New Age Islam
Thu Sep 17 2020, 11:57 PM

Urdu Section ( 15 Jan 2018, NewAgeIslam.Com)

Celebration of Anmbia’s Birthday انبیاء کی یوم پیدائش کا جشن

 

راشد سمناکے ، نیو ایج اسلام

29 دسمبر 2017

میری خواہش تھی کہ میرا کوئی مسلم دوست عید میلاد النبی کے جشن میں شامل ہونے کے لئے مجھے مدعو کرتا جو اس سال کے اختتام پر منایا گیا۔ مجھے یہ پوچھ کر خوشی ہوتی کہ "آپ کس نبی کے یوم پیدائش کا جشن منا رہے ہیں"، تاکہ مجھے مدعو کرنے والے دوست کے کیف و اضطراب کا نظارہ مسیر ہوتا ، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا !

اس سال دسمبر کے وسط میں واقع ہونے والا نبی محمد ﷺ کی یوم پیدائش نبی عیسی ابن مریم کی یوم پیدائش سے صرف ایک ہفتے کے پہلے منایا گیا ، جسے عام طور پر کرسمس بھی کہا جاتا ہے ، جو کہ عیسی مسیح کی پیدائش کا دن ہے؛ لہذا یہ سوال ایک مسلمان سے پوچھنا مناسب ہوگا۔ کہ ایسا کیوں کر ہوا؟ یہی میرا اندازہ ہے:

ایک مسلمان کے ایمان کے ایک اہم حصے کی تکمیل قرآن کی ان دو آیات 3-2، 4-2 میں سے ایک سے ہوتی ہے ، جس کی تعلیم کو مسلمان اپنا نظام حیات مانتے ہیں۔

2-4 ۔۔۔ والذن یومونون بما انزل الیک وما انزل من قبلک - اور جو لوگ اس وحی پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ پر (اے محمد) نازل کی گئی اور جو آپ سے پہلے بھی نازل کی گئی۔

اور ایمان کا یہ جز اس کتاب کی ابتدا میں مذکور ہے۔

سابقہ رسولوں سمیت صرف ستائیس ہی نیک لوگوں کا ذکر ان کے ناموں کے ساتھ قرآن میں موجود ہے۔ لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں خدا نے صرف انہیں رسولوں کا ذکر ان کے ناموں کے ساتھ کیا ہے جبکہ آپ ﷺ سے قبل مبعوث کئے جانے والے اور بھی انبیاء و رسل ہیں جن کا نام اس کتاب میں نہیں ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن میں ایسے گم نام انبیاء و رسل کی کوئی تعداد بھی بیان نہیں کی گئی ہے۔

لہذا لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان کی مجموعی تعداد کتنی ہو سکتی ہے۔ جب کہ بائبل کے حوالے سے اس کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار اور ساڑھے پانچ صدیوں کے بعد حدیث میں اس کی تعداد بائبل سے کم ایک لاکھ سو بیس چار ہزار بیان کی گئی ہے! جبکہ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ یہ تعداد کس طرح نکالی گئی ہے۔

تاہم، قابل ذکر بات یہ ہے کہ نبی عیسی ابن مریم / یسوع مسیح کا ذکر قرآن میں اٹھائیس مرتبہ وارد ہوا ہے اور ان کی سالگرہ بہت سے معاملات میں پورے عالم عیسائیت کے اندر مذہبی طور پر منایا جاتا ہے، تاہم اس کے فرقوں کے درمیان تاریخ کا تھوڑا سا فرق ضرور موجود ہے۔ اور یہ صورت حال مسلمانوں سے مختلف بھی نہیں ہے جس میں سنیوں اور شیعوں کے درمیان ربیع الاول کے مہینے میں عید میلاد النبی منانے میں ایک ہفتے کا فرق ہے ۔ قرآن میں کسی بھی بنی کی پیدائش کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عید میلاد النبی کے مذہبی جشن کے حوالے سے مسلمانوں کے درمیان بڑے تنازعات موجود ہیں اس لئے کہ بعض مسلم علماء جشن عید میلاد النبی کو بدعت اور قرآن کے خلاف مانتے ہیں۔ جبکہ کچھ جماعتیں پورے جوش و خروش کے ساتھ عید میلاد النبی کا جشن مناتے ہیں جس میں وہ خوبصورت نغمیں گاتے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ خاموشی کے ساتھ مذہبی رایات کے ساتھ اس جشن کا انعقاد کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا تنازعات ایک طرف، لیکن قرآن سے جو واضح ہوتا ہے وہ اسلام کا ایک اہم مسئلہ ہے – وہ ایک نظام ہے جس کی تبلیغ قرآن کرتا ہے اور مندرجہ بالا آیت سے جس کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو پوری انسانیت کے درمیان ایک خاص اور علیحدہ معاشرے کی شکل میں تنہا کھڑا نہیں ہونا چاہئے بلکہ انہیں انسانیت کی بنیاد پر اور ایمان کی بنیاد پر بھی انسانی نسل میں مجموعی طور پر شمولیت کی روح اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا کے دیگر تمام رسول جو بنیادی طور پر مصلح تھے اس سے قطع نظر کہ ان کا ذکر ان کے نام کے ساتھ قرآن میں ہے یا نہیں ، قرآن کی تعریف کی رو سے ان تمام کا رسولوں کی ایک جماعت سے تعلق ہے ، اور یہی بات تکثیریت پسند بناتی ہے جسے انسانیت کے اتحاد کے لئے اپنایا جاسکتا ہے، مثال کے طور پر آیت 10:19 اس کی حمایت کرتی ہے:

10:19 - اور تمام لوگ ایک ہی امت کے تھے پھر انہوں نے اختلاف پیداکرلیا۔

جیسے جیسے انسانیت ترقی کرتی گئی ویسے ویسے اس میں جنم لینے والے اختلافات نے نہ صرف یہ کہ انسانی معاشروں کی زمرہ بندی کی ہے بلکہ بدقسمتی سے ان کے درمیان زبردست مذہبی اختلافات و انتشار کا ایک وسیع خلا بھی پیدا کر دیا ہے ۔

معاشروں کی علیحدگی کا تصور قرآن نہیں پیش کرتا ہے کیونکہ اس کا مقصد اس سے ایک دوسرے کے فطری تفاوت کی "شناخت" قائم کرنا ہے، لیکن اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن انسانیت کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دینے والے اختلافات و انتشار کی مذمت کی گئی ہے، مثال کے طور پر:

6:159 - بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے۔

تعلقات کی عدم بحالی کو کسی بھی صورت میں جارحانہ اور مخالفانہ رویے کو فروغ دینے کے جواز کے طور پر نہیں پیش کیا جاسکتا ہے، بلکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے! لہٰذا طبقات کی تقسیم انسانی برادری کے درمیان ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لئے ہے نہ کہ اختلافات و انتشار پیدا کرنے کے لئے ہے۔

مندرجہ بالا آیت 4-2، کو اگر وسیع ترین معنوں میں سمجھنے کی اگر کوشش کی جائے تو ایک تصویر سامنے آتی ہے کہ انسانیت اس عقلی اور فکری پائیدان تک ترقی حاصل کر چکی ہے جہاں اس کی سیڑھیاں زمین کے کل چاروں جہت میں رسولوں اور مصلحوں سے تیار کی گئی ہیں "جن میں سے کچھ کے نام ذکر کر دئے گئے ہیں اور کچھ کے نام مذکور نہیں ہیں"، تاکہ اس ترقی کو آسان بنایا جا سکے۔ لہذا وہ سب اپنے زمانے کے انبیاء تھے اسی لئے ان کی قدر کی جانی چاہئے اور انسانی ترقی میں ان کے تعاون کا احترام کیا جانا چاہئے۔ لہذا کسی ایک مخصوص نبی کو متعین کر لینا 'شخصیت پرستی' کے شرک میں ملوث ہونا اور 4-2 کو نظر انداز کرنا ہے۔

اس جشن کی عملییت میں مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ خواہ ان کی جتنی بھی تعداد متعین کی جائے اتنے زیادہ میں موجود انبیاء کے ساتھ مساوی طور پر انصاف کا معاملہ کرنا محال ہے۔ بصورت دیگر دوسروں کو خارج کرنے سے مذکورہ بالا آیت کا انکار لازم آتا ہے۔

اس صورت میں ایک مخلوط معاشرے کے اندر ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنے کےلئے عقل کی تجویز یہی ہوگی کہ جو کوئی بھی معاشرہ خوشی کے ساتھ اپنے نبی کا جشن مناتا ہے اور دوسروں کو اس میں مدعو کرتا ہے تو اس میں شامل ہونا چاہئے اور اس جشن سے لطف اندوز ہونا چاہئے ، لہٰذا، کھائیں پئیں اور "اور اس نعمت کے لیے اللہ تعالی کا شکر کریں جو اس نے عطا کیا ہے"۔ اور جب ایسا کوئی موقع پیش آئے تو دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں۔

مسلمانوں کی خطبہ گاہوں سے اکثر ایسے خطابات پیش کئے جاتے ہیں جن میں کرسمس کے جشن میں شریک ہونے اور اس کی مبارکباد پیش کرنے سے مسلمانوں کو روکا جاتا ہے، اس بنیاد پر کہ عیسائی عیسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن دوسروں کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

یہ اس حقیقت کا انکار ہو گا کہ بعض مسلم معاشروں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت پرستی غالب ہے اور عید میلاد النبی کچھ جماعتوں میں اس ثقافت کی ایک اچھی مثال ہے۔ نعت خوانی اور قوالی میں ایسے ایسے جملے ہوتے ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معاونت طلب کی جاتی ہے اور جن میں آپ ﷺ کو خدا کا مقابل بنایا جاتا ہے جو کہ شرک ہے۔ اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ بہت سے علماء "جشن یوم ولادت" کو بدعت قرار دیتے ہیں۔

انسانوں کے عام معاشرے میں سماجی طور پر اپنے تہواروں کا جشن منانے والے دیگر معاشروں کے ساتھ شرکت بغیر کسی مذہبی جذبہ کے آیت 4-2 کی حقیقی روح کے ساتھ کرنی چاہئے۔ کرسمس کا جشن اور یقینا بہت سے دوسرے مواقع آج مغربی ممالک میں عام طور پر صرف ایام تعطیلات اور ملنے جلنے، دوستی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے ایک موقع کے طور پر منایا جاتا ہے۔

لہذا، جب کبھی اور جہاں کہیں بھی کرسمس کا تہوار اور جشن عید میلاد النبی منایا جائے اس میں شرکت کریں۔ لیکن اب نئے سال کا بھی جشن منایا جاسکتا ہے اگرچہ یہ چاند کا نیا سال نہیں ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/rashid-samnakay,-new-age-islam/celebration-of-anmbia’s-birthday/d/113742

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/rashid-samnakay,-new-age-islam/celebration-of-anmbia’s-birthday-انبیاء-کی-یوم-پیدائش-کا-جشن/d/113942

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..