New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 11:23 PM

Urdu Section ( 26 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Universe Is Governed By The Divine Principle Of Gradual Change یہ کائنات بتدریج تبدیلی کے الہی اصول پر چل رہی ہے

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

25 مئی 2021

قرآنی آیتیں یہ بتاتی ہیں کہ خوشحالی یا بربادی انسانوں تک بتدریج پہنچتی ہے

1.      اس کائنات میں کچھ بھی یکلخت نہیں ہوتا

2.      انسان کی مادی زندگی میں کامیابی یا ناکامی اس کے اچھے یا برے اعمال کے مطابق آہستہ آہستہ آتی ہے

3.      انسان منزل بمنزل روحانی سفر میں آگے بڑھتا ہے

-----

ہماری اس کائنات میں خلاق عظیم کی خدائی طاقت رواں دواں ہے۔ اسی خلاق عظیم کے وضع کردہ اصول و قوانین کے تحت کائنات کے سارے معاملات انجام پا رہے ہیں۔ اس کائنات میں ایک غیر منقطع نظم و ضبط موجود ہے۔ سورج، چاند اور سیارے مستقل طور پر حرکت میں ہیں اور اللہ کے اٹل قانون کی پیروی کرتے ہیں۔

اس کائنات کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ پوری کائنات بتدریج تبدیلی کے خدائی اصول کے تحت چلتی ہے۔ ابتدا میں کائنات ایک خام شکل میں تھی اور بتدریج ترقی یا ارتقاء کے نتیجے میں آج اپنی موجودہ شکل حاصل کر چکی ہے۔ صبح آہستہ آہستہ چھٹتی ہے اور رات بھی آہستہ آہستہ چھاتی ہے۔ لہذا اس کائنات میں کچھ بھی یکلخت نہیں ہوتا ہے۔ خدا اپنے معاملات کا ارادہ فرماتا ہے اور بتدریج ترقی یا ارتقا کے اپنے اصول کے مطابق ان پر عمل درآمد کرتا ہے۔

اسی طرح، انسانوں اور دیگر تمام مخلوقات کی زندگیوں کے معاملات بھی بتدریج تبدیلی کے اسی اصول پر عمل پیرا ہیں۔ ایک جاندار مخلوق پیدا ہوتی ہے، بڑھتی ہے، بڑھاپے کی منزل تک پہنچتی ہے اور پھر مر جاتی ہے۔ انسانوں کی زندگی بھی (بہتری یا بدتری کی طرف) آہستہ آہستہ تبدیلی کے اسی اصول پر چلتی ہے۔ انسان کی زندگی کی حالت ان کے اعمال اور کوششوں کے مطابق بتدریج تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اگر انسان کے اعمال اچھے ہوں اور وہ درست منصوبہ بندی کے ساتھ سخت محنت اور جفاکشی کرے تو اس کی مادی زندگی آہستہ آہستہ بہتر ہوتی ہے نہ کہ یکلخت۔ اسی طرح، اگر وہ غلط کاموں میں ملوث ہوتا ہے اور ترقی کرنے کی کوششیں نہیں کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ یہ بتدریج تبدیلی کا خدائی اصول ہے۔

قرآن مجید کے مطابق اچھے افراد کی خوش قسمتی مرحلہ وار انداز میں بہتر ہوتی ہے۔ معاشروں اور سلطنتوں کے معاملے میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے سامنے افراد، یا برادریوں اور سلطنتوں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ خوشحال ہوئے یا تباہ و برباد ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدرت یا خدائی طاقت اچھے افراد کو ان کے اچھے اعمال کا پھل دکھا کر ان کو اپنے نیک کاموں اور صحیح کاوشوں کو جاری رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اسی طرح، خدائی طاقت برے لوگوں پر غلط کاموں کے نقصان یا بد انجام کو ظاہر کرتی ہے اور اس طرح انھیں مزید مذموم حرکتوں سے متنبہ کیا جاتا ہے۔ خدائی طاقت انسان کو خود کی اصلاح کرنے اور برے کاموں سے پرہیز کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس ضمن میں انسان کو جو معمولی نقصان یا تکلیف ہوتی ہے وہ ایک انتباہ کا کام کرتی ہے۔ اسی لئے اچانک اس پر عذاب نہیں اترتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس انتباہ کے باوجود اپنی غلط حرکتوں پر قائم رہتا ہے تو آہستہ آہستہ اپنے انجام یا بربادی تک پہنچ جاتا ہے اور پھر اپنے اس انجام بد کے لئے خدا سے شکایت نہیں کرسکتا ہے۔

خدا نے قرآن کی بعض آیات میں بتدریج تبدیلی کے اسی اصول کی طرف اشارہ کیا۔

"ضرور تم منزل بہ منزل چڑھو گے۔" (الانشقاق:19)

"ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی۔" (القلم: 44)

یہ دونوں آیتیں (بہتری یا بدتری کی طرف) آہستہ آہستہ تبدیلی کے خدائی اصول کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ اصول دینی اور دنیاوی دونوں معنوں میں لاگو ہوتا ہے۔ دینی معنوں میں اس کا معنی یہ ہے کہ متقی یا جو لوگ خدا کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں وہ منزل بہ منزل ترقی اور خوشحالی کا راستہ طے کریں گے اور جو خدا یا نیک لوگوں کے دشمن ہیں وہ بھی منزل بہ منزل رسوائی اور ذلت کی کھائی میں گریں گے۔

دنیاوی معنوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سخت محنت کرتے ہیں اور نظم و ضبط کی زندگی گزارتے ہیں وہ آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہیں اور اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں اور جو فضول یا تباہ کن کاموں میں وقت ضائع کرتے ہیں وہ آہستہ آہستہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔

اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ انسان کو کسی کرشمہ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ اس کی خوشحالی، کامیابی اور عزت و وقار اس کی محنت، حکمت عملی اور ستھرے افکار پر منحصر ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ انسان اس پر بھروسہ کرے لیکن ساتھ ساتھ ہی خدا یہ بھی چاہتا ہے کہ انسان اپنی ان صلاحیتوں پر اعتماد کرے جو اس نے انسان کو عطا کیا ہے۔ دوسری طرف خدا انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ اگر وہ غلط راستہ اختیار کرتا ہے اور اپنے غلط کاموں پر قائم رہتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اپنے انجام یا بربادی تک پہنچ جائے گا۔ ماضی میں بہت ساری برادریاں، سلطنتیں اور افراد اپنے برے کاموں کی وجہ سے آہستہ آہستہ ختم اور تباہ و برباد ہوگئے۔ انہیں یہ محسوس بھی نہیں ہوسکا کہ ان کے معاملات کیسے خراب ہوئے اور وہ کس طرح آہستہ آہستہ اپنی مادی اور معاشرتی حیثیت سے محروم ہوگئے۔

سورہ انشقاق کی آیت کی تفسیر روحانی نقطہ نظر سے بھی کی جاسکتی ہے۔ روحانیت کا ایک متلاشی روحانی رہنما کی نگرانی میں تقویٰ اور سخت روحانی مجاہدات کے ذریعے معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ خدا کی راہ پر سختی کے ساتھ گامزن رہتا ہے اور جسمانی خواہشات اور مادی عزائم سے مسلسل پرہیز کرتا رہتا ہے۔ تب جا کر برسوں کے روحانی مجاہدے کے بعد اسے معرفت حاصل ہوتی ہے۔

لہذا، بتدریج تبدیلی کا خدائی اصول اس زمین پر انسانوں کی مادی اور روحانی زندگی پر حاوی ہے۔

English Article: The Universe Is Governed By The Divine Principle Of Gradual Change

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/divine-principle-supreme-power-gradual-change/d/126246

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..