New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 10:33 AM

Urdu Section ( 20 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Muslim Consciousness of Persona of Muhammad, the Messenger of God مسلمانوں کا عقیدہ رسالت ، پیرس میں ایک انتہا پسند مسلم کا سیموئل پیٹی کو قتل کرنا ایک تشویشناک واقعہ


راشد سمناکے، نیو ایج اسلام

19 اکتوبر 2020  

  چیچنیا کے ایک شہر ماسکو  میں پیدا ہونے والے ۱۸ سالہ نوجوان عبدالاخ اے نے  جمعہ کی شام  پیرس میں تاریخ کے استاد سموئیل پیٹی کا  سر قلم کر دیا ۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ  ان دلدوز  واقعات  کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جو  حال ہی میں یورپ میں پیش آئے ہیں  جہاں مسلمان اپنی زندگی بہتر بنانے کے لئے آتے ہیں۔وہ   بخوبی جانتے ہیں کہ جن ممالک میں وہ ہجرت کرکے آئے ہیں ان کے  آئینی ، ثقافتی اور مذہبی اصول وضوابط کس طرح کے ہیں۔   لیکن اس کے باوجود اس طرح کی ذہنیت کا بوجھ اٹھائے رکھنا  انتہائی حیرت انگیز ہے  جبکہ  انہیں نئے ملک میں آمد کے دوران اس ذہنیت کو  یا تو پیچھے چھوڑ آنا چاہیے تھا  یا انہیں ترک  کر دینا چاہیے تھا ۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس طرح کے واقعات میں جو وحشیت اور درندگی رونما ہوتے ہیں انہیں بیان کرنا انتہائی  حیران کن ہے ، خاص طور پر اس وقت جب  اسے اللہ اکبر کے نام پر انجام دیا جاتا ہے ۔  اس خدا کے نام پر جو  " سب سے زیادہ رحم کرنے والا ، نہایت رحم والا " ہے ۔  اس نوجوان کو جسےاس کے گھناؤنے جرم کے دوران پولیس نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا ، اس نے مبینہ طور  اللہ اکبر کے نعرے لگائے تھے۔   یہ اللہ کے لئے " لو جہاد " کا رسم بن گیا ہے!

چونکہ یہ واقعہ نماز  جمعہ کی  ادائیگی کے بعد پیش آیا اس لیے یہ  پوری دنیا کے مسلمانوں کے اثر و رسوخ کے مراکز کے متعلق  بہت کچھ بیان کرتا  ہے ۔  علاوہ ازیں یہ کہ اگلے دن پیرس کی ایک مسجد  کے امام طارق اوبرو نے پریس کو بتایا کہ "ایک تہذیب کسی بے گناہ شخص کو نہیں مارتی  بلکہ   بربریت ایسا کرتی ہے۔" کیا ہی خوب تضاد بیانی ہے !

 

Demonstrators like the one shown here carried "I am Samuel" signs as they gathered on Place de la République in Paris on Sunday to pay tribute to slain history teacher Samuel Paty. Similar gatherings took place in several other cities as France reels from the attack.

Bertrand Guay/AFP via Getty Images

 آخر یہاں ہوا کیا تھا؟

 فرانسیسی استاد نے  اپنے کلاس طلباء کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ و سلم  کا کارٹون دکھایا جس نے  18 سالہ نوجوان کی حساسیت اور  جذبات کو اس حد تک بھڑکایا کہ اس نے استاد کاقتل ہی کر ڈالا ! آخر   کیوں؟

کیونکہ  محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات  نے صدیوں سے مسلم شعور میں متفقہ طور پر اللہ کے  نائب کا رتبہ حاصل کر رکھا ہے ۔  وہ کلام جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے  (امرت ) انہیں  حکم دیتا ہے کہ وہ  خدا  کے ساتھ کسی  اور کو  شریک نہ کریں ۔ ،  کیونکہ تمام چیزوں کا خالق اللہ  ہے اس لیے  مخلوق  خالق کے برابر نہیں ہوسکتا ہے۔

 یہ کسی بھی طرح سے کوئی نیا یا انوکھا پیغام نہیں تھا ، کیونکہ کتاب  میں اس بات کو پر زور  انداز میں  کہا گیا ہے کہ یہی پیغام  اللہ  کے پچھلے تمام  رسول  اور انبیا لیکر آئے تھے ، ان کی یہ جماعت    انسانوں کی وحدت کے لئے  تھی۔

 بالخصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  کی اس قدر  مقدس  عظمت،  مسلم کے عقیدہ لا الہ الا اللہ  محمدرسول اللہ سے ماخوذ ہے ۔ یہ ایک ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ایمان کا اعلانیہ اظہار کرتے ہیں جس میں دیگر رسولوں کا نام نہیں ، جبکہ رسول عربی کا نام ہے اور وہ  بھی عربی زبان میں  جو اسلام کے آفاقی پیغام کو عرب میں عربی اجارہ داری کے لیے مضبوط بنانے والا ہے  ۔

 

Girls light candles on Saturday outside the school where a slain history teacher worked in Conflans-Sainte-Honorine, northwest of Paris. French President Emmanuel Macron denounced what he called an 'Islamist terrorist attack' against the teacher, who was decapitated on Friday, urging the country to unite against extremism. (Michel Euler/The Associated Press)

  گفتگو کو مختصر کرنے کے لئے ، قرآن کی مزید دلیل کیلئے   براہ کرم اپنے فارغ وقت میں  یہ دیکھیں:

https://www.newageislam.com/islamic-society/rashid-samnakay,-new-age-islam/muslim-majority-has-adopted-dualism

 جب ایک ۱۸ سالہ باہمت  نوجوان  کے   دماغ  کو  جمعہ کے دن ممبر  خطبہ سے برین وا  ش کیا جاتا ہے اور خدا کے نام پر جنت میں متعدد حوروں کا وعدہ کیا جاتا ہے  تو اس  میں کوئی حیرت نہیں کہ سماج میں اس طرح کی وحشیانہ حرکت وقوع پذیر ہوں گی۔ سماج  بھی اس طرح کا کہ جس کے عادات واطوار اور اصول وضوابط اس نوجوان کے ان عقائد ونظریات  سے  کلی طور پر مختلف ہیں جنہیں وہ اپنے مادر وطن سے لیکر آیا ہے ۔  مزید یہ کہ جب ایک شخص   اپنی  حق آزادی کا استعمال کرتے ہوئے   مختلف معاشرتی  اصولوں پر مبنی ایک سماج  کی طرف ہجرت کرتا ہے  جس  کی خود کی مقدس ہستیوں کو ان کے اپنی تہذیب وثقافت اور آئین  میں کوئی مقام خصوصیت نہیں ، اور ہجرت کرنے کے بعد وہ شخص وہاں اس طرح کا حملہ کرے تو یقینا یہ حیرت انگیز ہے ۔

آخر  کیوں امام طارق اوبرو  جیسوں کی تعلیمات کا وہاں کے مسلمانوں کی بڑی جماعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا؟  اگرچہ امام کے بیان سے قطعی طور پر کتاب  اللہ کی صدا آتی ہے ۔

 اس کا جواب ان تنظیموں کے پاس  ہونا چاہئے جو اپنے ایجنڈوں کے لیے  نوجوانوں کا برین واش کرنے  کی کفالت کرتی ہیں  ۔ لامحدود مانیٹری اور دیگر وسائل کی مدد سے یہاں  بھارے کے ٹٹو اور کرایے کے  جاہل سپاہیوں کی کمی نہیں ۔   ان کے برگیڈئیر  یورپ میں  اسلام اور  اس کے اعزاز کی جھوٹی خدمت کی خاطر عیش وعشرت  کے ساتھ   مذہبی لبادے میں گھومتے پھرتے  نظر آتے ہیں تاکہ وہ اس عمل کے ذریعے حقیقی مسلمانوں کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکیں۔

بالآخر  اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بلاشبہ یہ  'روشن خیال' اور امیر  ممالک  اپنی  فراخ دلی  کے نتیجے میں اپنے ہی قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کو  اس طرح کے خطرناک مہاجروں کی آمد سے حفاظت کرنے کے فریضے  سے غفلت برتتے  ہیں۔ان کی اس غفلت کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ  اپنے حکام کو خاطر خواہ وسائل مہیا نہیں کرتے تاکہ وہ اچھی طرح سے ان مہاجروں کی تفتیش کر سکیں جو ان کے ملک میں آباد ہونے کی آرزو رکھتے ہیں۔اس طرح سے وہ طارق اوبرو کے متبعین جیسے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں جو اپنے  منتخب ملک میں  ضم کرنا چاہتے ہیں۔اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ  حالیہ بن بلائے  مہاجروں کی آمد سے قبل   ماضی میں  ان ممالک میں مسلمانوں کی اتنی  مذہبی اشتعال انگیزی کبھی وقوع پذیر  ہوئی ہو  جتنا کہ آج ہورہی ہے  ۔ تو   اب  ایسا کیوں؟

 ہر کسی کو اعتراف کرتے ہوئے اس  حقیقت  کو تسلیم کرنا ہوگا  کہ حکومت کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی  ذمہ داریوں اور معاشرے کے 'روشن خیالی' پہلو کو متوازن بنانا ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔  ایک عام آدمی کے نقطہ نظر سے ایسا  معلوم ہوتا ہے کہ حکومتوں کی جانب سے  ایک  مشترکہ کوشش  کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کے ذریعے قانون کی پاسداری کرنے والے  اقلیتوں کی مدد کی جا سکے تاکہ وہ  تحفظ کے سلسلے میں اپنے  اختلاف رائے کا اظہار کریں  اور  کھل کر ان  مبلغین کے خلاف  مزاحمت کریں  جن کا مقصد قوم کی ہم آہنگی کو ختم کرنا ہے۔  ان   اشتعال انگیز کرنے والے  ایجنٹوں  کو بے نقاب کیا جانا چاہئے ، انہیں شرم وعار دلائی جائے اور  ملک کے قانون کے مطابق  سزا دی جانی چاہئے۔

URL for English article:  https://www.newageislam.com/islamic-society/the-muslim-consciousness-persona-muhammad/d/123197

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-muslim-consciousness-persona-muhammad/d/123212


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..