New Age Islam
Mon Sep 20 2021, 01:49 PM

Urdu Section ( 16 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Women's Literature Step by Step عورتوں کا ادب منزل بہ منزل

رضا علی عابدی

15اگست،2021

سو شل میڈیا میں ہزار عیب ہوں گے مگر دو چار خوبیاں بھی ہیں او روہ بھی بڑی خوبیاں۔ فیس بُک ہویا یو ٹیوب،زوم ہو یا میٹ گوگل، گفتگو او رمکالمے کے ایسے ایسے دریچے ہوئے ہیں کہ علم و ادب کا چہرہ ہی بدل رہا ہے۔ جب سے کورونا نے انسان کا جینا دشوار کیا ہے او راپنی اپنی جان بچا کر ہرذی شعور گھر میں بند ہوکر بیٹھ رہا ہے، یہی سوشل میڈیا آہستہ سے ایک نیا پینترا بدل کر سامنے آیا ہے۔اس پر ایسے میدان کھلے ہیں جن پر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لوگ یکجا ہوکر اپنی بیٹھک جما سکتے ہیں اور دنیا کے ہر موضوع پر خیال آرائی بھی کرسکتے ہیں اور تحقیق اور تجسس کے شعبوں میں ایک دوسرے کے خیال سے استفتادہ بھی کرسکتے ہیں اور اختلاف بھی۔ ایسا اختلاف کہ جس سے آگے چل کر کسی او رہی نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے،بہتر اور زیادہ سود مند نتیجہ۔

پچھلے دنوں اسی طرح کا ایک آن لائن مذاکرہ ہوا۔ عنوان تھا ’اکیسویں صدی میں نسائی ادب‘۔مذاکرات کااہتمام ورلڈ اردو ایسوسی ایشن اور انجمن ترقی اردو ہند نے کیا تھا۔پہلا بنیادی سوال یہ تھاکہ بدلتے ہوئے وقت او رہر روز اپنی شکل بدلتی دنیا میں ’نسائی ادب‘ سے کیا مراد ہے؟ عورتوں کا لکھا ہوا ادب یا عورتوں کے لئے لکھے جانے والا ادب؟ عام خیال یہی ہے کہ نسائی ادب سے مراد خواتین کے ہاتھوں ضبط تحریر میں آنے والا ادب ہے۔ وہ زمانہ ابھی تاریخ کے اوراق سے محونہیں ہوا جب خواتین  کے لئے الگ ہی کتابیں لکھی اور چھاپی جاتی تھیں۔ اس کام میں اگر چہ علامہ راشد الخیری اور ڈپٹی نذیر احمد کے نام نمایاں ہیں لیکن رازق الخیری،مولانا سیماب اکبر آبادی، مولوی عبدالغفار خیری جیسے نام سر فہرست ہیں۔ اسی طرح خواتین کے لئے خواتین ہی کے لکھے ہوئے ادب میں بھی بہت سے نام ملتے ہیں۔علامہ کے گھرانے سے محترمہ آمنہ نازلی کا نام بہت نمایاں ہے جو خواتین کیلئے شائع ہونے والے رسالے عصمت کی جوائنٹ ایڈیٹر تھیں، اسی ادارے سے نوعمر لڑکیوں کیلئے رسالہ ”بنات“ چھپتا تھا۔خواتین کے لئے لکھنے والی خواتین  میں کئی نام قابل ذکر ہیں: منجھو بیگم،بلقیس جمال، خاتون اکرم، صغرا ہمایوں مرزا،نذر سجاد حیدر،بلقیس بیگم،حجاب اسماعیل اور سرور جہاں رعنابی اے وغیرہ۔ یہ سارا ادب خواتین کو کیا نہیں پڑھنا چاہئے، اس کا احول بہشتی زیور جیسی تاریخی او ریادگار کتاب میں ملتا ہے۔بعض کتابیں خواتین سے دور رکھی جاتی تھیں یا جن کا گھر میں لانا منع تھا۔اس پر مثنوی زہر عشق، مصور خاص طور پر قابل ذکر ہے جسے دیکھنے کا موقع ملا تو بڑے اشتیاق سے دیکھی۔محبوبہ اپنے محبوب کے ساتھ لیٹی تھی اور بس۔ اس زمانے میں اس قسم کی ممانعت جاری کرنے والے آج کے دور میں لوٹ آئیں تو شرم وحیا سے بار بار مریں او رغور سے دیکھنے کی خاطر ہر بار جئیں۔

اس کے بعد ہم نے نسائی ادب کے کتنے ہی دور دیکھے۔میری بہنیں جب تک چھوٹی تھیں، مجھے یقین ہے ان کے لئے رسالہ بنات آتا ہوگا۔ اسی زمانے میں، سنہ 1933 کے لگ بھگ میری سب سے بڑی بہن باقری بیگم نے رسالہ عصمت کو اپنی ایک تحریر بھیجی جو شائع بھی ہوئی لیکن اس میں ان کا نام بنت اکبر علی لکھا تھا۔ ان دنوں عوام کے لئے شائع ہونے والی تحریروں میں خواتین اپنا نام لکھنا مناسب نہیں سمجھتی تھیں۔ جب میں نے ہوش سنبھالا، ماہنامہ عصمت کا چراغ ٹمٹما رہا تھا اور حور، زیب النسا ء اور بانو جیسے مقبول رسالے آگئے تھے۔ پھر کچھ عرصے شمع او ربیسویں صدی ابھر ے جنہیں عورتوں سے پرے ہی رکھا گیا۔مجھے یاد ہے،میرے ضعیف ماموں نے ایڈیٹر شمع کو پوسٹ کا رڈ لکھا تھا کہ آپ کے رسالے میں افسانے پڑھ کر مجھ بوڑھے کو بھی ہیجان ہوتاہے۔

پھر وقت بدلا۔ خواتین کے ناولوں نے زور پکڑا۔عورتوں کے لئے موٹے موٹے ضخیم ناول چھاپنے کا خیال نہیں معلوم کس کو آیا، مگر یہ ناول اتنے مقبول ہوئے کہ مردوں نے عورتوں کے نام سے بھاری بھرکم ناول لکھنا شروع کردیئے۔ یہ سلسلہ ختم ہوا تو ڈائجسٹوں کا زمانہ آیا۔ یہ راز آج تک نہیں کھلا کہ خواتین کو ڈائجسٹ کیوں بھائے لیکن یہ سچ ہے کہ ناشروں نے خواتین کو ذہن میں رکھ کر ڈائجسٹ نکالنا شروع کئے جو آج بھی خوب چھپتے ہیں اور خوب خریدے جاتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ بے شمار خواتین نے لکھنا شروع کیا اور اس طرح مصنف خواتین کی ایک فوج کھڑی ہوگئی۔ پھر تین عورتیں تین کہانیاں جیسے عنوان سے نسائی تحریروں نے زور پکڑا او ربے شمار عورتیں لکھنے کی طرف مائل ہوئیں۔

یہ سب ہوتا رہا، ترقی پسند ی کا دور آیا اور اب لکھنے والی خواتین نے اپنا چولا بدلا او رمردوں کے شانہ بشانہ لکھنے لگیں۔اس مرحلے پر یہ سوال کیا جاسکتا تھا کہ نسائی ادب کے نام سے یہ تخصیص کیوں؟ کیا ان کا لکھا ہوا مردوں کی تحریر سے مختلف ہوتاہے، کم تر ہوتا ہے، کچھ الگ شناخت رکھتا ہے یا دور ہی سے پہچانا جاتاہے؟ اگر خواتین کے لکھے ہوئے کو ایسی کوئی شناخت دی جائے تو اس کے خلاف احتجاج ہونا چاہئے اور جلوس نکلنے چاہئیں۔مشرق ہو یا مغرب، خواتین بڑھ چڑھ کر لکھ رہی ہیں، نام پارہی ہیں اور سراہی جارہی ہیں۔ میں نام لینے سے گریز کروں گا۔ اس آن لائن مذاکرے میں صالحہ عابد حسین او رجمیلہ ہاشمی کا نام سننے میں آیا، مگر ایسا ہوجاتاہے، کسی کا قصور نہیں۔ یہ بے حد پڑھی لکھی خواتین تھیں اورانہوں نے نہایت اعلیٰ ادب تخلیق کیا۔ مجھے یاد ہے جمیلہ ہاشمی مرحومہ منصور حلاج کے بارے میں کچھ لکھ رہی تھیں اور وہ اور ان کی بیٹی لندن میں ایک کتاب ڈھونڈتی پھر رہی تھیں۔ ان کا اشتیاق دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ تخلیقی ادب میں تحقیق کی کتنی اہمیت ہے۔ حسن اتفاق سے اس کتاب کا ایک نسخہ میرے ذخیرے سے نکل آیا جو میں نے تحفے کے طور پرانہیں پیش کردیا۔ اس روز ان کی سرشار ی دیکھنے کے قابل تھی۔

میں جانتا ہوں،تحقیق کرنے والے اسی دھج کے ہوتے ہیں۔

15 اگست، 2021، بشکریہ: روز نامہ چٹان، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/women-literature/d/125230


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..