New Age Islam
Sat Oct 31 2020, 06:22 PM

Urdu Section ( 24 March 2015, NewAgeIslam.Com)

Combat Radical Ideologies by Mobilising the Muslim World انتہا پسندی اور عسکریت پسندانہ نظریات؛ مسلم دنیا کو درپیش دو بڑے خطرات

 

 

 

 

 

  

ثمر فاتنی

22 مارچ 2015

آج مذہبی انتہا پسندی اور عسکریت پسندانہ نظریات کی شکل میں اسلام کو دو عظیم ترین چیلنجز کا سامنا ہے۔محققین کا یہ ماننا ہے کہ اب بھی سخت گیر خیالات کے حامل مسلم علماء اپنے نوجوانوں کو گمراہ اور انہیں آسانی کے ساتھ عسکریت پسند اور دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنے کی اجازت دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دنیا کے مختلف حصوں میں بے گناہ مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے والے بنیاد پرستوں کے خطرات سے نمٹنے، انہیں بے نقاب کرنے اور ان عسکریت پسندوں سے لڑنے کے لئے مسلم حکومتوں نے ایک بڑے پیمانے پر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، یہ مہم کمزور ہے کیونکہ مختلف فرقوں اور نظریات سے تعلق رکھنے والے مسلم علماء اپنے اختلافات کو اب تک حل نہیں کر سکے ہیں اور اسلامی رواداری کے حقیقی پیغام کو فروغ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ انہیں عسکریت پسند اسلام کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے اور اس کے اسلام مخالف خیالات و نظریات کو مسترد کرنے کے لیے ایک زبر دست استدلال پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

ماضی میں علماء اسلام نے ان مختلف مکاتب فکر کے تئیں زیادہ احترام اور رواداری کا مظاہرہ کیا ہے جنہوں نے صدیوں سے مسلمانوں کے درمیان رشد و ہدایت کا کام انجام دیا  ہے۔ تنوعات نے ہمیشہ شریعت کی اہمیت و افادیت میں اضافہ کیا ہے اور اسے کمزور ہونے سے بچایا ہے۔

بدقسمتی سے آج فقہاء کے درمیان زبردست اختلاف ہے اور وہ انتہائی قدامت پسند ہیں۔ ہماری اسلامی تعلیمات کے تئیں ایک مزید روادار نقطہ نظر کی اشد ضرورت ہے۔ آج عراق، شام، لیبیا اور یمن میں جس طرح بعض مسلمان تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں اور موجودہ تنوعات کو قبول کرنے میں انہیں جتنی مشکلیں پیش آرہی ہیں یہ بڑی تکلیف کی بات ہے۔ جو کوئی ان کے غلط نظریات سے اتفاق نہیں رکھتا وہ انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے ہمہ تن آمادہ ہیں۔

سعودی عرب کے مفتی اعظم، سینئر علماء کونسل اور مساجد کے مختلف ائمہ کرام جہادی نظریات اور انتہا پسندی کی مذمت میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اپنی آوازیں بلند کر رہے ہیں، اور "اعتدال پسندی" کو فروغ کر رہے ہیں اور تکفیری نظریہ کی تردید کر رہے ہیں۔ تاہم، اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو مسلم اور غیر مسلم میں تقسیم کرنے والی اور اسلام کے اندر دوسرے فرقوں کو مسترد کرنے والی اسلام کی انتہائی قدامت پسند تشریحات کو برقرار رکھا ہے۔ تکفیریوں کے اثرات سعودی عرب اور باقی دنیا کے لیے ایک خطرہ ہیں۔

اب ایک پل بھی ضائع کیے بغیر ہمیں مسلم معاشروں کو اس قابل بنانا چاہیے کہ وہ مذہبی انتہاء پسندی کی ثقافت کو مسترد کریں اور اعتدال پسندی، رواداری اور روحانیت کو فروغ دیں۔ مسلمانوں کو یہ بتایا جانا چاہئے کہ اسلام میں کوئی بھی مذہبی لیڈر نہیں ہے۔ تمام مسلمان خدا کے سامنے برابر ہیں۔

بہت سے مسلم معاشروں میں عدم رواداری کے پیچھے تکفیری نظریہ ایک بنیادی وجہ ہے۔ آج بہت سے مسلمان اپنے ایمان کے حقیقی اصولوں پر عمل کرنے میں محفوظ اور پر اعتماد محسوس نہیں کرتے۔ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ ان کی کسی بھی بات کو گستاخی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسلام کے ان خود ساختہ محافظوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صرف خدا ہی کسی کے کفر اور ایمان کے فیصلے کا سزاوار ہے۔ مسلمانوں کو محض اسلام کے پانچ ستونوں کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے؛ تاہم، کسی کے بھی اوپر انتہا پسندوں کے احکام پر آنکھ بند کر کے عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ در اصل اگر کوئی اس با ت کی گوہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو اس مومن کے ایمان کو شک کی نظر سے دیکھنا اور اور اس پر کفر و الحاد کا الزام لگانا اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی ایسی انتہا پسند تشریحات پیش کرنا بھی ایک بہت بڑا گناہ ہے جن سے مسلمان مشکلات میں پڑ جائیں۔

اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے۔ مومنوں کے تحفظ کے لیے اسلامی علماء کو ایک مضبوط مہم چھیڑنی چاہئے اور اس بات کا اعلان کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کا دوسرے مذاہب اور فرقوں کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے۔

تمام مسلم ملکوں کے سینئر اسلامی علماء کونسل کو مسلسل مسلم دنیا کے لئے خطرہ بننے والی انتہا پسندی کی لعنت کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ موثر حکمت عملی پیش کرنی چاہیے۔ غلط اسلامی نظریات کا شکار ہو چکے بہت سے مسلمانوں کو ہدایت کی ضرورت ہے اور انہیں ایک روشن خیال ماحول میں زندگی گزارنے کا ایک موقع ضرور دیا جانا چاہیے۔ ان کے سامنے جدیدیت اور ترقی پسند سوچ پر مشتمل ایک مزید اعتدال پسند اور لچک دار نظریہ پیش کیا جانا چاہئے۔ مذہبی انتہاء پسندی اور کو فروغ دینے والی اسلام کی مسخ شدہ تشریحات پر مشتمل عسکریت پسندوں کی کتابوں پر تعلیمی اداروں کو نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

ایک طویل عرصے سے بہت سے مسلمانوں نے مذہبی انتہاء پسندی کو روکنے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسے تقریبا تمام مسلم ممالک میں اثر و رسوخ حاصل ہو چکا ہے۔ آج مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے کو امن اور عالمی خوشحالی کے لئے خطرہ بن چکے بنیاد پرست نظریات کی تردید کرنے اور عوامی سطح پر اس کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے متحرک کیا جانا چاہئے۔

سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کو پیش قدمی کرنے کے لیے ہمیں تمام کوششوں کو اس نظریاتی بحران کو ختم کرنے کے لیے منظم کرنے کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے انتہا پسند اور دہشت گرد ایک طویل مدت سے تنازعات پھیلا رہے ہیں اور مسلم دنیا کی ہم آہنگی کو تباہ کر رہے ہیں۔

ثمر فاتنی ایک ریڈیو براڈکاسٹر اور صحافی ہیں۔

ماخذ:

http://www.saudigazette.com.sa/index.cfm?method=home.regcon&contentid=20150321237692

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/samar-fatany/combat-radical-ideologies-by-mobilising-the-muslim-world/d/102087

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/samar-fatany,-tr-new-age-islam/combat-radical-ideologies-by-mobilising-the-muslim-world--انتہا-پسندی-اور-عسکریت-پسندانہ-نظریات؛-مسلم-دنیا-کو-درپیش-دو-بڑے-خطرات/d/102091

 

Loading..

Loading..