New Age Islam
Thu May 19 2022, 11:27 AM

Urdu Section ( 11 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Role of Islamophobia in the Sri Lankan Crisis سری لنکا کی تباہی میں اسلاموفوبیا کا کردار

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

12 اپریل، 2022

ہندوستان کے جنوب میں واقع قدرتی حسن سے مالا مال سمندروں سے گھرا ہوا خوب صورت ملک سری لنکا ان دنوں شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔ مہنگائ، بے روزگاری، اشیائے ضروری کی قلت اور فاقہ کشی کی وجہ سے سری لنکا کے عوام انتہائ پریشان ہیں۔ وہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور موجودہ حالات کے لئے گوٹابایا راجپکسا کی حکومت کی غلط پالیسیوں , وزرا کی نا اہلی، اقربا پروری اور بد عنوانی کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں اور ان کی بر طرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بہرحال کسی ملک میں معاشی بحران راتوں رات نہیں آجاتا بلکہ برسوں کی غلط پالیسیاں, اور بد عنوانیں اس کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ سری لنکا کا جاری معاشی بحران بھی اچانک سامنے نہیں آیا بلکہ راجپکسا حکومت کی برسوں کی ناعاقبت اندیشی کے ساتھ ساتھ خود سری لنکا کی اکثریتی آبادی کی تنگ ذہنی اور فرقہ پرست ذہنیت بھی اس کے لئے بہت حد تک ذمہ دار ہے۔

واضح الفاظ میں کہا جائے تو سری لنکا میں اسلاموفوبیا یعنی مسلمانوں سے بڑھتی ہوئ نفرت اور اسلام کا نفسیاتی خوف سری لنکا کی اس بد حالی کی بھی ایک نمایاں وجہ ہے۔

تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو 1948 میں برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد سے اکثریتی فرقہ سنہل جو بودھ مت کا پیروکار ہے اقلیتی فرقہ تمل ہندوؤں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا تھا۔ ان کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں ظلم، نا انصافی اور ہراسابی کا معاملہ ہوتا تھا۔ اس کے رد عمل میں پربھاکرن کی قیادت میں 1976 میں تمل آبادی کے حقوق کے لئے ایک متشدد تحریک شروع ہوئی جو 2009 میں پربھاکرن اور اس کے کنبے کے خاتمے پر ختم ہوئی۔ مگر 25 برسوں تک چلنے والے اس پرتشدد تحریک میں سری لنکا کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ لاکھوں افراد تشدد کا شکار ہوئے اور سری لنکا حکومت کے کئی وزرا اور افسران ہلاک ہوئے۔

چونکہ گوٹابایا راجپکسا 2009 میں سری لنکا کے صدر تھے اس لئے تمل ٹائگر سے ملک کو پاک کربے اور تمل بغاوت کو کچلنے کا سہرا راجپکسا کے سر گیا حالانکہ ان کی اس کامیابی میں ہندوستان کی فوجی مداخلت کا بھی نمایاں رول تھا۔ راجپکسا سری لبکا کی سنہل اکثریت کے ہیرو بن گئے اور انہیں لوگ کنگ کہہ کر پکارنے لگے۔

اس کامیابی نے ملک میں نسل پرستانہ اور فرقہ پرستانہ سیاست کا نیا باب کھول دیا اور تمل مزاحمت کی کمر ٹوٹنے کے بعد سنہل نسل پرستی کانیا نشانہ مسلمان بن گئے۔

راجپکسا کو بھی اکثریتی سنہل فرقے کی خوشنودی میں ہی کامیابی کی ضمانت نظر آنے لگی۔ وہ بودھ قوم پرستی کے ایجنڈا کو فروغ دینے لگے۔

اسی سال یعنی 2009 میں ایک مسلم مخالف انتہا پسند بودھ سادھو گالا گوڈا اتھے گیان سارا نے انتہا پسند بودھ تنظیم جاتی کا ہیلا اور ومایا سے الگ ہوکر اپنی الگ تنظیم بودو بل سینا تشکیل دی۔ اس تنظیم نے مسلمانوں کے خلاف ایک منظم میم چھیڑی اور انہیں ملک مخالف، شدت پسند اور اکثریتی سنہل فرقے کا دشمن بنا کر پیش کرنا شروع کیا۔ اس نے مسلمانوں کے مذہبی شعار مذہبی لباس، برقع، حجاب، مدرسوں، ٹوپی اور کرتا پاجامہ کو نشانہ بنانا شروع کیا اور ان سب کو انتہا پسند مسلمانوں کی سماجی علاحدگی پسندی قرار دیا۔ گیان سارا کی اس مہم کی اکثریتی بودھ فرقے کے ساتھ ساتھ راجپکسا حکومت نے بھی سرپرستی اور حمایت کی۔ گالا گوڈا مسلمانوں کا اتنا شدید دشمن تھا کہ وہ مسلمانوں کے تئیں معتدل رویہ اختیار کرنے والے بودھ سادھوؤں اور تنظیموں پر لعن طعن کرتا تھا۔

مسلمان ان سب شرانگیزیوں کے درمیان صبر وتحمل کے ساتھ اپنی زندگی کی گاڑی کو کھینچتے رہے۔ وہ کاروبار میں محنت اور ایمانداری کے ساتھ ترقی کرتے رہے۔ ان کی یہ اقتصادی ترقی بھی گیان سارا اور فرقہ پرست بودھ فرقے کی آنکھ میں چبھنے لگی۔ لہذا ان لوگوں نے اور خصوصا گیان سارا کی تنظیم نے مسلمانوں کے خلاف یہ پروپیگنڈہ شروع کیا کہ مسلمان تاجر خفیہ طریقے سے سنہلوں کو بانجھ بنانے والی چیزیں فروخت کرتے ہیں تاکہ ان کی آبادی گھٹ جائے۔ انہوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ مسلمان اپنی آبادی تہزی سے بڑھا رہے ہیں اور کچھ ہی برسوں میں وہ سنہلوں سے آبادی میں آگے بڑھ جائیں گے اور سری لنکا پر قابض ہو جائیں گے۔ لہذا انہوں نے مسلمانوں کی دکانوں اور تجارتی اداروں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی۔ اتنا ہی نہیں اس نے 2014 اور 2018 میں مسلمانوں کے خلاف فساد بھڑکایا جس میں درجنوں مسلمان مارے گئے اور ان کی املاک کو لوٹا گیا۔

راجپکسا کی حکومت 2015 میں گر گئی تو انہوں نے اقتدار میں آنے کیلئے سنہل قوم پرستی اور اسلامی دہشت گردی کے موضوع کو فروغ دیا۔ 2019 کے الیکشن کے لئے جب انہیں اپنی پارٹی ایس ایس ایل پی کا صدارتی امیدوار بنایا گیا تو انہوں نے کہا کہ میرا پہلا کام اپنے مادر وطن کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے محفوظ بنانا ہے کیونکہ ہمارا وطن ایک بار پھر دہشت گردی کے نرغے میں ہے۔ انہوں نے اس الیکشن سے پہلے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ الیکشن جیتنے کے بعد وہ ایک ملک ایک قانون کے تصور کو نافذ کریں گے۔اس سے ان کا مقصد سری لنکا کو ایک سنہلی بدھ ریاست میں تبدیل کرنا تھا۔ جہاں اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جایےگا۔ لہذا انہیں اکثریتی فرقے کا ووٹ ملا اور وہ بھاری اکثریت سے اقتدار میں آئے۔

چونکہ انہوں نے اکثریتی سنیل فرقے کو مذہب کا افیم پلا کر اور مسلمانوں کا خوف دلاکر وہ ملک کے اقتصادی مسائل سے اکثریتی فرقے کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ 2019 میں سری لنکا میں داعش کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی طرف سے چرچوں اور ہوٹلوں پر حملوں کی وجہ سے بودو، بل سینا اور راجپکسا حکومت کو مسلمانوں کے خلاف ایک اور ہتھیار مل گیا۔ بودھ تنظیموں نے سوشل میڈیا اور میڈیامیں مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی اور پروپیگنڈہ شروع کردیا حالانکہ ملک کی انٹلی جنس کو اس حملے کی پیشگی اطلاع مل چکی تھی اور کئی انٹلی جنس افسران پر ان خفیہ اطلاعات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگا۔ اگر ان اطلاعات پر بروقت کارروائی یوتی تو یہ حملے ٹالے جا سکتے تھے۔ ان دہشت گردانہ حملوں میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ ایک راز ہے کہ حکومت نے پیشگی اطلاع ہونے کے باوجود حملے کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان دہشت گردانہ حملوں کے ملزمین کے خلاف دو سال تک کارروائی شروع نہیں کی گئی ۔اس دوران جب کیتھولک فرقے کے لوگ ملزمین کے خلاف کارروائی کا مطالبے کرتے تو انہیں ہراساں کیا جاتا۔ بہرحال دوبرسوں کے بعد 2021 میں 25 ملزمین کے خلاف کارروائی شروع ہوئی۔

جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ ایسٹر سنڈے کے دہشت گردانہ حملوں کے ذریعہ راجپکسا حکومت اور انتہا پسند بودھ تنظیموں کو مسلمانوں کو حاشئے پر دھکیلنے کا ایک اور بہانہ ہاتھ آگیا تھا۔ راجپکسا حکومت نے دہشت گردی کی روک تھام کے لئے انسداد دہشت گردی ایکٹ نافذ کیا۔ اس ایکٹ کے تحت مسلمانوں کو بلا الزام گرفتار کرکے مہینوں قید میں رکھا جاتا ہے اور انہیں اذیت دی جاتی ہے۔ برقع پر پابندی لگا دی گئی اور ملک کے ایک ہزار مدرسوں کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا بہر حال اقوام متحدہ اور حقوق انسانی تنظیموں کے احتجاج پر حکومت نے اس فیصلے کو عارضی طور پر موخر کیا۔ آج بھی مسلمانوں کو دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں قید میں جسمانی اور ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔ انہیں اصلاح کے نام پر انٹیکریشن سنٹروں میں ڈال دیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر اپریل 2020 میں ایک مسلم وکیل کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اگلے ماہ ایک تمل مسلم شاعر احناف جزیم کو بھی دہشت گردی کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ کووڈ مہاماری کے دوران مسلمانوں کو ان کے جنازوں کو اسلامی رواج کے مطابق تدفین کے حق سے محروم رکھا گیا۔

اس دوران ملک کی معاشی حالت بگڑ رہی تھی قرضوں کا بوجھ انتہائی حدوں کو چھو ریا تھا۔ راجپکدا نے خود کو سری لنکا کا تغلق ثابت کرتے ہوئے ایسی حالت میں بھی صرف اکثریت کو خوش کرنے کے لئے ٹیکس نصف کردیا۔ کنگ کہلانے کے زعم میں چور راجپکسا نے سب کچھ ٹھیک ہے کا تاثر دینے کے لئے چین سے پانچ بلین ڈالر قرض لے لیا۔ جب وہ چین کا قرض نہیں چکا پائے تو اپنا ہامبن توتا پورٹ ایک چینی کمپنی کو 2017 میں 99 برسوں کے لئے لیز پر دے دیا یعنی گروی رکھ دیا۔ لیکن اکثریتی طبقے کو آنے والے معاشی بحران سے بے خبر رکھنے کے لئے وہ مذہب کا افیون چٹاتے رہے اور اسلاموفوبیا کی گھونٹی پلاتے رہے۔ وہ اپنے بھائیوں اور بھتیجوں کو حکومت کی وزارت پر بٹھاتے رہے اور اکثریتی طبقے صرف اس بات میں مگن تھا کہ ان کا کنگ مسلمانوں کا درست علاج کر رہا ہے۔

۔ نومبر 2021 کے آتے آتے سری لنکا کی معیشت پوری طرح تباہ ہوگئی اور اس کا غیر ملکی ریزرو 6۔1 بلین ڈال رہ گیا۔ جنوری 2022 میں انٹرنیشنل ریٹنگس ایجنسیوں نے نے راجپکسا حکومت کو امکانی دیوالئے پن سے آگاہ کر دیا تھا۔ جب حالات ہاتھ سے نکلنے لگے تو راجپکسا حکومت نے درآمدات پر پابندی لگا دی۔ اس پابندی کے لگتے ہی ملک میں ضروری اشیا کی قلت ہوگئی۔ بارہ بارہ گھنٹے بجلی کی کٹوتی ہونے لگی تو عوام کا گرمی اور بھوک سے برا حال ہونے لگا۔ گیس کی قلت نے اور برا حال کر دیا۔ چاول 240 روپئے فی کلو ہوگیا۔ راشن کے لئے لمبی لائن میں جب لوگ گھنٹوں کھڑے ہونے لگے اور وہیں گر کر مرنے لگے تو اسلاموفوبیا کا بھوت اترنے لگا۔ جس راجپکسا کو وہ کنگ کہتے تھے اسی کو اب پاگل کہنے لگے۔ جسے وہ اب تک مسیحا کہتے تھے اس سے بجات حا صل کرنے کی تمنا کرنے لگے اور اسے اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔ انہیں اب یہ احساس ہوا کہ راجپکسا انہیں اسلاموفوبیا کی آڑ میں اپنی نا اہلی اور اقربا پروری اور نا ایلی کو چھپا رہا تھا۔ اس حقیقت کا ادراک سری لنکا کے عوام کو ہوا مگر دیر سے۔ وہ سڑکوں پر نکل آئے اور راجپکسا کے استعفے کی مانگ کرنے لگے۔راجپکسا نے ان کی بغاوت کو دبانے کے لئے ایمرجنسی کا نفاذ کردیا۔ مگرعوام کو ایمرجنسی کا کوئی خوف نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں تھا۔

سری لنکا اس بحران سے کیسے نکلے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کی اس تباہی کے پیچھے گالا گوڈا اتھے گیان سارا جیسے مذہبی جنونی اور راجپکدا جیسے اقلیت دشمن سیاستدانوں کے ذریعے پھیلایا گیا اسلاموفوبیا ہے۔ اگر اکثریتی فرقے نے حکومت کی غلط پالیسیوں پر وقت رہتے گرفت کی ہوتی اور مذہبی تعصب سے اوپر اٹھ کر حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف احتجاج کیا ہوتا تو آج وہ اس سنگین بحران کا شکار نہ ہوتے۔

آج ہم اپنے ملک ہندوستان میں بھی سری لنکا کے حالات کا ایکشن ری پلے دیکھ رہے ہیں۔ حجاب، اذان، مدرسے، فسادات، ماب لنچنگ اور اس کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی، پرائیوٹائزیشن، قرضوں کا بوجھ وغیرہ، تو کیا ہندوستان کے لوگ سری لنکا کی غلطیوں سے سبق سیکھیں گے ؟

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/islamophobia-sri-lankan-crisis/d/126778

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..