New Age Islam
Sun Jun 23 2024, 09:14 PM

Urdu Section ( 16 Feb 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Rahat Fateh Ali Khan’s arrest and the Pakistani media فنکارو ں کو شرم کیوں نہیں آتی

By Md Sanaullah Khan,

The detention and release of the popular Pakistani singer Rahat Fateh Ali Khan by the DRI has stirred the Pakistani media into India bashing as usual. The editorials of the national dailies of Pakistan and the articles by the ‘noted’ Urdu columnists of the country were full of anti-India venom and the ‘bias and prejudices’ Indians reportedly have against their great singers, artistes and litterateurs. As usual, the Pakistani media men and Urdu intellectuals exhausted all their intellectual and journalistic ‘depth’ (like the strategic depth of the Pakistani government) in finding out the conspiracies behind the incident. Not only that, in criticising the Indians and the Indian government in particular, they crossed all the limits of decency hurling abuses against the Indians even calling them ‘Hindu baniyas’. A so-called columnist Sayeed Aasi addresses Rahat Ali Khan in the following words in his column in Nawai Waqt:

“Arre Marhoom Fateh Ali Khan ki Rahat! Tujhe Hindu banyi ke liye resha khatmi Adnana Sami ke anjam se bhi Khauf nahi aya tha? Bade daawey karta phirta tha ke who Bharat ke teen aala aizaz hasil kar ke bada moazziz tareen hogaya hai.” (O the son of the late Fateh Ali Khan! Didn’t you learn any lesson from the fate of Adnan Sami at the hands of the Hindu baniyas? What about your claim of winning three big awards in India?)

In the previous line, he says: “Ye lomad zehniyat wala shatir baniya hame dank marne ke siwa aur koi dhang nahi janta.”

According to the learned columnist and a representative of the Islamic country of Pakistan, India lures their singers and artists only to blur the borders and ruin their culture. If his theory is to be believed all the Pakistani singers, artists and cricketers are the victims of Indian conspiracy. For instance, Shoaib Malik was framed by the Indian government with the help of his ‘first’ wife Aisha and was released when he was harassed to the heart’s content. Adnan Sami was another singer who was entangled in legal battle because of the bias of the Indian government, according to the learned columnist.

Writings reflecting such mean mentality that are published in the national print media of Pakistan will not qualify for publication even in two penny local newspapers India.

Another Urdu daily Express has carried an editorial titled ‘Bharati taassub kab khatm hoga’ (When will the Indian bias end?). It also says that the arrest of Rahat Fateh Ali Khan seems to be a part of a conspiracy as he was not aware of the rules. It appears, the editorial says, that the Pakistani artist has been arrested after handing over money to him as part of a conspiracy.

Rahat Fateh Ali Khan has been involved in the Indian film industry and has sung a number of songs for Bollywood films. He has been visiting India for a long time in connection of his concerts. How can he claim that he did not know the rule that one cannot take more than $5000 with him? Actually, according to reports, he demands from the organizers of his concerts his fees in cash every time he comes to India apparently to avoid paying income tax to his country. Rahat was arrested only because he was carrying cash above the permissible limits. The Indian government intervened to get Rahat released to avoid bad blood and the Pakistani government thanked the Home Minister P Chidambaram for the friendly gesture. Therefore, Pakistani media’s furore over the matter was both unwelcome and undesired.

Another columnist Dr Md Ajmal Niyazi, after expressing his disapproval of and displeasure over the ‘humiliating treatment’ to the Pakistani singer Rahat Ali Khan goes on to express solidarity with the Indian Muslims who according to him are treated like second class citizens in India. According to him Shah Rukh Khan has married a Hindu only to prove his love of India. He guesses that his wife may be a mole of the Indian agencies. He also sympathises with Salman Khan who, according to him,  has been treated very badly in India.

The Pakistani newspapers are full of writings of such lecherous level that evoke ridicule at the way of thinking of these so-called journalists and editors. We are presenting below an article from a Pakistani newspaper Nawai Waqt for our readers.



فنکارو ں کو شرم کیوں نہیں آتی

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

اب راحت فتح علی خان کو رہا بھی کردیا جائے تو اس تذلیل کا ازالہ نہیں ہوسکتا جوائر پورٹ پر ان سے روارکھی گئی ہے۔ بھارتی ائر پورٹ پر راحت فتح کی توہین اورتذلیل کے بعد امن کی آشان کے ‘‘بیوپاریوں ’’ کو اپنا ڈھونگ ختم کردینا چاہئے ۔ اس واقعہ نے ایک پاکستانی اخبار اور اس کے ٹی وی چینل کی بھارتی اخبار اور ٹی وی چینل پر منافقانہ اور غیر فطری امن کی کوشش اور دوستی کی اصلیت کا پول کھول دیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بنیادی مسائل اور معاملات حل کئے بغیر اس طرح کی کوشش ایک کاروبار ی اور وطن دشمن سرگرمی ہے۔ راحت فتح علی خان نے اپنے فن کا جادو صرف بھارت میں جگایا ۔ راحت فتح علی خان عظیم محب وطن فنکار نصرت فتح علی خان کا نام لے کر نامور ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ نصرت کبھی اس طرح بھارت کے لئے اپنے آپ کو وقف نہ کرتا نہ پیسے کے لئے اپنی قومی حمیت کا سودا کرتا ۔

نصرت بین الاقوامی منظر نامے پر جگمگا یا اور پاکستان کا نام روشن کیا۔ جب راحت نے صرف بھارت کو شاہکار گیت دیئے ۔لاتعداد فلموں میں مشہور ہونے والے گیت گائے۔ ان کے ایک گیت نے سارے بھارت کو مست کردیا ۔‘‘تیرے مست مست دو نین’’ اب اس نے پاکستان کے لئے بھارتی بدمستی بھی دیکھ لی ۔یہ صرف پاکستانی فنکاروں کے لئے ہوتی ہے ۔ وہ ان کی طرف تمام احسانات کو بھلا دیتے ہیں اور مشکل وقت میں وہ ان کے لئے ‘‘دشمن ہمسایہ ملک’’ پاکستان کے شہری ہوتے  ہیں۔ اتنی تذلیل کے بعد بھی راحت آئندہ بھارت جائیں گے؟ ایک تھوڑی سی غلط فہمی پرانہیں پریشان کیا گیا اور ذلیل وخوار کیا گیا۔ میرے خیال میں اب کسی پاکستانی فنکار اور شاعر کو بھارت نہیں جانا چاہئے۔ مگر ہمارے فنکار غیرت او رحمیت کو نیلام کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔

تھوڑی سی شہرت اور دولت کے لئے وہ یہ سب ذلت قبول کرتے ہیں۔ اور بھارتیوں کو احساس نہیں ہوتا کیو نکہ انہیں خبر ہے کہ پاکستانی اپنے ذاتی مفاد کے لئے قومی غیرت کا پاس نہیں کرتے ۔ وہ جو بھارتی منیجر ہے۔ اس پر نظر رکھنے کی بجائے اسے راحت نے اپنے دل کے قریب ہوا تھا ۔ اس نے کوئی چکر چلایا ہوگا۔ فوراً گرفتاری اور تفتیش کے مراحل شروع کردیئے گئے ۔ ان سے پاکستانی سفارت خانے کے کسی آدمی کو اب تک ملنے بھی نہیں دیا گیا ۔ کسی اور ملک اور بالخصوص امریکہ یا یورپ کا کوئی عام آدمی بھی ہوتا تو اس کے ساتھ بھارت کبھی یہ سلوک نہ کرتا۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ اتنا پیسہ راحت فتح علی خان کو کس نے دیا۔ ممکن ہے یہ بھارتی ایجنسیوں کی کارروائی ہو۔ بھارت پاکستان میں بھی پیسہ لٹارہا ہے ۔ کالاباغ بننے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو بھی بھارتی پیسہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان میں افراتفری پھیلانے کے لئے امریکہ بھارت پر بھروسہ کرتا ہے۔ ڈالر تقسیم ہوتے ہیں اور راحت کے پاس بھی ڈالر تھے۔ پاکستانی فنکاروں صحافیوں اور شاعروں کو خرید نے کی کامیاب کوشش بھارت میں ہوچکی ہے ۔

پاکستان سے محبت کا دعویٰ کرنے والے کئی شاعر نما بھارت میں آزاد انہ آتے جاتے رہتے ہیں ۔ بظاہر بھارت میں بعض فنکاروں اور شاعروں کی بڑی عزت ہوتی ہے۔ مگر یہ سب دکھاوا اور فریب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستانی فنکار اور شاعر ہیں۔ یہ ‘‘محبت’’ پاکستان سے نفرت کا نتیجہ ہے۔ ورنہ بھارت کے کروڑوں مسلمان نمبردو شہری ہیں۔ بھارتیوں نے نامور فلم اسٹار سلمان خان کے ساتھ کیا کیا؟ شاہ رخ خان نے اپنے آپ کو بھارتی ثابت کر نے کے لئے ہندو عورت سے شادی کی ہوئی ہے ۔ممکن ہے وہ ایجنسیوں کی عورت ہو۔ بھارت نے اپنی فلمی صنعت میں مجبوراً چند مسلمانوں کو ‘‘برداشت’’ کیا ہوا ہے۔ راحت کی اس تذلیل کی ڈاکٹر امجد پرویز ،وارث بیگ اور فلم اسٹار لیلی نے مذمت کرنے پر پہل کی ہے۔ ابھی وینا ملک اور فلم اسٹار میرا نہیں بولیں ۔ وہ بھارت جاکے بیان دیں گی؟ اس سے پہلے عدنان سمیع کو بھی بہت بے عزت کیا گیا۔

 اس کے لئے افسوس نہیں ہوا۔ اسے خود بھی افسوس نہیں ہوا۔ یہ لوگ بھارت کی خوشنوی کے لئے پاکستان کے خلاف بھی بات کرنے میں عار نہیں سمجھتے۔جب نامور بہادر لیڈر خاتون عاصمہ جہانگیر کو بھارتی ویزا نہ ملا تو یہ خودبھارت کے لئے لمحہ فکر یہ تھا ۔ میں نے عاصمہ سے فون پر بات کی وہ بہت افسردہ تھی۔ بھارت اس حوالے سے بڑا بے شرم ہے۔ عاصمہ جہانگیر بھارت کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ شکیل صدیقی اور کاشف خان کو تنگ کیا گیا۔ وہ پاکستان فرار ہونے میں بڑی مشکل سے کامیاب ہوئے شعیب ملک نے ایک بھارتی کھلاڑی ثانیہ مرزا سے شادی کی وہ بڑی خواری اور شرمساری کے بعد بڑے فخر سے اپنے آپ کو بھارت کا گھرداماد سمجھتے ہیں ۔مگر ثانیہ نے پاکستانی بہو ہونے سے انکار کردیا ہے۔ ان لوگوں کو بنایا پاکستان نے ۔مگر وہ بگاڑ کے لئے باہر کا رخ کرتے ہیں۔

 یہ ناجائز اثاثوں کی طرح جو سیاست دانوں اور افسروں نے ملک سے باہر رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ بات تو ہوتی ہے کہ اس طرح کے حادثے ہوتے ہیں۔ پاکستانی لوگ جیسے تیسے پیسہ ملے قبول کرلیتے ہیں ۔ اور اس پر ٹیکس نہ بھارت اور نہ پاکستان میں دیتے ہیں ۔راحت کے انکشاف پر ایسی تنظیموں کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے جو پاکستان سے جو لوگو ں کو بلاتے ہیں۔ وہ بھارت میں اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود شہرت اور دولت پاتے ہیں۔ اس میں بھارت کے کیا مقاصد ہوتے ہیں یہ سوچنا ان کا مسئلہ نہیں۔ راحت یہ بتانے سے قاصر رہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا۔ سمگلنگ ،کرپشن اور ٹیکس چوری بھارت اور پاکستان میں برابر برابر ہے۔ فنکار اپنے ملک کا سفارت کار ہوتا ہے مگر بھارت میں یہ کام پاکستانیوں سے نہیں ہوسکتا ۔ اور اس معاملے میں بھارت کی طرف سے انہیں کوئی رعایت نہیں دی جاتی جو پھنس جاتا ہے۔ وہ ذلت اور اذیت کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔!