New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 07:28 PM

Urdu Section ( 2 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Jesus and Mohammed حضرت عیسی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم

 سعدیہ دہلوی

03 اکتوبر، 2012

نبی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے آپ کو ایک نئے مذہب کے بانی کے طور پر کبھی نہیں دیکھا، بلکہ  حضرت ابراہیم کے خاندان سے نبیوں کے سلسلہ کی آخری کڑی کے طور پر دیکھا ۔ آسمان کی طرف  پرواز کی داستان میں، جسے معراج کے طور پر جانا جاتا ہے، ان کی ملاقات  موسی، عیسی اور دیگر ان انبیاء سے ہوئی جو اسلام، یہودیت اور عیسائیت میں مشترک ہیں ۔

آسمان کی مختلف طبقات میں، انہوں نے انسانیت کے لیے اپنی فکر مندی کا ایک دوسرے سے اظہار کیا ۔ ان کی محبت، امن اور ہمدردی کی تعلیمات کے باوجود، مذہبی متعصبین بدقسمتی سے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)، حضرت عیسی علیہ السلام اور موسی کے پیروکاروں کے درمیان دشمنی پیدا کرتے ہیں۔

موسی، عیسی اور ان کی ماں مریم کی کہانی کا  تفصیل کے ساتھ  ذکر ہے، اور تمام مسلمانوں کے ذریعہ ان عظیم شخصیات کا بہت احترام کیا جاتا  ہے۔ قرآن میں مریم کے نام پر ایک مکمل باب ہے، اور ان کی حیثیت اسلام کے بہت سے نبیوں سے زیادہ بلند و بر تر ہے۔ در اصل، مریم کا ذکر New Testament سے زیادہ قرآن مجید میں ہے۔ اسلام میں، عیسی علیہ السلام نبیوں کے درمیان، بلند مرتبت انبیاء میں سے ہیں، اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تعارف  "میرے بھائی عیسی، مریم کے بیٹے" کے طور پر کرایا ہے ۔

محمد اور عیسی دونوں سماجی انصاف کے عمل میں غیر مصالحت پسند  تھے، اورستم رسیدہ لوگوں  کے لئے آواز بن گئے۔ معاشرے کے پسماندہ اور حاشیہ نشین طبقہ کے لئے آواز بلند کرتے ہوئے ، ان دونوں نے ان عدم مساوات کا سامنا کیا ، جو ان کے زمانوں میں مروج تھا  ۔ پیغمبر  محمد صلی اللہ  علیہ وسلم نے ،ایک آزاد کردہ  سیاہ فام غلام، بلال کو ، سب سے پہلے اذان، (مسلمان کو نماز کے لئے دعوت ) کا  اعزاز بخشا ۔ یہ عمل اس  وقت کے لئے انقلابی تھا، ابتدائی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان پیروکاروں کے لئے ، بہت پریشان کن تھا ، جن کا تعلق  اشراف اور طاقتور عرب قبائل سے تھا ۔

عیسیٰ مسیح کے پاس  غریب اور بیماروں کے لئے بے انتہاء ہمدردی تھی، اور اسی طرح  پیغمبر  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس  بھی غریب اور بیماروں کے لئے بے انتہاء  ہمدردی تھی ۔ یہ اعلان کرتے ہوئے کہ "غربت میرا فخر ہے"، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبوں کے درمیان زندگی گزاری ،  اور انہیں وہ سب کچھ دے دیا جو ان کے پاس تھا۔ ۔ جب ان کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہوتا ، تو وہ  اپنے صحابہ سے، ضرورت مندوں کو عطا  کرنے کے لئے کہتے ۔ وہ دونوں بیواؤں، یتیموں اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے  فکر مند تھے۔ رائج  ثقافتی معیار کے خلاف جاتے ہوئے ، عیسی اور پیغمبر  محمد صلی اللہ علیہ وسلم دونوں خواتین کے ساتھ احترام سے پیش آئے ، اور ان کی عظمت کو بلند کیا ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ  عبادت میں گزارا ، اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی، جن کی پوری زندگی عبادت  اور خدا کی عقیدت کے ارد گرد گردش کرتی ہے ۔ دونوں کا یہ یقین تھا کہ ، خدا کو راضی کرنے کا  سب سے بہتر طریقہ، اعلی اخلاقی اقدار کے قیام، اور انسانیت کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔

کچھ انتہا پسند عناصر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں  کہ اسلام بنیادی طور پر یہودیت اور عیسائیت کے خلاف ہے۔

اس طرح کی اشتعال انگیزیوں پر  مسلسل مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعہ قابو پایا جا نا چاہئے۔ موسی، عیسی اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تعلیمات، روحانی طور پر مردہ روح کی خدا کی معرفت میں احیائے نو  کے نقطہ نظر کے ساتھ، اسی ایک خدا سے متأثر  تھیں  ۔ اگر آج موسی، عیسی اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پیروکار مشکلات میں ہیں، تو بلا شبہ ان کی تعلیمات کی وجہ سے نہیں ۔ موسی علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت ہو ، اور ان کے پیروکار ان سے کچھ سیکھیں ۔

ماخذ:

 http://www.asianage.com/mystic-mantra/jesus-and-mohammed-951

URL for English article

 http://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/sadia-dehlvi/jesus-and-mohammed/d/8887

URL for this article

 http://newageislam.com/urdu-section/sadia-dehlvi-سعدیہ-دہلوی/jesus-and-mohammed-حضرت-عیسی-علیہ-السلام-اور-محمد-صلی-اللہ-علیہ-وسلم/d/11397

 

Loading..

Loading..