New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 02:01 PM

Urdu Section ( 22 Oct 2019, NewAgeIslam.Com)

Quranic Principles of Compromise or Settlement صلح کے قرآنی اصول


سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

قرآن نے ملی و قومی معاملات میں ہمیشہ اعتدال اور صبر و تحمل اختیار کر نے کی ہدایت دی ہے۔ تمام مسائل و تنازعات کا حل پر امن طریقے سے افہمام و تفہیم اور مذاکرے کے ذریعے سے حل نکالنے کامشورہ دیا ہے۔ تشدد، جنگ، خون خرابہ قرآن کے مطابق نا پسندیدہ ہیں اور جنگ کی اجازت اپنی بقا اور دفاع میں ہی دی گئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مخالف گروہوں کے ساتھ تنازعات کو حل کرنے اور تشدد کو ٹالنے کفار اور یہودیوں سے معاہدہ کئے۔ ان میں ایک حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔ لہٰذا، اسلام میں جنگ سے بہتر صلح کو قرار دیا گیا ہے قرآن بھی کہتا ہے۔

”والصُّلحُ خیرہ“ (اور صلح خوب چیز ہے۔)  (النساء: 128)

مذاکرے اور افہام و تفہیم کے ذریعہ اگر کسی مسئلے یا تنازع کا حل نکل سکتا ہے تو جنگ یا تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ مخالف قوموں کے ساتھ مفاہمت کے ذریعہ مسائل یا تنازعات کو پرُ امن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرناچاہئے۔ صلح حدیبیہ میں کفُار کے شرائط کو دیکھ کر صحابہ کرام کو یہ محسوس ہورہا تھا کہ مسلمان کفّار کے سامنے جھک رہے ہیں مگر حضور  پاک صلی اللہ علیہ وسلم مستقبل پر نگاہ رکھے ہوئے تھے۔ وہ اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے پرُ امن امید تھے کہ آئندہ برس تک مسلمان لوگ غالب طاقت بن جائیں گے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفّار مکہّ کی شرائط مان لیں۔ لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں نے یہ شرطیں بزدلی کی وجہ سے نہیں بلکہ حکمت عملی کے طور پر مان لی تھیں۔ مسلمان اس موقع پر لڑنے کے لئے بھی تیار تھے۔ مگر انہوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس معاہدے کو مان لیا تھا اور اس صلح کا فائدہ مسلمانوں کو آگے چل کر معلوم ہوا۔ اس صلح یا معاہدے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ صلح بزدلی کی وجہ سے نہیں ہونی چائیے۔ بلکہ دو برابر کے گروہوں میں دو طرفہ نقصان collatoral damage سے بچنے کے لئے ہونا چاہئے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب فریقین صلح کرناچاہتے ہوں۔ مسلمانوں سے قرآن کہتا ہے کہ اگر مخالف صلح کی پیشکش کرے تو انہیں جنگ اور تشدد پر اصرار نہیں کرناچاہئے اور صلح اور مفاہمت کے لئے تیار ہوجانا چاہئے۔ قرآن کہتاہے:

”اوراگر وہ جھکیں صلح کی طرف تو توبھی جھک اسی طرف۔“ (الانفال: 61)

بہر حال قرآن ایسے صلح کو صلح نہیں مانتا جس میں مسلمان مخالف گروہوں کی طاقت سے مرعوب ہوکر یک طرفہ طور پر صلح کی پیشکش کریں جبکہ مخالف گروہ کو صلح میں کوئی دلچسپی نہ ہو کیونکہ اسے طاقت کا نوعم ہو اور طاقت کے بل ہر اسے مسلمانوں سے اپنی باتیں منوالینے کا پوری امید ہو۔ قرآن اس صورت حال کے متعلق کہتا ہے۔

”سو تم بزدل نہ ہو جاؤ او رلگو پکارنے صلح: (محمد:35)

قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اگر کسی گروہ یا قوم سے تمہارا معاہدہ ہو او روہ بعد میں معاہدے پر قائم نہ رہے تو تم پر بھی معاہدے کی پاسداری لازمی نہیں ہے کیونکہ یہ پہلے بھی واضح کیا جاچکا ہے کہ قرآن کے مطابق صلح یا معاہدے کا احترام فریقین پر لازمی ہے۔ اگر ایک فریق معاہدے پر قائم نہیں رہتا تو دوسرے فریق پر معاہدے کا احترام لازمی نہیں ہے۔ قرآن کہتا ہے۔

”جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے پھر وہ توڑتے ہیں اپنا عہد ہر بار اور وہ ڈر نہیں رہتے سو اگر تو کبھی بلائے ان کو لڑائی میں تو ان کو اسی سزا دے کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے تاکہ ان کو عبرت ہو۔“ (الانفال:57)

لہٰذا، قرآن نے صلح کایہ اصول مرتب کیا ہے کہ مسلمان ہر حال میں جنگ، ٹکراؤ اور تشدد سے احتراز کریں اور صلح او رمعاہدے کے ذریعہ تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر حریف صلح کی پیشکش کریں تو اسے قبول کرلیں لیکن بزدلی کی وجہ سے صلح نہ کریں کیونکہ صلح ہمیشہ برابر والے سے ہوتی ہے۔ بہر حال صلح او رمفاہمت کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں اسی لئے قرآن کو صلح میں خبر کی بشارت دیتاہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/quranic-principles-of-compromise-or-settlement--صلح-کے-قرآنی-اصول/d/120064

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..