New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 10:26 PM

Urdu Section ( 17 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Urdu literature and Facebook اردو ادب اور فیس بک

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

18 جنوری،2022

فیس بک موجودہ زمانے میں عوامی رابطے کا مقبول ترین پلیٹ فارم ہے۔ ہندوستان میں کروڑوں لوگ فیس بک کا استعمال سماجی رابطے کے لئے کرتے ہیں ۔ فیس بک کی مدد سے سماج اور دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں اور رونما ہونے والے سانحات اور واقعات سے فوری طور پر آگاہی ہوجاتی ہے۔ عوام کو مفید معلومات بہم پہنچانے کا بھی ایک موثر وسیلہ بن گیا ہے ۔ پوری دنیا میں فیس بک ایک ادنی طالب عالم سے لیکر نمایاں شخصیات کے لئے ایک کارگر اور موثر فورم بن گیا ہے ۔ اس لئے موجودہ زمانے میں فیس بک کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

حالیہ کچھ برسوں میں فیس بک اردو کے ادبی حلقوں میں بھی کافی مقبول ہوگیاہے۔ اور اس کی ہمیت کو دیکھتے ہوئے اردو کے مقبول ادبی ماہنامے آج کل نے اس پرایک اداریہ بھی قلم بند کیا تھا۔ اردو کے شاعروں اور ادیبوں کا یہ پسندیدہ فورم بن گیا ہے کیونکہ اس کی مدد سے ادبی حلقے سے وہ جڑے رہتے ہیں ۔ اردو دنیا میں رونما ہونے والے واقعات و سانحات اور اہم ادبی خبروں سے آگاہی کا یہ ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے ۔ اردو کے شعرا و ادبا کے لئے یہ خود کو پروموٹ کرنے کا بھی ذریعہ بن گیا ہے جس کی مدد سے وہ بغیر روپئے خرچ کئے اپنی ادبی سرگرمیوں کو اردو دنیا کے سامنے لاسکتے ہیہں ۔ اپنی کتابوں کی پبلیسٹی کرسکتے ہیں رسائل کو زیادہ سے زیادہ پبلیسٹی دے سکتے ہیں ۔

اب ادبی خببروں کے لئے ہر روز کے اخبار پر انحصار بہت کم ہوگیاہے کیونکہ ہر خبر فوری طور پر فیس بک پرآجاتی ہے۔ نئی کتابوں کی اشاعت، رسائل کے نئے شماروں کی آمد اور ادبی سیمنیاروں اور تقرییات کی خبریں آسانی سے فیس بک کے ذریعے سےے مل  جاتی ہٰیں۔ لہذا، فیس بک نے اردو داں حلقے کو جوڑنے میں اور ان کے درمیان رابطٰۃ آسان بنانے مین کافی اہم رول ادا کیاہے ۔

فیس بک کا ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے سوشل میڈیا میں اردو رسم الخط کو فروغ دیاہے۔ اردو فونٹ کی دستیابی کی وجہ سے اب اردو داں طبقہ رومن رسم الخط استعمال کرنے کے بجائے اردو رسم الخط کو ہی استعمال کرتا ہے اور پوری دنیا مین اردو داں طبقے کو ایک دھاگے میں پرونے کا کام کرتاہے۔ اس لئے سوشل میڈیا نے اردو کے رسم  الخظ کو پوری دنیا میں فروغ دینے مین اہم کردار ادا کیاہے۔

اس سب کےباوجود فیس بک سے اردو کے ادب پر کچھ منفی اثرات بھی پڑے ہیں۔ فیس بک نے اردو داں طبقے مینی عجلت پسندی کو فروغ دیاہے۔ اس عجلت پسندی نے اردو شعرو ادب کے معیار پر منفی اثر ڈالا ہے۔ شعرا اپنی غزلیں یا نظمیں فیس بک پر اس لئے پوسٹ کرتے ہیں کہ انہیں فورا ان پر رد عمل مل جاتاہے جو زیادہ تر واہ واہ کی شکل میں ہی ہوتا ہے ۔ کوئی سنجیدہ بحث و مباحثہ نہیں ہوتا۔ در حقیقت اردو کے شعرا حضرات اپنی شعری تخلیقات پر سنجیدہ رد عمل یا بحث مباحثہ چاہتے ہی نہیں بللکہ ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کی شعری تخلیقات پر زیادہ سے زیادہ واہ واہ مل جائے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی تخلیقات کے شعری محاسن اور معائب پر گفتگو نہیں ہوپاتی ہے اور اس کے ادبی قدر کا صحیح تعین نہین ہوپاتا۔

اس عجلت پسندی کی وجہ سے شعرا اپنی تخلیقات ادبی رسائل یو بھیجنے میں دلچسپی نہیں دکھاتے کیونکہ اب وہ پہلے کی طرح اپنی تخلیقات کی اشاعت کے لئے چارچھ ماہ تک انتظار نہیں کرسکتے ۔ رسائل کی تعداد اشاعت محدود ہوتی ہے اس لئے ان میں شائع ہونے پر ایک شاعر کو اعتبار و استناد تو حاصل ہوتا ہے مگر انہیں زیادہ قاری نہییں ملتے۔ جبکہ فیس بک پر پوسٹ ہونے والی تخلیققات پر فوری طور رد عمل تو ملتاہی ہے چاہے وہ صرف واہ واہ کی شکل میں ہو ساتھ ہی ساتھ رسائل کے مقابلے میں زیادہ قاری مل جاتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ اردو کے بہت سے شاعر بلا ناغہ اپنی غزلیں فیس بک پر پوسٹ کرکے اردو حلقوں میں مقبول چہرے بن گے ہیں

لیکن کیا یہ مقبولیت اعتبار و اتناد کے متراد ف ہے۔ شاید نییں ۔ کوئی شاعر فیس بک پر بہت مقبول ہے اس کا مطلب یہ نہین کہ اس کا ادبی درجہ بھی اعلی ہوگیاہے۔ ادبی درجہ یا رتبہ شاعر یا ادیب کی تخلیقات کے معیار پر منحصر ہوتاہے ۔ یعنی مقدار سے معیار متعین نہین ہوتا۔ فیس بک مقبولیت کا ایک طلسم تیار کردیتاہے جس کے فریب میں بہت سے شاعر گرفتار ہوجاتے ہیں۔ اسی طلسم میں گرفتار ہوکر بہت سے باصلاحیت شاعر اور افسانہ نگار رسائل سے لاتعلق ہوگئے اور ادب کے مین اسٹریم سے دور جاپڑے اور انہیں فیس بک کے نقصان کا اندازہ جب ہو ا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ اس مقبولیت کے فریب کی وجہ ہوری دنیا کے دور دراز کے ممالک سے قارئین کا فوری رد عمل تھا۔ اردو کا شاعر افسانہ نگار یا ادیب اس خوش فہمی میں مبتلا ہوگیا کہ چونکہ ان کی تخلیقات پر جرمنی، فن لینڈ، کناڈا، سعودی عرب، دبئی اور چین سے قارئین کمنٹ کرتے ہیں لہذا وہ اب انٹرنیشنل ادیب یا شاعر بن گئے ہیں اس لئے انہیں اب ملک کے معیاری رسائل میں چھپنے کی ضرورت اور اس کے لئے چھ ماہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ جبکہ سوشل میڈیا پر دنیا سمٹ جاتی ہے اور پوری دنیا کے لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے سے جڑ جاتے ہیں ۔ اس لئے یہ سمجھ لینا کہ اب وہ بین الاقوامی سطح پر پہچانے جانے لگے ہیں محض سوشل میڈیا کا ایک طلسم ہے۔ کسی شاعر یا ادیب کا بین الاقوامی سطح پر مقبول ہونا اس کے ادب کا بین الاقوامی معیار کا ہونے پر محمول کرتاہے ۔

اس عجلت پسندی کی وجہ سے معیاری اردو رسائل کے پاس قاریئن کی بھی کمی ہوگئی ہے اور معیاری تخلیقات کی بھی۔ چند مقبول اردو رسائل کو چھوڑ کر کم معروف رسائل کے پاس تخلیقات کی کمی رہتی ہے۔اس کا اثر اردو ادب کی مجموعی صور ت حال پر پڑا ہے۔

فیس بک پر بے شمار ادبی فورم، شاعری فورم ، افسانہ فورم، افسانچہ فورم وجود میں آگئے ہیں جہاں شاعر و افسانہ نگار اپنی تخلیقات پوسٹ کرتے ہیں اور ان پر قارئین اپنا ردعمل دیتے ہیٰں مگر ان فورمس کا کوئی ادبی معیار ابھی متعین نہیں ہواہے۔ ان فورمس پر ہر معیار کے لوگ اپنی تخلیقات پوسٹ کرتے ہیں ۔ لہذا، یہاں بھی معیاری رسائل کی طرح ادب کا کوئی معیار نہیں ہوتا اور یہ معیار ی ادب کی پیش کشن میں کوئی قابل ذکر رول نہیں ادا کر پاتے ۔ان فورم کا استعمال سہولت پسند شہیرت پسند اور عجلت پنسد شعرا وادبا فوری شہرت اور فوری اشاعت کے لئے کرتے ہیں ۔

مجموعی طور پر فیس بک کو اردو کے شعرا و ادبا صرف سستی شہرت اور فوری اشاعت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کوئی سنجیدہ ادبی تحریک فیس بک پر ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہے جو اسے معیاری ادبی رسائل کا متبادل بنا سکے۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/urdu-literature-facebook/d/126181

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..