New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 06:40 AM

Urdu Section ( 10 Feb 2013, NewAgeIslam.Com)

Niyaz Fatehpuri’s Struggle against Islamic Fundamentalists اسلامی بنیاد پرستوں کے خلاف نیاز فتحپوری کی جدو جہد

 

صبیح محسن ، ساؤتھ ایشا ،  کا تبصرہ (January 2011)

کتاب کا نام  :  The War within Islam: Niaz Fatehpuri’s struggle against Islamic fundamentalism

مصنفہ : جوہی شاہین

ناشر : ۔(  Ferozsons (Pvt.) Ltd, Pakistan (2009

صفحات : 206

 ISBN:  021786 0 969 978

(انگریزی سے ترجمہ  ۔  مصباح الہدیٰ  ،  نیو ایج اسلام )

  دیگر مذاہب کی طرح اسلام میں بھی ، مذہبی علماء نے مختلف طریقوں سے  اپنے   مذہبی عقائدکی تعبیرو تشریح پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔  جس کے نتیجے میں مختلف مسالک اور فرقے بھی  وجود میں آ ئے ۔ کچھ دیگر مذہبی علماء کرام کی تشریحات بھی  کچھ دنوں  مقبول رہیں لیکن کوئی مستقل اثرات مرتب کئے بغیر  فوراً فراموش کر دی گئیں  ۔ نیاز فتحپوری اسی  مؤخرالذکر طبقے سے تعلق رکھنے والے مذہبی  عالم تھے۔

نیاز فتحپوری (1884-1966) نے  درس نظامی کے تحت اسلامی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے انگریزی زبان و ادب سے بھی واقفیت حاصل کی تھی ۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں زندگی گزاری ، جس میں  سر سید احمد خان کی مغربی تعلیم کے حصول کے لئے مہم کے اثرات کی وجہ سے روایتی اسلام کے بارے میں مختلف  سوالات  اٹھائے  جا رہے تھے اور اسلام کے روایتی علماء کرام کو اس بارے میں  سخت تنقید کا سامنا تھا ۔

نیاز فتحپوری نے  بھی اسلام کی  روایتی تشریح کو مسترد کر دیا ۔ وہ  اسلامی افکار  کی عقلی تشریح کی طرف مائل تھے ۔ ایسا کرتے وقت وہ بیشتر اوقات  جنوبی ایشیا کے اکثر  مسلمانوں کے روایتی خیالات سےبہت زیادہ منحرف ہو جاتے تھے ۔ اپنے  افکار  کی جو انتہائی  متنازعہ، ثابت ہوئے  اشاعت  کے لئے  انکے پاس صرف ایک ہی  ہتھیار تھا ان کا رسالہ ماہناہ ‘نگار’ ۔

اپنے افکار تازہ کے لئے نیاز فتحپوری کو حاصل ہونے والی داد و تحسین  تیس اور چالیس کی دہایئوں  کی مختصر مدت میں اپنے عروج پر تھی۔ اس کے بعد وہ  آزادی ہند  کی جدوجہد کی سراسیمگی میں گم ہوگئی۔ یہ جدوجہد جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لئے اور بھی زیادہ دشوار تھی کیونکہ   وہ اپنے  حقوق کے تحفظ  کے لئے برصغیر کی تقسیم کا مطالبہ کرنے پر مجبور تھے ۔ نتیجتاً، انہیں اکثریتی  طبقے ، ہندوؤں میں موجود مذہبی  جنونیوں کے ہاتھوں  بڑے پیمانے پر قتل اور لوٹ مار کا سامنا  کرنا پڑا۔

نیاز   نے نہ تو اپنے خیالات کی اشاعت کے لئے کارکنوں کی کوئی  ٹیم تیار کرنے کی طرف توجہ دی   اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنے افکا ر ونظریات  کو تقویت پنہچانے کے لئے کوئی ادارہ قائم کیا  ، جیسا کہ ان سے پہلے سر سید احمد خان نے  کیا تھا ۔ ظاہر ہے  ، جنوبی ایشیا  کے مسلمانوں میں  اپنے افکار و نظریات کی اشاعت  کی ان کی  کوشش  ناکام ہوگئی  کیونکہ مسلمان پہلے  سے ہی ملک کی سیاسی صورت حال کی وجہ سے ایک  ہنگامہ خیز دور  سے گزر رہے تھے۔

زیر تبصرہ  کتاب، War Within Islam( اسلام کی اندرونی جنگ) نیاز فتحپوری  کی فکری اساس  کو پیش کرنے  اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے  ، خصوصاً موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں جس میں اسلامی تہذیب  کا دوسری بڑی تہذیبوں کے ساتھ تصادم دیکھا جا رہا ہے  ۔ مصنفہ، جوہی شاہین نے  کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی   اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے ۔فی الحال وہ  ایک امریکی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں ۔ یہ کتاب میک گل یونیورسٹی میں پیش کئے گئے  ان کے  MA کے مقالے کا  نظر ثانی شدہ  متن ہے۔

مصنفہ کے مطابق، نیاز  اپنے زمانے میں دستیاب علوم کی رشنی میں اسلام کی تعبیر جدید میں یقین رکھتے تھے۔ وہ  اسلامی اصولوں کی عقلی  تعبیر  کی  وکالت  اور اس پر عمل  کرتے تھے ۔ لہذا ان کی  تنقید کا اصل  ہدف  علماء تھے جن کے بارے میں نیاز کا ماننا تھا کہ  'مسلمانوں کی مذہبی فکر   میں جمود کے لئے وہی  ذمہ دار ہیں ، اور  اسی فکری جمود نے  انہیں سماجی اور اقتصادی پریشانیوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔

'منطقی فکر' سے نیاز کی مراد کیا تھی اس کی مثال دیتے ہوئے مصنفہ پیغمبر اسلام  صلی اللہ و علیہ وسلم کے مقام سے متعلق  نیاز کے نظریئے کا حوالہ دیتی ہیں ۔  عام طور پر مسلمان خدا کو سب سے پہلے اہمیت دیتے  ہیں ، اور اس کے  بعد قرآن اور محمد  (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس ترتیب سے  ۔ تاہم، نیاز نے محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو  سب سے پہلا مقام  دیا ہے پھر  خدا اور اسکے   بعد قرآن کو ۔ اس پر  ان کا استدلال یہ  ہے کہ قرآن ہمیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ذریعہ ملا  اور ہم ان دونوں کےوسیلے سے  ہی  خدا کو جانتے ہیں۔ اس طرح کے  تصور کا ایک فطری ما حصل یہ سوال تھا کہ  کیا قرآن وحیِ الہی تھا یا یہ (نعوذ باللہ) نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے خود کا کارنامہ تھا ؟

یہاں مصنفہ اقرار کرتی ہیں   کہ "یہ ایک مثال ہے کہ وہ (نیاز) اپنے منظق کو غالباً حد سے زیادہ آگے لے  گئے۔۔۔" اور یہ بھی کہ اس طرح کے نظریات  "واضح طور پر عام مسلمانوں  کے لئے قابل قبول  نہیں ہونگے  ۔" لیکن ان کے کچھ  ایسے نظریات بھی ہیں جو نہ صرف بیشتر   عام مسلمانوں  میں مقبول ہیں بلکہ جن سے  کچھ  ممتاز علماء  بھی اتفاق رکھتے ہیں۔

نیاز فتح پوری کا یہ  یقین تھا  کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے منسوب بہت  ساری احادیث یا  اقوال جو ہم تک  پہنچے ہیں وہ خودساختہ  ہیں۔ اسی طرح کے خیالات نہ صرف سر سید احمد خان کے تھے  بلکہ سید سلیمان ندوی سمیت چند مذہبی  علماء کرام کے بھی تھے ۔ نیاز نے  اخلاق یا سماجی روئیے   کو بہت اہمیت دی ہےاور یہی مؤقف  شبلی نعمانی اور سر سید احمد خان کا ہے  ۔

لیکن بہت سے معاملات  میں وسیع نظری کے حامل ہونے کے باوجود ، نیاز  معاشرے میں خواتین کے کردار کے بارے میں روایت پسند نظریات کے بہت   قریب تھے ۔ اگرچہ وہ  عورتوںکے ذریعہ مذہبی علوم کے ساتھ ساتھ دوسرے علوم  کے حصول کے  بھی حامی تھے مگرانتہائی گھریلو  مجبوری کی حالت کے  استثناء  کے ساتھ وہ  ملازمتوں میں ان کی حصے داری کی حمایت نہیں کرتے تھے ۔ مصنفہ نے یہ کہہ کر ان کا دفاع کیا ہے کہ ان کا یہ نظریہ مرد اور عورت کے درمیان قدرتی فرق پر مبنی تھا جس کی رو سے  عورتوں کو امور خانہ داری کی ذمے داری عطا کی گئی ہے ۔

موجودہ عالمی صورتحال  میں نیاز  کے  افکار میں جو بات معنویت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ  ان کی رائے میں تمام انسان  خدا کی نظر میں برابر ہیں  چاہے وہ کسی بھی  مذہب کے پیرو کا ر ہوں ۔" ان کا یقین  ہے کہ خدا نے ان افراد پر اپنے انعام و اکرا م کا وعدہ کیا ہے  جو  تین شرائط کو پورا کرتے ہیں: 1۔ خدا پر ایمان 2۔  قیامت کے دن  پریقین 3۔  نیک اخلاق ۔ لہٰذا انہوں نے   یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ لوگ بھی جو خود کو مسلمان نہیں کہتے  خدا کے اس انعام   کے حقدار ہو سکتے  ہیں ۔ اس قسم  کے عقائد، کو  اگر عالمی معاشرے کے چھوٹےلیکن زیادہ فعال انتہا پسند طبقے کے لئے قابل قبول بنا دیا جائے، تو وہ  بلاشبہ  موجودہ عالمی  انتہا پسندی کے لئے  تریاق  کا  کام کر سکتا ہے۔

یہ  کتاب چار ضمیمےپر مشتمل ہے جن میں ان موضوعات کو درج کیا گیا ہے جن پر نیاز نے نگار کے مختلف اشاعتی مراحل  کے دوران  بحث کی ہے۔ ضمیمہ  A میں ان موضوعات کو درج کیا گیا ہے جن پر  1926 -1935 کے دوران بحث کی گئی ہے ۔ ضمیمے B، C اور D میں بالترتیب  1946- 1936 ،   62 – 1947کےآزاد ہندوستان  کے ادوارمٰیں اور 1966- 1963کے دوران ان   زیر بحث موضوعات کا احطہ کرتے ہیں جب وہ  پاکستان میں قیام پذیر  تھے ۔ ان ضمیموں  کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے  1946 - 1926 کے دوران مذہب کے بارے میں اپنے  متنازعہ  نظریات  کی پیش کش اور  وکالت کی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آزادی کے حصول کے بعد ان کی توجہ سماجی - سیاسی مسائل اور تاریخ پر مرکوز ہو گئی تھی ، جبکہ مذہب کے متعلق انکے جدید نظریات  پس پشت چلے گئے تھے ۔

کتاب   The War Within Islam آن لائن بک اسٹور Alibris, Amazon, AbeBooks, Biblio.com, Powells  اور  ناشر  Ferozsons  http://www.ferozsons.com.pk/book.php?field=p_id&val=43018 سے بھی خریدی جا سکتی  ہے  ۔

مصدر:    http://www.saglobalaffairs.com/book-reviews/783-a-struggle-against-fundamentalists.html

 URL for English article:

http://www.newageislam.com/the-war-within-islam/niyaz-fatehpuri’s-struggle-against-islamic-fundamentalists/d/4169

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/niyaz-fatehpuri’s-struggle-against-islamic-fundamentalists---اسلامی-بنیاد-پرستوں-کے-خلاف-نیاز-فتحپوری-کی-جدو-جہد/d/10365

 

Loading..

Loading..