New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 02:25 AM

Urdu Section ( 30 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Stabbing In the Mosque: A Horrible Incident مسجد میں خنجر زنی ..... نہایت خوفناک واقعہ

 

قاری تصور الحق (برمنگھم)

27 جون، 2013

واشو ڈ ہیتھ مسلم سنٹر اینڈ مدرسہ قاسم العلوم کا قیام 790 و اشوڈ ہیتھ روڈ میں 1992 میں آیا ۔ ادارہ کے قیام  سے لے کر اب تک مسلم کمیونٹی  کو بغیر کسی امتیاز  کے خدمات بہم پہنچائی گئی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کیلئے آنے والوں میں پاکستانی، بنگالی، عربی، انڈین ،گجراتی اور صومالی  سبھی شامل ہیں ۔ ہم حنفی مسلک  ہیں لیکن حقیقت  حال یہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی عوام پر اپنی سوچ کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہر آنے والے کو خوش آمدید کہا ہے۔ چنانچہ ایسے ادارہ میں اچانک ایسے خوفناک واقعہ کا عمل میں آنا تمام لوگوں کو چونکا دینے کے لیے کافی ہے۔ واقعہ کی تفصیل اگرچہ تمام عوام کے سامنے آچکی ہے تا ہم اس واقعہ سے مضامین کھلے ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سب سےپہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ یہ حادثہ پیش کیوں  اور کیسے آیا ۔

واقعہ میں ملوث صومالی کے بارے حتمی طور پر کہنا مشکل ہے کہ وہ  باقاعدگی سے آنے والا تھا یا وہ کبھی کبھار آتا تھا کیونکہ راقم جامع مسجد علی اہل  سنّت و الجماعت کی تعمیراتی کام کی وجہ سے پہلی  مسجد میں با قاعدگی  سے نہیں آرہا تھا اور گزشتہ پانچ مہینوں سے خصوصی طور پر اپنی بیماری کے باعث  دونوں مسجدوں میں بہت ہی کم آنا رہا۔ تاہم اپنی ذمہ داریوں سے غفلت  میں  نہیں آرہا ۔ مسجد میں کبھی بھی مذہبی  کشیدگی کا ماحول  نہیں رہا اور جب یہ صورت حال نہیں تھی تو اچانک سے یہ صورت حال کیونکر  پیدا ہوئی جب کہ انتظامی طور پر بھی تمام معاملات اطمینان  بخش طریقہ سے چل رہے تھے ۔ برطانیہ میں دیگر مذاہب کے ساتھ  ہی ساتھ  مسلمان بھی اس ملک میں آباد ہیں پھر برطانیہ میں آباد مسلمانوں کا تعلق کسی ایک علاقہ سے نہیں بلکہ دنیا میں موجود کئی ایک ملکوں سے ان کا تعلق  ہے۔

 لہٰذا جغرافیائی وحدت حاصل نہیں  بلکہ با لکل اسی طرح فکری وحدت کا بھی بحران مسلمہ ہے۔ یہ بات تو خوش آئند ہے کہ مسلمان قوم اپنی آئندہ نسلوں میں اسلام کو باقی رکھنے کیلئے جد وجہد  کررہے ہیں مگر اس کام میں کچھ احتیاطوں  کی شدید ضرورت ہے۔  اسلامی روایات اور اقدار کو عام لوگوں میں اجاگر کرنا تو اچھی بات ہے  مگر بعض روایات کو ایمان کی شناخت قرار دے کر ان میں شدت پیدا  کر کے باہمی طور پر منافرت کو فروغ دینا درست طرز عمل نہیں ۔ صومالی نوجوان کے خیالات اس کے اندر کی سوچ  کے ترجمان  تھے اور اسی بات کی طرف راقم نے گزشتہ رات حالات کی وضاحت اور یکجہتی  کے اظہار کیلئے آنے والے صومالی کمیونٹی کے مرکز ‘‘الرحمہ’’ کے خطیب شیخ عبدالرحمٰن اور چیئر مین احمد بھائی کی توجہ دلائی ۔

کل ہی گولڈن  ہلک روڈ ایک شادی میں جانا ہوا جہاں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے عام لوگ بھی تھے اور علماء کرام بھی ۔ میڈیا میں نمایاں کو ریج  کے باعث  ان دنوں ہر خاص و عام میں یہی بات موضوع بحث  ہے لہٰذا وہاں بھی میرے جاتے ہی ہر ایک حقیقت حال کو جاننے کا متمنی تھا ۔ یہاں بھی راقم نے حادثہ کی تفصیلات کے علاوہ سب  کی جس طرف توجہ مبذول کروائی وہ یہی تھی کہ تمام مسالک کے لوگوں  کے اپنے رویوں پر نظر ثانی کی فوری ضرور ت ہے۔ ہر مسلک کو اپنے حلقوں  میں اپنے عقائد کو پھیلانے اور ان کی تبلیغ کا حق  حاصل ہے مگر اپنے علاوہ دوسروں کے ساتھ نفرت کا درس دینا کسی  طور پر درست نہیں ۔ اس سانحہ میں پہلی خوش آئند یہ بات ہوئی کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے آنے والے پولیس آفیسرز کو جب صومالی نوجوان نے بیہمانہ طریقہ سے زخمی کیا تو مسجد میں موجود لوگوں نے خطرات کے باوجود پولیس کے ساتھ تعاون  کیا اور طبی امدا د کی فراہمی میں بھی مسجد میں موجود ڈاکٹر وں نے فعال  اور مثالی کردار ادا کیا اور اس سارے طرز عمل کی پولیس ذمہ داران نے بھی بہت تعریف کی۔

دوسری خوش آئند بات یہ تھی کہ واقعہ  کی اطلاع ملنے  سے لے کر تمام معاملات کے طے ہونے تک ممبر آف پارلیمنٹ  رائٹ  آنر ایبل  لیام برن  نے خود حالت کو سنبھالا اور متاثر فریق ہونے کے ناطے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ کونسلر عنصر علی خان پہلی رات بھی میرے فون پر اطلاع کرنے پر فوراً مسجد پہنچے  اور پولیس کمشنر سے تفصیلی بات چیت کے بعد مجھے فون پر تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔اسی طرح صبح میڈیا بریفنگ کیلئے لیم برن کے ساتھ وارڈ  کونسلر ماجد محمد پورے طور پر سر گرم رہے جب کہ کونسلر محمد اخلاق مقامی ہونے کے ناطہ موجود تھے ۔ گویا  سیاسی قیادت  کا بروقت  اقدام بہت سے فتنوں سے بچاؤ کا سبب بن گیا ۔ بر منگھم کی سیاسی قیادت تدبر کا مظاہرہ نہ کرتی تو لگنے  والی آگ بہت کچھ راکھ کردیتی ۔ راقم اور راقم  کے دیگر ساتھیوں نےبھی حالات کو کنٹرول میں لانے کیلئے  ہوشمندی اور مضبوط اعصابی قوت سے کام لیا اور 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں حالات کومعمول میں لانے کیلئے بھر پور کام کیا۔

تیسری خوش آئند بات یہ تھی کہ پولیس  نے مسجد میں مصیبت  میں گرفتار  لوگوں کیلئے  بھر پور ایکشن لیا اور تمام وقت اچھے طریقہ  سے معاملات  کو ڈیل کرتے رہے اگر کسی بھی مرحلہ پر بے احتیاطی  ہوجاتی تو معاملہ بگڑ سکتا تھا ۔ ملک اور بیرون ملک سے بھی ہر فرد نے جس دلی محبت  کا اظہار کیا وہ بھی مثالی ہے ۔ گویا تمام تر حالات کے باوجود ایک دوسرے کے حالات کو محسوس کرنے کا جذبہ پورے طور پر موجود ہے۔ بات کو طوالت  سے بچانے کیلئے یہ عرض  کرنا ضروری ہے کہ مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کا خوفناک کھیل بھی کھیلا جاسکتا ہے۔ امریکہ  میں بنائی گئی فلم کے رد عمل میں مسلمانوں  کا اجتماعی  عمل  دنیا میں  بہت سے لوگوں کیلئے قابل قبول نہیں  اور ان کی بھرپور کوشش ہو گی  کہ مسلمانوں کو مسلمانوں ہی کے مقابل لاکھڑا کیا جائے ۔بہر حال برمنگھم میں صومالی  نوجوان او رلندن  کے علاقے  وولچ میں پیش آنے والا واقعہ  دونوں کسی بھی لحاظ  سے اسلامی معاشرت کی عکاسی نہیں کرتے ۔ مسلمانوں کو کسی  بھی ملک  میں اقلیت  میں رہتے ہوئے معتدل رویوں سے دوری پرنہیں  جانا چاہیئے ۔ جاننے کے باوجود پیش آنے والے واقعہ  کو تمام تر تفصیل کے ساتھ  اس لئے بیان نہیں کیا کہ اُس  سے بعض منفی نتائج  بر آمد ہوسکتے ہیں۔ دیگر لوگوں کے علاوہ امام  قاسم رشید  خصوصی طور پر آئے اورلوگوں کوتسلی دی اور رات گئے  تک ساتھ  رہے۔

27 جون ، 2013  بشکریہ :روز نامہ اودھ نامہ ، لکھنؤ

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/qari-tasawwarul-haque---قاری-تصور-الحق/stabbing-in-the-mosque--a-horrible-incident--مسجد-میں-خنجر-زنی--نہایت-خوفناک-واقعہ/d/12369

 

Loading..

Loading..