New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 03:04 PM

Urdu Section ( 5 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Islamiat and Internet: Is there any Relationship اسلامیت اور انٹرنیٹ: کیا کوئی ربط ہے؟

 

سیف شاہین، نیو ایج اسلام

اسلامیت گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا بھر میں ایک رجحان بن گیا ہے، جو جزیرہ نما عرب کے اندرونی حصہ کی  بنجر زمین اور افغانستان اور پاکستان سرحد پر واقع دور دراز کے مدارس سے نکل کر شہروں اور قصبوں، کالجوں اور دفاتر اور  ہمارے کھیل کے میدانوں اور ہماری روز مرہ کی زندگی اور  ڈرائنگ رومز میں داخل ہو گیا ہے۔  اسی مدت میں  انٹرنیٹ مواصلات عامہ  کا ایک عالمی ذریعہ بن گیا ہے جس نے اصل میں  ہر ایک کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔

کیا ان  کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟

بے شک،  دونوں رجحانوں کے درمیان براہ راست ربط ہے۔ لوگ، خاص طور پر نوجوان، انٹرنیٹ پر اسلامی تعلیمات سےمتاثر ہیں۔ کئی اسلامی تنظیمیں سرگرمی سے اپنے نظریے کو فروغ دے رہی ہیں اور   نئے ممبران کو آن لائن تلاش کر رہی ہیں۔ وہ انٹرنیٹ کا استعمال آپس میں رابطہ کے لئے اور پوری دنیا میں اپنی سرگرمیوں میں کو آرڈینیشن کے لئے اس کا استعمال کرتے ہیں۔

لیکن ان میں ایک گہرا رشتہ بھی ہے؟ کیا انٹرنیٹ اسلامسٹ لوگوں کے ذریعہ پھیلائی جانی والی وبا میں صرف سہولت فراہم کرنے کے والا رہا ہے؟ کیا اس نے اپنے طریقہ  سے شیطانیت کو  تخلیق کرنے میں مدد کی ہے؟

عام طور پر انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بارے میں مطالعے سے پتہ چلتا کہ بہت بنیادی طریقوں میں ہم اپنے آپ کو، اپنے تعلقات اور اپنے معاشرے کو کس طرح سمجھتے ہیں اس میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کچھ مطالعہ پر امید ہیں اور ان کی دلیل ہے کہ  انٹرنیٹ ، متنوع ثقافتوں کے لوگوں کو ایک ساتھ لانے کی صلاحیت کثیر ثقافتی نظریہ،  روشن خیالی اور لبرل سوچ کو فروغ دیتا ہے۔

لوگ تمام قسم کے لوگوں کے ساتھ چیٹ رومز میں بات چیت کرتے ہیں اور ویب سائٹس پر دیگر ثقافتوں اور تہذیبوں کے بارے میں پڑھتے ہیں اور بلیٹن بورڈس پر تازہ خیالات سے روبرو ہوتے ہیں۔ یہ انہیں سماجی اعتبار  سے اور زیادہ ذمہ دار اور اختلافات کو قبول کرنے والا بناتا ہے۔ مختصر میں، انٹرنیٹ دنیا میں ایک بہت بڑا اور خوش حال خاندان بنا رہا ہے۔

تاریک پہلو (ڈارک سائیڈ)

گرچہ، بعض دوسرے مطالعے کافی مایوس کن ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کا اصل پیٹرن مثالی سے دور ہے۔  لوگ عام طور پر صرف ان ویب سائٹس پر جاتےہیں جو کہ خاص طور پر  ایک نقطہ نظر کی حامل ہیں۔  بے شک، آر ایس ایس فیڈز کے ذریعہ انہیں اپنے ڈیسک ٹاپ پر  بہت ہی مخصوص قسم کی  خبریں اور آراء ملتی ہیں۔ اپنے لئے کار آمد اورمخصوص بنانے کے آلات ان کی آن لائن سرگرمیوں کو مزید بہتر بنانے میں مددکرتے ہیں۔

فیس بک اور ٹویٹر پر وہ اپنے جیسوں سے رابطہ کرتے ہیں اور  ٹکنالوجی  انہیں باقی لوگوں کو  فلٹر کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس طرح، راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے کے بجائے، انٹرنیٹ لوگوں کو اپنے  ارد گرد اور اپنوں کے درمیان دیواریں  کھڑی کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ تنوع کو فروغ دینے کے بجائے، یہ ثقافتی قدامت پرستی میں اضافہ کر رہا ہے۔

نفسیاتی مطالعہ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن رہنے میں صرف کر رہے ہیں اور یہ خود  میں ایک  پریشانی کی بات ہے: اس کا مطلب ہے کہ وہ "حقیقی دنیا" اور "اصل لوگوں" کے ساتھ ملاقات اور "اصلی رشتوں" کو بنانے میں  بہت کم وقت صرف کر رہے ہیں۔  اور یہ بری لت ہے۔ اسی طرح موبائل فون کے ساتھ، انٹرنیٹ  اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ اب لوگوں کے ساتھ براہ راست رابطہ  تقریباً خصوصی طور پر اب کچھ قسم کی ٹیکنالوجی کے ساتھ رابطہ ہے:  دوستی، خاندانی تعلقات اور یہاں تک کی  محبت میں بھی ثالثی کا کا م اب سیل فون، ٹیبلٹس اور لیپ ٹاپس کر رہے ہیں۔ سماجی ذمہ داری کو بڑھانے کے بجائے، یہ تبدیلیاں خود معاشرے کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

یہ  جائزے، زیادہ تر امریکہ اور یورپ میں کئے گئے ہیں، کم از کم جزوی طور پر انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے نقصان دہ نفسیاتی اور سماجی اثرات کی وجہ سے تارکین وطن کا خوف، زینو فوبیا اور مغرب میں اسلام فوبیا  بڑھ رہا ہے۔

 کیا اسلامیت کے شعلوں کو انہیں  ہواؤں کی طرف سے ہوا دی گئی ہے؟ ایک ہی سطح پر، دنیا کو ایک چھوٹی جگہ بنا کر، انٹرنیٹ نے  یقینی طور پر مسلمانوں کے لئے یہ  آسان کر دیا ہے کہ وہ خود کو عالمی 'امت' کا ایک حصہ محسوس کریں۔ میری نظر میں جو خود، ایک مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن کیا  انٹرنیٹ نے بیک وقت اسلامی خوف، بد اعتمادی اور "دوسروں" سے نفرت کو طاقت دی ہے جو  مغرب میں زینو فوبیا اور  اسلامو فوبیا سے مختلف نہیں  ہے؟

اس کے علاوہ دوسری سطح پر، کیا انٹرنیٹ نے  بیک وقت اسلامی امت کو   ذیلی گروپوں میں  بنٹ  جانے میں مدد کی ہے؟  فرقہ وارانہ حدود میں اضافہ ہو رہا ہے جیسے کہ وہ خود کو مسلمان مانتے ہیں اور دیگر مسلمانوں کو   سنی، شیعہ، وہابی،  احمدی  وغیرہ کا لیبل لگاتے ہیں۔  بے شک یہ تقسیم نئی نہیں ہے، لیکن یقینی طور پر ایسا لگتا ہے کہ یہ  اچانک سے حالیہ برسوں میں ہمارے لئے زیادہ اہم بن گئے ہیں۔  ویب سائٹس اور فیس بک / ٹویٹر گروپ مزید  چھوٹی کمیونٹیز  تشکیل دینے کی اجازت دیتے ہیں اس کے باوجود اس کے ارکان دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔

دہشت گردی کا جال

اسلامی دہشت گردی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ زندگی کے تئیں دہشت گردوں کی بے حسی اور  بڑے پیمانے پر تشدد کے ان کے حربے کی سرد مہری  سماجی طور پر منقطع ہونے کوظاہر کرتی ہے جسے  قنوطی لوگ انٹرنیٹ سے منسوب کرتے ہیں۔ عملی جائزے جو قطعی طور پر  تعلق کو  ثابت کر سکتے ہیں لیکن اس پر عمل کرنا مشکل ہے  (دہشت گرد بمشکل ہی خود کو سروے کے لئے پیش کرتے ہیں)۔  لیکن کچھ مطالعے ایک ربط کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

افغانستان میں سی آئی اے کے ایک سابق افسر اور امریکی حکومت کے انسداد دہشت گردی کنسلٹنٹ، مارک سیج مین نے تقریبا 500 غیر ملکی اسلامی دہشت گردوں کی زندگی کا جائزہ لیا ہے جو وہاں امریکہ کو نشانہ بنانے کے لئے پہنچے تھے۔ سیج مین لکھتے ہیں کہ "زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گردی  غربت، منقطع خاندانوں، جہالت، بچپنے، خاندانی یا پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی کمی ... کے سبب سامنے آتی ہے۔  میرے نمونے کا تین چوتھائی حصہ  اوپری یا متوسط ​​طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ 90 فیصد  کی وسیع اکثریت، ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے اور  اپس میں جڑے خاندانوں سے آتے ہیں۔ عام طور سے تیسری دنیا کے 5-6 فیصد کے مقابلے ترسٹھ فیصد کالج کے طالب علم رہے ہیں۔  کئی معنوں میں یہ  اپنے معاشرے کے سب سے بہتر اور روشن مستقبل والے تھے"۔

سیج مین کے دہشت گردوں کے نمونے میں سے ہر چار میں سے تین پیشہ ور یا نیم  پیشہ ور افراد تھے۔ ان میں  بہت سے انجینئر، معمار اور سائنسدان تھے۔ مختصر میں، یہ تمام ایسے لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ  باقاعدہ انٹرنیٹ کے صارفین ہو سکتے تھے۔  ایسے نوجوان جو  ایک حقیقت کے طور پر انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ساتھ پلے بڑھے ہوں،  یہاں تک کہ روز مرہ کی زندگی کی ایک ضرورت کے لئےبھی۔

تب، کیا انٹرنیٹ اسلامی انتہا پسندانہ رجحانات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یا  ان کو جنم دیتا ہے؟ کیا اس کا اثر زہریلا ہے جو  مغرب میں  اسلامو فوبیا کے طور پر  اور مسلمانوں کے درمیان اسلامیت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے؟ میرے نزدیک اس کا آسان جواب نہیں ہو سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ  ان سوالات کو  پوچھا نہیں جانا چاہیئے۔

انٹرنیٹ باقی رہنے اور  فروغ پانے والا ہے، اور اس کے سماجی اور نفسیاتی اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ اگر قنوطی اس کے رجعت پسندانہ اثرات کے بارے میں درست کہہ رہے ہوں، رجائیت پسند  بھی کم از کم اس کی سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی اور دانشورانہ تنوع  (NewAgeIslam اس کی ایک شاندار مثال ہے)  کو فروغ دینے کے صلاحیت کے بارے میں بات کرنے میں غلط نہیں ہیں۔  بحث کوجاری رہنے دیں ...

سیف شاہین،  آسٹن،  میں واقع ٹیکساس یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔ وہ نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-science/saif-shahin,-new-age-islam/islamism-and-the-internet--is-there-a-hyperlink?/d/7534

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/islamiat-and-internet--is-there-any-relationship--اسلامیت-اور-انٹرنیٹ--کیا-کوئی-ربط-ہے؟/d/7551

 

Loading..

Loading..