New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 12:51 AM

Urdu Section ( 23 Nov 2012, NewAgeIslam.Com)

How Not To Fight Islamophobia اسلامو فوبیا کے ساتھ جنگ کرنے سے کیسے بچا جائے

 

سیف شاہین ، نیو ایج اسلام                               

انگریزی سے ترجمہ ،مصباح الہدیٰ،نیو ایج اسلام

انسانوں  اور جانوروں کے درمیان کیا فرق ہے ؟بہت سے لوگ کہیں گےکہ ، ہم با شعور مخلوق ہیں جب کہ جانور با شعور نہیں ۔لیکن شعور در حقیقت ہے کیا؟ فلسفی سے سائنسدانوں تک،ماہر عمرانیات سے ماہرنفسیات تک،ہر طرح کے اسکالروں نے ،ہزاروں سالوں سے پیچیدہ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ۔لیکن وہ اب تک جواب تلاش نہ کر سکے۔لیکن کچھ منتخب ماہر علم الاعصاب ،نفسیات،سماجیات اور لسانیات کی ایک جماعت نے کچھ اشارات مہیا کرانے شروع کر دئے ہیں ۔

George Herbert Mead ان میں پہلا ایک شخص ہے جس نے اس کا جواب تلاش کرنے کیلئے سماجی ارتقاء کو گہرے لسانیاتی اورنفسیاتی مراحل سے جوڑنے کی کوشش کی اور یہاں تک کہ اس  نے Darwin  کے نظریہ ارتقاء کی طرف بھی توجہ کیا۔تقریباًایک صدی پہلے اس نے شعور کے متعلق سیر حاصل نظریا ت پیش کیا جس کا بیان علوم کی تمام شاخوں میں پایا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا نظریہ تھا جسے شروع میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی،لیکن ابھی حالیہ دہائیوں میں ترقی پذیر علم الاعصاب میں اسے زبر دست حمایت حاصل ہوئی ہے۔

George Herbert Mead وضاحت پیش کرتے ہیں کہ کس طرح دماغ میں ،خود میں اور معاشرے میں انسانوں کا دماغ بیدار ہوتا ہے اور شعور کی تعمیر کس طرح کی گئی ہے ۔سر کی بات کی جائے تو دانائی ،زبان اور گفتگو وغیرہ کا عمل عقل کی تخلیق ہے ۔ George Herbert Meadنے لکھا کہ‘‘ دماغ کا ارتقاءسماجی عمل   میں حرکات کے ذریعہ پیغام رسانی سے ہو تا ہے ،یا تجربات کے اعتبار سے ہوتا ہے۔دماغ کے ذریعہ ابلاغ و ترسیل سے نہیں ’’۔لیکن اشارے کے ذریعہ بات چیت لفظی (زبان ،تحریراور زبانی )ہو سکتی ہے اور غیر لفظی (ہاتھ کی حرکت  وغیرہ ) بھی ہو سکتی ہے ۔ان کا وجود اسی وقت ہوسکتا ہے جب کسی خاص حرکت کے ذریعہ ایک سے زیادہ شخص مقصود ہو ۔جب ایسا ہو تا ہے ، تو وہ حرکت دوسروں میں اسی معنیٰ کو ظاہر کرنے والی ایک با معنیٰ علامت  بن جاتی ہے جو دوسرے ہمارے اندر بیدار کرتے ہیں  ۔

لیکن ہمیں یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ ایسا ہماری حرکت کر رہی ہے ؟ اس کا پتہ ان کے رد عمل کے علم سے چلتا ہے جن کے ساتھ ہم بات چیت کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ،اور اپنی بات چیت کو ا ن کے رد عمل کے  مطابق ضبط کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔مثلاً اگر ہم ایک ایسے ملک میں جائیں جسکی زبان ہمیں نہیں آتی ،تو ہم  عام الفاظ میں کسی کے ساتھ بات کی چیت کرنے کی کوشش کرینگے یا انگلش بولنے کی کوشش ۔اگر وہ شخص واضح انداز میں کو ئی جواب دے تو ہم یہ سمجھ جا ئینگےکہ وہ بھی وہی زبان جانتا ہے ،یہیں سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔اور اگر وہ اضح انداز میں جواب نہیں دیتا تو  ہم یہ جان جائینگے کہ  اس سے بات چیت کرنا ممکن نہیں ہے،اس لئے کہ ہمارے درمیان با معنیٰ علامت کا تحقق نہیں ہو پا رہا ہے ، اور یہ کوشش مزید جا ری نہیں رہ سکتی ۔اور یہ معاملہ ہر اس شخص کے ساتھ پیش آئے جس سے میری ملاقات ہو تو مجھے یہ بھی پتہ چلے گا کہ اس ملک میں زندہ رہنے کیلئے  مجھے خود اس ملک کی مقامی زبان سیکھنا ضروری ہے ۔یہ خیال کرتے ہوئے کہ انگریزی میں گفتگو کرنے کی میری کوئی بھی کوشش مہمل ہو گی ۔

George Herbert Mead کے مطابق یہ دوسروں کی حرکات  کے بارے میں غور و فکر کرنے کی صلاحیت اور دوسروں کی حرکات  سےضروری  تطبیق دینے کا جسمانی ارتقاء تھا۔جس نے انسانوں کو دوسرے جانوروں  سے ممتاز کر دیا ہے۔ George Herbert Meadاسی غور و فکر کو شعور قرار دیتے ہیں اور مزید کہتے ہیں کہ‘‘ غور وفکر کا یہ عمل ہی سماجی عمل میں دماغ  ترقی کی بنیادی صورت حال ہے’’۔

ہمارے تصورات میں سے ہر ایک انفرادی طور پرمعاشروں کی تشکیل ۔ عوام کو کسی چیز سے جوڑنے  کیلئے (خاص طور پر زبان  سے ) عام طور پر ،غور و فکر کی لیاقت کے بنیادی مرحلے سے گذار کر انسانوں کو دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔

ان میں سے کسی کا بھی اسلاموفوبیا سے کیا تعلق ہے،یا اس سے کس طرح (نہ) نمٹا جائے ؟در حقیقت یہ ایک منفعت بخش معاملہ ہے ۔

 کچھ لوگ حملہ آور اسلامو فوبیا کے پر تشدد ردعمل کو یہ کہتے ہوئے جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ دوسروں کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیزی کا ‘‘ردعمل’’ تھا ۔اکثر اس قسم کے ‘‘رد عمل ’’صرف جواز فراہم کرنے کیلئے نہیں ہوتے بلکہ اسے ضروری بھی سمجھا جا تا ہے ہے:یہ دلائل دئے جا رہے ہیں کہ ہمیں اسلامو فوبیز کو ایک سبق سکھانا ضروری ہے ، اس لئے کہ جب تک ایک مضبوط رد عمل پیش نہ کیا جائےمسلمان اسی طرح ستائے جاتے رہیں گےنشانہ بنائے جا تے رہیں گے ۔

اسکی مثالیں بکثرت موجود ہیں ،مثلاً اگیارہ سال پہلے 9/11 کا حملہ ،کچھ مہینو ں پہلے ایک مسلم مخالف ویڈیو  ‘Innocence of Muslims’ کے خلاف ایک پر تشدد مظاہرہ ،جبکہ اسامہ بن لادین نے یہ ثابت کرنے کیلئے قرآن کا حوالہ دیا کہ اس کی اور اسکے گروپ کی سر گرمیاں غیر اسلامی نہیں  ہیں ،جبکہ خود یہ ‘‘غیر اسلامیت ’’ان کی سر گرمیوں کا محرک نہیں ہے ۔اس نے اپنی ان سر گرمیوں کو ایک قدیم رنجش کے ‘‘ردعمل ’’ کے طور پر پیش کیا ،ایک ایسا رد عمل جو غلبہ حاصل کرنے ، نو آبادیات کی تشکیل اور مسلم ممالک کے استحصال کے خلاف اور مرکزی دھارے میں شامل مسلمانوں کے ساتھ مغرب  کے بالعموم  تعصب کے خلاف  ہے ۔

آپ اندازہ لگائیں کہ یہ کیا ہے ؟ان کے ‘‘ردعمل ’’ کی اس بیداری کی وجہ سے اب زیادہ مسلم ممالک کالونی بنائے جا رہے ہیں ،مسلمانوں کے خلاف تعصب زیادہ برتا جا رہا ہے ،اور ہزارو ہزار مسلمان  مارے جا رہے ہیں۔فلسطینی ،جن کی سب سے زیادہ وعدہ شکنی اسلامسٹ کے شور و غل کی وجہ سے کی گئی ،ان کی حالت اب پہلے سے بھی خراب ہے ۔ان کا اپنا ملک ہونے کا خواب دن بدن مدھم پڑتا جا رہا ہے ،خیر آپ اسے دیکھ لیں۔ پر تشدد اسلام کے مسائل حل کرنے کے مبینہ مقصد نے صرف مسائل کے اضافے میں تعاون کیا ہے۔اور ابھی بھی کتنے مسلمان تشدد کو ہی حقیقی اور موہومہ اسلاموفوبیا کا مجوزہ اور ضروری ردعمل تصور کرتے ہیں ۔ایک احمقانہ ویڈیو نے عالمی سطح پرتشدد مظاہروں کو جنم دیا اور درجنوں غیر ضروری موت کا سبب بنا ۔ ابھی بھی ہم مستقل یہ سنتے ہیں کہ مختلف مسلم گروپ دنیا کے کچھ حصوں میں بم باری کی کوشش کر رہے ہیں اور اب بھی لوگوں کی جانیں اس لئے لے رہیں ہیں کہ ان کی ذاتی رنجش کی تشہیر ہو سکے۔ اس قسم کے افکارایسے احساس تفکر و تدبر کے فقدان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہ انسانوں کو حیوانوں سے ممتاز کرتا ہے ۔

مستقل اس طرح کے ‘‘ردعمل’’ان کے اس مقصد سے دور ہے جو انہوں نے اپنایا تھا کہ اسے مسلمانو ں کے غصے کی اہم علامت کے طور پر ظاہر کیا جائے ۔دوسروں کے لئے واضح طور پر وہ معنیٰ ظاہر نہیں کرتا ہے جیسا کہ انہوں نے اس کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے کیا ۔انہیں ایسا جواب نہیں ملا جیسا کہ اس کا ارتکا ب کرنے والوں نے امید کی تھی ،جو جواب انہیں حاصل ہوا وہ بالکل بر خلاف ہے ۔

ایک با شعور انسان ہو نے کی حیثیت سے،ان رد عمل پر اپنا رد عمل ظاہر کر نا اور اور اسے حالات کے مطابق کرنا ضروری ہے ۔میں اس بارے میں بات نہیں کر رہا ہوں کہ اسلامی تشدد اخلاقی طور پر یا اسلامی طور پر حق بجانب ہے کہ نہیں ۔میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہے ، لیکن یہ ایک الگ ہی موضوع بحث ہے ۔میں یہ پوچھنا چاہتا ہو ں کہ کیا ایسا کرنا اخلاقی طور پر اور اسلامی طور پرقابل قبول ہے ،کیا یہ جنگ بر حق ہے ؟نہیں بالکل نہیں ،۔اور اسی لئے ہمیں کچھ کرنے کے لئے بامعنیٰ انداز میں ہر طرح کے فسادات کے تمام معاملات پر دوبا رہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے،جو ہمارے مقصد میں معاون ہوں ۔یہ طرز عمل نقصان دہ ہے اور ہمیں اس سے پرہیز کرنا چاہئے ،ہمی زیادہ تخلیقی ہونا ضروری ہے ، ہمیں کچھ کرنے کیلئے نیا طرز عمل ایجاد کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو ارتقائی تصور میں ہم جانوروں سے زیاد بہتر نہیں ہیں ،اس دنیا میں ہماری کامیابی کی کوئی امید نہیں ہےجہاں زیادہ عقلمندانسانوں کی آبادی ہے ۔

سیف شاہین یونیور آف ٹیکساس ،آسٹین ،امریکہ میں پالیٹیکل کمیونیکیشن  کے ریسرچ اسکالر ہیں

 

UR FOR ENGLISH ARTICLE

http://newageislam.com/muslims-and-islamophobia/saif-shahin,-new-age-islam/how-not-to-fight-islamophobia/d/9194

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/سیف-شاہین-،-نیو-ایج-اسلام/how-not-to-fight-islamophobia-اسلامو-فوبیا-کے-ساتھ-جنگ-کرنے-سے-کیسے-بچا-جائے/d/9416

 

Loading..

Loading..