New Age Islam
Thu Oct 29 2020, 01:54 AM

Urdu Section ( 12 Feb 2013, NewAgeIslam.Com)

Observing Valentine Day is un-Islamic اسلام اور ویلن ٹائن ڈے

 

راحیل گوہر

12 فروری، 2013

انسان بدن اور روح کا مرکب ہے۔ ان دونوں عناصر کی آبیاری انسان کے اپنے طرز عمل پر منحصر ہے۔ روح امر رب ہے او ربدن کو مصور کائنات نے گندے  پانی کی ایک بوند سے تخلیق  کیا ہے، پھر ان دونوں  کے مرکب انسان کو مسجود ملائک بنادیا۔ ارشاد ربانی : ‘‘ پس جب میں اسے درست کر چکوں اور اپنی روح  میں سے کچھ  پھونک  دوں تو تم اس کے آگے سجدہ ریز ہوجانا’’( سورۃ الحجر :29)

جب انسان کی بداعمالیوں  اور سرکشی کی بناء پر اللہ تعالیٰ  سے اس تخلیق کا تعلق کمزور پڑنے لگتا ہے تو ابلیسی  قوتیں انسانی وجود  پر غالب آنے لگتی ہیں اوروہ فسق و فجور کی جانب مائل ہوجاتاہے۔ یوں اچھا بھلا انسان وحشی  کا روپ دھار لیتا ہے اور اسی وحشی  پن کے مظاہر میں سے ایک جنسی  بے راہ روی ہے۔ اس کے زیر اثر آج مغرب میں جا بجا جنسی اختلاط کے اڈے کھولے گئے ہیں۔ ہم جنسی  پرستی کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔ مغرب کی گمراہی نے عورت کو سرراہ  بے لباس  کردیا ہے۔ مغربی عورت کسی کی نہیں اور سب کی ہے۔ اس گندے اور پر تعفن  معاشرے میں مختلف حیلوں اور بہانوں سے جنسی  بے راہ روی  اور اخلاقی  بگاڑ کرنے کے لیے  ایک طرف دنیا کے مادی و سائل پر بھرپور قبضہ  کیا تو دوسری جانب امت مسلمہ  پر اپنی  فکر  و ثقافت کے غلبے کے لیے میڈیا  کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔

چنانچہ آج ہمارا میڈیا  بھی ان استعماری  قوتوں  کا آلہ کار بن کر ان کے ایجنڈے کی تکمیل  میں شب  و روز مصروف  ہے۔ ان کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو معاشی  سپورٹ بھی فراہم کررہا ہے اور ان کی اخلاق باختہ ثقافت کو بھی فروغ  دے رہا ہے ۔ ہر سال 14 فروری کو ویلن ٹائن ڈے  جیسے فحش  تہوار کو منایا جانا بھی اسی مغربی غلاظت کا نمونہ او رذہنی آوارگی کا شاخسانہ ہے۔ اس روز ہمارا پرنٹ اور الیکٹرونک  میڈیا  بھی ایک ایسا سماں باندھتا ہے گویا یہ ہمارا کوئی قومی او رملی تہوار ہے۔

ویلن ٹائن ڈے کا پس منظر کیا ہے، یہ جھوٹی اور نفسیاتی خواہشات میں لتھڑی ہوئی داستان ہے جس کی حقیقت کو شیطانی محبت  کے متوالے اور شیدائی نہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ابلیس لعین  ہر برائی  کو اتنا خوش نما اور دلفریب  بنا کر پیش  کرتا ہے کہ انسان کی عقل پر دبیز پردے پڑجاتے ہیں۔

ویلن ٹائن ڈے کی داستانوں میں کئی تضاد پائے جاتے ہیں ۔ اس دن کے حوالے سے ایک داستان یہ بیان کی جاتی ہے کہ رومی بادشاہ  کلاڈ یوس دوم نے اپنے کسی مخالف ملک پر قبضہ کرنے کی ٹھانی اور فوجوں کو حملہ کرنے کا حکم دیا لیکن اس فوج کشی کے حوالے سے فوجیوں میں کچھ آمادگی نہ ہوئی تو بادشاہ نے کھوج لگوائی۔ کھوجیوں  نے بتایا کہ نوجوان سپاہی اپنے بیوی  بچوں کوچھوڑ کر جانا نہیں چاہتے ۔ جنگ کے دوران سپاہیوں کو بچوں سے زیادہ  بیویوں کی دوری  شدت سے محسوس ہوتی ہے اور جنسی آسودگی میسر نہ ہونے کے سبب ان کادل اچاٹ رہتا ہے، چنانچہ  کلاڈ یوس نے یہ حکم جاری کردیا کہ فوج میں شامل  کوئی نوجوان شادی نہیں کرے گا۔ اس کا خیال تھا کہ ازدواجی بکھیڑوں سے آزاد رہ کر نوجوان زیادہ بہادری اور بے جگری  سے لڑیں گے اور اس طرح فتح یقینی ہوجائے گی لیکن  دوسری طرف ویلن ٹائن نام کا ایک پادری  چپکے چپکے نوجوانوں کی شادیاں کرواتا رہا  ، بادشاہ کو جب  اس بات کا علم ہوا تو اس نے پادری کو جیل بھجوا دیا ، وہاں سزا کے دوران ایک نئی کہانی شروع ہوگئی، جیلر کی خوبرو بیٹی ویلن ٹائن پر عاشق ہوگئی اور سلام و پیام کا سلسلہ شروع ہوگیا، ابھی یہ معاشقہ اپنے تکمیلی مراحل میں تھا کہ بادشاہ کو اس واقعہ کی بھی اطلاع پہنچ گئی اور اس نے ویلن ٹائن کو سولی پر لٹکا دیا اور اس طرح یہ عاشق نامراد دنیا سے رخصت ہوا۔ اسے ‘‘شہید محبت’’ کا خطاب دیا گیا، یہ 14 فروری 279ء کا دن تھا۔  اسی حوالے سے اس دن کو آج ویلن  ٹائن کی یاد گار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔

ویبسٹرا انسا ئیکلو پیڈیا میں درج ہے کہ سینٹ ویلن ٹائن کا 14 فروری سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ ایک من گھڑت داستان ہے اور اس کی حقیقت ایک دیو مالائی قصے سے زیادہ  نہیں ۔ اس سے متعلق ایک کہانی یہ بھی  بیان کی گئی ہے کہ تیر ہویں صدی عیسوی  میں روم میں ویلن  ٹائن نام کا ایک پادری تھا جو چرچ کی ایک حسین  و جمیل راہبہ  پر فریفتہ ہوگیا ۔ عیسائیت کی تعلیم کے مطابق راہب اور راہبہ کے مابین  جنسی اختلاط ممنوع  ہے ، اس لیے پادری نے راہبہ  کو چکما دیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ اگر 14 فروری کی رات کوئی راہب  اور راہبہ جنسی اختلاط کرلیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔اس طرح راہبہ اس کے جھانسے میں آگئی اور دونوں نے جنسی آسودگی حاصل کرلی۔ بعد میں جب یہ راز فاش ہوا تو بادشاہ کلاڈ یوس دوم کے حکم سے سینٹ ویلن ٹائن کو سزائے موت دے دی گئی اور یوں  اس بدکار کی موت کا دن ویلن ٹائن ڈے کے نام سے ہر سال منایا جانے لگا ۔اسی دن کے ضمن میں انسا ئیکلو پیڈیا  برٹانیکا  میں  ویلن ٹائن  کا مختصر سا تعارف درج ہے اور مزید یہ بھی لکھا ہے کہ ویلن ڈائن ڈے کو آج کل جس طرح  عاشقوں کا تہوارlovers’ festival کے طور پر منایا جاتا ہے یا ویلن ٹائن کارڈز کی جو  صنف مخالف کو بھیجنے کی رسم چل پڑی ہے ، ا س کا تعلق  رومیوں  کے دیوتا لو پر کالیا کے حوالے سے 15 فروری کومنایا جانے والا تہوار ہے ، اس کا سینٹ  ویلن ٹائن سے کوئی تعلق  نہیں یا پھر  اس کا صحیح  تعلق  پرندوں کی بار آوری MATING SEASONS سے ہے ۔

ان داستانوں میں کتنی  حقیقت ہے او رکتنی مبالغہ آرائی ، یہ ایک الگ بحث ہے۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ کیا اس نوعیت کے بے ہودہ اور لچر قسم کے مغربی تہوار  کی آڑ میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ایک دوسرے کو Wish کرنا او رمحبت کی علامت (Symbol of Love ) کے طور پر پھولوں او رکارڈز کے تحفے بھیجنا  ہمارے دین میں جائز اور پسندیدہ ہے؟ کیا اسلام میں نکاح کے بغیر  نامحرم کی محبت اور آشنائی  کاکوئی تصور ہے؟ جو دین نا محرم پر جان بوجھ کر دوسری  نظر ڈالنے کی سخت ممانعت کرتا ہو اس میں محبت یا وصل و ملاپ کی اجازت ہوسکتی ہے؟

اسلام دین  فطرت ہے، وہ اپنے پیروکاروں کے بدنی اور روحانی تقاضوں سے بخوبی واقف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مرد و عورت کے آزادانہ میل جول پر پابندی اور محرم و نامحرم رشتوں کی حدیں  قائم کردی ہیں تاکہ  اسلامی معاشرت عزت و توقیر اور نفاست و طہارت کی برکات سےفیض یا ہوتی رہے اور کسی غیر  اخلاقی آلائش میں مبتلا  نہ ہوجائے ۔اسی آلائش او رذہنی پراگندگی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مضبوط ڈھال عورت کا پردہ ہے ، جو بے راہ روی کی زندگی سے ایک مسلمان کو بچاتا ہے۔

کسی قوم کے تہوار اس کی تہذیب و ثقافت کی شناخت ہوتے ہیں، اسلام ایک مکمل طرز حیات ہے اور ایک امت ہونے کی حیثیت  سے مسلمانوں کی اپنی مذہبی او رملی روایات ہیں۔ اسلام کوئی بانجھ مذہب نہیں ہے۔ یہ شجر  طیبہ  ہر نوع کے برگ و بار سے سر سبز و شاداب ہے۔ اسی لیے اسلام میں غیر وں کی نقالی کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ سورۂ آل عمران کی آیت 85 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ‘‘ کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے تو اسے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔’’

اسلام صحت مند اور محدود دائرے میں رہتے  ہوئے تفریح  سےلطف اندوز ہونے یا تہوار منانے کوبرا نہیں  سمجھتا ، بلکہ اسلام میں تو دو تہوار عیدین کے نام سے منائے جاتے ہیں اور ان کو بہتر طریقے  سےمنانے کے لیے سنت رسول میں  واضح ہدایات موجود ہیں۔ اسلام صرف ان طور طریقوں اور مشاغل پر پابندیاں  عائد کرتا ہے جن کو اختیار کرنے سے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کے منہدم ہونے کا خطرہ  پیدا ہوجائے ۔ اسلام ہر اس راستے کو مسدود کرتا ہے  جو ایک مسلمان کو ذہنی عیاشی کی طرف لے جاتا ہو۔

مگر آج امت مسلمہ قرآن کریم کی تعلیمات کوبھلا کر فحش کاموں او راللہ کی نافر مانیوں کی مرتکب ہوکر ان گمراہ قوموں کی نقالی کررہی ہے جو خود اپنی تہذیب و ثقافت سے  نالاں ہیں، جہاں  خاندان کا  تصور ہی مٹ چکا ہے۔ جہاں آدھی  رات کو بیٹی  کی خواب گاہ سے نشے میں دھت نوجوان کو نکلتا  دیکھ کر بھی باپ بیٹی سے باز پرس نہیں  کرسکتا ۔ شراب و شباب  کی کثرت نے ان کی اخلاقیات کا جنازہ  نکال دیا ہے۔ آج  ہم مسلمان ان کے گندے کلچر کے رنگ میں رنگنا اپنے لیے باعث عزت سمجھتے ہیں ۔ پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے !

اصل بات یہ ہے جب دین  کو چند عقائد و رسومات تک محدود کردیا جائے تو پھر شیطان کے لئے اپنا کام کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ موجود ہ دور کے موروثی مسلمانوں کی اکثریت کے فکر و عمل میں دین کی ہمہ گیریت اور یہ تصور کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، مفقود ہوچکا ہے اور فکر و نظر کی یہی کجی تمام برائیوں اور فسادات کی جڑ اور بنیاد ہے ۔ فاعتبیر وایا اولی الابصار ۔

12 فروری، 2013  بشکریہ : روز نامہ اسلام ، پاکستان

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/raheel-gauhar--راحیل-گوہر/observing-valentine-day-is-un-islamic--اسلام-اور-ویلن-ٹائن-ڈے/d/10398

 

Loading..

Loading..