New Age Islam
Mon Sep 20 2021, 01:52 PM

Urdu Section ( 25 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

India's Liberal Muslims Have Always Opposed Cow Slaughter ہندوستان کے لبرل مسلمانوں نے ہمیشہ گائے ذبیحہ کی مخالفت کی ہے

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

30 جولائی 2021

مسلمانوں کا ایک طبقہ ہمیشہ گائے کے ذبیحہ پر پابندی کی حمایت کرتا رہا ہے

اہم نکات:

1.      پابندی کے حق میں مسلم مفکرین کے درمیان ایک اتفاق رائے قائم ہو رہی ہے

2.      مغل بادشاہ بابر نے ہمایوں کو گائے ذبیحہ کو روکنے کا مشورہ دیا تھا

3.      1857 کی بغاوت اور تحریک خلافت کے دوران مسلمانوں نے رضاکارانہ طور پر گائے کا گوشت چھوڑ دیا تھا

4.      سخت گیر مسلم علماء کا ایک چھوٹا سا طبقہ گائے گوشت پر پابندی کی مخالفت کرتا ہے

-----

ہندوستان میں گائے ذبیحہ ہندو مسلم اختلاف کا ایک سبب رہا ہے کیونکہ ہندو گائے کا احترام کرتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ قربانی کے لیے یا عام استعمال کے لیے گائے کی قربانی کب سے ہندوستان میں شروع ہوئی جو کہ قدیم زمانے سے ہی ایک ہندو اکثریتی ملک رہا ہے۔ غالبا اس کی شروعات مسلم حکومت کے دور میں ہوئی ہو لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلم حکمرانوں کو یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ ہندوستان میں گائے کا ذبیحہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کیونکہ اس سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ ایک نامور ماہر قانونیات جناب فیضان مصطفی کے مطابق بابر نے ہمایوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ گائے ذبیحہ کی اجازت نہ دیں کیونکہ اس سے ہندوؤں کے مذہبی احساسات مجروح ہوں گے۔ سب سے بڑے مغل بادشاہ اکبر جنہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کئی انتظامی اور ثقافتی اقدامات اٹھائے تھے اپنے دادا کی خواہش کے احترام میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگا دی تھی۔ تاہم، ان کے اس اقدام کی ایک صوفی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے مخالفت کی جن کا ماننا تھا کہ مسلمانوں کو ایک مسلم حکومت میں گائے کے ذبیحہ سے نہیں روکا جانا چاہیے۔

تاہم ، آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے بعض ادوار میں مسلمانوں نے نہ صرف گائے کے ذبیحہ پر پابندی کی حمایت کی ہے بلکہ ایک عظیم سیاسی اور قومی مفاد کے تحت ہندو مسلم اتحاد کو بڑھاوا دینے کے لئے خود گائے ذبیحہ ترک کرنے کی پہل بھی کی ہے۔ 1857 کی بغاوت کے دوران مسلمانوں نے گائے کے ذبیحہ کو اس لئے ترک کر دیا تھا تاکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف جنگ کے لئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مضبوط کیا جا سکے۔

گائے ذبیحہ کے خلاف سب سے کامیاب مہم 1919 میں خلافت تحریک کے مسلم رہنماؤں نے چلائی جن میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، حکیم اجمل خان، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبدالباری اور دیگر کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس کا مقصد برطانوی حکومت کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کرنے کے لیے ہندوؤں کو مسلمانوں کے قریب لانا تھا۔ اس مہم کے تحت مسلمانوں نے نہ صرف گائے کا ذبیحہ ترک کیا بلکہ ذبح کے لیے لائی جانے والی گایوں کو ذبح ہونے سے بچایا اور اسے ہندوؤں کو واپس کیا۔

اس تحریک کو ایک اور طاقت اردو کے ایک عظیم ادیب اور چشتیہ سلسلہ ایک صوفی بزرگ خواجہ حسن نظامی کی نظریاتی مہم سے بھی ملی جنہوں نے 1921 میں ترک گاؤکشی کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں ایک کثیر ثقافتی معاشرے کے اندر گائے کشی کے خلاف قرآن اور احادیث سے دلائل پیش کیے۔ لہٰذا ان سیاسی اور نظریاتی مہمات نے اجتماعی مسلم نفسیات پر بہت زیادہ اثر ڈالا اور ہندوستان کے مسلمانوں میں گائے ذبیحہ کی حوصلہ شکنی ہوئی حالانکہ اسے مکمل طور پر ترک نہیں کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تقسیم ہند سے قبل سندھ بلوچستان کے علاقے میں مسلمان زیادہ تر بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ انہوں نے گائے زیادہ قربانی نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رگ وید اسی خطے میں لکھا گیا تھا اور یہ علاقہ اسلام کی آمد سے قبل ویدک ثقافت کا مرکز تھا۔ اس لیے اس خطے کے مسلمان ہندوؤں کے مذہبی عقائد کا احترام کرتے تھے اور گائے کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ تقسیم کے بعد ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مسلمان گائے گوشت کے استعمال کی اپنی عادت پاکستان لے گئے اور رفتہ رفتہ گائے کا ذبیحہ اور گائے کا گوشت پاکستان میں مقبول ہو گیا۔ پھر بھی روایتی اور ثقافتی پس منظر کی وجہ سے پاکستان میں بھینسوں، بیلوں اور بکروں کی بڑے پیمانے پر قربانی کی جاتی ہے۔

آزادی کے بعد ہندوستان میں گائے ذبیحہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان سماجی تنازعات کی ایک بڑی وجہ بنی رہی ہے۔ اس تنازع کو روکنے کے لیے 20 سے زائد ریاستوں نے گائے ذبیحہ پر پابندی لگا دی ہے۔ حال ہی میں مسلم اکثریتی خطہ لکشدیپ میں بھی گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

کچھ بڑے مسلم رہنماؤں اور علماء نے ہندو مسلم فسادات یا موب لنچنگ کے فرقہ وارانہ واقعات کو روکنے کے لیے گائے کے ذبیحہ پر مرکزی قانون کا مطالبہ کیا ہے۔ 2015 میں حیدرآباد کے ایک کارکن مولانا سید حسین مدنی نے گائے ذبیحہ کے خلاف مہم شروع کی تھی۔ جامعہ نظامیہ کے مولانا انور احمد اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مولانا انیس الرحمن اعظمی سمیت آندھرا پردیش کے بہت سے علماء اور اسلامی اسکالرز نے اس مہم میں شمولیت اختیار کی اور مسلمانوں سے کہا کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اور گائے کے ذبیحہ سے پیدا ہونے والے فرقہ وارانہ تنازعات کے پیش نظر عیدالاضحی پر جانوروں کی قربانی کے حوالے سے ایک عملی نقطہ نظر اپنائیں۔ ایک مشہور عالم دین مولانا محمود مدنی نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی کا ایک مرکزی قانون کا بھی مطالبہ کیا تاکہ دونوں برادریوں کے درمیان تنازعات ختم ہو سکیں۔ دارالعلوم دیوبند نے مسلمانوں کو عیدالاضحی پر گائے کی قربانی سے بچنے اور فرقہ وارانہ فسادات سے احتراز کرنے کے لیے چھوٹے جانوروں کی قربانی دینے کا مشورہ دیا ہے۔

دوسری طرف کچھ سخت گیر مسلم علماء نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حال ہی میں جب سماجی کارکن حسین مدنی نے مسلمانوں کو تہواروں پر گائے کی قربانی سے بچنے کا مشورہ دیا تو بنگال کے ایک مولوی مولانا شرافت ابرار نے ان کے اس مشورے کی مخالفت کی۔ اسی طرح جب جمو و کشمیر کے ہائی کورٹ نے ایک حکم جاری کیا جس میں ریاستی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ریاست میں پہلے سے موجود کائے کشی مخالف قانون کو سختی سے نافذ کرے تو میر واعظ عمر فاروق سمیت کچھ بڑے مسلم علماء نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم اکثریتی ریاست میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی مسلمانوں کے حقوق کے خلاف ہے۔

تاہم ایسی ناعاقبت اندیش باتیں کرنے والے اقلیت میں ہیں۔ لبرل مسلمانوں کی اکثریت نے ہمیشہ مسلمانوں سے یہی کہا ہے کہ وہ عیدالاضحیٰ پر رسم قربانی ادا کرنے اور عام استعمال دونوں کے لیے گائے کے ذبیحہ سے گریز کریں۔ لہٰذا مسلم دانشوران اور لبرل علماء کی گائے ذبیحہ کے خلاف مہمات اور ہندوستان میں گائے ذبیحہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے سماجی اور سیاسی بحران کی بدولت ملک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے حق میں مسلم دانشوروں کے درمیان آہستہ آہستہ ایک اتفاق رائے قائم ہو رہی ہے۔

Related Article:

India's Liberal Muslims Have Always Opposed Cow Slaughter

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/indian-liberal-muslims-cow-slaughter/d/125279   

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..