New Age Islam
Sat Oct 24 2020, 01:24 PM

Urdu Section ( 25 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

What is an Indian Muslim? ہندوستانی مسلمان کی حقیقت کیا ہے؟

 

 

سیف شاہین

25 اگست، 2014

زیادہ تر مسلمان انتہا پسندی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے ایسا کرنا ایک "عام" یا "فطری" بات ہے۔ ان کا یہ نظریہ بالکل غلط ہے ۔ لیکن ہم یہ کہہ کر کہ ترقی پسند مسلمانوں کے ذریعہ ISIS کی مذمت میں وسیع ہندوستانی مسلم کمیونٹی کی نمائندگی نہیں ہوتی یہ نتیجہ اخذ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ حق پر ہوں یعنی انتہا پسندی یقینا مسلمانوں میں ایک عام معمول ہے۔ اس طرح ہم نا دانشتہ طور پر ISIS کواہمیت دینا شروع کر دیتے ہیں۔

میں نے ابھی حال ہی میں فیس بک پر ایک نیوز رپورٹ پوسٹ کی کہ "ہندوستانی مسلمانوں کے ایک طبقے " نے مجھ سے ملاقات کر کے "عراق میں اقلیتوں کے خلاف جہادی گروپ (ISIS) کی جانب سے اسلام کے نام پر تشدد اور ظلم و بربریت " کی مذمت میں بیان جاری کیا۔ اس رپورٹ کی شہ سرخی یہ تھی "ISIS کا عمل نسل کشی سے بھی بد تر ہے: مسلم دانشوران"۔ میرے ایک ہندو ساتھی نے اسے اپنے وال پر شیئر کیا جس پر اس کے ایک دوست نے مزحیہ انداز میں یہ تبصرہ لکھا کہ: "مسلم دانشوران کیا ہیں" میری ایک دوست نے اپنے جواب میں اس سے اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ: "میں آپ کا مطلب سمجھتی ہوں" ان کا مطلب یہ تھا کہ ایک مسلمان ہونے اور ایک دانشور ہونے میں کوئی مطابقت نہیں ہے، مسلمان دانشور نہیں ہو سکتے۔

اس کے بعد میں نے اسی عنوان پر NewAgeIslam.com کا ایک اداریہ پڑھا جس سے مجھے معلوم ہوا کہ مسلمان یا کم از کم ہندوستانی مسلمان سیکولر، ترقی پسند اور لبرل نہیں ہو سکتے "۔ یا ہو سکتا ہے کہ وہ سیکولر، ترقی پسند اور لبرل بن بھی جائیں لیکن سیکولر، ترقی پسند اور لبرل ہونے میں وہ "ہندوستانی مسلم" کمیونٹی کی نمائندگی کی توقع نہیں کر سکتے۔ میں نے اس اداریہ میں پڑھا کہ اس طرح کے مسلمانوں کی تعداد مسلم معاشرے میں "بہت کم" ہے۔ اس میٹنگ کے شرکاء میں [جس میں ISIS کی مذمت کی گئی تھی] فلم ساز، فوٹوگرافر، یونیورسٹی اور کالج کے پروفیسرز اور این جی او اور انسانی حقوق کے کارکنان بھی شامل تھے جن کا مسلم عوام پر زیادہ اثر و رسوخ نہیں ہوتا ہے۔" بلکہ اداریہ کے مطابق دیوبندی "مذہبی رہنماؤں" اور اردو پریس کو "زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہے۔"

میں NAI کے اس ادارتی موقف سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں کہ ہندوستان میں مسلم مذہبی رہنماؤں اور اردو پریس کو زبر دست انداز میں ISIS کی مذمت کرنی چاہیے۔ مجھے توقع ہے کہ وہ ایسا کریں۔ لیکن میں ان کی اس بات سے متفکر ہوں کہ ترقی پسند، سیکولر اور لبرل ذہن رکھنے والے مسلمان بڑے پیمانے پر مسلم کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ اور اس میں پوشیدہ اس مفہوم سے میں پریشان ہوں کہ ہندوستانی مسلمان اس قدر تشدد پسند اور متعصب ہیں کہ وہ آنکھ بند کر کے ایک قدامت پسند قیادت کی پیروی کرتے ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں ہزاروں شیعہ، داؤدی بوہرہ، بریلوی، احمدیہ اور دیگر اقلیتی فرقے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جن پر ISIS کے لوگ مظالم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ صرف شیعوں کی آبادی ہی ہندوستانی مسلم آبادی کا تقریبا ایک تہائی حصہ ہے۔ یقینا ان سے "مرکزی دھارے میں شامل دیوبندی قیادت کی پیروی کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جس کی تنقید ادریہ میں کی گئی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس بات پر یقین کرنے کے شواہد بہت کم ہیں کہ "مرکزی دھارے میں شامل" اکثر مسلمان بنیاد پرست ہیں اور ISIS جیسی دہشت گرد تنظیموں صفوں میں شامل ہونے کے لیےکسی بخاری یا ندوی کے صرف ایک اشارے کے منتظر ہیں۔ 2006 (میں سی این این، آئی بی این اور ہندوستان ٹائمز"CNN-IBN-Hindustan Times") کی ایک سروے میں یہ پایا گیا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی ایک "بڑی اکثریت" نے تعدد ازدواج اور طلاق مغلظہ جیسے معمولات کو مسترد کر دیا ہے دیوبندی قیادت جس کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھاتی۔ مسلمانوں کی تین چوتھائی نے جمہوری نظام حکومت کی حمایت کی جو کہ واضح طور پر ISISکے منصوبے میں شامل نہیں ہے۔ شاید ہندؤں سے بھی زیادہ 98فی صد مسلمانوں نے یہ کہا کہ انہیں ہندوستانی ہونے پر "فخر" ہے۔ اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ اکثر شہری اور مسلمانوں کے پیشہ ور طبقے نے یہ ISIS مخالف بیان جاری کیا ہے تو آپ کو اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ سروے میں شریک ہونے والوں میں سے دو تہائی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔

1994 میں اطہر فاروقی کے ایک مطالعہ کے مطابق "اردو اخبارات کی اشاعت کافی محدود ہے، اور یہی حال ان کے حلقہ اثر کا بھی ہے۔" اس کے بعد دو دہائیوں سے اس میں صرف تنزلی ہی واقع ہوئی ہے۔

لیکن کیا ہمیں واقعی ان سب چیزوں کا جاننے کےلیے سروے اور مطالعے کی ضرورت ہے؟ پوری دنیا میں ہندوستان سب سے بڑی مسلم آبادی والا تیسرا ملک ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت تقریبا تمام سماجی و اقتصادی شعبوں میں ملک کے کسی بھی دوسرے سماجی طبقے سے بدتر ہے اور اکثر مسلمانوں کو خاص طور پر شہری علاقوں میں ذاتی طور پر امتیازی رویہ کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ اگر صرف چند ہندوستانی مسلمان ہی ترقی پسند، سیکولر اور لبرل اقدار کے حامل  ہیں تو ضرور ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کو انتہا پسندی اور تشدد کا رویہ اختیار کرتا ہوا دیکھا جاتا۔

آج بھی مسلم اور ہندو ملک کے ہر گوشے میں پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہ رہے ہیں جو کہ ہندوستانی ہندوؤں اور مسلمانوں کے اندر موروثی سیکولر اور لبرل رجحان کی سب سے بڑی شہادت ہے۔ اور وہ نہ صرف یہ کہ پر امن طریقے سے زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ ملک کے انتخابی عمل میں شہریوں کی حیثیت سے ان کی مسلسل شرکت سے ہندوستانی جمہوری اور کثیر ثقافتی اقدار پر ان کے بھروسے کی عکاسی ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ ہمیشہ انتخابات کے وقت قریب آنے پر پیٹ پالنے والے سیاستدان فرقہ وارانہ تشدد بھڑکاتے ہیں۔ لیکن استثناء کی وجہ سے اصول کی نفی نہیں ہوتی۔

ان میں سے کسی بھی چیز سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ انتہا پسند اور بنیاد پرست نظریات ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان موجود ہیں۔ بلکہ دیوبندی مذہبی رہنماؤں اور اردو پریس کے ذریعہ اس قسم کے نظریات کی واضح یا مضمر حمایت سے مزید ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ لیکن ان کی حیثیت ایک بہت ہی چھوٹی اقلیت کی ہے اور وہ سیکولر، لبرل اور ترقی پسند ذہن رکھنے والے مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ان انتہا پسندوں کی تنقید ضروری ہے بلکہ انتہائی اہم ہے، لیکن جب اس کے اثر و رسوخ کی بات کی جائے تو اس قسم کی تنقید سے تناظر یا تناسب کا احساس مفقود نہیں ہونا چاہئے۔

مارک سیج مین، اولیور رائے اور رابرٹ پیپ جیسے ماہرین نفسیات، سماجیات اور سیاسیات کی تحقیق کی بنیاد پر میرا یہ ماننا ہے کہ زیادہ تر مسلمان انتہا پسندی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے ایسا کرنا ایک "عام" یا "فطری" بات ہے۔ ان کا یہ نظریہ بالکل غلط ہے ۔ لیکن ہم یہ کہہ کر کہ ترقی پسند مسلمانوں کے ذریعہ ISIS کی مذمت میں وسیع ہندوستانی مسلم کمیونٹی کی نمائندگی نہیں ہوتی یہ نتیجہ اخذ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ حق پر ہوں یعنی انتہا پسندی یقینا مسلمانوں میں ایک عام معمول ہے۔ اس طرح ہم نا دانشتہ طور پر ISIS کواہمیت دینا شروع کر دیتے ہیں۔

سیف شاہین نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار اور آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس، امریکہ میں پولیٹیکل کمیونیکشن میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/saif-shahin/what-is-an-indian-muslim?/d/98712

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/saif-shahin/what-is-an-indian-muslim?--ہندوستانی-مسلمان-کی-حقیقت-کیا--ہے؟/d/98730

 

Loading..

Loading..