New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 10:20 AM

Urdu Section ( 6 May 2014, NewAgeIslam.Com)

God is a Spiritual Realisation beyond Description خدا احاطہ بیان سے باہر ایک غیر مادی حقیقت ہے

 

آر کے مدھوکر

07 اپریل 2014

خدا کا تصور اور مذہب عصر حاضر میں تمام انسانوں کے لیے غیر معمولی اہمیت و افادیت کا حامل ہےاور یہ دونوں روز مرہ کی زندگی میں ان پر مکمل طور پر اثر انداز ہیں۔ خدا کی عبادت کرنے اور کسی مذہب سے تعلق رکھنے سے انسانوں کو ایک ایسا نظام اور تحفظ حاصل ہوتا ہے جس سے ان کی زندگی میں پیش آنے والے چیلنجوں کا سامنا کرنے اور پریشانیوں اور مصیبتوں پر قابو پانے میں انہیں مدد ملتی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ انہیں ان تمام اچھی چیزوں کے لئے شکر گزار ہونے کی تعلیم بھی ملتی ہے جن سے وہ اس روئے زمین پر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مختصر یہ کہ خدا اور مذہب کے ذریعےلوگ اپنی زندگیوں کے گہرے مقاصد اورمعانی کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔

دنیا بھر کے انسانوں کے لیے خدا کا تصور غیر معمولی اہمیت و افادیت کا حامل ہے۔ لفظ خدا ہر زمانے میں ہر تہذیب و تمدن سے تعلق رکھنے والوں کے زمانہ قدیم سے ہی مرکز توجہ رہا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خدا کون ہے لیکن سبھی لوگوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ خدا قادر مطلق ہے اور وہی تمام کائنات کا محفظ اور پالنہار ہے۔ تمام مردوں اور عورتوں نے خدا کی تعظیم و توقیر اس انداز میں کی ہے گو کہ وہی انہیں سکون اور امن فراہم کرنے والا ہے۔ خدا ایک آفاقی مظہر ہے۔ خدا پوری کائنات کے لئے ہے۔ سوامی کریہ نندا جیسے روحانی شیوخ نے کہا ہےکہ خدا فرقہ وارانہ، متعصب یا تنگ نظر نہیں ہے ۔ خدا ہندو، مسلم، عیسائی، یہودی یا سکھ نہیں بھی ہے۔ خدا کی ذات اور اس کی الطاف عنایات کسی خطے، ملک یا کمیونٹی تک ہی محدود نہیں ہیں۔ خدا ہر اس شخص کے لئے ہے جو خدا کے تصور پر یقین رکھتا ہے۔

خدا کا ذکر مختلف مقدس کتابوں اور عبادات میں مختلف طریقوں سے کیا گیا ہے۔ خدا کا ذکر ہمیشہ بزرگی اور تعظیم و تکریم کے الفاظ کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ خدا کمالِ جمال ہے۔ خدا جاہ و جلال کا مظہر ہے۔ خدا پاکیزگی اور لطافت و نفاست مصدر ہے۔ خدا طاقت و قوت اور نیکی کا منبع ہے۔ خدا رحمن و رحیم ہے۔

خدا مہربان ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ در حقیقت خدا کی ذات ہر احاطۂ بیان سے ماوراء ہے۔ تمام روحانی شیوخ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کسی خاص زاویہ سے خدا کو اس کی تمام صفات کے ساتھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کی ذات و صفات نا قابل بیان ہیں۔ خدا مادیت اور جسم و جسمانیات سے پاک ہے۔ خدا مطلق ہے جس کی کوئی ابتدا اور انتہاء نہیں ہے اور وہ حتمی اور قطعی ہے۔

روحانی کتابوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خدا ملکوتی اور مادیت سے آزاد ایک روحانی حقیقت ہے۔ خدا ایک روحانی حقیقت ہے۔ اس کا دیدار صرف روحانی آنکھوں کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

روز مرہ کی زندگی میں جب لوگ زندگی کے چیلنجوں اور نشیب و فراز کا سامنا کرتے ہیں اور خوشی اور غم کے دور سے گزرتے ہیں، شادمانی اور مایوسی، کامیابی اور ناکامی، اتار چڑھاؤ اور بے چینی اور سکون کے مراحل سے گزرتے ہیں تو ان کے اندر کسی قادر مطلق کی بارگاہ سے تعلق استوار کرنے اور اس سے التجا کرنے کی خواہش محسوس ہوتی ہے وہی قادر مطلق جس پر وہ اپنا ایمان رکھتے ہیں۔ اور قادر مطلق کے ساتھ یہ تعلق اس کی عبادتوں اور ریاضتوں کے ذریعہ استوار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں مردوں اور عورتوں کی نظر میں خدا کی ذات محدود نہیں ہےبلکہ اس کی ذات ارفع و اعلیٰ اور افضل و بالا ہے۔

جب خدا پر ایمان لانے کی بات آتی ہے تو اس سلسلہ میں بنیادی طور پر تین قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ پہلی صف میں وہ لوگ آتے ہیں جو خدا یا خداؤں کے وجود پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو خدا سناش کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو ملحد ہیں یعنی خدا کی ذات پر یقین نہیں رکھتے۔ تیسرے نمبر پر لاادریہ لوگ ہیں اور ان کا ماننا یہ ہے کہ یہ جاننا کہ خدا موجود ہے یا نہیں ایک امر محال ہے۔ کم از کم اس دنیا کی آبادی کے 84 فیصد لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔

ہندو دیویوں اور دیوتاوں کی دنیا متنوع اور پیچیدہ ہے۔ پورے یقین کے ساتھ کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ در حقیقت دیوتاوں اور دیویوں کی تعداد کتنی ہے۔ تاہم ہندو روحانی شیوخ اور ہندوستانی اسکالرز اس بات پر متفق ہیں کہ پرانوں اور دوسرے صحیفوں میں متعدد دیوتاوں اور دیویوں کا حوالہ ملتا ہے لیکن ویدوں میں پائی جانے والی توحید کی تعلیمات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خدا کی مختلف شکلیں اور مرتیاں ایک ہی خدا کے مختلف پہلو ہیں۔ پورے ویدانت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ مختلف معبود ایک ہی قادر مطلق کے مختلف مظاہر ہیں۔ ویدوں میں اس یکتا قادر مطلق کا ذکر پرما برہمن کے طور پر موجود ہے جو کہ مطلق اور لا متناہی ہے۔

ویدوں میں خدا کا تصور نہ تذکیر کے ساتھ خاص ہے اور نہ ہی تانیث کے ساتھ خاص ہے۔ در اصل ویدوں میں خدا کا ذکرمذکر، مؤنث اور مخنث تینوں صیغوں کے ساتھ آیا ہے۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ خدا ایک باپ ہے، ایک ماں ہے اور ایک عظیم سچائی یا حقیقت بھی ہے۔ اور بھگوت گیتا میں بھی اس کا ذکر اسی طور پر ہے، مثلاً پرم پرشوتم ‘‘قادر مطلق’’ اور دوّیم (عظمت ملکوتیت) وغیرہ۔

منتر، جاپا، دھیان یا مراقبہ، مقدس کتابوں کی تلاوت، خدا کی حمدو ثنا اور اس کے نام کا ورد اور اس کی عبادت کرنا اس قادر مطلق تک رسائی حاصل کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

آر کے مدھوکر کی کتاب (Gayatri - The Profound Prayer) کے اقتباسات۔

ماخذ: http://www.newindianexpress.com/cities/chennai/God-is-a-Spiritual-Realisation-Beyond-Description/2014/04/07/article2153335.ece#.U0g72qhdU4U

URL for English article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/r-k-madhukar/god-is-a-spiritual-realisation-beyond-description/d/66532

URL for this article:

 

Loading..

Loading..