New Age Islam
Fri May 20 2022, 09:48 AM

Urdu Section ( 27 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Urdu and Persian Literary Classics contributed to the Secular Culture of in Bengal کلاسیکی اردو اور فارسی ادب نے بنگال کے سیکولر کلچر پر اثر ڈالا

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

28 جنوری 2022

بنگال میں بردوان کے زمیندار گھرانے نے بردوان اور اس کے آس پاس سینکڑوں مربع کلومیٹر کے خطے پر ساڑھے تین سو برسوں تک زمینداری کی۔ انہیں بردوان کا راج گھرانہ کہا جاتاہے۔ ان کے راجا ؤں نے سماجی ، فلاحی اور علمی کاموں سے یہاں کے عوام کا دل جیت لیا۔ آزادی کے بعد جب ہندوستان میں زمینداری کے چلن کو ختم کردیا گیاتو بردوان کے راج گھرانے کی زمینداری بھی ختم ہوگئی۔ مگر اپنے علمی اور سماجی کاموں کی وجہ سے آج بھی یہ لوگ عزت سے یاد کئے جاتے ہیں۔

بردوان راج گھرانے کے بانی سنگم رائے لاہور کے کوٹلی محلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ سولہویں صدی کے اواخر میں تیرتھ یاترا کے لئے پوری گئے مگر وہاں سے واپس پنجاب نہ جاکر بنگال کے بردوان چلے آئے۔ اس زمانے میں پنجاب میں سیاسی اتھل پتھل تھی اس لئے انہوں نے بردوان میٰں ہی سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ بردوان اس زمانے میں مغل سلظبت کے ماتحت تھا اور یہاں خوشحالی اور امن و امان تھا۔ انہوں نے اس جگہ کو اپنی تجارت کے لئے مناسب سمجھا اور بردوان سے آٹھ کلومیٹر دور ایک گاؤں بیلیرا میں اپنے کنبے کے ساتھ سکونت اختیار کی۔ بعد میں انہوں نے اس گاؤں کا نام بدل کر بیکنٹھ پورکر دیا۔

یہاں انہوں اناج کا کاروبار اور سود کا کاروبار شروع کیا۔ اور ان کا کاروبار چل نکلا۔ اس زمانے میں شیر افگن بردوان کا جاگیردار تھا۔ اسے شہنشاہ اکبر نے بنگال کا جاگیردار مقرر کیا تھا۔ مگر شہنشاہ جہانگیر کے تخت پر بیٹھنے کے بعد شیر افگن کے شہنشاہ جہانگیر سے اختلافات ہوگئے ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مغل سلطنت سے باغی ہوگیا تھا اور ٹیکس کی رقم ادا نہیں کرتاتھا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ شہنشاہ جہانگیر اس کی بیوی مہرالنسا پر فریفتہ ہوگیاتھا اور اسے کسی بھی طرح حاصل کرنا چاہتاتھا اس لئے اس نے شیر افگرن کے خلاف الزامات لگائے۔ اس نے شیر افگن کی سرکوبی کے لئے اپنے رضاعی بھای قطب الدین کوکا کو ایک فوج دے کر بھییجا۔ بردوان میں دونوں کے درمیان لڑائی ہوئی جس میں دونوں مارے گئے۔ اس کے بعد جہانگیر نے اس کی بیوی مہرالنسا سے شادی کرلی۔ بعد میں مہرالنسا نورجہاں کے نام سے مشہور ہوئی۔

شیر افگن اور قطب الدین کے درمیان لڑائی کے دوران سنگم رائے نے مغل فوج کو اناج اور دیگر سامان سپلای کیا تھا۔ اس کی اس خدمت سے خوش ہوکر جہانگیر نے سنگم رائے کو چار ہزاری کوتوال اور منصب دار کا عہدہ عطا کیا۔اس کے بعد اس خاندان  نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔سنگم رائے کی موت کے بعد اس کا بیٹا بنکو بہاری رایے بردوان کا منصب دار بنا اور اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا ابو رائے بردوان کا جاگیردار مقرر ہوا۔ اس کے زمانے میں بردوان راج گھرانے کے لوگ بیکنٹھ پور چھوڑ کر بردوان منتقل ہوگئے۔

اس کے دور میں شاہ جہاں کی فوج ڈھاکہ جاتے ہوئے بردوان میں ٹھہری تھی۔ ابور ائے نے مغل فوج کو اناج اور دیگر ضروری سامان فراہم کیاتھا۔ اس خدمت سے شاہ جہان خوش ہوا  اور اسے بردوان کے رکابی بازار  اور مغل ٹولی کا کوتوال اور چودھری بنادیا اور اسے ٹیکس وصول کرنے کا اختیار دے دیا۔

اس خاندان کے افراد نے وقت کے گزرنے کے ساتھ اپنی زمینداری کو اپنی فہم و فراست اور حکمت عملی سے وسعت دی اور بنگال کے ایک بڑے خطے پرا نکی زمینداری قائم ہوگئی۔وہ آخر تک مغلوں کے وفادار رہے۔ انگریزوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد بھی انہوں نے مغلوں کی حمایت کی اور انگریزوں کو ٹیکس دینے سے انکار کیا جس کی وجہ سے ان پر انگریزی حکومت کا عتاب بھی نازل ہوا۔بہرحال، بعد میں بحالت مجبوری انہوں نے انگریزوں کی اطاعت قبول کی۔

اس خاندان نے بردوان کے علاقے میں بے شمار فلاحی اور سماجی کام کئے ، ان کے کئی راجہ علم و ادب کے شیدائی تھے۔ وہ بنگلہ کےے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی کا بھی علم رکھتے تھے۔ بردوان کے کئی راجہ خود شاعر اور موسیقار بھی تھے۔ بردوان اس زمانے میں علم و فن کا مرکز تھا۔ خود شیر افگن کی بیوی جو بنگال میں رہتی تھی رقص اورموسیقی کے فن میں مہارت رکھتی تھی اور گیتوں کی دھن بھی بنالیتی تھی۔وہ کلاسیکل موسیقی اور گائیکی کے فن میں ماہر تھی۔

بردوان راج گھرانے کے ایک درباری گلوکار اور موسیقار کاالی داس مکھوپادھیائے تھے۔ وہ راجہ پرتاپ چند کے دور کے تھے۔ وہ اردو اور فارسی کا اچھا علم رکھتے تھے  اس لئے انہیں کالی مرزا کا خطاب راج گھرانے سے ملا تھا۔وہ ویدانت میں یقین رکھتے تھے اس لئے دیوی دیوتاؤں میں ایمان نہیں رکھتے تھے۔

راجہ تیج چند کے دور میں بردوقن راج دربار کے ایک اہم موسیقار استاد عطا حسین تھے۔ انہوں نے کئی مشہور موسیقاروں کو موسیقی کی تعلیم دی تھی۔ بردوان راج کے درباری موسیقار گھوناتھ رائے نے استاد عطا حسین سے ہی موسیقی کی تعلیم لی تھی۔

راجہ مہتاب چند بنگلہ، فارسی اور اردو کا علم رکھتے تھے اور ادبی ذوق بھی رکھتے تھے۔ انہی کے زمانے میں مثنوی مولانا روم کا بنگلہ میں ترجمہ کیاگیا۔کچھ بنگلہ کتابوں کا اردو اور فارسی میں بھی ترجمہ کیاگیا۔ان کے دور میں فارسی داستان قصہ چہار درویش کا بنگلہ ترجمہ برجیندر کمار ودیا رتن اور منشی محمدی نے کیا۔۱۸۶۰ میں فارسی قصہ حاتم طائی کا ترجمہ بھی بنگلہ زبان میں کیاگیا۔یہ ترجمہ منشی محمدی اور غلام ربانی نے کیا۔میرحسن کی مثنوی کا بنگلہ ترجمہ بھی منشی محمدی اور غلام ربانی نے کیا۔ اس کے علاوہ سکندر نامہ کا بنگلہ ترجمہ منشی محمدی اور رام رتن واگش نے ۱۸۸۵ میں کیا۔

 ہندوستان راگ سنگیت نامی فارسی کتاب کا بنگلہ ترجمہ راجہ آفتا ب چند کے دور میں ہوا۔یہ ترجمہ بھی برجیندر کمار ودای رتن اور منشی محمدی نے کیا۔

اس گھرانے نے بردوان میں آباد ہندوؤں مسلمانوں کے لئے مدرسے اور ٹول بھی قائم کئے جہاں مسلم اور ہندو بچے اردو اور ہندی و سنسکرت میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ حالانکہ اس دور مین مسلمان اپنی لڑکیوں کو مکتب میں بھیجنا خلاف شرع سمجھتے تھے اس لئے ان مکتبوں میں زیادہ تر لڑکے ہی تعلیم حاصل کرتے تھے۔اس گھرانے نے پورے بردوان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں قرآن اسکول قائم کئے تھے جہاں مذہبی تعلیم دی جاتی تھی۔ راجہ وجے چند کے دور میں مولوی کا عہدہ  اردو اور فارسی کی تعلیم کے لئے قائم ہوا تھا۔

بردوان راج گھرانے کی ایک بہت بڑی لائبریری تھی جس کے ایک لائبریرین شمس الدین شمس تھے جو خود ایک شاعر تھے۔ حفیظ بردوانی بھی بردوان کے ایک ادیب اور مترجم تھے جنہوں نے بعد میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے لئے ایک فارسی کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا تھا۔

راجہ مہتاب چند کی ذاتی لائبریری میں  انگریزی، سنسکرت، بنگلہ ، فارسی اور اردو کی نادر ونایاب کتابیں اور مخطوطے تھے۔ قرآن مجید کا ایک مخطوطہ بھی اس لائبریری میں موجود تھا۔ زمینداری کے خاتمے کے بعد اس خاندان کے ایک وارث اودے چند نے اس لائبریری کی ساری کتابیں ۱۹۵۹ میں بردوان یونیورسٹی کو عطیہ کردیں۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/urdu-persian-literary-culture-bengal/d/126254

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..