New Age Islam
Fri May 20 2022, 10:00 AM

Urdu Section ( 25 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Chinese Poet of Urdu: Shaida Cheeni اردو کا ایک چینی شاعر ۔۔ شیدا چینی

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

26 جنوری 2022

اردو زبان ایک ایسے دور اور ایسے جغرافیائی خطے میں پیدا ہوئی جہاں اس کے ارتقائ میں مختلف عوامل نے گہرا اثر ڈالا۔ اس پر عربوں اور ایرانیوں اور ترکوں کی ذبان کا اثر تو ہڑا ہی مقامی زبان کا بھی اثر اس کی تشکیل میں اہم رہاہے ۔ اور ان سب عوامل کے اثر سے اردو زبان بہت متمول بھی ہوئی اور شیرینی ، بلاغت و فصاحت اور سے متصف بھی۔ بعد کے زمانے میں اردو کا دامن اور بھی وسیع ہوا اور یہ خواص و عوام میں مقبول ہوگئی۔ پہلے یہ عوام میں مقبول ہوئی پھر راجاؤں اور رؤسا نے اس کو اپنایا اور اسے اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔

اس کی ترقی میں ہندوؤں، مسلمانوں ، سکھوں ، اور عیسائیوں نے قابل قدر کردار ادا کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اردو کا پلا گرامر کسی اردو کے محققق اور ادیب نےنہیں بلکہ ایسٹ اینڈیا کمپنی کے ایک افسر جان گل کرائشٹ نے ترتیب دیا۔ بے شمار اردو یکے شاعر ادیب و محقق ایسے ہیں جو غیر مسلم ہیں جیسے تلوک چند محروم، ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، اوپندر ناتھ اشک، بلراج مین را، پرکاش فکری، دیوندر اسر، راجندر سنگھ بیدی ، پنڈت برج موہن دتا تریہ کیفی، کنورمہندر سنگھ بیدی سحر، وغیرہ۔ ان جیسے ہزاروں نام ہیں ۔

اسی کڑی میں ایک ایسے شاعر کا نام بھی ہے جو نہ چینی زبان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی پیدائش ایک چینی خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کی مادری زبان چینی تھی مگر انہوں نے اردومیں شاعری کی اور نام کمایا۔ اس چینی شاعر کا نام ہے شیدا چینی۔

شیدا چینی کے والدین چین سے ہندوستان آئے تھے اور کلکتہ می بس گئے تھے۔ شیدا چینی کی پیدا ئش کلکتے میں ہوئی تھی۔ بعد میں ان کے والدین موجودہ جھارکھنڈ کے شہر آہن جمشید پور میں بس گئے تھے ۔لہذا، شیدا چینی بھی والدین کے ساتھ جمشید پور چلے آئے۔

شئدا چئبئ جا اصل نام لیو یونگ وین تھا۔ جمشید پور میں جب شیدا چینی کو اسکول میں داخل کرانے کا مسئلہ ان کے والدین کے سامنے آیا تو ان کے والدین نے انہیں انگریز میڈیم اسکول میں داخل کرادیا مگر گھر کا ماحول اردو کا تھا اس لئے اردو کی تعلیم بھی گھر پر ہی حاصل کرتے رہے۔ انہوں نے ساتویں تک کی تعلیم انگریزی میڈیم سے حاصل کی اور آٹھوٰن سے ایک اردو اسکول میں داخل کرادیا گیا۔ اردو کا ماحول انہیں راس آگیا اور انہوں نے اردو شاعری میں دلچسپی لینی شروع کردی۔ بیت بازی کے مقابلوں میں وہ شوق سے شریک ہوتے تھے اور اسی لیے انہوں نے اردو کے بے شمار اشعار یاد کرلئے تھے۔ اور آگے چل کر انہوں اردو میں اتنی استعداد حاصل کرلی کہ وہ اردو میں شاعر ی کرنے لگے۔

جلد ہی وو جمشید پور میں اردو کے چینی شاعر کی حیثیت سے بہت مقبول ہوگئے۔ اب تو اردو طبقے نے اردو کا پنجابی شاعر، اردو کا عیسائی شاعر اردو کا بنگالی اور ہندو شاعر تو دیکھا تھا مگر ایک چینی شخص کو شستہ اور فصیحت اردو میں نہ صرف گفتگو کرتے بلکہ خوبصورت اور اغلاط سے پااک شعر کہتے نہیں سنا تھا۔ یہ ان کے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری کو مزید نکھارنے کے لئے جمشید پور کے ایک استاد شاعربی زیڈ  مائل کی شاگردی اختیار کرلی۔ چونکہ مائل صاحب اس زمانے کے دستور کے مطابق ترقی پسند شاعر تھے اس لئے ان کے زیر اثر شیدا چینی بھی ترقی پسند ہوگئے اور اپنے اشعار میں ترقی پسند خیالات کا اظہار کرنے لگے۔

ان کا آبائی پیشہ دنان سازی تھے اس لئے انہوں نے بھی دندان سازی کو اپنا پہشہ بنایا۔ اس کے ستھ ہی ساتھ وہ ایک اردو کے شااعر کی حیثیت سے پورے ملک مین جانے جانے لگے اور وہ مشاعروں کے مقبول شاعر بن گئے ۔ اس مقبولیت میں ان کا چینی نسل کا ہونا بہت معاون ہوا۔ لوگ ایک چینی کی زبان سے اردو سن کر محفوظ ہوتے تھے ۔

شیدا چینی نے اپنا پہلا مشاعرہ جمشید پور میں ۱۹۹۵۸ میں پڑھاْ۔ اس کے بعد سی سال  کلکتے میں ایک آل انڈیا مشاعرے کی انہیں دعوتت ملی۔ اس میں پروفیسر آل احمد سرور، پروفیسر خواجہ احمد فاروقی اور پروفیسر عندلیب شادانی جیسے اردو کے عظیم شاعر وادیب موجود تھے ۔ اس مشاعرے میں انہوں نے جو غزل سنائی اس کے چند اشعار سے ان کی شاعری کی زبان و معیار کا بخوابی اندازہ ہوتاہے۔

کھل بھی جاؤ کو لوگ کہتے ہیں

بے سبب برہمی نہیں ہوتی

حوصلہ چاہئے محبت میں

بزدلی عاشقی نہیں ہوتی

لذت گفتگو نہیں ملتی

بات جب آپ کی نہیں ہوتی

زند گی آشنا نہ ہو جب تک

عاشقی عاشق نہیں ہوتی

ان اشعار سے شیدا چینی کی زبان پر گرفت اور اردو کے روایتی اسلوب کے ادراک کا اندازہ ہوجاتاہے۔ ان کے دیگر اشعار میں بھی غزلوں کے روایتی مضامیں روایتی اسلوب میں بیان ہوئے ہیں مگر ان میں ندرت اور شیدا کی اپنی  منفرد فکری روش ہے۔ ان کے مزید اشعار میں اس طرز اظہار کے نقش ملتے ہیں ۔

ترا شکریہ اے غم زند گانی

ملی ہے مجھے راحت جاودانی

بہ انداز نو شیخ کی یہ خطابت[

نئے بوتلوں میں ہے صہبا پرانی

سبھی محو حیرت ہیں محفل میں شیدا

خدا داد ہے تیری جادو بیانی

ان اشعار کو پڑھ کر کوئی یہ نہیں سکتا کہ یہ کسی غیر اردو داں شاعر کے اشعا ر ہیں ۔ ان کی شاعری میں زیادہ تر عشق حقیقی اور عشق مجازی کے مضامین بیان ہوئے ہیں ، زمانے کی ناقدری اور اپنوں کی طاطا چشمی اور موقع پرستی کا شکوہ ہے ۔ غرض وہ سارے مضامین ہیں جو ایک روایتی اردو شاعری کے اجزائے ترکیبی ہیں مگر اس کے ساتھ ہی شیدا کا اپنا انفرادی رنگ بھی ہے ۔ اہوں نے کچھ ایسے اشعار بھی کہے ہیں جو اچھوتے خیال کو پیش کرتے ہیں یا کسی پرانے خیال کو نئے انداز میں  پیش کرتے ہیں۔ جیسے

دور افق سے دھیرے دھیرے نکلا نارنگی کا پھل

بستی بستی وادی وادی جاگ اٹھا سارا جنگل

تمام عمر وہ ساییہ بنا رہا میرا

عدو تھا گرچہ مرا پھر بھی یار جیسا تھا

شیدا نے عصری حالات پر بھی طنزیہ اشعار کہے ہیں ۔ وہ ملک کے حالات سے باخبر رہتے تھے اور ان پر اپنے نقطہ  نظر کا اظہار برملا کردیتے تھے۔ ملک میں پھیلے ہوئے انتشار بے امانی اور رہنماؤں کے ناعاقبت اندیشی سے نالاں رہتے تھے ۔ ان کے اشعار میں ان کے دور کا درد سمٹ آیاہے۔

ہر مسافر بزعم خود رہبر

قافلہ منزل عذاب میں ہے

تیور بتارہے ہیں زمانے کے آجکل

بیداری شعور کا ہنگام آگیا

ہنوز فتنہ اہل نشاط زندہ ہے

سکشت حلقہ طوق رسن کی بات کرو

نالہ بدلیں گے وہ نالوں کی زباں بدلیں گے

عندلیبان چمن طرز فغان بدلینگے

رسم محفل ہیں نہیں نظم جہاں بدلیں گے

ہم تو یہ کارگہ شیشہ گران ؓبدلیں گے

انہوں نے کچھ ایسے اشعار اپنی غزلوں میں کہے جو مسلمانوں کے مذہبی موضوعات پر مبنی ہیں ۔ ان اشعار میں وہ پیغمبر اسلام اور اہل بیت سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں

ہمیں بھی اس کی زیا رت نصیب ہوجاتی

کہ جس دیار کا سب احترام کرتے ہیں ۔

کرب و بلا ئے وقت میں رکھتا ہوں حوصلہ

میں وارث حسین علی حجاز ہوں

انہوں نے اردو شاعروں کی طرح نعت پاک بھی کہی ہے اور ان میں پیغمبر اسلام سے اپنی محبت اور عقیست کا اظہار ان الفاظ مین کیا ہے۔

محمد ﷺ رحمت اللعالمیں ہیں

محمد ﷺ ہی امام المرسلیں ہیں

اطاعت ہر طرح لازم ہے شیدا

محمد ﷺ سرور دنیا و دیں ہیں

شیدا کی زندگی مٰں دو ادوار بہت سخت گزرے ۔ ایک ہند چین جنگ کا دور اور دوسرا جمشید پور کے فرقہ وارانہ فسادات کا دور۔ ان دونوں سانحوں نے شیدا کو اندر سے بہت رنجیدہ کر دیا تھا۔ ہند چین جنگ کے دور میں وہ حکومت کی نظروں میں مشکوک ہوگئے  تھے ۔ اس میںں اردو کے شاعروں نے بھی کردار  ادا کیاتھا۔ اردو کے وہ شعرا جو شیدا کی مقبولیت سے حسد کرتے تھے انہوں نے بھی ان کو حکومت کی نگاہ میں مشکوک بنانے میں کردار ادا کیا تھا۔ لہزا، انہوں نے کئی نظمیٰں اور اشعار اس زمانے میں چین کی پالیسی کی مذمت میں کہے اور خود کو وطن کا وفادار ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

اردو کے اس مقبول اور محبوب شاعر کا انتقال مارچ ۲۰۱۵ میں جمشید پور میں ہوا۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/chinese-poet-urdu-shaida-cheeni/d/126242

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..