New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 01:45 PM

Urdu Section ( 11 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Bring Islam Back to Quran اسلام کو قرآن کی طرف واپس لائیں


 سیف شاہین،  نیو ایج اسلام

28 دسمبر، 2011

 

 

 

 

 

اسلام کا اصل پیغام

مصنف : محمد یونس اور اشفاق اللہ سید

آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے، 2009

 

 

 

 

 

 

 

اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں  غلط بیانی اس قدر وسیع ہے کہ  وہ بعض اوقات زومبی فلموں  میں نامردگان  کی طرح لگتے ہیں:  جو ہر دروازے اور کھڑکی سے تمہیں گھور رہے ہوں، اور ہر کونے سے آپ کی جانب آ رہے ہہوں اور آپ کو  نوچنے کھسوٹنے کے لئے جھکے ہوں۔ آپ کو بتایا جاتا ہے کہ مسلمان چار بیویاں رکھتے  ہیں  اور ان کا زیادہ تر وقت ان کی پٹائی میں صرف ہوتا ہے، یہاں تک کہ  آپ حیران ہوتے ہیں کہ کس طرح آپ اپنی اکلوتی بیوی کی بے تحاشہ خریداری سے نمٹیں۔ مسلمان ناخواندہ، بے وقوف اور نا ملنسار ہوتے ہیں جو توے کی الٹی طرف اپنی روٹی کو سینکتے ہیں۔ آپ یہ سب  چہرے پر بنائوٹی مسکان کے ساتھ سنتے ہیں۔

جبکہ یہ نسبتاً غیر نقصان دہ فرضی حکایت غیر مسلموں کے درمیان مقبول ہیں، یہ اسلام کے بارے میں جھوٹ ہے جس پر بہت سے مسلمان بھی یقین کرتے ہیں جو سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ برسوں، دہائیوں اور صدیوں کے دوران یہ جھوٹ جمع ہوئے جو مذہب کی رگوں میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے اور  اس کے دل اور دماغ سے جسم کو الگ کر رہا ہے، اور اسلام کی ایک متشدد شکل جو ہو سکتی ہے، اس میں تبدیل کر رہا ہے۔

اسلام کا اصل پیغام عقیدت کی محنت ہے جس میں محمد یونس اور اشفاق اللہ سید ان غلط بیانیوں کو بے نقاب  کرنے کے لئے قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس کے  الفاظ، محاورے، استعاروں اور جملے  کے معنی کو پورے متن میں ان کے استعمال سے حاصل کر رہے ہیں، اور اس کے "وسیع تر اخلاقی تعلیمات" سے اس کی سورۃ اور آیات کے پیغام کی تشریح کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر، مسلمان اکثر  امت (تمام مسلمانوں کے بھائی چارے) کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن محمد  یونس اور اشفاق اللہ سید کا کہنا ہے کہ قرآن بھائی چارے میں پوری انسانیت کو شامل کرنے کا تصور رکھتا ہے۔ "قرآن انسانی نسل، زبان اور رنگ کے تنوع کو تسلیم کرتا ہے (30:22) اور اس کا اعلان کرتا ہے کہ اگر خدا چاہتا تو وہ سب کو ایک قوم  بنا دیتا (10:18 11:118) اور سب کو رہنمائی عطا کرتا ہے (6:149)۔

جس طرح پورے قرآن کریم میں دین الاسلام اور تقوی کا استعمال کیا گیا ہے  مصنفین اس تشریح پر پہنچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ  "قرآن دین الا سلام کو وہی آفاقی پیغام والا بتاتا ہے جو پہلے کے نبیوں پر بھی اترا تھا، جو تمام سچے مسلمان تھے (2:131-133)،   اور اسی اصل پیغام کو انہوں نے لوگوں تک پہنچایا تھا ۔" وہ مزید کہتے ہیں کہ  ایمان کا خلاصہ انسانیت کی خدمت کے ذریعے خدا کی اطاعت کرنا ہے۔ اسی طرح تقوی، جو قرآنی آیات میں کسی نہ کسی شکل میں سینکڑوں مرتبہ استعمال ہوا ہے، وہ " کسی شخص کے عالمگیر سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں کے لحاظ.."  کو ظاہر کرتا ہے۔

قرآن کی جن آیات پر غور کرنے کے لئے مصنفین نے حوالہ دیا ہے وہ فرقہ پرست کردار کی مخالف اور عالم گیری کردار والی ہیں۔ مصنفین نے بھی  قرآن کو ایک مخصوص عقیدے کے بجائے اعتدال پسند مذہب کے طور پر پیش کیا ہے جو  اختلافات کو نہ صرف قبول کرتا ہے بلکہ اختلافات کا خیر مقدم کرتا ہے: "اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے"(49:13)۔

اسی طرح قرآن  بار بار مذہب میں کسی بھی جبر سے منع فرماتا ہے (2:256، 50:45، - 2288:21) اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ  وہ لوگوں کو  اپنے راستے کی پیروی کرنے پر مجبور نہ کریں۔ یہ بھی حکم دیتا ہے کہ  مسلمان،  غیر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کریں (4:94) اور خدا کے علاوہ جن لوگوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کی توہین مت کرو (6:108) اگرچہ یہ وہ عمل نہیں تھا جو طالبان نے کیا جب ان لوگوں نے بامیان میں  بدھ کے مجسمہ کو تباہ کر دیا، یا خود ساختہ اسلامی جہادی جب وہ مندروں، گرجا گھروں اور  یہودیوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ایک بہت اہم آیت (5:48) میں ذکر ہے: "ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے ۔"

اس تکثرتیت کے فریم ورک کے اندر ہی غیر مسلمانوں کے خلاف مسلمانوں کو جنگ کرنے پر زور دینے والی قرآنی آیات کو سمجھنا ضروری ہوگا۔ اسلام کی آمد کے  بعد 12 سال کی مدت کے دوران (610-622)، جب مسلمان مکہ مکرمہ میں رہتے تھے، "قرآن بار بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں سے غیر متشدد طریقے سے ظلم و جبر برداشت کرنے کو کہا ہے۔  لیکن یہ کار آمد ثابت نہیں ہوا، اور آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کو اپنا گھر  چھوڑنا پڑا اور ظلم و ستم سے بچنے کے لئے خود کو مدینہ منورہ میں  جلا وطن کرنا پڑا۔  مدنی مدت (623) کے پہلے سال کے ارد گرد ہی قرآن نے  ان لوگوں کو آیات -4022:39 میں دفاعی جنگ کرنے کی اجازت دی۔

اگلے چند سالوں میں، مسلمانوں نے  بدر (624)، احد (625)  اور جنگ خندق(627)  لڑی۔ "ان واقعات میں  ایک لمحے سے دوسرے لمحے، دن  اور بعض اوقات مہینوں تک  مسلمانوں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا، کیونکہ، ان کے دشمن بے انتہا طاقتور تھے، فوجی اعتبار سے انہیں مٹا دینا چاہتے تھے۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کی اجازت صرف اس وقت دی گئی جب  پوری مسلم آبادی کے فنا ہو جانے کا خطرہ لاحق تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ پیروکار جنگ لڑنے کو ناپسند فرماتے تھے، لیکن قرآن اور،  گیتا میں بھگوان کرشن کے ذریعہ ارجن کو دئے گئے پیغام میں خطرناک یکسانیت ہے۔ قرآن  میں ذکر ہے "جبکہ جنگ تباہی تھی لیکن مذہبی ظلم و ستم اور  جلا وطنی کے لئے لوگوں کو مجبور کرنا اس سے بھی بدتر تھا (2:217 4:75)"۔ یہ آیت بھی مخصوص حالات کا بیان کرتی ہے جس میں جنگ کی اجازت تھی، ساتھ ہی  مسلمانوں کو تاکید تھی کہ وہ  دوسروں پر  مذہبی ظلم و ستم میں شامل نہ ہوں۔ قرآن نے مسلمانوں پر مزید زور دیا ہے کہ وہ حد سے آگے نہ بڑھیں (2:190) اور ان سے جنگ کرتے رہو حتٰی کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملًا) اﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں (2:193) ۔

مصنفین مدنی مدت کے دوران نازل ہو چکی آیات  کے اہم مضمرات کو درج کرتے ہیں۔  اس وقت تک مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متحدہ قیادت میں ایک مکمل کمیونٹی کا قیام کر لیا تھا، اور منظم اور سیاسی طور پر ذمہ دار انداز میں خود کی  دفاع کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ یہ انفرادی صلاحیت یا منتشر انداز میں ناانصافی کے خلاف پر تشدد رد عمل سے مختلف تھا‑ " جیسا کہ  القاعدہ اور ان گنت دوسرے گروپ اسلام کے نام پر دہشت گردانہ کارروائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔

محمد یونس اور اشفاق اللہ سید کہتے ہیں: "قرآن ایسی کوئی بھی مثال نہیں دیتا ہے  جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے مخالفین کے خلاف ہتھیار اٹھایا ہو  یا تشدد کے لئے اپنے پیرو کاروں کو اکسایا ہو،  ایک کے بعد ایک، نبیوں کو ان کے عوام کے نا انصافیوں کو برداشت کرنے کے لئے حلف اٹھاتے ہوئے پیش کیا گیا ہے ، یہاں تک کہ  خدا  حق کو واضع کر دے۔ "

قرآن کے تکثرتیت کے پیغام کے ساتھ ملا کر پڑھنے پر ، یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ  خدا چاہتا ہے کہ مسلمان دوسرے فرقوں کے ساتھ پر امن طریقے سے بقائے باہمی میں رہیں، ان کو ان کے حقوق دیں اور  عدم تشدد کے ساتھ خود کی دفاع کریں۔  یہ ان کو جبر کے خلاف جنگ شروع کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن منظم اور ذمہ دارانہ  انداز میں صرف اس حال میں جب  پوری مسلم آبادی کے  مٹ جانے کا خطرہ لاحق ہو۔   ایک ایسے  زمانے میں جب مسلمانوں  کی آبادی تقریبا 1.5 ارب ہیں، یا عالمی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں اور وہ  دنیا کے تمام حصوں میں پھیلے ہوئے  ہیں، ایسے میں  اسلام کے دفاع کرنے کے نام پر کسی بھی طرح کا تشدد  واضح طور پر قرآن کی خلاف ورزی کرنے والا ہوگا۔

خاص طور سے قرآنی متن پر انحصار کرتے ہوئے  کتاب میں شادی اور طلاق، خواتین، انسانی حقوق، اسلامی ریاست وغیرہ  اور  اسلام کے بارے میں دوسرے بہت سے غلط تصورات کے بارے میں ذکر ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلمانوں دونوں ہی کے درمیان پھیل گئے ہیں۔  کتاب صرف اور صرف قرآن مجید کے حوالے پر مبنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مختصر سوانح عمری پیش کرتی ہے۔  "اس طرح یہ تصنیف اس کے مصنفوں اور منبع مواد کی اپنی پسند کے ذاتی، تعلیمی اور نظریاتی پس منظر کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لئے ڈیزائن کی گئی ہے"۔

مصنفین نے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ "ان کے بعض اپنے فقہہ اور ماہر قوانین  کے ذریعہ  اپنی مقدس کتابوں کو شیطان صفت بنانے کے عمل کے خلاف احتجاج کریں، جو  قرآنی ضابطوں کو لاگو کرنے کے نام پر واضح قرآنی مخالف سنگین جرائم کا جواز پیش کرتے ہیں۔" انہوں نے اس  یقین دہانی کے ساتھ اختتام کیا ہے کہ  "متشدد انتہا پسند ... تیزی سے حاشیہ  پر پہنچنے کے پابند ہیں اور آخر کار اسلام کی دنیا سے ترک کر دئے جائیں گے" ۔

اسلام کا اصل پیغام کے "اسلامی عقیدہ کے ساتھ کوئی تنازعہ نہ ہونے" کے طور پر قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی کی طرف سے اسے منظوری حاصل ہے۔ کتاب کے تعارف میں، یو ایل سی اے، کیلی فورنیا میں ممتاز اسلامی اسکالر اور قانون کے پروفیسر، خالد ابو الفضل کا کہنا ہے کہ: "کاش ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے  جس میں یہ کتاب دین اسلام کے صحیح تعارف میں دلچسپی رکھنے والے مذہب کے طالب علموں کے لئے  ایک معیاری ریفرنس کا ذریعہ بن جائے۔ "

سیف شاہین،  آسٹن،  میں واقع ٹیکساس یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/take-islam-back-to-the-quran-/d/6246

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/bring-islam-back-to-quran--اسلام-کو-قرآن-کی-طرف-واپس-لائیں/d/7313

 

Loading..

Loading..