New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 08:42 PM

Urdu Section ( 11 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufis Believe In Complete Transformation صوفیاء مکمل تبدیلی میں یقین رکھتے ہیں

 

ایک صوفی کی پیدائش

رہس بہاری

17مارچ، 2013

( انگریزی سے ترجمہ  ،  نیو ایج اسلام)

صوفی مکمل تبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔  تبدیلی   کی طرف پہلا قدم کے ذکرخفی ، دل ہی دل (قلب)میں  خدا کے کسی نام کا ذکر کرنا ہے۔ وجود کے صوفی  تصور میں دل اتنا اہم ہے کہ اس پر توجہ مرکوز کرنا  نوجوان کے لئے اس کی زندگی کے راستے کو تبدیل کرنا آسان بنا دیتا ہے۔

سوامی ویویکانند کا مشاہدہ: "دل پر توجہ مرکو ز کرنا مراقبہ نہیں ہے، یہ خدا کو پکارنا ہے ۔" صوفی اخلاق پر زور دیتےہیں جو کہ ان کی اندرونی زندگی کی حرمت کے ان کے احساس سے جاری ہوتا ہے ۔ صوفیوں کا ماننا ہے کہ  ایک ایسے دنیا دار شخص کی صحبت میں رہنا بہتر ہے جسکا اخلاق اچھا ہے ایسے فقیر کی صحبت کے مقابلے میں جس کا کردار مثالی نہیں ہے ۔

ان کا  کہنا ہے کہ خدا نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد خود کو چھپا رکھا ہے؛ انسان کے اندر بسے ہوئے خدا کو تلاش کرنے کے لئے خود کو چھپانا ضروری ہے۔  جسم کے مضبوط پرت کو توڑ کرنے کے لئے صوفیاء تین شرائط متعین  کرتے ہیں  إلّت یا مشقت،  ذلت اور قلت  یا غربت۔

دوسرے مذاہب میں بھی وفادار کو اکثر خراب صحت سے متصف کیا جاتا ہے ، کچھ لوگ بہت غریب ہیں اور زبردست غربت کی وجہ سے ذلت کا شکار ہیں ۔ صوفی ان مخالف حالات میں خوشی مناتے ہیں ، جسے صاحب خانہ نا قابل رشک محنت سمجھتے ہیں جوکہ فائق ہونے کے لئے ناممکن ہے۔

صوفی ان لوگوں کی بھی صحبت سے پرہیز کرتے ہیں جوان کے طرز حیات سے اختلاف رکھتے ہیں  ۔ اس  دل کی پاکیزگی محفوظ رہتی ہے اور وہ گندے اثرات سے بچتا ہے۔ صوفی مذہبی کتابیں پڑھنے سے بھی پرہیز کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کی تعلیم گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ سب سے پہلےصوفی تجربہ ضرور کرتے ہیں اور اس کے بعد  استقلال کے ساتھ اس لٹریچر کو پڑھتے ہیں جو کہ نہ صرف وسیع ہے بلکہ عمیق بھی ہے جو کہ مراقبے میں افشاں ہوتا ہے۔

صوفی اپنے شیخ  کا احترام کرتے ہیں ۔ پیر و مرشدکا تعلق مقدس ہے۔ پیر ایک ایسا  واسطہ  ہے جس کے ذریعہ خدا کی آواز مرشد کے لئے ظاہر ہوتی  ہے۔ اس کی جانب سے طاقت، توجہ  کا  بہاؤ سالک کو تبدیل کر دیتا ہے  وہ مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اس طرح کے ایک شیخ کی موجودگی میں سالک ان کے اوصاف کو حاصل کرتا ہے ، یہ مانا جاتا ہے کہ وہ فنا یا ناپید ہو جاتا ہےاور آخر میں شیخ کی  رفاقت حاصل  کر لیتاہے۔ نتیجہ اس شاگرد کی موت اور ایک روشن خیال انسان کا جنم ہوتا ہے۔ پیر کا دھیان کر کے، شاگرد روشن خیال بن جاتا ہے اور اس کے اپنے ہی حق میں ایک شیخ بن جاتا ہے۔

ایک شیخ کی کسوٹی اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اس کے اندر دوسروں کو خود کی طرح بنانے کی طاقت اور مشیت ہونی چاہئے ۔ شیخ کی زندگی، ان کی خدا پرستی، محبت، رحم، بخشش، دانش اور بے لوث لگن کا احساس تغیراتی توانائی کے طور پر شاگرد کے  اندر منتقل کیا جاتا ہے۔

صوفی شیخ  ان کے شاگردوں سے صرف ایک ہی چیز کی توقع رکھتے ہیں اور وہ انہیں سکھائے  گئے  اقدار کی اطاعت ہے۔ سالک کو  اپنے آپ کو اس رحمت کے قابل ظاہر کرنا چاہیے جو اسے عطا کیا گیا ہے ۔ اس کی زندگی طعنہ زنی سے پرے ہونی چاہیے اس لئے کوئی بھی  ناپاک برتن میں قیمتی زیورات نہیں ڈالے گا  ۔

یہ مانا جاتا  ہے کہ انسان  گھٹیا جذبات اور لالچ پر قابو پاسکتا ہے  اور اس کی اعلی نوعیت کی بیداری تک  خود کو  بلند کر سکتا ہے ، یہی چیز صوفیوں کو متناقص نوعیت کے ساتھ یہ  اقرار کرنے پو مجبور کرتی ہے کہ: " ایک انسان بننے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن خدا بننے میں کوئی وقت نہیں لگتا ۔ "

ماخذ:

 http://www.speakingtree.in/spiritual-articles/new-age/birth-of-a-sufi

URL for English article:

https://www.newageislam.com/islamic-society/rahas-behari/sufis-believe-in-complete-transformation/d/10842

URL for this article:

https://www.newageislam.com/urdu-section/rahas-behari,-tr-new-age-islam/sufis-believe-in-complete-transformation-صوفیاء-مکمل-تبدیلی-میں-یقین-رکھتے-ہیں/d/12996

 

Loading..

Loading..