New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:56 PM

Urdu Section ( 27 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Bright Light of Leadership from the Dark Continent Must Shine on Muslim Leaders تاریک براعظم سے قیادت کی روشنی مسلم قائدوں کے لئے ضروری

 

راشد سمناکے، نیو ایج اسلام

17 فروری 2018

جمہوریۂ جنوبی افریقہ کے رخصت ہونے والے زیکوب زوما کا "فوری اثر" کے ساتھ استعفی دینے کا اعلان مسلم دنیا کے بہت سے بے غیرت اور بے دخل کئے گئے سیاسی رہنماؤں کے رویہ سے شدید متضاد ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک تباہ ہو جائے اور ان کی قوم روئے زمین سے مٹا دی جائے۔ اور ان سب کے بعد ہی وہ اپنی اقتدار کی کرسی چھوڑتے ہیں۔ جناب زوما نے اپنی تقریر میں کہا تھا: -

"میرے نام پر ایک بھی جان ضائع نہیں ہونی چاہئے اور اے این سی (افریقی نیشنل کانگریس) میں کبھی بھی میرے نام پر پھوٹ نہیں پڑنی چاہئے۔"

 یہ زوما کی طرف سے ایک قوم کے ایک حقیقی رہنما کے فرائض اور مقصد کی تصدیق ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول کے تناظر میں بے غرضی اور ذمہ داری کے احساس نے لوگوں کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ : اوہ زوما – تم تو ابلیس کے بھیس میں فرشتہ نکلے!

زوما کے خلاف بدعنوانی اور دیگر بدانتظامی کے الزامات کی فہرست طویل ہے، لیکن ان کا عملی اقدام اور شاندار اعلان جمہوریۂ جنوبی افریقہ کے لوگوں کے لئے انہیں سیاسی سنت قرار دینے کے لئے کافی اہم ہے۔

اگرچہ ان کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ غیر تعلیم یافتہ ہیں لیکن اس کے باوجود زندگی کی حرمت، اپنی پارٹی کے اتحاد اور اپنے ملک کی ہم آہنگی کے بارے میں ان کی تشویش مسلم دنیا کے بہت سے نام نہاد "تعلیم یافتہ" اور یہاں تک کہ پارسا سیاسی رہنماؤں کے لئے شرم کی بات ہے کہ جو اپنے اس ملک میں اقتدار کی کرسی پر بنے رہنے میں مدد کے لئے غیر ملکی قوتوں کو دعوت دینے میں کوئی تردد محسوس نہیں کرتے ہیں جس کی حفاظت کے لئے حلف لینے وقت وہ اپنے ہاتھ وں میں صحیفہ آسمانی لیکر قسم کھاتے ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ براعظم افریقہ کے جنوب سے تعلق رکھنے والی قوم کہ جسے ایک زمانے میں پوری حقارت کے ساتھ "تاریک براعظم" کہا گیا تھا اب اس کے رہنما قدرتی طور پر اپنے ملک کے تئیں احساس ذمہ داری اور محبت سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ رابرٹ موگابے نے بھی اقتدار میں رہنے کے لئے ایک طویل جدوجہد کے بعد اسے چھوڑ ہی دیا تھا۔ اس کے باوجود اپنی پرطرفی پر ان کا اور فوج کا جو ردعمل تھا وہ سیاسی پختگی کا ایک سبق (ایک سال کے لئے پنشن کے طور پر ایک ملین ڈالر کے باجود!)۔ جو کہ مشرق وسطی کی قیادت کے ذریعہ پیش کئے گئے نمونوں سے مکمل طور پر متضاد ہے۔

نیلسن منڈیلا: کی محنتوں اور کوششوں کو بھلایا نہیں جا سکتا، ایک زمانےمیں "تبدیلی کی ہوا" کو روکنے میں نسلی متعصب لیڈر ایف ڈبلیو دی کلرک نے انہیں ستائیس برسوں کے بعد جیل سے رہا کر دیا۔ اس کے بعد نیلسن منڈیلا انتخابات میں کھڑے ہوے، ان میں فتح حاصل کی اور صدر کے طور پر صرف ایک میعاد تک اپنی خدمات پیش کیں اور اس کے بعد انہوں نے پوری حسن خوبی کے ساتھ خود کو اقتدار سلطنت سے الگ کر لیا تا کہ نوجوان اسے سنبھالیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک سے چلنے والی ہواؤں میں کوئی تو ایسی خوبی ہے جو سیاستدانوں کو اس طرح کا اعلی کردار ادا کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اگرچہ انسانی کمزوریوں کی بنیاد پران سب کو اور خاص طور پر زیکوب زوما کو فرشتہ نہیں قرار دیا جانا چاہئے، جو شاید ایک مسکراہٹ کے ساتھ یہی کہیں گے کہ "ہم فرشتہ نہیں ہیں"۔

جسے اکثر دنیا کے ان دیگر حصوں میں غیر متمدن سمجھا جاتا ہے، دنیا کے اس حصے سے آنے والی ان حالیہ مثالوں کو وہ لوگ کیسے تسلیم کر سکتے جو اپنی تہذیب و تمدن کو ہزاروں سال قدیم بتاتے ہیں۔ اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اس وجہ سے ان کا سیاسی شعور اس طویل عرصے میں بالغ ہو چکا ہے۔ افریقہ سے مندرجہ ذیل دو مثالوں پر غور کریں:

ملک کی ریاستی ٹیلی ویژن پر یہ خبر شائع ہوئی کہ ایتھوپیا کے وزیر اعظم، ہالیہ مریم دسالین نے غیر متوقع طور پر استعفی دے دیا۔

ایک ٹیلی ویژن بیان میں انہوں نے کہا کہ ان کا استعفی "ان اصلاحات کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے جو پائیدار امن اور جمہوریت کی قیادت کرے"۔

تازہ ترین تشدد میں حزب اختلاف کے احتجاج کے بعد 10 افراد ہلاک ہوئےاور درجنوں زخمی۔ اس وقت اس کا موازنہ پورے ملک کی اس تباہی کے ساتھ کیا گیا جو اس لئے رونما ہوتی ہے کیونکہ رہنماؤں کو لگتا ہے کہ پوری زندگی یا کم از کم اگلے بدعنوان انتخابات تک اقتدار کی کرسی پر بیٹھے رہنا ان کا الہی حق ہے!

لیکن مندرجہ ذیل نمونہ سب سے ممیز و ممتاز ہے۔

شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ؛ کابیلا، جو بندرگاہ کے شہر ماتادی میں تیل کا کارخانہ اور انتظامی عمارت تعمیر کر رہے تھے "اس وقت تک سائٹ پر ہی موجود رہے جب تک کہ ہنگامی خدمات وہاں نہیں پہنچ گئیں، اور انہوں ذاتی طور پر مرنے اور زخمی ہونے والوں کے ایمبولینس کے انخلاء کی نگرانی کی۔"

ایک سیمنٹ سے بھرے ہوئے ٹرک اور جمہوریہ کانگو کے صدارتی جلوس کے حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

ابھی ماضی قریب میں ہی ایک "اسلامی جمہوریہ" میں ایسا ہی ایک واقعہ رونما ہوا۔ ایک حادثے میں ملوث "موٹر سائیکل سوار جلوس" کسی موجودہ وزیر اعظم کا نہیں بلکہ اس شخص کا تھا جسے حال ہی میں اس ملک کی اعلی ترین عدالت کے نااہل قرار دیکر وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹا دیا تھا۔

ایک بچے کے اوپر گاڑی چڑھا دی گئی اور کہا جاتا ہے کہ اسے کچلنے والے موٹر سائیکل سواروں میں سے کسی نے بھی اس کی مدد کے لئے اپنی گاڑی نہیں روکی اور نہ ہی حکام کو اس حادثے کی تحقیقات کرنے کی اجازت دی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ آج تک حکام نے ان کے اس ظالمانہ عمل کے خلاف کوئی دعویٰ دائر نہیں کیا ہے! اس کے برعکس جن رہنماؤں کی وہ موٹر سائیکل تی انہوں نے اس بچے کی موت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے عید الاضحیٰ کے موقع پر سب سے پہلی قربانی قرار دیا۔

وہ مکمل افسوس ناک واقعہ مندرجہ ذیل لنکس پر پڑھا جا سکتا ہے:

http://www.newageislam.com/islamic-society/rashid-samnakay,-new-age-islam/the-sacrifice-of-a-human-child-for-eid-ul-adha-for-political-gains/d/112287

PMLN Used the Death of The Child As A Slogan To Perpetuate Their Nefarious Reign

http://www.newageislam.com/current-affairs/murtaza-haider-khan-khakwani/pmln-used-the-death-of-the-child-as-a-slogan-to-perpetuate-their-nefarious-reign/d/112223

https://www.dawn.com/news/1350964

مسلم لیڈروں کے مندرجہ بالا اور بہت سی دیگر عادتیں یہ تاثیر دیتی ہیں کہ مذہب اسلام ہی اس کے پیروکاروں کے درمیان اس برے کردار کا اصل سبب ہے۔ اور اگر مسلم ممالک میں اسلام کے نام پر مسلمانوں کی کارستانیوں کا مطالعہ کیا جائے تو اس نقطہ نظر کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایسے عینی شواہد ہیں کہ جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اپنے ذاتی مفادات اور کردار کی ناکامی پر مبنی سیاسی ضرورت کے تحت اٹھائے گئے کسی بھی اقدام کو فوری طور پر مذہب کا رنگ دے دیا جاتا ہے، جس میں بالعموم تمام کو اسلام کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے اقدام کے نقادوں کو خاموش کر دیا جاتا ہے کیونکہ ان میں سے اکثر کے پاس اس بات کا کوئی علم نہیں ہوتا کہ اسلام اور قرآن کے اصول و ضوابط کیا ہیں۔

ان اصول و ضوابط سے اچھی طرح واقف ایک شاعر نے کہا ہے۔

فطرت افراد سے اغماز بھی کر لیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف۔11-117 وغیرہ

 سماجی بنیادوں پر انفرادی کردار کی برائیاں قوموں کو موت سے ہمکنار کرتی ہیں ؛ یہی فطرت کا قانون ہے۔ اور یہی معاملہ مسلمانوں اور ان کی قیادت کا ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/rashid-samnakay,-new-age-islam/bright-light-of-leadership-from-the-dark-continent-must-shine-on-muslim-leaders/d/114317

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/rashid-samnakay,-new-age-islam/bright-light-of-leadership-from-the-dark-continent-must-shine-on-muslim-leaders--تاریک-براعظم-سے-قیادت-کی-روشنی-مسلم-قائدوں-کے-لئے-ضروری/d/114434

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..