New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 02:43 AM

Urdu Section ( 10 Sept 2012, NewAgeIslam.Com)

Search for Modern Islam between Salafi Islam and Sufism سلفی اسلام اور تصوف کے درمیان جدید اسلام کی تلاش


سیف شاہین، نیو ایج اسلام

30 جولائی، 2012

اسلامی  عقیدہ  اور   اس کے اپنے ناقدین  کے  بیچ  دلیل تیزی سے   عقیدے کے دو مختلف نقطہ نظر: سلفی طریقہ اور صوفی طریقہ  کے درمیان تنازعہ میں تبدیل ہو رہا ہے۔   داؤ ں پر نہ صرف ایک مذہبی نظریے کے طور پر اسلام کے معنی ہیں   بلکہ یہ بھی ہے کہ   رو ز مرّا میں  مسلمان  کس طرح خود کو محسوس  کرتا ہےاور اس سکڑتی دنیا میں  اپنے  مقام کوکس   طرح دیکھتا ہے۔

سلفی عقیدے کے لوگ  اسلام کو اس  دور میں واپس  لے جانا چاہتے ہیں جیسا کہ ان کے مطابق  اس  کے ابتدائی زمانے میں اس پر عمل ہوتا تھا، خاص طور سے  مسلمانوں کی پہلی تین نسلیں، جو سلف کے زمانے میں تھیں یا اسلامی  کیلنڈر کے ابتدائی 300 سال میں تھا۔    وہ قرآن اور حدیث کی لغوی تشریح کی تبلیغ کرتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ سلف صالحین کے آخر تک اجتہاد کے دروازے بند ہو گئے تھے۔   وہ چاہتے ہیں کہ عام مسلمان  کلمہ، نماز، روزہ،  حج اور زکوٰۃ  کے پانچ اسلامی ستونوں  تک خود کو محدود رکھے۔

صوفی مذہب کے تئیں زیادہ روحانی نقطہ نظر والے  ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ، دن میں پانچ مرتبہ نماز اور رمضان کے مہینے میں  روزہ  رکھنے کی رسمی عبادت  کافی نہیں ہے، اور  کبھی کبھی  اس کا  بالکل بھی کوئی نتیجہ حاصل  نہیں ہوتا ہے۔ ان لوگوں کا یقین ہے کہ   اسلام،  اللہ کے ساتھ ربط کا معاملہ ہے، جس طرح خود نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نزول وحی کے دوران حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر گانے، رقص، اللہ کے ناموں کو ورد کرنے اور کبھی کبھی  ادویات اور تحریک دینے والے کیمیائی مادّوں  کے ذریعے بھی اس طرح کے ربط کو قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  مختلف صوفی سلسلے اپنی تعلیمات اور اصولوں کا تعلق  پہلے اور چوتھے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے  جوڑتے ہیں۔ پوری دنیا میں  بڑی تعداد میں  صوفی سنت اور شاعر پیدا ہوئے ہیں جن کا احترام   آج تک عام مسلمان کرتے ہیں۔

معانی بدلے

اگر تاریخ ہمیں ایک سبق سکھاتی ہے، تو وہ  یہ ہے کہ کوئی بھی چیز ویسی نہیں رہتی جیسے شروعات میں ہوتی ہے۔ قدیم صوفیوں کے طریقہ کار کا مقصد، خدا سے رابطے کا تصور اور   اللہ کے سوا ہر چیز سے منھ موڑ لینا تھا۔ اس کا مطلب  کلمہ طیبہ  کو صرف ورد کرنا نہیں تھا بلکہ  دل اور روح میں اس کو محسوس کرنا تھا۔ تاہم  عمل مقصد پر غالب آ گیا، اور بہت سے لوگوں کے لئے تصوف کا مقصد  خدا سے لو لگانے کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ صرف گائیکی، رقص، خدا کا ورد اور  منشیات  جو  اس کے ساتھ شامل تھا۔ دنیا کے کئی حصوں میں، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور شمالی افریقہ میں عام مسلمان رہلت  فرما چکے لوگوں  اور  دفن صوفی سنتوں کا احترام کرتے ہیں بلکہ  ان سے منتیں مانگتے ہیں ان لوگوں کا یقین ہے کہ ان سنتوں کے پاس عرفانہ قوت ہے اور ان کے مزارات پر  پھول اور پیسے چڑھاتے  ہیں۔  اکثر غیر مسلم بھی  اس میں ان کے ساتھ شمولیت اختیار کرتے ہیں۔

اس  تبدیلی نے    بابا شاہی طبقے  کو جنم دیا  جو  رہلت فرما چکے سنتوں کی آل اولاد میں سے تھے  جنہوں نے ان کی  وراست کو اپنا لیااور اب خود کو عام مسلمانوں اور اللہ کے درمیان ثالث کے طور پر پیش کرتے ہیں۔  درحقیقت تصوف میں بگاڑ  بعض معاشروں میں ایسی سطح پر پہنچا  گیا ہے کہ  نقلی  صوفی حضرات شہرت اور خوش قسمتی، بیماری اور موت کے اوپر  قوت  ہونے کا دعوی کرتے ہیں، بھولے بھالے اور ناخواندہ لوگوں کو  دھوکہ دیتے ہیں اور ان کے عقیدے  کو مزاق بناتے ہیں۔ تصوف،  مومن کے دل کو  اللہ کے سوا ہر چیز سے ہٹانا تھا؛  لیکن بابا شاہی  کرپشن اور اخلاقی پستی   میں تبدیل ہوگیا۔

 جب سلفی نظریہ  نے  قرون وسطی کے مختلف معاشروں میں  اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کر دیا،  یہ  یورپی ثقافت کے بڑھتے ہوئے اثر  کے جواب اور جزوی طور پر  صوفی طریقہ کار میں آئے بگاڑ کے خلاف بغاوت  کے طور پر تھا۔  سلفیوں نے   مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ   شرک سے بچیں‑ کسی کو اللہ کے ساتھ شریک کرنے یا   یہ ماننا کہ ان لوگوں کے پاس   خدائی طاقت ہے۔  وہ اپنے کام کو  خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کے  عکس کے طور پر دیکھتے تھے، جنہوں  عرب کو  اس زمانے میں عام بت پرستی سے نجات دلائی تھی ، اسلام سے پہلے کے اس زمانے کو زمانہ جاہلیت  کہا جاتا ہے۔ لیکن وہ اتنے پر ہی نہیں رکے۔   اسلام کو سلف صالحین کی مدت میں  واپس لے جانے کی خواہش میں  سلفی لوگ مؤثر طریقے سے  مذہب کی تقریباً پورے14 صدیوں پرانی تاریخ کو پاک کرنا چاہتے ہیں، جو نہ صرف  غیر مناسب ہے  بلکہ ایسا کیا جانا ناممکن ہے۔

 اس عمل میں سلفی نظریہ  ثقافتی رجعت باسلف اور  عربی سامراجیت یا  زیادہ واضح طور پر 'سعودی سامراجیت ' کی خوش کلامی میں تبدیل ہو گیا۔  سلفی نظریہ کا  سعودی ورژن وہابیت   اس پرغالب آ گیا۔  لیکن  شروع سے ہی وہابیت ایک مذہبی نظریہ کم  اور سیاسی طاقت کے لئے ایک آلہ کار زیادہ تھا۔ سعود نے  ابتدائی طور پرجزیرہ نما عرب پر کنٹرول حاصل کرنے  کی کوشش کی اور  حالیہ دہائیوں میں مسلم دنیا اور  اب  یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کی آبادی تک رسائی کی کوشش  کر رہے ہیں۔

وہابی‑ سعود اتحاد  سیاسی اختلاف کو کچلنے کے لئے  مذہب کی اخلاقی اتھارٹی کا استعمال کرتا ہے اور  سلف کی طرف واپسی کا نعرہ مسلم معاشروں میں   ثقافتی یکسانیت کو  تھوپنا  ہے، جو اس کے نتیجے میں ان کے سیاسی مقاصد کو بھی پورا کرتا ہے۔  اس  اتحاد کی  ہمیشہ مغربی سامراجیت  سے دوستی رہی ہے،  پہلے  برطانوی نوآبادیاتی  طاقتوں اور  اب  امریکی سامراجیت کے ساتھ ہے،  جو  خود عیاں ہے۔

  لیکن یہی  سب کچھ نہیں ہے۔ عام طور سے سلفی نظریہ  اور خاص طور سے وہابیت نے  مسلمانوں کے ساتھ  بدترین زیادتیاں کی ہیں جن کے ساتھ ان لوگوں کو رہنا پڑتا ہے۔ سیاسی طاقت کا یہ  ہتھیار کبھی بھی  صرف نظریاتی نہیں رہا ہے ،  تشدد ہمیشہ اس میں  شامل تھا۔   اتحاد کے ابتدائی دنوں میں، محمدا بن سعود کی قیادت  میں وہابی افواج  مرکزی عرب  کے تمام  شہروں اور قصبوں  کو ان'مشرکانہ عمل'  کے لئے سزا  کے طور پر تباہ کرتی تھی۔ 1773 میں ریاض اور 1801 میں کربلا پر قبضہ کے دوران  ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل کیا گیا تھا۔

1960 اور 1970کی دہائی کے  اخوان المسلمون اور آج کے القاعدہ اور بوکوحرام سلفی طریقہ کار   کےاصل وارث ہیں جو قتل اور تباہی  کی اپنی روایات کا لہاز رکھتے ہوئے اسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔   اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ  اسلام کو  اس انداز میں ڈھال رہے ہیں جو  خود کو  تانا شاہی اور  حد سے زیادہ سخت  عقیدے والا بتائے  اور جو  اس دنیا میں مسلمانوں کو   شک و شبہ، خوف اور نفرت کی شئے بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسا صرف غیر مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ خود مسلمانوں کے لئے بھی    ایسا کر دینا چاہتے ہیں۔

ایک اور طریقہ

 علماء کرام اور سماجی سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ ادیبوں اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے اب  اصولی اور نظریاتی بنیادوں پر سلفی نظریہ کو  چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے، اس کی   سیاست اور سامراجی جڑوں  اور اس کے فروغ میں  پیٹرو ڈالرس  کے کردار کو بے نقاب کر رہے ہیں۔  بہت سے لوگ  اکثر بحث کرتے ہیں  کہ سلفی طریقہ کبھی بھی  مسلم معاشرے میں عام  مسلمانوں  کا منتخب  طریقہ کار  نہیں تھا۔  وہ ان معاشروں کے  صوفی ورثے کی طرف توجہ دلاتے ہیں، اس کے  مقامی غیر اسلامی معاشرتی روایتوں  کے ساتھ  آمیزش کو  ایک  ثبوت  کے طور پر پیش کرتے ہیں  کہ اسلام تاریخی اعتبار سے  ایک اعتدال پسند، جامع اور پرامن  عقیدہ  رہا ہے۔

تاہم، ایسا کرنے میں وہ ایک اہم وجہ کو نظر انداز کرتے ہیں کہ  آخر  انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر نوجوان پیشہ ور افراد اور طالب علموں سمیت   جدید مسلم معاشرے میں  سلفی نظریہ   سے چپکے ہوئے اتنے لوگ کیوں ہیں۔ اس کی وجہ   صوفی طریقہ کار  کی بد عنوانی،  اس کا  توہم پرست  خرافات اور نقلی  صوفیوں کے بے معنی گفتگو  والے مسلک میں تبدیل ہو جانا ہے۔  تعلیم یافتہ  یا   جدید زمانے کی فہم  عامہ والے مسلمان  قبروں پر  دعا مانگنے اور ورد کرنے اور  اور پیسوں اور پھولوں کو  عجیب ڈھنگ کے لباس پہنے  بکواس کرنے والے لوگوں کو پیش کرنے کو بجا طور پر  مضحکہ خیز مانتے ہیں۔  وہ سنجیدہ طور پر اسے مذہب نہیں مان سکتے  ہیں اور خاص طور سے جو ایک خدا کے ماننے والے اور بت پرستی کی مخالفت کرنے والے ہونے کا  دعوی کرتے ہیں ۔

غیر معمولی سماجی اور ثقافتی تحرک اور  اخلاقی پستی کے اس  دور میں، سلفی طریقہ اس طرح  کے مسلمانوں کے لئے ایک فطری اپیل رکھتا ہے۔ مذہبی معاملوں میں اس کا کٹر پن  عقیدے اور تشخص کی ان کی  ضروریات کے لئے کامل جائے پناہ  کے طور پر کام کرتا ہے، اس کا کٹر پن  اخلاقی طور پر سیاہ اور سفید کو الگ کرنے میں مدد کرتا ہے۔   سلف کی سنہری دور جب مسلمان ویسے تھے جیسا کہ اللہ،  پیغمبر صلی  اللہ علیہ وسلم اور قرآن  ان سے توقع کرتا تھا، اس کی طرف  واپس لوٹنے کاوعدہ راہ   فراری  اختیار کرنے والا  تصور ہے۔  بلکہ طویل مدت قبل انتقال کر چکے لوگوں کی قبروں پر  دعا کر نے پر  دنیاوی خواہشات کے پورا ہونے کے بارے میں سلفی نظریہ  کا خوف بہت زیادہ حقیقی اور  یہاں تک کہ سائنسی لگتا ہے۔

 جبکہ سیاست اور پیٹرو ڈالرس نے سلفی طریقہ کار کے لئے راستہ ہموار کیا ہے، بہت سے مسلمان اس وجہ سے گمراہ ہو گئے کہ   غلط زمانی کے نشیب و فراز جو صوفی طریقہ کار پر داغ لگاتا ہے اور عقل و شعور والے لوگوں کو اس راہ پر چلنے کو مشکل بناتا ہے۔  بسوں  کے اندر بم دھماکہ  کرنے والوں  کا  مقابلہ  صرف قبروں پر اگربتی جلا کر  نہیں ہو سکتا ہے۔  اگر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو سلفی طریقہ کار کو چھوڑنے کے لئے کہا جائے گا   تو انہیں ایسا  راستہ دکھانا ہوگا جو  مذہب کو  مقدس نمائش اور خدائی استحصال   والا نہ بناتا ہو،  بلکہ ایک ایسا راستہ  جو ان کے  شعور کو  اپیل کرنے والا ہو اور ان کی فہم عامہ   کا احترام کرتا  ہو۔

سیف شاہین،  آسٹن،  میں واقع ٹیکساس یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔ وہ نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/between-salafism-and-sufism,-a-search-for-modern-islam/d/8090

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/search-for-modern-islam-between-salafi-islam-and-sufism--سلفی-اسلام-اور-تصوف-کے-درمیان-جدید-اسلام-کی-تلاش/d/8634

 

Loading..

Loading..