھ گلے  ملنا شروع ہوگئے او رمیڈیا کو عید کے بعد حکومت میں شامل ہونے کی نوید سنادی۔ ان ہزاروں بیگنا ہوں کا کیا ہوا جو آپ کی سیاسی رسہ کشی کا شکار ہوگئےاستاد محترم نے پچھلے دنوں ای میل میں کسی کالم کی کاپی ارسال فرمائی جس کو پڑھ کردل پر قابو نہ رہا۔ آپ بھی اس کا ایک حصہ پڑھ لیں۔

......مجھے آج بھی وہ گرم سہ پہر یاد ہے جب میں ہمدرد دواخانہ  راولپنڈی میں حکیم صاحب کے کمرے میں بیٹھا تھا، مرحوم حلاف معمول تھکے تھکے سے معلوم ہورہے تھے۔ میں نے ادب سے طبیعت کے اس بوجھل پن کی وجہ دریافت کی تو دل گرفتہ لہجے میں بولے‘‘ ہم نے اس دکھ سے بھارت چھوڑا تھا  کہ ہمیں وہاں مذہبی آزادی حاصل نہیں تھی ،ہم نماز پڑھنے جاتے تھے تو ہندہ مسجد وں میں سور چھوڑ دیتے تھے ،خانہ خدا کے دروازے پر ڈھول پیٹتے تھے ، بول و براز کی تھیلیاں ہمارے اوپر پھینکتے تھے، ہندو شرپسند پچھلی صفوں میں کھڑے نمازیوں کو چھرے گھونپ کر بھاگ جاتے تھے۔ ہم نے سوچا چلو پاکستان چلتے ہیں وہاں کم از کم ہمارے سجدے تو آزاد ہونگے۔ ہماری مسجدیں ،ہمارے درگاہیں تو محفوظ ہونگی لیکن افسوس آج مسلح گارڈز کے پہرے کے بغیر پاکستان کی کسی مسجد میں نماز پڑھنے کا تصور تک نہیں ۔ مجھے میرے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید دہلی سے لکھتے ہیں ‘‘ سعید واپس آجاؤ ، پاکستان کے  حالات ٹھیک نہیں ،یہاں ادھر کم از کم مسجدیں تو محفوظ ہیں......لیکن میں ......’’ ان کی آواز کھڑ گئی۔

‘‘پاکستان آنے پر کبھی پچھتا وا ہوا؟’’ میں نے نرمی سے پوچھا ‘‘ انہوں نے اچکن کے بٹن سہلائے ’’ نہیں ہر گز نہیں ،یہ سودا ہم نے خود کیا تھا، حمید بھائی میرے اس فیصلےسے خوش نہیں تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں دہلی میں ان کا ہاتھ بٹاؤں لیکن مجھے لفظ پاکستان سے عشق تھا، لہند ا ادھر چلا آیا ۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور وہ ادارہ جس کی بنیاد میں نے بارہ روپے سے رکھی تھی آج پاکستان کے چند بڑے اداروں میں شمار ہوتا ہے، یہ سب پاکستان سے عشق کا کما ل ہے’’ ۔ ان کی آواز میں بدستور ملال تھا۔‘‘ لیکن پاکستان کے حالات سے دکھ تو ہوتا ہوگا ؟’’ میں نے اپنے سوال پر اصرار کیا۔‘‘ ہاں بہت ہوتا ہے، اخبارپڑھتا ہوں ،سیاستدانوں کے حالات دیکھتا ہوں ،عوام کی دگر گوں صورتحال پر نظر پڑتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے، جب ادھر سے دہلی سے کوئی عزیز رشتہ دار پاکستان آکر کہتا ہے،کیوں پھر، تو دل پر چھری سے چل جاتی ہے، لیکن کیا کریں، گھر جیسا بھی ہے ،ہے تو اپنا، ہم اسے چھوڑ تو نہیں سکتے ،لہٰذا لگے ہوئے ہیں ،لگے رہیں گے آخری سانس تک۔’’

‘‘ کوئی ایسی خواہش جس کا آپ نے آج تک کسی کے سامنے اظہار نہ کیا ہو،’’ انہوں نے کچھ دیر سوچا‘‘ ہاں کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ میری موت حمید بھائی سے پہلے ہو، وہ میرے جنازے پر آئیں ،میرے چہرے سے چادر سرکا کر دیکھیں اور پھر آہستہ سے مسکرا کر کہیں، ہاں سعید تمہارا فیصلہ درست تھا’’۔

وہ گرم دو پہر ڈھل گئی تو اس کے بطن سے آج کی خنک اور غمناک صبح طلوع ہوئی ، میرے سامنے میز پر آج کے اخبار بکھڑے پڑے تھے۔ ہر اخبار کی پیشانی کے ساتھ آج کے سب سے بڑے انسان کی تصویر چھپی ہے۔ خون میں نہائی اور حسرت میں ڈوبی ہوئی تصویر جو ہر نظر سے چیخ چیخ کر ایک ہی سوال کررہی ہے۔ ‘‘میرا جرم کیا تھا ، مجھے کیوں مارا گیا، میں تو زخموں پر مرہم رکھنے والا شخص تھا پھر میرے جسم کو زخم کیوں بنادیا گیا؟؟؟میرا دماغ سلگی لکڑیوں کی طرح چٹخنے لگا، میں نے سوچا ، یہ تصویر آج دہلی کے کسی اخبار میں چھپی ہوگی، وہ اخبار ہمدرد نگر کے ایک چھوٹے سے غریبا نہ کمرے میں بھی پہنچا ہوگا ،چٹائی پر بیٹھے بیاسی (82) برس کے ایک بوڑھے نے بھی اسے اٹھایا ہوگا ، اس کی آنکھیں بھی ہزاروں لاکھوں لوگوں کی طرح چھلک پڑی ہونگی ۔ اس نے بھی شدت جذبات سے اخبار پرے پھینک دیا ہوگا، اس نے بھی باز وپردانت جما کر چیخ ماری ہوگی،اس نے بھی اپنی چھاتی پر ہاتھ مارا ہوگا، اس نے بھی چلا چلا کر کہا ہوگا ‘‘سعید ! تمہارا فیصلہ غلط تھا ، مجھے دیکھو ، بیاسی برس کے اس بوڑھے کو دیکھو، یہ بغیر محافظ کے مسجد میں جاتا ہے ،پیدل مطب پہنچتا ہے ،روز صبح وشام کافروں کے درمیان چہل قدمی کرتا ہے لیکن اس پر کبھی کوئی گولی نہیں چلی۔ اس کا کبھی کسی نے راستہ نہیں روکا۔

ہاں اس بیاسی برس کے کمزور بوڑھے نے چلا چلا کر کہا ہوگا ، ‘‘سعید میں کربلا میں زندہ رہا تم مدینے میں مارے گئے’’۔اب آپ ہی بتائیں کہ ان حالات میں ایسے حکمرانوں کے ساتھ ملک کا جشن آزادی کیسے منائیں ؟ آئیے پہلے اپنے ملک کو دوبارہ آزاد کروائیں ،وہ پاکستان جس کا راستہ مکے سے نکلے اور مدینے لیجائے اور پھر کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ وہ کربلا میں تو زندہ رہا لیکن مدینے میں مارا گیا۔

دل بھی کیسی شے ہے، دیکھو پھر بھی خالی کا خالی

گرچہ اس میں ڈالے میں نے ،آنکھیں بھر بھر خواب

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/karbala-or-madina?--کربلا-یا-مدینہ/d/5216  

 

Loading..

Loading..