New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 07:42 PM

Urdu Section ( 18 March 2020, NewAgeIslam.Com)

Spiritual Songs of World Religions مذاہب عالم کے روحانی نغمے


سہیل ارشد ، نیو ایج اسلام

ساز کے ساتھ گائے جانے والے روحانی نغموں کی روایت دنیا کے تقریباً  سبھی  مذاہب میں موجود ہے۔کچھ مذہبی صحیفوں میں ساز پر گائے جانے والے روحانی نغموں، آلات موسیقی اور موسیقی کے راگ راگنیوں کا ذکر بھی ملتاہے۔روحانی نغموں کے قدیم نمونے  سام وید میں پائے جاتے ہیں جن میں ساز کے ساتھ نغموں کے گانے کا ذکر ہے۔سام وید کے ایک حصے چھندوگیہ اپنشد میں کم از کم ایک ساز یعنی وینا کا ذکر ملتاہے۔جس شلوک میں وینا کا ذکر ہے وہ مندرجہ یل ہے:

”لہذا، جو لوگ وینا پرصرف  اس کی حمد و ثنا گاتے ہیں  وہ لوگ سکھی ہوتے ہیں۔“

چھندوگیہ اپنشد کے مطابق پجاری کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ  مختلف دیوتاؤں کی خدمت میں مختلف لئے اور سر میں حمد وثنا گائیں۔ لفظ سام  سمن سے مشتق ہے جس کا معنی سننا ہے۔ یہ لفظ یونانی زبان کے لفظ سالموئی سے مشابہ ہے جس کا معنی ہے  نغمہ۔ لفظ  psalm اسی لفظpsalmoi سے ماخوذ ہے۔ Psalms of Prophet  David الہامی نغمے ہیں جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئے۔ ان کو قرآن میں زبور کہاگیاہے۔ان نغموں کو حضرت داؤد علیہ السلام نہایت خوش االحانی کے ساتھ گاتے تھے جس کو سن کر پرندے بھی مسحور ہوجاتے تھے اور ان کے ساتھ نغمہ سراہوجاتے تھے ۔Psalms of Prophet David دراصل زبور ہی ہیں کیونکہ اس کی تصدیق قرآن کی اس آیت سے ہوجاتی ہے:

”اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ دیاہے کہ نیک بندے زمین کے وارث  ہونگے۔“ (الانبیاء: 105)

زبور میں  اسی مفہوم کی ایک آیت 37:29 نمبر Pslam  میں ملتی ہے:

”نیک بندے زمین پر وارث ہونگے اور وہاں ہمیشہ رہینگے۔“

قرآن اور زبور کی آیتوں میں یہ مماثلت یہ ثابت کرتی ہے کہ PSALMS OF DAVID ہی زبور ہیں۔اس کے علاوہ PSALMS  اکی زبان اور اسلوب بہت حد تک قرآن اور ویدوں کی زبان اور اسلوب سے مشابہ ہے۔یہودیوں کی مذہبی روایتوں کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ نے بہت ہی خوش الحان بنایاتھا اور انہیں آلات موسیقی بالخصوص بربط(harp) بجانے میں مہارت حاصل تھی۔ قرآن صرف اتنا کہتاہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ نے بہت ہی خوبصورت آواز عطاکی تھی اور جب وہ خوش الحانی سے خد کی حمد و ثنا کرتے تھے  تو پرندے بھی ان کے ساتھ خدا کی حمد و ثنا کرتے تھے۔کچھ PSALMS کو مزمور بھی کہاجاتاہے۔ فارسی میں ساز کو مزامیر بھی کہتے ہیں۔کچھ PSALM کے آغاز میں ان کے راگ کا بھی ذکر ہے جس میں اس کو گایاجاناہے۔

سام وید 1200۔1000ق م کے درمیان مرتب کی گئی۔ PSALMS OF DAVID  کا دور نزول  1000۔9500 ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتاہے کہ زبور کے الہامی نغموں اور سام وید کے الہامی نغموں میں کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔ یہ ایک ہی روایت کی کڑیاں ہیں۔

1906ء میں ہندوستان کے ایک محقق ہر پرشاد شاستری نے   نیپال کی شاہی لائیریری سے 48  بودھ نغموں کی دریافت کی۔ ان نغموں کو چریہ پد کہاجاتاہے۔یہ نغمے نویں اور دسویں صدی عیسوی کے درمیان تخلیق کئے گئے۔اگرچہ یہ بودھ نغمے حمد و ثنا نہیں ہیں بلکہ ان میں بودھ مذہب کے مذہبی فلسفے اور اعمال کا ذکر ہے مگر ان نغموں سے گوتم بدھ کے بعد سام وید اور زبور کی طرز پر روحانی نغموں کی روایت کا پتہ چلتاہے۔ واضح ہو کہ گوتم بدھ کا دورحیات  پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی کے درمیان  ہے۔ان نغموں میں نروان، فلسفہ ء وحدت الوجود (ادویت واد)، نفسانی خواہشات پر فتح،  اور درویشانہ طرز زندگی سے بحث کی گئی ہے۔سام وید اور  PSALMS کی طرح چریہ پد بھی ساز کے ساتھ گائے جاتے تھے اور ہر نغمے کے آغاز میں ان کے راگ کا ذکر ہے۔ ڈھول، طبلہ اور بانسری چند ساز ہیں جن کا ان چریہ پدوں میں ذکر ہے۔

بودھ مذہب اور اپنشد کی ایک کڑی ہے چین کے فلسفی اور درویش لاؤزی کی الہامی شاعری جسے تاؤ تے چنگ کہاجاتاہے۔ تاؤ تے  چنگ 81 نظموں کا مجموعہ ہے جو شعری اسلوب میں لکھی گئی ہیں۔ ان میں فلسفیانہ گہرائی ہے۔ ان نظموں میں لاؤزی نے وجودحقیقی، موت و حیات، معیاری طرز حکومت  اور عدم تشدد کے موضوعات سے بحث کی ہے۔لاؤزی  چین کے فلسفی کنفیوشیس کے روحانی پیشوا تھے۔ اس سے ان کے علم و حکمت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔بودھ سادھوؤں کے چریہ پد  اور لاؤزی کے تاؤ تے چنگ کے اسلوب اور موضوعات سے اندازہ ہوتاہے کہ کس طرح  PSALMS  اور سام وید  کے ا لہامی نغموں نے آگے چلکر فلسفیانہ اور مذہبی شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔۷ ق م کی ہومر کی حمدیہ شاعری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کہی جاسکتی ہے۔

قرآن موسیقی کے استعمال کے موضوع پر خاموش ہے  مگر اسلام میں دف کے ساتھ نغمہ سرائی جائز ہے۔کچھ صوفی سلسلوں میں متصوفانہ شاعری کا ساز پر گانا روا رکھاگیاہے  جسے محفل سماع کہتے ہیں۔کئی عظیم صوفیہ اچھے شاعر بھی ہوئے جنہوں نے  صوفیانہ شاعری کی۔ قرآن موسیقی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا مگر اس کی آیتوں میں غنائیت، آہنگ، قوافی کا التزام، اور صوتی تاثر کا اہتمام ملتاہے۔ قرآن کو ترتیل کے ساتھ تلاوت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

پیغمبر اسلام  ﷺ نے نعتیہ شاعری کی حوصلہ افزائی کی۔ نعت حضرت محمد کی شان میں تخلیق کی گئی شاعری ہے۔بعد کے زمانے میں  دنیا کے تقریباً تمام علاقوں میں روحانی اور مذہبی شاعری کی روایت کو وسعت ملی کیونکہ ؎اس طرح کی شاعری  گانے اور سننے والوں کو روحانی سرور عطاکرتی ہے  اور تسکین قلب و روح کا باعث ہوتی ہے۔باؤل گیت، بھجن، کیرتن، قوالی، رستا فاری گیت، چریہ پد وغیرہ روحانی اور مذہبی شاعری کی مختلف صورتیں ہیں جو بعد کے زمانے میں وجود میں آئیں۔ مگر یہ کہاجاسکتاہے کہ روحانی اور مذہبی شاعری کی روایت قدیم الہامی کتابوں سے متاثر ہے ۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/spiritual-songs-of-world-religions--مذاہب-عالم-کے-روحانی-نغمے/d/121340

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..