New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 05:51 AM

Urdu Section ( 2 Apr 2019, NewAgeIslam.Com)

Feeding the Poor and the Orphans a Collective Responsibility of the Muslims مسکینوں اور یتیموں کوکھلانا مسلمانوں کا ملی فریضہ


سہیل ارشد ، نیو ایج اسلام

قرآن کی کئی آیتوں میں ایمان کو نماز اور زکوۃ کے ساتھ جوڑدیاگیاہے۔ ان آیتوں کے مطابق ایک صاحب نصاب مسلمان کے لئے زکوۃ ویسا ہی لازمی ہے جیسا کہ ایک بالغ ہوش مند مسلمان کے لئے نمازہے ۔ ٰٓایک مومن اپنے معاشرے کے معاشی حالات سے بھی فکر مند رہتاہے اور معاشی نابرابری کو ختم کرنے کے لئے کوشا ں رہتاہے ۔ لہذا، زکوۃ کی ادائیگی کے بغیر ایک مسلم کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔زکوۃ کو اسی لئے اسلام کا ایک بنیادی رکن بنایاگیاہے۔ خدا کو صرف یہ مقصود نہیں ہے کہ ایک مسلمان صرف اس کی عبادت کرے اور مخلوق کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے فکرمند نہ ہو۔ بلکہ وہ چاہتاہے کہ مسلمان اس کی عبادت کے ساتھ اپنے معاشرے میں ضرورت مندوں اور محتاجوں کی بھی مدد کرے اور ان کی معاشی اور اخلاقی ترقی کے لئے بھی جد وجہد کرتارہے ۔ ایک مسلمان تب تک مومن کے درجے پر فائز نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے پڑوسیوں، غرباء و مساکین ، یتیموں اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک نہ کرے۔

’’ایمان والے وہ ہیں کہ جب اللہ کا نام لیاجائے تو ان کے دل لرز اٹھیں اور جب انکے سامنے اسکی آیتیں پڑھی جائیں تو ان کے ایمان کو تقویت ملے اور وہ اپنے اللہ پر ایمان رکھیں ، جو لوگ نماز پر قائم رہتے ہیں اور ہم نے ان کو جو نعمت عطا کی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔‘‘(الانفال : ۲۔۳)

’’اور قرابت داروں کو ان کا حق دو اور ضرورت مندوں کو اور مسافر کو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ۔‘‘(بنی اسرائیل : ۲۶)

جس طرح قرآن نے نماز اور زکوۃ کو یکساں طور پر لازمی قرار دیاہے اسی طرح قرآن نے کئی موقعوں پر محتاجوں اور یتیموں کو کھلانے کی بھی تاکید کی ہے ۔ اس سے یہ تاثر ملتاہے کہ محتاجوں کو کھلانا بھی مومن کا ایک فریضہ ہے اور اس کے لئے بہت ثواب کا وعدہ کیاگیاہے۔ محتاجوں کو کھلانے والا آسانی سے جنت میں جائیگا۔

’’اور اس نے اس راہ میں چلنے میں کوئی عجلت نہیں دکھائی جو ڈھلواں ہے ۔ اور تم کیاسمجھیکہ وہ ڈھلواں رستہ کیاہے ؟ (وہ ہے )غلاموں کو آزاد کرانا یا ضرورت مند کو کھلانا یا رشتے داروں میں یتیموں کو یا اس مسکین کو جو خا ک میں لوٹ رہاہے ۔‘‘ (البلد: ۱۶۔۲۱)

یہاں ڈھلوان رستہ سے مراد وہ راہ جو جنت کی طرف جاتی ہے ۔ جو لوگ نماز ادا کرتے ہیں اور مسکینوں کو کھلاتے ہیں وہ تیزی سے جنت کی طرف جاتے ہیں ۔

خدا مسلمانوں سے کہتاہے کہ اپنی روزی میں سے کچھ حصہ ناداروں کو دیدو۔ قرآن اس ہدایت کو مندرجہ ذیل الفاظ میں پیش کرتاہے :

’’اور وہ (نیک اور پرہیزگار) اللہ کی رضامندی کے لئے ناداروں اور یتیموں کو کھانا کھلاتے ہیں اور قیدیوں کو ۔‘‘ ( الدھر : ۸)

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ قرآن مسلمانوں کو صرف غریبوں کو کھلانے کا مشورہ نہیں دیتا یا مسلمانوں کی مرضی پر نہیں چھوڑدیتا۔ کچھ آیتوں میں محتاجوں کو کھانا کھلانے کو ایمان کے ساتھ جوڑدیاگیاہے۔ اس سے اس عمل کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے ۔ چند آیتوں میں محتاجوں اور یتیموں کو کھانا نہ کھلانے والوں کو سخت عذاب کی وعید کی گئی ہے ۔ جہنم میں کچھ لوگ اس لئے بھی ڈال دئیے جائینگے کہ وہ خوشحال ہوتے ہوئے بھی کبھی مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے ۔

’’اور پوچھینگے کس بات نے تم کو جہنم میں پہنچایا۔ وہ جواب دینگے ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے ۔‘‘ (المدثر: ۴۳۔۴۴)

’’حکم ہوگا پکڑو اسے اور باندھو اور دہکتی ہوئی آگ میں جلاؤ۔ اس کے بعد اس کو زنجیروں میں لے جاؤ جس کا طول ہے ستر گز۔ یہ وہی ہے جو رب عظیم پر ایمان نہیں رکھتاتھا اور مسکینوں کو کھلانے کی تاکید نہیں کرتاتھا ۔‘‘(الحاقہ : ۳۲)

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن صرف محتاجوں کو کھلانے کی تاکید نہیں کرتابلکہ مسلمانوں سے یہ کہتاہے کہ وہ خود بھی کھلائیں اور دیگر مسلمانوں کو بھی ایساکرنے کی ترغیب دیں ۔ دوسروں کو بھی اس عمل کے لئے ترغیب دینا ہر مسلمان کا فرض ہے یعنی یہ امر بالعروف و نہی عن المنکر کا حصہ ہے ۔ لہذا، قرآن کہتاہے کہ مسلمان خود بھی غریبوں کو کھلائیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں ۔دوسروں کو ترغیب نہ دینے والا بھی گنہ گار ہوگا۔ اس آیت سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ قرآن نے مسکینوں اور یتیموں کو کھانا کھلانے کو مسلمانوں کے اجتماعی فریضہ کا درجہ دیاہے ۔ ہرمسلمان خود بھی مسکینوں کو کھلائے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دے اور ایک ایسا مستقل نظام تشکیل دیا جائے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی شہر یا محلے میں کوئی بھی یتیم یا مسکین بھوکا نہ رہے ۔

دیگر مذاہب میں اجتماعی لنگر کا تصور ہے جہاں چوبیس گھنٹے عوام کے لئے کھانے کا مفت انتظام ہوتاہے مگر مسلمانوں کے یہاں اس طرح کا نظام نہیں ہے جبکہ قرآن ایسا نظام بنانے کی تلقین کرتاہے ۔ لہذا، مسلمانوں کی اس بے حسی پر قرآن افسوس کا اظہار کرتاہے :

’’نہیں نہیں ، تم یتیموں کو عزت سے نہیں رکھتے اور نہ ہی تم ایک دوسرے کو مسکینوں کو کھلانے کی تاکید کرتے ہو۔‘‘(الفجر :۱۸)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/feeding-the-poor-and-the-orphans-a-collective-responsibility-of-the-muslims--مسکینوں-اور-یتیموں-کوکھلانا-مسلمانوں-کا-ملی-فریضہ/d/118209

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..