New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:55 AM

Urdu Section ( 14 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Tradition of Saumiah Qasida Khwani in Ramadhan رمضان میں صومیہ قصیدہ خوانی کی روایت

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

15 اپریل، 2022

رمضان کا مہینہ مسلموں کے لئے مذہبی اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔قرآن اور حدیث میں اس کے بڑے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ چونکہ پورا ماہ رمضان ہی روزوں کے لئے مخصوص ہے اس لئے ایک ماہ کے لئے مسلموں طرز عمل بدل جاتا ہے۔ ان کے دن اور رات کے معمولات بدل جاتے ہیں۔

سحری روزہ داروں کے معمولات کا ایک خاص جز ہے۔ روزہ دار سحر کے وقت اٹھ کر سحری کا اہتمام کرتے ہیں۔پرانے وقتوں میں جب مسجدوں میں لاؤڈاسپیکر نہیں ہوتے تھے اور گاؤں اور قصبوں میں گھڑی بھی زیادہ تر گھروں میں نہیں ہوتی تھی اس دور میں سحری کے لئے اٹھنا ایک مسئلہ ہوتا تھا۔ کبھی کبھی لوگ سحری کے وقت سوئے رہ جاتے تھے اور انہیں بغیر سحری کے ہی روزہ رکھنا پڑتا تھا۔ایسے علاقوں میں سحری کے وقت کسی شخص کو جگانے کی ذمہ داری دے دی جاتی تھی۔ اسے عید کے دن سب مل کر کچھ نذرانہ دے دیدتے تھے۔ کچھ لوگ اپنی مرضی سے بھی یہ کام کرتے تھے اور عید کے دن مسلمانوں سے نذرانہ وصول کرتے تھے۔

اسی ضرورت نے ہندوستان کے مسلم معاشرے میں صومیہ قصیدہ خوانی کی روایت کی بنیاد ڈالی۔اب باقاعدہ مسلم علاقوں میں صومیہ قصیدہ خوانوں کا گروپوں دروازے دروازے جاکر صومیہ قصیدہ پڑھتا اور اس طرح سے سحری کے لئے روزہ داروں کو جگاتا۔ ہر شہر میں ایسے گروپ تیار ہوگئے جو رمضان میں پورے ماہ لوگوں کو قصیدے سناکر سحری کے لئے جگاتا۔اس کے لئے قصیدہ خواں حضرات مقامی شعرا سے فرمائش کر کے قصیدے لکھواتے۔ اس طرح ہر شہر اور قصبے میں ایسے شاعروں کی کھیپ سامنے آئی جو صومیہ قصیدہ گوئی میں مہارت رکھتی تھی۔ اور صومیہ قصیدہ گوئی بھی شاعری کی ایک صنف کی حیثیت سے مقبول ہو گئی۔ صومیہ قصیدہ خوانوں کی ٹیم کو عرف عام میں قافلہ کہا جاتا ہے۔ ساٹھ سے سن 2000 تک کے عرصے میں ہندوستان میں صومیہ قصیدہ خوانی کی روایت کو کافی فروغ ہوا۔ شعرا نے بھی اس فن میں اعلی شاعری کے نمونے پیش کئے۔ بہت سے گلوکار بھی اس دور میں صومیہ قصیدہ خوانی کے شعبے میں بہت مشہور ہوئے۔

جب صومیہ قصیدہ خوانی کا فن ترقی پذیر ہوا تو اس فن کی تنظیم بھی ہوئی۔ رمضان کے مختلف مرحلوں کے مطابق قصیدے لکھے جانے لگے۔ رمضان کے ابتدائی چند دنوں میں آمد صوم کے تحت مضامین پیش کئے جاتے تھے۔ ان قصیدوں میں رمضان کا استقبال اور اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد پندرہویں یا بیسویں رمضان تک ذکر صوم کے تحت روزوں کی فضیلت ,روزہ داروں پر اللہ کی طرف سے روزہ داروں پر انعام و اکرام کی بارش, قرآن اور حدیث کی روشنی میں روزوں کی فضیلت کا بیان , عہد نبوت و خلافت میں رمضان میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر کیا جاتا تھا۔ بیسویں رمضان سے وداع صوم کے تحت رمضان کے رخصت ہونے پر دکھ کا اظہار کیا جاتا تھا۔ اوررمضان کے ایام کی قدر نہ کرپانے کا اعتراف بھی ہوتا تھا اور یہ دعا بھی ہوتی تھی کہ خدا اس ماہ میں ہمارے چھوٹے موٹے اعمال کو قبول کر لے۔

چونکہ رمضان کے اختتام پر عید کا تہوار منایا جاتا ہے اس لئے عید کے دن بھی عید کے نغمے قصیدہ خوانوں کی ٹیم یعنی قافلہ والے محلوں میں گھوم گھوم کر پیش کرتے تھے اور نذرانہ وصول کرتے تھے۔ شعرا کا ایک طبقہ فلمی اور غیر فلمی دھن میں عیدی اور صومیہ قصیدے لکھنے میں مہارت رکھتا تھا۔ اور عیدی لکھنا بھی ایک فن بن گیا تھاجب لاؤڈاسپیکر کا دور آیا تو رمضان اور عید کے قصیدے لاؤڈاسپیکر پر پڑھے جانے لگے۔ ذہنوں میں فرقہ واریت کا زہر نہیں بھرا گیا تھا اس لئے نہ تو ہندو تہواروں پر رات بھر لاؤڈاسپیکر پر بھجن اور گیت بجنے پر مسلمانوں کو اعتراض ہوتا تھا اور نہ ہی قافلہ پر ہندؤوں کو اعتراض ہوتا تھا۔

قافلوں کی روایت مسلمانوں میں ستر اور اسی کی دہائ میں اتنی مقبول ہوئ کہ عید کے بعد قافلہ کمپٹیشن کا دور چلنے لگا۔ ان کمپٹیشنوں میں رمضان اور عید کے قصیدے پیش کئے جاتے اور بہررین کلام کو بہترین انداز میں پیش کرنے والے قافلوں کو انعامات سے نوازا جاتا۔ ہر قافلے کو آمد صوم ,وداع صوم اوع عید پر قصیدہ پیش کرنا ہوتا تھا اور مجموعی کارکردگی کی بنا پر انعام کا فیصلہ ہوتا تھا۔ اس طرح قافلوں کی روایت مسلم کلچر کا ایک اہم حصہ بن گئی تھی۔ ۔

قافلوں کی روایت کو سن 2000 کے بعد سے زوال ہونے لگا۔ اس کے کئی سماجی اسباب ہیں۔ ان میں ایک تو نئی نسل میں ادب اور کلچر سے بیزاریاور دویم لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر قانونی پابندیاں۔ آج موبائل کے دور میں سحری کے لئے قافلوں کی ضرورت بھی نہیں رہ گئ ہے۔ مختصر یہ کہ مسلم کلچر کی ایک شاندار روایت جدید معاشرے کی سماجی اور قابونی پابندیوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/saumiah-qasida-khwani-ramadhan/d/126796

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..