New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 02:27 PM

Urdu Section ( 1 March 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The reality of Kunda-Fatiha (Fatiha in Pottery bowl) کونڈوں کی نیازکی حقیقت


صادق رضامصباحی ، نیو ایج اسلام

2 مارچ ، 2021

بے شماربرکات وفضائل سے مزین رجب المرجب کےمہینے کا مرکزی حوالہ یوں تو واقعہ معراج ہےجو اس ماہ کی۲۶تاریخ گزارکر ۲۷ ویں شب میں ہمارے سب سے بڑے پیغمبراورتاریخ کے سب سے عظیم انسان حضرت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا اوریوں یہ شب مبارک قرار دی گئی ،لیکن اس ماہ مبارک کاایک اورحوالہ بھی ہے جسے ہم کونڈے کی نیازسے جانتے ہیں۔یہ نیاز دراصل حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پڑپوتے حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عقیدت و محبت سے عبارت ہے ۔

ہمارے بہت سے بھائی اس نیازکو بدعت کہتے ہیں اور اس کا اہتمام کرنے والوں کو طعن بھی کرتے ہیں۔ان کا کہناہے کہ یہ نیازدراصل صحابی رسول حضر ت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے عداوت پرمبنی ہے ۔شیعہ حضرات اس صحابی رسول کی وفات کی خوشی میں حلوہ پوری پکاتے ہیں اورنیازکرکے اظہارمسرت کرتے ہیں۔حالانکہ تاریخی روایات اس کی نفی کرتی ہیں کیوں کہ حضرت امیر معاویہ کا وصال۰ ۶رجب کو ہوا اور کونڈے کی نیاز کاآغاز۰ ۱۲ہجری سے ہوایعنی پورے ۶۰ سال کے بعد ۔اصل میں شبہہ تاریخ سے پیدا ہواہے ۔یہ نیاز ۲۲رجب کو دی جاتی ہے اوریہی تاریخ ایک قول ک مطابق حضرت امیر معاویہ کا یوم وصال بھی ہے ۔تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاوصال ۶۰سنہ ہجری میں ہواہے مگران کی تاریخ وصال میں بہت اختلاف پایاجاتاہے ۔کسی کے نزدیک یکم رجب ہے ،توکسی کے نزدیک ۹؍رجب ،کوئی ۱۵؍رجب کوتاریخ وصال مانتاہے توکوئی ۲۲؍رجب کو،مگرراجح قول کے مطابق وصال کی تاریخ ۱۵؍رجب ہے، ۲۲؍رجب نہیں۔لہٰذامذکورہ اعتراض خودبخودرفع ہوجاتاہے ۔اورپھرموٹی سی بات یہ ہے کہ اگرشیعہ حضرات مذکورہ صحابی رسول کی عداوت میں ان کی تاریخ وصال پرنیازکرکے خوشی کااظہارکرتے ہیںتویہ اظہارمسرت ان کے یوم وصال اورسنہ وصال یعنی ۶۰ہجری سے ہی کیوں نہ شروع ہوا،اس کی ابتداپورے ساٹھ سال کے بعد۱۲۰ھ سے کیوں ہورہی ہے ۔ان ساٹھ سال کےدورانیے میں خاموشی کیوں چھائی رہی ؟

یہ بات درست ہےکہ کسی بھی مستند روایات سے کونڈے کی نیاز کی واقعیت ثابت نہیں البتہ اتنا ضرور ملتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق کے کسی عقیدت مند نے حضرت گزارش کی کہ اللہ عزوجل سے میرے لیے دعافرمادیجیے کہ میرا فلاں کام ہو جائے ۔اولیا اللہ کی دعائیں یقینا مقبول بارگاہ الٰہی ہوتی ہیں ۔چناں چہ جب اس عقیدت مند کا مدعا پورا ہو گیاتو اس نے جوش عقیدت میں نیاز کا اہتمام کیااوراسے کونڈے میں رکھ کر لوگوں کو کھلایا۔لوگوں کو جیسے جیسے معلوم ہوتا گیا،وہ بھی حضرت امام جعفر صادق کی بارگاہ سے استدعاکرنے لگے اور ان کا مدعا پورا ہوتاگیاتو وہ بھی کونڈے کی فاتحہ کا اہتمام کرنے لگے اور پھررفتہ رفتہ بعد وصال کی یہ سلسلہ جاری رہا اور اب تک جاری ہے ۔جس دن حضرت کے عقیدت مند نے کونڈے کی نیاز کا اہتمام کیا تھا وہ ۲۲رجب المرجب تھی اور اسی طرح رجب المرجب کی ۲۲تاریخ ایک معمول کے طورپر یادگارہوگئی۔ اب بتائیے کہ حضرت امیر معاویہ کے وصال سے اس کی کیامناسبت ہے؟

کہا یہ بھی جاتا ہے کہ کونڈے کی رسم کوئی صدی ڈیڑھ صدی قبل یعنی قریب ۱۹۰۶ءمیںلکھنواور رام پور یو پی میںشروع ہوئی۔ اس دعویٰ کی کوئی تاریخی حقیقت نہیںملتی ۔ اس فاتحہ پرایک بہت بڑااعتراض دراصل علاقائی رسوم ورواج سے ہم آمیزہونے کی وجہ سے بھی ہوتاہے ۔ہمارے عوام نے اپنی جہالت اورناواقفیت کی بناپرکچھ ایسے تصورات وضع کررکھے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں اورجوصرف جہالت پرمبنی ہیںمثلاً یہ تصور کر لیا گیا کہ کونڈے کی نیازصرف کونڈے میں ہی رکھ کردی جاسکتی ہے ۔کونڈے دراصل مٹی کے برتن کوکہتے ہیں۔ایک تصوریہ ہے کہ کونڈے کی نیاز کو باہر نہیں لے جایا جاسکتا،اسے کسی اور برتن میں رہ کرنہیں کھایا جاسکتا یا جہاں کونڈے کی نیاز ہووہاںکھانا وغیرہ نہیں کھایا جاسکتا۔وغیرہ۔ اس طرح کے دیگر تصورات اوراعمال یقیناً بدعت ہیں۔زیادہ سے زیادہ ایسا کرنے والے کوآپ’’ بدعتی‘‘ کہہ سکتے ہیںمگر اصل نیار کا اہتمام کرنے والے کیوںکر بدعتی ہو سکتے ہیں۔؟اگرانہی تصورات اورجہل پرمبنی اعمال کوبنیادبناکراصل چیزوں کاانکارکیاجانے لگےتب توہمیں بہت ساری چیزوں سے ہاتھ دھوناپڑے گا۔مثال کے طورپرشادی کولے لیں۔شادی میں ہمارے یہاں کیاکیانہیں ہوتا۔شادی میں اصل چیزتونکاح ہے مگراس نکاح کے نام پرہم نے نہ جانے کتنی بے اصل اورغیرشرع چیزیں اختراع کررکھی ہیںجوبلاشبہہ جہل ،بے ہودہ رسوم اورغیرشرع امورہیںتوکیامحض ان چیزوں کوبنیادبناکراصل حکم یااصل روایت نکاح سے ہی انکارکردیاجائے؟

واقعہ یہ ہے کہ زمانے کی رفتاراوردین سے دوری کی بناپربہت سی چیزیں ہم نے اپنے اپنے طورپرایجادکررکھی ہیں۔ایسی صورت میں ہمارارول یہ ہوناچاہیے کہ ہم بس دین کاایک اصول ہمیشہ یادرکھیں۔ہمارے عوام کوبھی دین کایہ اصول ہمیشہ ازبر ہونا چاہیے کہ ’’جوچیز اللہ نے حلال کی ہے وہ حلال ہے، جسے حرام کہا ہے وہ حرام ہےاورجس کے بارے میں خاموشی اختیار کی وہ مباح ہے ۔‘‘یعنی اگروہ اچھی نیت سے کیاجائے اوراس میںکوئی غیرشرعی ملاوٹ نہ ہوتووہ بلاشبہہ کارخیرہے اورنیکیوں کاسبب بھی ہے۔اب سوچیےکہ ۲۲ رجب المرجب کوکی جانے والی کونڈے کی نیازمیں الگ الگ مقامات پرجوچیزیںپکائی جاتی ہیںمثلاً ٹکیا،پوری، کھیر ،حلوہ۔ وغیرہ۔ان میں استعمال ہونے والی چیزیں میدہ ،شکر،سوجی،دودھ وغیرہ کیا غیر شرعی ہیں ؟اس میں پڑھی جانے والی سورہ فاتحہ، چاروں قل اوردرود شریف کیاقرآن وحدیث سے باہرکی کوئی چیزہیں؟ اپنے کسی عزیزکےانتقال پرہرکوئی قرآن خوانی کا اہتمام کرتاہے، درود شریف پڑھتایاپڑھواتاہے، انتقال کرنے والوں کو ایصال ثواب کرتاہے۔بالکل اسی طرح کونڈے یا اس جیسی دیگر نیازوںمیں بھی قرآن خوانی ہوتی ہے اور صاحب نسبت بزرگ کی روح مبارک کو نذر کیا جاتا ہے۔ اس میں حرام اور بدعت کون سی چیزہے ؟اصل میں سمجھ سمجھ کی بات ہے ا ورکچھ نہیں۔

اب رہایہ سوال حضرت امام جعفرصادق علیہ الرحمہ کایوم وصال تو ۱۵رجب ہے مگرنیاز ۲۲رجب ہی کو کیوں؟یقیناًنیازیں اورایصال ثواب کسی بھی تاریخ کواورکسی بھی وقت کی جاسکتی ہیں،وقت کی تحدیدکوئی ضروری امرنہیں۔جولوگ صرف اسی پرزوردیتے ہیں وہ بلاشبہہ غلطی کرتے ہیںمگرایک بات یہ بھی سمجھیے کہ تاریخیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں ۔ ہم زیادہ دورکیوں جائیں ،زیادہ غوروفکرکیوں کریں،ہمیں اپنے معاشرے ،اپنے ماحول اورخوداپنی زندگی میںہی جھانک کراس سوال کاجواب دریافت کرناچاہیے ۔ہم آپ سب تاریخی دن اورتاریخی لمحوں کویادرکھتے ہیں۔اپنے اوراپنے بچوںکابرتھ ڈے یادرکھتے ہیںاوراب توبرتھ ڈے پرکیک کاٹناایسامعمول بن چکاہے کہ علماوداعیوں کے روکنے سے نہیں رک رہا،شادی کی سالگرہ مناتے ہیں،ہمارے معاشرے کی کسی بڑی شخصیت کاجس دن انتقال ہوتاہے تووہ دن یادرکھتے ہیںاوراپنے آنے والوںکوتلقین بھی کرتے ہیں کہ مذکورہ بزرگ کویادرکھاجائے اوران کی تعلیمات کواپنی زندگی میں اتاراجائے چنانچہ اسی لیے آپ ہرسال یوم وصال پرسیمیناروغیرہ بھی کرتے ہیںاورانہیں یادکرتے ہیںلہٰـذااگرکچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کونڈوں کی نیاز۲۲؍رجب کونہ کرکے۱۵؍رجب کودی جائےجوحضرت امام جعفرصادق(ولادت:۸۲ھ۔وصال:۱۴۹ھ) کی تاریخ وصال ہے تاکہ اس سے شیعہ حضرات کی مماثلت نہ ہوسکے۔تویہ کہنابھی غلط ہےکیوں کہ یادگارتاریخوں کی بھی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے ،اس سے انکارکسی بھی طرح ممکن نہیں۔

اخیرمیں ایک بات یہ بھی سمجھ لینی چاہیے کہ کونڈوں کی نیازکے لیے ضروری نہیں کہ کونڈے (مٹی کے برتن)ہی ہوں،یاٹکیا،کھیر،پوری ہی ہو،اصل چیزایصال ثواب اورفاتحہ ہے اوریہی نیازکی روح اورجوہرہے۔فاتحہ آپ کسی بھی چیزپردے سکتے ہیں اورایصال ثواب کرسکتے ہیں اوراگراس کی بھی استطاعت یاموقع نہیں توقرآن کریم کی آیات اورکلمات درودپاک پڑھ کرایصال ثواب کرسکتے ہیں۔

sadiqraza92@gmail.com

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/sadique-raza-misbahi-new-age-islam/the-reality-of-kunda-fatiha-fatiha-in-pottery-bowl-کونڈوں-کی-نیازکی-حقیقت/d/124428


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..