New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 10:59 PM

Urdu Section ( 1 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

TERRORISTS ARE CRIMINALS: President, Jamiat-ul-Ulema-e-Hind دہشت پھیلانے والے فسادی ہیں


Presented below is the complete text of the presidential speech delivered by Qari Syed Usman Mansoorpuri at Deoband’s three-day national convention that began on Nov. 1, 2009:


جمعیۃ علما ہند کے صدر قاری سید عثمان منصور پوری کامکمل صدارتی خطبہ

معزز اراکین جمعیۃ علماء ہند،علما ء کرام اور دانشور ان ملت!

سب سے پہلے میں آپ حضرات کا شکر یہ ادا کرناچاہتا ہوں کہ مجھے تمام تر کمزوریوں،کوتاہیوں کے باوجود جمعیۃ علماء ہند کے اس تیسویں اجلاس عام کی صدارت کے لیے منتخب کیا،میں اس بڑی ذمے داری کے ادا کرنے کا قطعاً اہل نہیں ہوں، صرف آپ حضرات کے حسن ظن اور دعاؤں کے طفیل اس بار گراں کو اٹھانے کے لیے تیار ہوگیا ہوں،اللہ رب العزت آپ کے حسن ظن کے مطابق اس فرض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

اللہ کا بڑا فضل و کرم ہے کہ 92سالہ جماعت،جمعیۃ علماء ہند کا تیسواں اجلاس عام ہندوستان کے اس شہر میں منعقد ہورہا ہے جس کی اپنی ایک تاریخ ہے اور دارالعلوم دیوبند کے حوالے سے اسے عالمگیر شہرت و اہمیت حاصل ہے، ایک سال پہلے اسی ماہ نومبر میں آندھرا پردیش کی راجدھانی حیدر آباد میں جمعیۃ علماء ہند کا انتیسویں اجلاس عام ملک وملت کے اہم مسائل کو لے کر منعقد ہوا تھا،آج یہ تیسواں اجلاس عام ملک کے خاص حالات میں ملت اسلامیہ ہند کی علمی راجدھانی،دیوبند جیسی تاریخی جگہ پر منعقد ہورہا ہے، جس میں ازہر ہند دارالعلوم کے وجود مسعود نے چار چاندلگادیے ہیں، یہاں کے علماء مفتیان کرام ور بزرگان دین نے دیوبند کی نیک نامی عروج بخشا ہے،دینی کتابوں کی اشاعت اور اشاعتی اداروں کے لیے دیوبند پوری دنیا میں جاناجاتاہے، دیوبند اور اس کے قرب وجوار میں بزگان دین کی یاد گاریں او رمزارات بڑی تعداد میں موجود ہیں، اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دیوبند کی آبادی ہزاروں سال پرانی آبادی ہے، حضرت شیخ الہند مولانامحمود حسن صاحبؒ کے والد ماجد مولانا ذوالفقار علی صاحبؒ نے ”الہدیۃ السنیہ“ میں طوفان نوح کے فوراً بعد بسنے والی آبادیوں میں دیوبند کاشمار کیا ہے،کلیر، منگلور، گنگوہ، نانوتہ، امبیٹھ،تھانہ بھون، جھنجھانہ، کیرانہ جیسے بزرگوں سے نسبت رکھنے والے مقامات دیوبند کے ارد گرد ہی پائے جاتے ہیں،یہاں کا دیوی کنڈ مشہور جگہ ہے،بتایا جاتا ہے کہ یہاں پہلے جنگل بہت تھا جس کے سبب اسے دیوی بن کہا جاتاتھا، جو آگے چل کر دیوبند ہوگیا، دیوبند کے قدیم بزرگوں میں شیخ علاؤالدین سہروردیؒ،شاہ ولایتؒ، قالو قلندؒ،شیخ ابوالوفا عثمانیؒ، شیخ معزالاسلام صدیقیؒ، مولانا فصل اللہؒ اور ماضی قریب کے بزرگوں میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ،حضرت سید حاجی عابد حسینؒ،حضرت مولانا ذوالفقارعلیؒ، حضرت ملا محمودؒ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ حضرت مولاناحبیب الرحمن عثمانیؒ،حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا عزیز الرحمنؒ، حضرت مولانا قاری طیب ؒ، حضرت مولانا فخرالدین ؒ، حضرت فدائے ملت مولانااسعد مدنیؒ خاص طور سے قابل ذکر ہیں، ان کے علاوہ بھی بہت بزرگان دین کے اسمائے گرامی جریدہئ دیوبند پر ثبت ہیں، مساجد کابھی یہاں ایک سلسلہ ہے،آدینی مسجد، مدنی مسجد، قلعہ مسجد، مسجد خانقاہ، مسجدسرائے پیرزادگان،مسجد عالم گیری، قاضی کی مسجد، جامع مسجد، طیب مسجد، دارالعلوم کی مسجد قدیم،چھتہ مسجد اور جامع رشید خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔دارالعلوم دیوبند کے علاوہ بھی دیوبند میں متعدد تعلیمی ادارے پائے جاتے ہیں، انٹر کالج،تحصیلی اسکول، اسلامیہ ہائر سکنڈری اسکول، اسلامیہ ڈگری کالج، طبیہ کالج، سنسکرت مہاودیالیہ،پبلک نرسری جیسے قدرے قدیم تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ گذشتہ چند سالوں میں قائم ہونے والے ودیا کالج، بی ایڈ کالج،یونانی میڈیکل کالج جیسے اداروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے، کتب خانوں کاتو یہاں ایک بڑا جال پھیلا ہوا ہے۔ دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اداروں کی بھی تعداد ہے، جن میں مسلم فنڈ ایک نمایاں نام ہے، اس تناظر میں جمعیۃعلماء ہندکے اس عظیم الشان اجلاس کی کئی جہتیں او راہمیت ہے، جمعیۃعلماء ہند اور اس کے اکابرکا دیوبند دارالعلوم دیوبند سے دیرینہ اور مختلف نوعیت کے تعلقات رہے ہیں، حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور حضرت مولانا سید فخرالدین صاحبؒ جہاں دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین تھے، وہیں جمعیۃ علماء ہند کے صدر بھی تھے۔1919ء سے لے کر 2008 ء تک انتیس اجلاس ہائے عام ملک کے مختلف شہروں او رمرکزی مقامات پر منعقد ہوئے ہیں، دیوبند میں تیسواں اجلاس عام جمعیۃ علماء ہند ملک کے عالمی حالات کے خاص تناظر میں منعقد ہورہاہے۔ انتیسویں اجلاس عام کے بعد ملک میں عام انتخابات ہوئے اور مختلف صوبوں میں اسمبلی کے انتخابات بھی ہوئے،ملکی اور عالمی سطح پر ملک و ملت کو جو مسائل درپیش ہیں ان پر غور وفکر کرنے کے کوئی لائحہ عمل او رسمت کے تعین کے لیے آج ہم لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔11ستمبر،2001ء کے بعد ملکی اور عالمی حالات کامنظرنامہ ایک خاص شکل میں ہمارے سامنے آیا ہے،ہمیں تمام ضروری مسائل پر غور وفکر کرکے مناسب اور ضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔

حضرات گرامی قدر! دہشت گردی او راس کے اثرات بدسے پوری دنیا پریشان ہے،دہشت گردی چاہے فرد کی طرف سے ہو یا تنظیم یا اسٹیٹ کی طرف سے قابل مذمت ہے اوراس پرروک لگانے کی سخت ضرورت ہے،کوئی ملک، سماج، پرامن ماحول میں ہی ترقی کرسکتا ہے، دہشت اور خوف کی حالت میں لوگوں کی توجہ زندگی کے بنیادی مسائل سے ہٹ کر صرف اپنے تحفظ پر مرکوز ہوجاتی ہے او رسماجی نظام درہم برہم ہوکر رہ جاتا ہے۔11ستمبر 2001کے بعد سے دہشت گردی کے مسئلے کو لے کر پورا عالمی منظر نامہ بدلا ہوا ہے، اس سے جہاں مختلف فرقوں کے درمیان نفرت،دوری اور دشمنی بڑھی ہے، وہیں، مذہب اور نظریہ بھی زد میں آیا ہے، اس حوالے سے انسانی سطح پر باہمی تعلقات او راس کا رول بھی موضوع بحث بن گیاہے، خاص طور سے اسلام، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان بحیثیت ایک مذہبی اکائی سب سے زیادہ نشانے پر ہیں۔ اس کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہند گذشتہ 9سالوں سے صورت حال کو بہتر او رخصوصاً اسلام، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ کو اس کی واقعی صورت میں پیش کرنے کی مہم چلارہی ہے۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند دوسو کے قریب چھوٹے بڑے اجلاس، کانفرنسیں وغیر ہ کرچکی ہے،ان میں سے دہلی، حیدآباد، ممبئی،بنگلور،بھونیشور،اعظم گڑھ،احمد آباد،پالن پور، چنئی وغیرہ کی کانفرنسیں اور اجتماعات خاص طور سے قابل ذکر ہیں، جن کے اثرات ملکی، عالمی سطح پر امید افزا اور اچھے مرتب ہوئے ہیں۔ حکومت، میڈیا اور انتظامیہ کے لب ولہجہ نیز کاموں میں فرق آیاہے، تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ہماری لڑائی ختم نہیں ہوئی ہے،یہ صرف آغاز ہے ابھی بڑی لڑائی باقی ہے جب تک کہ صورت حال امن کے حق میں مکمل طور پر بدل نہیں جاتی ہے انشاء اللہ ہم جدوجہد او رمہم جاری رکھیں گے، کیونکہ جوافراد چاہے وہ حکومت سے تعلق رکھتے ہو یا تنظیم سے وہ ختم نہیں ہوگئے ہیں،صرف ضرورت اور حالات کے تحت اپنے طریقہ کار اور عنوانات میں تبدیلیاں کرکے سامنے آرہے ہیں، آج بھاری تعداد میں لوگ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پرظلم وزیادتی کے شکار ہیں، اسلام،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوششیں جاری ہیں، یہ کہا او رلکھا جارہا ہے کہ اسلام پرُامن،عالمی معاشرہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہے اور انسانی اتحاد کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے، یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پابند شرع اچھا مسلمان محب وطن نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ اسلام مسلمانوں کو دوسرے فرقوں سے دوررہنے او رنفرت کی تعلیم دیتاہے،یہ ایک خطرناک او رمذموم پروپیگنڈہ ہے جس کا ہمیں مضبوطی اور سنجیدگی سے تمام ممکنہ طریقوں کواپنا کر مقابلہ کرنا ہوگا، ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ یہ کہنا کہ اچھے مسلمان نہیں ہوسکتے ہیں، سراسر لغو او ربیہودہ بات ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اسی لغو اور بے بنیاد بات کا پروپیگنڈہ کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی تانے بانے کو بکھیر نے کی کوشش کی جارہی ہے اور جہاد کے حوالے سے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ مختلف مذاہب اور فرقے والے سماج میں باہمی تعلقات کولے کر بہت سی غلط فہمیاں او رمسائل ہوتے ہیں، ان پر سنجیدہ اورعلمی گفتگو کے غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، لیکن غلط باتیں منسوب کرکے باہمی نفرت کے لیے کسی مہذب سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے، تمام ضروری موضوعات پر اسلامی لٹریچر و افرتعدد میں دستیاب ہے،قرآن و حدیث کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں او راس پر مسلسل مختلف انداز سے کام بھی ہورہا ہے،ہم دعوت دیتے ہیں کہ اس کا سنجیدہ مطالعہ کرکے واقعی صورت حال کو جاننے کی کوشش کی جائے۔

اسلام امن و داعی او رفساد پھیلانے کا مخالف ہے، جو لوگ سماج میں تخریبی کارروائیوں سے دہشت پھیلاتے اور بے قصور افراد چاہے وہ کسی بھی مذہب،فرقے سے تعلق رکھتے ہوں کو نشانہ بناتے ہیں،وہ اسلامی شریعت کی نظر میں جہادی نہیں بلکہ فسادی ہیں،اسلام غیر مسلموں کے ساتھ باہمی رواداری اور حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتاہے، عام حالات میں غیر مسلموں کے ساتھ باہمی لین دین،کاروبار اور عام سماجی ایسے معاملات میں جن کاتعلق لوگوں کی ضروریات زندگی سے ہے، بالکل رکاوٹ نہیں ڈالتا ہے،قرآن وحدیث میں اس سلسلے میں صریح احکام وہدایات موجود ہیں،اسلام میں ایک بے قصور انسان کے قتل کو پوری انسانیت کاقتل قرار دیاگیا ہے اور ایک انسان کے بچانے کی پوری انسانیت کو بچانا بتایا گیا ہے،اسلام نے جنگی حالات میں بھی انسانیت نوازی کامظاہرہ کیاہے، عورتوں،بچوں، بوڑھوں،دنیا سے الگ ہوکر یکسوئی کیساتھ عبادت کرنے والوں کو مارنے اور پھل دار درختوں کے کاٹنے نیز مثلہ کرنے کو شرعاً جرم قرار دیا ہے، جو لوگ اور طاقتیں دہشت گردی کارشتہ اسلام سے قائم کرتے ہیں وہ سچا ئی اور انصاف کے قاتل ہیں اور نفرت کے سوداگر ہیں، دہشت گردی کے معاملے کو فرقہ او رمذہب کے تناظر میں دیکھنے سے دہشت گردی اورد ہشت گردوں کے خلاف امن پسندوں کی لڑائی کمزور ہوجاتی ہے،دہشت گردی کو ایک لعنت اور پر امن سماج کے لیے عذاب سمجھتے ہوئے بلا امتیاز مذہب وفرقہ تمام مہذب امن پسند لوگوں کو اس کا متحدہوکر مقابلہ کرناچاہئے، چاہے وہ اسٹیٹ ہو یا تنظیم یاپولیس انتظامیہ یا میڈیا یا تفتیشی ایجنسیاں سب کو امن اور ترقی یافتہ سماج بنانے کے لیے اپنا اپنا رول ادا کرنا چاہئے، سرکار، میڈیا او ربرادران وطن سے خاص طور سے ہماری اپیل ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کے انسداد کے لیے اس طور سے کوشش ہو کہ اسے فرقہ وارانہ رنگ نہ ملے، مسلمانوں سے بھی ہماری اپیل ہے کہ جذبات میں آئے بغیر امن پسند ہندوستانیوں سے مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور اس سلسلے میں جو کمیاں ہیں ان کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ الحمداللہ جمعیۃ علماء ہند کی مسلسل جدوجہد سے یہ الزام کمزور ہوتا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے لیے اسلام ذمے دار ہے، گذشتہ کچھ برسوں میں جمعیۃ علما ء ہند نے مسلمانو ں کے بجائے زیادہ توجہ نسبتاً اس بات پر دی کہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ کو بگاڑ نے کی کوششوں پر روک لگے، یہ امید افزاہات ہے کہ ہمیں اس میں کامیابی ملی ہے، ہمیں اس مہم کو اورآگے لے جانا ہے،اسلامی شریعت تحفظ اور اسلام کی شبیہ کی بہتری میں بذات خود مسلمانوں کا تحفظ او ربہتری ہے۔ ہم اربا ب حکومت اور ملک کے بہی خواہوں کے سامنے مسئلے کا یہ پہلو بھی سامنے رکھناچاہتے ہیں کہ فرقہ پرستی اورناانصافی کی کوکھ سے دہشت گردی جنم لیتی ہے، اس لیے فرقہ پرستی،نا انصافی او رمحرومی کے انسداد کے لیے موثر اقدامات ضروری ہیں، ملک میں مختلف عنوانات سے جو فرقہ وارانہ سرگرمیاں ہوتی ہیں، ان پرکڑی نظر رکھتے ہوئے قدغن لگانے کی ضرورت ہے، ہم جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے تمام لوگوں سے بلا امتیاز مذہب وفرقہ اپیل کرتے ہیں کہ سب مل کر ملک کی ترقی اور امن کے لیے کام کریں تاکہ ہندوستان کی نیک نامی ہو اور ہمارے خوابوں کا ہندوستان وجود میں آسکے،جمعیۃ علماء ہند اس سمت میں بارہاتوجہ مبذول کراچکی ہے کہ تمام ہندوستانی، ملک کی ترقی وامن کے لیے اس طرح جدوجہد کریں کہ وہ 2020ء تک ترقی یافتہ ممالک کے زمرے میں شامل ہوجائے، ہم سمجھتے ہیں کہ فرقہ پرستی،بدامنی او ردہشت گردی ہماری ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، اس رکاوٹ کو تمام ہندوستانیوں کے لیے دورکرنا ضروری ہے۔

ہمدردان ملک وقوم! مرکزی مدرسہ بورڈ کی تشکیل،مدارس کی شناخت،نہج اور قیام کے اغراض ومقاصد،آزاد نصاب تعلیم اور نظام کو درہم برہم کرنے والی ایک خطرناک سازش ہے، صوبوں کی سطح پر جو مدرسہ بورڈ مختلف صوبوں میں بنائے گئے ہیں اور جو مدارس ان سے ملحق ہیں وہاں تعلیم کا معیار اور نظام درہم برہم ہوچکاہے،صوبے کی سطح پر جب مدرسہ بورڈ کی تشکیل ہوئی تھی، تو اس وقت بھی یہ کہا گیا تھا کہ الحاق اختیاری ہوگا او رملحق مدرسوں میں کسی طرح کی سرکاری مداخلت نہیں ہوگی، لیکن عملاً جو صورت حال پیش آئی،اس سے جہاں مداخلت کا راستہ کھلا، وہیں تعلیم کا معیار او رنظام بھی ختم ہوکر رہ گیا،سما ج سے مدارس کا جہاں تعلق ختم ہوگیا وہیں اساتذہ او رعملہ میں لاپرواہی اور تعلیم کے بجائے محض نوکری کے لیے ایسی بھاگ دوڑ ہوئی کہ مدارس کی شناخت او ران کا کردار ختم ہوکر رہ گیا ہے، یہ کوئی بھی بورڈ سے ملحقہ مدارس میں جاکر کھلی آنکھوں دیکھ سکتا ہے، مرکزی مدرسہ بورڈ کی صورت حال بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی، صوبے کی سطح پر بورڈ مدارس کے جو نتائج اورتجربات سامنے آئے ہیں وہ اچھے نہیں ہیں،مرکزی مدرسہ بورڈکے نتائج صوبائی مدرسہ بورڈ سے زیادہ دوررس او راس کی خرابی کا دائرہ وسیع ہوگا، مرکزی مدرسہ بورڈ کا شوشہ سراسر فتنہ اور ایک بنے بنائے کامیاب اسٹریکچر (ڈھانچے) کو تباہ کرنے کی تعلیم و ترقی اور معیار زندگی کوبہتر او ربلند کرنے میں کما حقہ سنجیدہ نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ وہ مسلمانوں،خصوصاً کمزور مالی حالت والے مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے عصری تعلیمی ادارے ضرورت کے مطابق کیوں نہیں کھولتی ہے،پرائمری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبہ کی مالی امداد نصابی کتابوں کی فراہمی،کوچنگ اورجوگریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ او ر تعلیم حاصل کرچکے افراد ہیں، ان کو روزگار سے لگانے کی کوشش اور انتظامات کیوں نہیں کیے جارہے ہیں؟ 4کروڑ کے قریب بے روزگار گریجویٹ پوسٹ گریجویٹ ہیں ان کو باروزگار بنانے اور حج، اوقاف وغیرہ کے معاملات کو ٹھیک کرنے پر توجہ کیوں نہیں دی جاتی ہے؟ بہت سے قابل توجہ مسائل ہیں، جن کو پوری توجہ دے کر حل کرنے کی ضرورت ہے، اس کا مطالبہ ملک کی آزادی کے بعد سے مختلف سطحوں پر مسلسل کیا جارہا ہے،جمعیۃ علماء ہند ملک و ملت کے ایسے مسائل کو لے کر ملک و ملت بچاؤ تحریک متعدد بار چلا چکی ہے اورمسلسل تحریری،زبانی مطالبات بھی کیے جاتے رہے ہیں،لیکن ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے، لیکن مدارس دینیہ کی طرف سے نہ تو مدرسہ بورڈ بنانے کا مطالبہ کیا جاتاہے، نہ ان کے فارغین نوکری کامطالبہ کرتے ہیں، نہ اس کے لیے مظاہرہ اور دھرنا دیتے ہیں،اس کا سرے سے نہ مطالبہ ہے نہ اس کے لیے کوئی تحریک چلائی گئی ہے،اس کے باوجود حکومت کی طرف سے بار بار مدرسہ بورڈ کی تشکیل کا شوشہ چھوڑ کر مدارس کے درمیان انتشار واختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مدرسوں میں آنے والے 4فیصدمسلم بچوں کے لیے حکومت فکر مند اور پریشان نظر آتی ہے،لیکن 96فیصد مسلم نوجوانوں کی پریشانیوں کو دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے، عصری تعلیم کے لیے ادارے بنانے،کھولنے کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں ہیں، ان کے لیے اجازت نہیں ملتی ہے اور نہ ہی کوئی مدد کی جاتی ہے،بلکہ منظوری دینے کے لیے حکومت سے کوئی مدد نہ لینے کا حلف نامہ بھروایا جاتاہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے دس ہزار پرائمری اسکولوں کے کھولنے اور اس سلسلے میں مدد مانگی تھی، لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ وغیرہ کے اقلیتی کردار کو بحالی او رمدرسو ں کے تحت عصری تعلیم کے لیے الگ سے ادارے قائم کرنے میں سرکار کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی ہے۔ سرکار عصری اور ٹینکیکل تعلیم کے لیے ادارے کھولے، ووکیشنل اور دیگر طرح کے معیاری ادارے بنائے،مدرسہ بورڈ وغیرہ کی تشکیل سے عملاً مسلمانوں کی ترقی کا راستہ نہیں کھلتا ہے لیکن فرقہ پرستوں کو موضوع مل جاتا ہے کہ سرکار مسلم نوازی کے تحت اقلیتوں کی ناز برداری کررہی ہے،بورڈ سے الحاق کے بعد یقینا تھوڑا بہت تعاون کچھ کامو ں کے لیے سرکار کی طرف سے ملتا ہے، جیسا کہ بورڈ سے ملحق مدرسو ں میں ہوتا ہے،لیکن الحالق سے تعلیم اور اس کے معیار و نظام کا جو نقصان ہوتاہے، اس کے مقابلے میں فائدہ نہیں کے برابر ہے،الحاق کے بعد مدارس اپنے مالی نظام میں سرکار کے محتاج نہیں ہوتے ہیں، اس لیے سرکاری مداخلت کا راستہ بھی بند رہتا ہے، سرکاری امداد او ربورڈ سے الحاق کے بعد مدارس کے نصاب اور آزاد کردار میں ایسی تبدیلی ہوجاتی ہے کہ اس کی شکل بالکل مسخ ہوکر رہ جاتی ہے، مرکزی سطح پر او رپوری طرح یہ تحریک اس لیے کامیاب نہیں ہوپائی ہے کہ بافیض مدرسے اور ان سے ملحق اداروں نے سرکاری امداد کو اپنے لیے شجر ممنوعہ سمجھ رکھا ہے،حالات کے مشاہدے او رتجربے کی روشنی میں ہم یہ یقین سے کہتے ہیں کہ مدارس کے لیے سرکاری امداد او ربورڈ سے الحاق انجام کے اعتبار سے نہایت مضر ہے،بورڈ کی حمایت میں کچھ لوگ دینی مدارس کے اندورنی نظام کی خرابیوں کاحوالہ دیتے ہیں، ہم یہ مانتے ہیں کہ ان میں کچھ خرابیوں اور کمیاں ہوسکتی ہیں، ان کو اپنے طور پر دور کیا جاسکتا ہے،خود ار باب مدارس کا اپنا بورڈ بھی اس کے لیے بنایا جاسکتا ہے اور مدرسوں کا وفاق جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے تحت بہت سے مدارس ہیں سے خرابیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے،ہمارے نزدیک اپنے طور پر دینی مدارس کے بورڈ کی تشکیل میں کوئی حرج نہیں ہے، اہل مدارس اپنا بورڈ بناکر امتحانات،ضروری معاملات اور یکسانیت پیدا کرسکتے ہیں اور نظام کو متحرک وفعال بنایا جاسکتا ہے، جمعیۃ علماء ہند بارہا اپنی کمیوں کو دور کرنے پر توجہ دلاچکی ہے کہ مدارس اپنا اندورنی،تعلیمی تربیتی،انتظامی او رمالی نظام درست اور صاف وشفاف رکھیں، یہ بالکل الگ معاملہ ہے،مدارس کی اندورنی کمیوں کاعلاج، سرکار کی طرف سے بورڈ کی تشکیل نہیں ہے، جس شکل میں مدارس بورڈ کی بات سامنے آرہی ہے، اس سے بہت شکوک وشبہات کو تقویت مل رہی ہے، حمایت و مخالفت میں مختلف طرح کی آرا سامنے آرہی ہیں،تاہم ہم تجربات کی روشنی میں کہتے ہیں کہ مرکزی مدرسہ بورڈ کی تشکیل غیر ضروری بھی ہے اور ناقابل قبول بھی؟ تمام مؤقر ادارے مسلم پرسنل لاء بورڈ،دارالعلوم دیوبند اور دیگر بڑے ادارے حتی کہ مسلم ممبران پارلیامنٹ کی اکثریت بھی مدرسہ بورڈ کی تجویز کو مسترد کرچکے ہیں،اس لیے سرکار مدرسہ بورڈ کی تشکیل میں دلچسپی کے بجائے ضروری اور ترقیاتی امور پر توجہ دے کر مسلمانوں کو عام ترقیاتی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔

محترم ارباب ملک وقوم! گذشتہ چند سالوں سے سچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ اور اس کی سفارشات پر زور و شور سے بحث و گفتگو ہورہی ہے،ہم اس کا بارہا اظہار کرچکے ہیں اور پھر ایک بار آپ کو بتاناچاہتے ہیں کہ سچر کمیٹی کی تشکیل میں جمعیۃ علماء ہند اور اس کے مرحوم میرکارواں حضرت فدائے ملت رحمتہ اللہ علیہ کا زبردست رول ہے، سچرکمیٹی کی رپورٹ مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی پسماندگی کی سرکاری دستاویز اور جمعیۃ علماء ہند برسوں سے جو کچھ کہتی رہی ہے، اس کی توثیق ہے، جمعیۃ علماء ہند نے مسلمانوں کو زندگی کے مختلف شعبو ں میں ریزرویشن دینے کے مطالبے کے تناظر میں جو تحریک چلائی او رحضرت فدائے ملتؒ نے اپنے بیانات اور خطبہ ہائے صدارت میں جو حقائق پیش کیے ہیں، ان کے اور سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک نے دوسرے کے تائید کی ہے اور ایک دوسرے کا آئینہ ہیں، سچر کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی ہیں وہ بہت اہم ہیں، چار سو چار صفحات کی رپورٹ میں 12ابواب اور 76عنوانات کے تحت، مسلمانوں کی تعلیمی،سماجی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے اہم تجاویزاور سفارشات پیش کی ہیں، اگر ان شفارشات کو ایمان داری سے نافذ کیا جائے تو مسلمانوں کے لیے عام ترقیاتی دھارے میں شامل ہوناآسان ہوجائے گا اور پسماندگی کو دور کرنے میں خاصی معاون ثابت ہوں گی، لیکن افسوس کی بات ہے کہ نہ تو پارلیمنٹ میں لاکر اس پر بحث کرائی گئی ہے او رنہ بنیادی سفارشات کے نفاذ کے لیے ایسی کوشش ہوتی نظر آرہی ہے،جو مسلمانوں کی تعلیمی،سماجی پسماندگی کو دور کرنے میں مؤثر ثابت ہو، اس سلسلے میں ایک بات یہ بھی قابل توجہ ہے کہ سچر کمیٹی کی تشکیل،مسلمانوں کی خصوصاً مسلم محنت کشوں کی سماجی،تعلیمی پسماندگی کو جاننے کے لیے ہوئی تھی اور رپورٹ بھی انہیں کی پوزیشن سے متعلق ہے، مگر بعد میں اس کو بالکل رپورٹ کے مقصد کونظرانداز کرتے ہوئے سچر کمیٹی کی سفارشات کے دائرے میں تمام اقلیتوں کو لے آیا گیا، جس سے کنفیوژ ن بھی پیدا ہوا او ربحث اور کارکردگی کا رخ مرتکز ہونے کے بجائے مختلف سمتوں میں سفر شروع ہوگیا،اس کی شکایت کمیٹی کے ایک اہم رکن بھی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کو مسلمانوں کی پسماندگی کو سامنے رکھتے ہوئے نافذ کیا جائے اور اس سلسلے میں جورکاوٹیں اور کمیاں ہیں، ان کو بھی دور کیا جائے، گرچہ سچر کمیٹی نے مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کی واضح الفاظ میں سفارش نہیں کی ہے، تاہم جس پسماندگی کو دور کرنے کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے،اس کی سفارشات کے نفاذ سے اس کو دور کرنے میں مدد ملے گی، اس کے علاوہ اگلے قدم کے طور پر رنگاناتھ مشراکمیشن نے مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کی سفارش کر کے ضرورت کی تکمیل ایک حد تک کردی ہے، مشرا کمیشن نے مسلمانوں کے لیے دس فیصد ریزوریشن اور دفعہ 341میں ترمیم کرکے مسلم پسماندہ،محنت کش پیشہ ور برادریوں کو اس میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ رنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ بھی پارلیمنٹ میں پیش کر کے اب تک بحث نہیں کرائی گئی ہے اور اب یہ اطلاع ملی ہے کہ اس کے متعلق حق اطلاعات (آر،ٹی،آئی) قانون کے تحت بھی معلومات فراہم کرنے پر روک لگانے کی عرضی اقلیتی وزارت نے عدالت میں پیش کی ہے، آخر اس میں ایسا کیا کچھ ہے کہ آر،ٹی،آئی کے تحت نہ معلومات فراہم کی جارہی ہے او رہ ہی اس کو ایوان میں رکھ کر بحث کرائی جارہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سچر کمیٹی اوررنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو ایوان میں پیش کر کے اس پر بحث کرائی جائے اور سفارشات کونافذ کرانے کے حق میں ضروری اقدامات کیے جائیں۔

حضرات گرامی قدر! بابری مسجد کی شہادت کی تحقیقات او راس میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے جو لبراہن کمیشن بنایا گیا تھا، اس کی رپورٹ بھی بے اعتنائی کا شکارہوتی ہوئی لگ رہی ہے، عام طور پر کمیشنوں کے بارے میں کہا جاتاہے کہ کسی بھی معاملے کو دبانے کے لیے یا ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کیلئے ان کی تشکیل کی جاتی ہے،لبراہن کمیشن عجیب و غریب کمیشن ہے، جس میں 48 بار توسیع ہوئی اور سال چھ مہینے کا کام میں 17سال صرف ہوگئے اور آٹھ کروڑ سے زائد روپے خرچ ہوئے،بہر حال اتنی طویل جانچ پڑتال کے بعد 29جون،2009 ء کو رپورٹ پیش کردی گئی، ہندوستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مدت تک جاری رہنے والے تحقیقاتی کمیشن کی اس رپور ٹ نے موجودہ مرکزی سرکار کے سامنے دیانت داری او رغیر جانب داری کے ساتھ کارروائی کے لئے امتحان کی صورت حال پیدا کردی ہے کہ وہ کس طرح ذمے داریوں سے عہدہ برآہوتی ہے،انصاف کاتقاضا ہے کہ یہ رپورٹ پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیش کی جائے، رپورٹ ملنے میں ویسے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے اور قصور واروں کو سزا دینے او رمتاثرین کی انصاف فراہمی میں تاخیر بذات خود ایک نا انصافی ہے،جمعیۃ علماء ہند اس سلسلے میں اپنا موقف واضح طور پر اپنی ورکنگ کمیٹی کے ذریعے پیش کر چکی ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے لیے ذمے دار اور قصور وار افراد کے لیے سزا کو یقینی بنایا جائے،تاکہ انصاف کے تئیں ملک و سماج کا اعتماد بحال ہوسکے،ملک کے سیکولر تانے بانے کو درہم برہم کرنے والے عناصر کو یہ واضح پیغام دینا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ والی بات نہیں چلے گی،بابری مسجد کی شہادت نے ملک کے وقار کو دھچکا لگایا ہے، مجرموں کو سزا دئے جانے سے ملک کا وقار بحال ہوگا جانچ کمیشن ایکٹ 1952ء کی دفعہ 34 کا تقاضا ہے کہ کارروائی رپورٹ کے ساتھ کمیشن کی رپورٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے، اس کے متعلق سرکار نے وعدہ کیاہے، ضرورت ہے کہ اس وعدے کا جلد سے جلدایفا ہو۔

حضرات گرامی قدر! میں آپ کی توجہ ایک انتہائی سنگین اور خطرناک سماجی مسئلے کی طرف مبذول کرانا، اس موقع پر ضروری سمجھتا ہوں اور وہ سنگین مسئلہ انتہائی مبغوض اور ملعون عمل ہم جنسی کو قانونی جواز فراہم کرنے کا ہے، اس سلسلے میں 2جولائی،2009ء کو دہلی ہائی کورٹ نے آئی،پی،سی کی دفعہ 377 کو غیر ضروری بتاتے ہوئے بالغ مرد اور عورت عورت کے درمیان باہمی رضا مندی سے ہم جنسی کے عمل کو جائز قرار دینے کا فیصلہ صادر کیاہے، جہاں یہ خوش آئند بات ہے کہ اس فیصلے کی تمام مذاہب کے لوگوں نے شدید مخالفت کی ہے اور اس کے خلاف جدوجہد میں اس قدر اتحاد و اتفاق ہے کہ آج تک کسی مسئلے پر تمام مذاہب کے نمائندوں کا ایسا اتفاق او رہم خیالی نظر نہیں آئی ہے، وہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی ہے نہ ہی مختلف تنظیموں کی رٹ پر سپریم کورٹ کے نوٹس کا واضح جواب دیا گیا ہے،یہ صورت حال انتہائی تشویش ناک اور سماج کو جنسی انار کی او ربحران کی کورٹ کے فیصلے کی موافقت میں رجحانات نمایاں ہوکر سامنے آرہے ہیں، بہت سے مشہور ومعروف مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات بغیر کسی مضبوط دلیل او رسماج کے تحفظ کو نظر میں رکھے، ہم جنسی کی موافقت کرتے نظر آتے ہیں، ہم جنسی کی تمام مہذب سماج او رمذہب نے مذمت و مخالفت کی،خاص طور سے اسلامی شریعت میں اس قبیح فعل کے مرتکب کے لیے سخت سزا مقرر کی گئی ہے، قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے اس ملعون فعل کا ذکر کرتے ہوئے انسانی سماج کو اس مذموم حرکت سے روکاگیا ہے، اگر مذہب کے پہلو کو نظر انداز بھی کردیا جائے، تو انسانی سماج کے ارتقاء اور نسل انسانی کی بقا کو کیسے نظرانداز کیاجاسکتاہے؟ انسانی سماج کا ارتقاء انسان کی مسلسل پیدائش سے وابستہ ہے،گھر اور خاندان کا تصور مرد، عورت اور دونوں کے فطری تعلق کے نتیجے میں اولاد کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے،جب کہ ہم جنسی پرمبنی سماج میں صرف مرد مرد یا صرف عورت عورت کا ہی وجود ہوتا ہے،ا س کے علاوہ ہم جنسی کو سماج میں قانونی جواز ملنے کے نتیجے میں انسانی رشتوں کا احترام او راعتبار ختم ہوجائے گا، بھائی بھائی،بہن بھائی، ما ں باپ اور میاں بیوی کا رشتہ بھی شکوک شبہات او ربے اعتمادی کے دائرے میں آجائے گا اور سماجی نظام درہم برہم ہوکر سماج کی تباہی پر منتج ہوگا،جس کی طرف مغربی او ریورپی ممالک بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں،محض لذت کوشی سے کوئی ذمے دار سماج وجود میں نہیں آسکتا ہے، تعیش،لذت کوشی اور مطلق آزادی سماج کو غیر ذمے داری کی طرف لے جاتاہے،مذہب اور سماج کی طرف سے مرد عورت کے فطری تعلقات کو ملی منظوری کے نتیجے میں اولاد کی ذمے داری سے راہ فرار اختیار کررہاہے، اسی ذہنیت نے وہاں دیگر جنسی بگاڑ کے علاوہ ہم جنسی کی بیماری کو بھی گلے سے لگا یا،حتی کہ اسے قانونی منظوری بھی دے دی، گرچہ ہم جنسی کی بیماری پرانی ہے، تاہم اسے قانونی جواز فراہم کرنے کی غلط او رمذموم کوششوں کا دروازہ یورپ و مغرب نے ہی پہلی بار کھولا ہے او ربد قسمتی سے مشرق ممالک ہندوستان وغیرہ میں بھی یہ سلسلہ شروع کردیا گیاہے، دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے اور سرکار کے رویے سے پورا ہندوستانی سماج،جہاں کچھ اخلاقی،سماجی اقدار ہیں، اضطراب واذیت میں مبتلا ہوگیاہے، ہماری تمام ان تنظیموں، افراد اوراداروں سے اپیل ہے کہ وہ ہم جنسی کے راستے سے،اخلاقی، جنسی انارکی او ربحران کی طرف سماج کو جانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں، خاص طور سے وہ لوگ،جو مذہب، مسلمہ سماجی روایات او رمقدس انسانی رشتوں پر یقین رکھتے ہیں،وہ پوری قوت کے ساتھ سامنے آئیں،اس سلسلے میں مذہبی پیشواؤں اور نمائندوں کی ذمے داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ بھیانک تباہی کی طرف سماج کو جانے سے بچائیں اورلوگو ں کو اس سے اگاہ اور روشناس کرائیں۔

محترم حضرات!ادھر کچھ دنوں سے وندے ماترم کے نام پر فرقہ ورانہ نفرت و تشدد پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے،ایک نوزائیدہ تنظیم نے اپنے آپ کو سامنے لانے کے لیے دارالعلوم دیوبند کے ایک فتوے کا سہار ا لیا اور اپنے موقف کو پرتشدد انداز میں پیش کیا،حتی کہ دارالعلوم کاپتلا نذر آتش کرنے کا اشتعال انگیز کام کیا، افسوس کی بات ہے کہ اسے اس مذموم حرکت سے نہیں روکا گیا، اب اس نوزائیدہ تنظیم کے سُر وہ تنظیمیں بھی ملا رہی ہیں،جن کا تعلق آر ایس ایس او ربی جے پی ہے، بی جے پی کے ایک لیڈر نے یہاں تک دھمکی دی کہ جو وندے ماترم نہیں گاتے وہ ہندوستان سے چلے جائیں یہ فاشزم او رفسطائیت کی علامت ہے، جب کہ عدالت عالیہ کا فیصلہ بھی آچکا ہے کہ وندے ماترم کے گانے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ جمعیۃ علماء ہند اور دیگر مؤقر مسلم ادارے وندے ماترم کے سلسلے میں اپنا موقف پوری صراحت اور قوت کے ساتھ پیش کرچکے ہیں، جمعیۃ علماء ہند نے متعدد بار اس کی وضاحت پیش کی ہے کہ مسلمان اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، جس کا انہوں نے ہمیشہ او رہر موقع پرثبوت دیا ہے، لیکن وہ وندے ماترم نہیں گا سکتے ہیں،کیونکہ یہ عقیدہ توحید کے منافی ہے،جس پر مسلمانوں کے ایمان کا دارو مدار ہے، ہم واضح کرناچاہتے ہیں کہ وندے ماترم پر حب الوطنی اوروطن پرستی منحصر نہیں ہے، وندے ماترم سے پہلے بھی لوگ وطن دوست ہوتے تھے، وندے ماترم ایک خاص پس منظر میں مسلم دشمنی پر مبنی گیت ہے جو بنکم چندر چٹرجی کے ناول ’آنند مٹھ‘ کا حصہ ہے، مسلم شعرا اور اہل علم نے مختلف انداز میں وطن دوستی کے گیت گائے ہیں، ڈاکٹر اقبال کا ترانہ ہندی اور جمیل مظہری کی نظمیں وطن کی تعریف اور اظہار تعلق لاجواب ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ مسلمان صرف اللہ کی بندگی اور عبادت کرسکتا ہے، بار بار کیوں اس کے عقیدے کے خلاف ”وندے ماترم“ گانے کو موضوع بنایا جاتاہے؟ جہاں تک وطن سے محبت و تعلق کا سوال ہے،تو یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، وطن دوستی ہماری فطرت او رایمان ہے،لیکن اسے ہم معبود کادرجہ نہیں دے سکتے ہیں، ماں کی عزت اوراحترام تو ضروری ہے،لیکن اس کی پرستش اور پوجا نہیں کی جاسکتی ہے، اس کے پیش نظر ہم دارالعلوم دیوبند کے فتوے کی مکمل تائید کرتے ہوئے یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ مسلمان وندے ماترم نہیں گا سکتے او رحکومت پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ جو فرقہ پرست تنظیمیں و افراد وندے ماترم کے بہانے ملک کی امن وامان کو خراب کرناچاہتی ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔

سامعین عظام! فرقہ وارانہ فسادات او ران کے نتیجے میں ہونے والے بھاری جانی، مالی نقصانات اور فرقوں کے درمیان نفرت و کشیدگی ملک کی ترقی او رنیک نامی میں بھاری رکاوٹ ہے،کوئی بھی ملک باہمی اتحاد او رامن کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا ہے، فرقہ وارانہ فسادات جہاں ملک کو پیچھے او رپسماندگی کی طرف لے جاتے ہیں، وہیں ان سے ملک کی بدنامی اور رسوائی بھی ہوتی ہے، ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی ایک طویل فہرست ہے،ان میں زیادہ تر نقصان کمزوروں،اقلیتوں،خصوصاً مسلمانوں کا ہوتاہے،یہ بات بہت شرمناک ہے کہ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے بے خبر رہتے ہیں، اس دوری اور فرقہ وارانہ فسادات کاسلسلہ ختم کرنا ایک ضروری مسئلہ ہے، جمعیۃ علماء ہند ہندومسلم اتحاد،دوقومی نظریے کی مخالفت اور باہمی تعلقات کو استوار کرے کے مقصد سے بہت سے اقدامات اور مسلسل کوششیں کرتی رہی ہے، اس سال بھی ملک کے مختلف حصوں میں فسادات ہوئے ہیں، جب تک فسادات کو روکنے کے کوئی ایسا مؤثر قانون نہیں بنایا جاتا، جس میں فسادات کی ذمے داری،ضلعی انتظامیہ،اعلیٰ حکام اور مقامی پولیس عملے پر ہو، تب تک ملک فرقہ وارانہ فساد سے پاک نہیں ہوسکتا ہے،مختلف کمیشنوں نے جن گروہوں اور تنظیموں کو فسادات کے لیے قصوروار او رذمے دار ٹھہرایا،ان کے خلاف کارروائی نہ ہونابھی فسادات کی اہم ترین وجہ ہے، حالانکہ آئین کی دفعہ 21کے تحت اپنے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی لازمی ذمے داری ہے،اس طرف جمعیۃ علماء ہند ارباب حکومت کو برابر متوجہ کرتی رہی ہے،سپریم کورٹ اور ہائی کور ٹوں کے متعدد فیصلوں میں حکومتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان ومال اور ان کی آزادی کا تحفظ کریں، اگر کوئی حکومت اس فرض کی ادائیگی میں ناکام رہتی ہے،تو معاوضہ کی ادائیگی پرلازم ہے، اس مسئلے کو لے کر جمعیۃ علماء ہند ”ملک و ملت بچاؤ تحریک“ اور ”دستخطی مہم“ چلاچکی ہے،لیکن اس سمت میں ابھی تک کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے، یوپی اے سرکار نے حالانکہ اپنے اقل ترین پروگرام میں فسادات کی روک تھام کے لیے جامع او رمؤثر قانون بنانے کا وعدہ کیاہے، اس کی سرکار دوبار ہ اقتدار میں آچکی ہے اور سودن پورے ہوکر آگے کاسفر جاری ہوچکا ہے، لیکن افسوس ہے کہ فسادات کی روک تھام او رمعاوضہ کی ادائیگی کے لیے قانون ابھی تک نہیں بن سکا ہے،ہمارا اس عظیم الشان اسٹیج سے مطالبہ ہے کہ حکومت فسادات کی روک تھام او رمعاوضہ کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر قانون بنائے او راس کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں۔

محترم حضرات! مسلمانوں کی نمائندگی مختلف شعبوں میں روز بروز کم اور بعض شعبوں میں صفر ہوگئی ہے او راس سلسلے میں گزرتے دنوں کے ساتھ صورت حال اور بھی خراب ہوتی جارہی ہے، حالیہ عام انتخابات میں مسلم نمائندگی پہلے کے مقابلے میں بھی کم ہوگئی ہے، اس سے سماجی توازن بگڑنے کے ساتھ مسلم اقلیت میں مایوسی کو بھی بڑھاوامل رہا ہے،متوازن او رمثبت ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں رہنے والے مختلف فرقوں او رمذاہب کے لوگوں کی مناسب نمائندگی ہو، اسی کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہند نے دستخطی مہم چلاکر 21لاکھ 22ہزار 5سو 71 دستخطوں کے ساتھ ایک میمورنڈم صدر جمہوریہ کو 8مارچ1999ء کو پیش کرچکی ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کی تحریک تو کھڑی ہوگئی اور آندھرا پردیش جیسے صوبے میں اس سمت میں جزوی پیش رفت بھی ہوئی ہے،مختلف سیاسی پارٹیاں بھی مسلمانوں کو،خصوصاً محنت کش مسلم برادریوں اور طبقات کو ریزرویشن دینے کی حمایت بھی کررہی ہے، لیکن عملاً ابھی تک اس سمت میں ایسا کچھ نہیں کیا جاسکا ہے، جس سے مسلمانوں کی نمائندگی کے تعلق سے اسے امید افزا کہا جاسکے،پرائیویٹ سیکٹروں میں ریزرویشن دینے کی بات چل تورہی ہے،لیکن اس میں مسلمان پیش نظر نہیں ہے، بات زیادہ ترپسماندہ ذاتوں او رقبیلوں کو سامنے رکھ کر ہورہی ہے،مسلم اقلیت،خصوصاً محنت کش برادریوں کو نظر انداز کیا جارہاہے،1950 ء کے صدارتی آرڈی نینس کے ذریعے آئین میں دفعہ 341 جوڑ کر آئینی بھید بھاؤ کو بڑھاوا دیا گیا ہے او رمحض مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کی دفعہ 341 کے تحت فوائد حاصل کرنے والوں کے زمرے سے باہر کردیا گیاہے، اس بات کی شدید ضرورت ہے اس دفعہ میں ترمیم کر کے تعلیمی، سماجی پسماندگی کے پیش نظر کو بھی اس زمر ے میں شامل کیا جائے،رنگاناتھ مشرا کمیشن نے بھی اس کی سفارش کی ہے، اگر مسلمانوں کو ریزرویشن اور دفعہ 341 کے زمرے میں شامل کرنے کی راہ میں کوئی آئینی رکاوٹ ہے، تو اسے فوری طور ر دور کیا جائے، ہمارا سردست مطالبہ ہے:

(1) کہ مرکزی سرکار اور صوبائی سرکار یں مسلمانوں کو کرناٹک کے طر ز پرریزویشن دیں، جہاں انہیں بحیثیت مسلمان،بحیثیت ذات برداری او رمیر ٹ کی بنیاد پر ریزویشن مل رہا ہے۔

(2) ایک صورت ریزرویشن کی جمعیۃ علماء یہ بھی برابر پیش کرتی ہے کہ بالائی طبقے کو مستثنیٰ کرکے تمام مسلمانوں کو پسماندہ قرار دے کر ریزرویشن دیا جائے۔

(3) منڈل کمیشن کے تحت ساڑھے ستائیس فیصد میں مسلم اوبی سی کا کوٹہ الگ کردیا جائے۔

(4)آئین کی دفعہ 341 میں ترمیم کر کے اس میں مسلم پسماندہ محنت کش برادریوں کو بھی شامل کیا جائے، اس دفعہ میں مذہب کی قید آئین کی روح او رانصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔

سامعین عظام! مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دینے پر سرکار کو توجہ دینی چاہئے،اس کے بجائے خواتین کو 33فیصد ریزرویشن کی بات بے وقت کی راگنی ہے،اگر 33فیصد ریزرویشن خواتین کو دیا جائے تو سیاسی،سماجی توازن بگڑجائے گا او رمسلمانوں،اقلیتوں،دلتوں کی نمائندگی موجودہ نمائندگی سے بہت زیادہ کم ہوجائے گی او راس کا فائدہ اسی طبقے کو ملے گا، جس کا آج بھی ملک کے کلیدی شعبو ں پر قبضہ ہے، پسماندہ طبقات او رقبائلیوں کو پہلے سے 22 فیصد ریزرویشن انتخابات میں ملا ہواہے، 33فیصد خواتین ریزرویشن کے بعد 55 فیصد سیٹیں ریزرو ہوجائیں گی، 45فیصد جنرل سیٹوں کے لیے کس کس کو ٹکٹ ملے گا اور کتنی کتنی نمائندگی ہوگی؟جس شکل میں خواتین بل کی بات سامنے آرہی ہے، اس کا فائدہ صرف اعلیٰ طبقات کی خواتین کو ملے گا، جب کہ انہیں ریزرویشن کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے، خواتین کا ریزرویشن ہونے سے سماجی، تعلیمی طور سے پسماندہ افراد کی نمائندگی پہلے سے بھی کم ہوجائے گی،ملک کے موجودہ سماجی حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ نمائندگی کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے، جس سے پسماندہ طبقات او راقلیتوں میں بھی پسماندہ او رمحنت کش طبقات او رعلاقو ں کی نمائندگی کا تحفظ ہو، ریزرویشن دے کر عمومی سیاسی دھارے میں لانے سے سماجی ابتری پیدا ہوگی اور خواتین کے تحفظ کے لیے مسئلہ پیدا ہوگا، انتخابات میں ریزرویشن او رکوٹے کو زیادہ اثر ان انتخابی حلقوں پر پڑرہاہے،جہاں مسلما ن قابل ذکر تعداد میں یا مؤثر ہیں، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسی سیٹوں کو ریزرو سیٹوں کو ریزرو کردیا گیاہے، اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہی ہے تو سیاسی پارٹیاں ان کی حصے داری اپنی پارٹی کے اندر مقرر کریں، یہ خوش آئند بات ہے کہ ملک کی اہم سیاسی پارٹیوں نے موجودہ شکل میں بل کی مخالفت کی ہے، ملک میں جو حالات چل رہے ہیں،ان کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کو موجودہ شکل میں خواتین ریزرویشن بل منظور نہیں ہے۔

سامعین کرام! ملک میں پائی جانے والی 6لاکھ سے زائد اوقاف کی جائداد وں کے تحفظ کامسئلہ انتہائی اہم ہے،اگر موقوفہ جائدادوں سے ہونے والی آمدینوں کوو قف کرنے والے کے منشا اور شریعت کے مطابق صحیح مصارف میں خرچ کیا جائے تو مسلمانوں کے بڑے بڑے مذہبی، سماجی، فلاحی، تعلیمی اور ترقیاتی کام ہوسکتے ہیں،لیکن افسوس کہ پورے ملک میں موقوفہ جائدادوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، بے شمار موقوفہ جائدادوں پر غیر سماجی عناصر،زمینی مافیا، انتظامیہ کے بدعنوان افراد، حتی کہ سرکار اور عوام کابھی ناجائز قبضہ ہے، وقف بورڈ کے بدعنوان عملہ کی طرف سے بھی موقوفہ جائدادوں کو اونے پونے داموں میں فروخت کردینے کا سلسلہ جاری ہے،ممبئی میں ایک بڑی کمپنی کو وسیع موقوفہ اراضیبیچ دینے کا معاملہ گذشتہ دنوں سامنے آیا تھا، ملک کے دیگر صوبوں او رعلاقو ں میں بھی موقوفہ جائداد پر قبضہ اور عمارتیں،دفاتر کی تعمیر کی گئی ہے، سیاسی پارٹیوں او رسرکاری عملے کا قبضہ بھی ان پر ہے، اس سلسلے میں معاملے کو اس قدر پیچیدہ او رمشکل بنادیا گیا ہے کہ اس سمت میں کی جانے والی کوئی بھی کوشش ثمر آور نہیں ہوتی ہے، جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ اوقافی جائدادوں کے تحفظ او ران سے ہونے والی آمدنیوں کو صحیح مصارف میں خرچ کرنے کو لے کر جد وجہد کرتی رہی ہے،خاص طور سے حضرت فدائے ملتؒ ایوان بالا او راس سے باہر موقع پراوقاف کے تحفظ کی طرف سرکار او رمتعلقہ ذمے داروں کو متوجہ کرتے رہے ہیں، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں اس کااظہار کیا ہے کہ بورڈوں کی کارکردگی کے معائنے میں ریاستی سرکار ناکام رہی ہے اور وقف کے انتظام میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے اور جو وقف ایکٹ بنایا گیا ہے، اس کی خلاف ورزی او روقف کی قیمتی املاک پر ناجائز قبضے کے معاملے میں خاموش تماشائی بنی رہی ہے،جناب کے،رحمن خان کی سربراہی میں بنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے جو سفارشات اورتجاویز پیش کی ہیں،ان پر فوری توجہ دیتے ہوئے اوقاف کے تحفظ کی سمت میں مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

بھی خواہان ملک و قوم!آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ملک کے دروبست پرفاشسٹ طاقتوں کا غلبہ بڑھتا جارہا ہے، جس کی وجہ سے امن اوردستور میں مندرج انصاف،قانون، مساوات اور اعلیٰ قدروں کو سخت خطرہ ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے حسب استطاعت اس کوشش کا آغاز کیاہے کہ ملک کا نظام مکمل طور پر فاشسٹ طاقتوں کے ہاتھوں میں نہ جانے پائے، یہ ملک حقیقت میں اقلیتو ں کی اکثریت کا ہے اس لیے وہ ملک کی اقلیتوں کو متحد کرنے کے لیے کوشاں ہے،ملک کے مختلف مقامات پر اس سلسلے میں متعدد کانفرنسیں اور اجلاس کیے جاچکے ہیں، حیدر آباد، کانپور او ردہلی وغیرہ میں دلت مشترکہ اقلیت اجلاس ہوئے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس اتحاد اوریکجہتی کی راہ میں مزاج ومذاق کے علاوہ دیگر دشوار یاں حائل ہوں گی، مگر مصلحت قوم و ملک کا تقاضا ہے کہ ہم ان دشواریوں کو انگیز کرکے اس اتحاد کو مضبوط بنائیں۔ اسی کے مدنظر جمعیۃ علما ء ہند نے دلتوں او رپسماندہ طبقات سے تعلقات استوار کرنے کا سلسلہ شروع کیا، اس کے تحت مشترکہ کھان پان کے پروگرام بھی کیے،ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے کو مزید مستحکم کر کے آگے بڑھایا جائے، حضرت فدائے ملتؒ اس معاملے میں بہت سنجیدہ تھے، ملک کے بدلتے سیاسی، سماجی حالات او راقلیتوں اور دلتوں کے اتحاد کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے۔

عرب فلسطینیوں کی مظلومی و مقہوریت،امریکی و برطانوی سازش اور اسرائیلی کے ظلم و جارحیت او رعربوں کی زمین پرقبضہ کرنے کے ناپاک خواہشات کی علامت بن چکی ہے، جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ اسرائیل کے عزائم و اقدامات کی مذمت و مخالفت اور فلسطینیوں کے حق و مطالبہ کی حمایت کی ہے،اس وقت خطے میں حالات بہت دھماکہ خیز ہیں،اسرائیل کی طرف سے وہاں (غازہ پٹی میں) مسلسل محاصرہ ہے، مسجد اقصیٰ کا وجود معرض خطرے میں ہے،اسرائیل اپنے ناپاک مقصد کے تحت اس کو ختم کردینے کے درپے ہے،گذشتہ دنوں امریکی صدر باراک اوبامہ او رامریکی وزیر خارجہ نے قضیہ فلسطین کے حل کی سمت میں پیش قدمی کی بات کہی تھی، لیکن عملاً اس سمت میں کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیاہے، اسرائیل بے اختیار غیر مصلح فلسطین کی کررہا ہے،جب کہ کسی بے اختیار او رغیر مسلح حکومت کا تصور سراسر بے معنی ہے،ادھر حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے، اسرائیل،روڈ میپ اور معاہدہ امن کی خلاف ورزی مسلسل کرتا آرہا ہے،اقتصادی ناکہ بندی او رمختلف پابندیوں سے فلسطینیوں کی اذیتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے،آج بھی فلسطین کی صورتحال تشویشناک ہے،یہ بات افسوسناک ہے کہ عالم اسلام او رعرب ممالک اسرائیل کو جارحیت سے روکنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈال پارہے ہیں،یہ بات عالم اسلام کے لئے شرمناک اور انسانی لحاظ سے خوش آئند ہے کہ فلسطینیوں کی بے کسی کا احساس ان لوگوں نے کیا جن کی غالب اکثریت غیر مسلم ہے، یہ افسوسناک او رقابل توجہ امر ہے کہ امریکی صدر اور وزیر خارجہ کے کہنے کے باوجود اسرائیل نہ تو فلسطینی علاقوں سے یہودی بستیاں ہٹانے کے لیے تیار ہے نہ نئی بستیاں بسانے پر روک لگا رہا ہے، 6مختلف مقامات پر 400سے زائد مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے، جب کہ ڈھائی ہزار مکانات کی تعمیر پہلے ہی سے جاری ہے، 1967 ء میں غرب اردن او رمشرقی یروشلم کے قبضے کے بعد سے 100بستیوں میں 5لاکھ یہودی آباد ہوئے ہیں، بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ تمام بستیاں غیر قانونی ہیں۔ امید ہے کہ حالات میں دیر سویر تبدیلی ہوگی، عالمی سطح پر قیام امن میں فلسطین کا مسئلہ اہم رول ادا کرے گا، فلسطینیوں کی آزادی اور باعزت زندگی اور خودمختار ریاست کے قیام سے عالمی سطح پر حالات میں تبدیلی کے قوی امکانات ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ امریکہ،روس او رعالمی برادری ایک خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنے وعدے کے مطابق تعاون کریں، بے گھر اجڑے فلسطینی عوام کی بازآباد کاری اور گھر واپسی کے لیے راہ ہموار کی جائے، عرب مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل خالی کردے۔ اس سلسلے میں ہندوستانی حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، یہ افسوس ناک بات ہے کہ اسرائیل اورفلسطین کے سلسلے میں ہندوستان کی پالیسی میں امریکہ اوراسرائیل کے دباؤ سے تبدیلی او رانحراف پیدا ہوگیا ہے،گاندھی،نہرو او رملک کی سابقہ روایت و پالیسی کو نظر انداز کرکے اسرائیل سے حد سے زیادہ قربت و موافقت کی راہ پر حکومت گامزن ہے،اس کے پیش نظر ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندوستان،مظلوموں،کمزوروں کی اعانت و حمایت کی سابقہ پالیسی پر چلے۔

حضرات علماء کرام وفکر مندان ملت! یہ امر سخت تشویش کا باعث ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں قادیانیوں او ردیگر عناصر کے ذریعہ منظم انداز میں ارتدادی تحریکات جاری ہیں۔ ملک کے مختلف حصو ں میں یہ ارتدادی سرگرمیاں پوری قوت سے چل رہی ہیں، مسلم نوجوان خاص طور پر ان کے نشانے پر ہیں، ان سرگرمیوں سے وابستہ افراد اچھے مستقبل کے خواب دکھا کردین سے ناواقف جدید تعلیم یافتہ لڑکے لڑکیوں کو اپنے دام فریب میں گرفتار کرتے ہیں اور ان کے لئے ہر طرح کے اسباب عیش مہیا کر کے انہیں مرتد بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ان واقعات سے متاثر ہونے والے کئی نوجوان گذشتہ دنوں بعض علماء کی ہوش مندی سے دوبارہ مشرف بہ اسلام ہوئے،لیکن کتنے ایسے نوجوان ہوں گے جو ان کے دام فریب میں پھنس کر اپنا دین وایمان تباہ کرچکے ہوں گے، ہم اس کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے، اس لیے ہمیں ہر جگہ چوکنا اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کی بھی ضرورت ہے کہ قادیانیت جیسی کش تحریک کا پوری مستعدی سے مقابلہ کیا جائے۔ دارالعلوم دیوبند میں کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت قائم ہے، اس سے ربط کر کے متاثر ہ علاقوں میں اجتماعی طور پر کام کیا جائے، اور پڑھے لکھے سمجھدار لوگوں تک ردقادیانیت کے متعلق اپنا لٹریچر پہنچا یا جائے، تاکہ اپنے مسلم بھائیوں کادین وایمان محفوظ رکھا جاسکے۔ قادیانیوں کی سرگرمیوں سے ملک کے مختلف حصوں میں بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں،جمعیۃ علماء ہند ایسے معاملات میں اگرچہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر کسی بھی کارروائی کو روا نہیں سمجھتی،لیکن حکومت کو اس جانب توجہ دلانا ضروری سمجھتی ہے کہ وہ قادیانی فرقہ کی اشتعال انگیزیوں پر ہر جگہ روک لگائے،تاکہ رد عمل میں کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہ آئے۔

حضرات گرامی! جمعیۃ علما ء ہند نے ماضی میں ”دینی تعلیمی بورڈ“ قائم کر کے دین وملت کی بقا او رنئی نسل کے ایمان کی حفاظت کے لئے عظیم کارنامے انجام دئے ہیں، افسوس ہے کہ یہ کام جس منظم انداز میں شروع ہوا تھا او را س کے مفید ثمرات سامنے آئے تھے سید الملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندیؒ سابق ناظم جمعیۃ علماء ہند کی وفات کے بعد سے وہ ضرورت اور تقاضوں کے مطابق اپنی افادیت برقرار نہیں رکھ سکا،آج کے ماحول میں جب کہ عصری تعلیم کی طرف قومی رجحان روز افزوں ہے ایسے بورڈ کی شدید ضرورت تھی جو تعلیمی معیار او رضرورتو ں کا باریکی سے جائزہ لیکر قوم و ملت کی رہنمائی کرسکے اور اس بورڈ کے تحت فوری طور پر درج ذیل اموار انجام دئیے جائیں:

(1) جو مکاتب ملک کے طول وعرض میں چل رہے ہیں ان کو بورڈ سے باقاعدہ ملحق کر کے دینیات کے نصاب میں یکسانیت پیدا کی جائے۔

(2) بچوں کے معیار کے مطابق مختلف زبانوں میں نصابی کتابیں اور لٹریچر مہیا کیا جائے۔

(3) او رملحق مکاتب او رادارو ں کے امتحانات میں یکسانیت لائی جائے۔

(4)تعلیم بالغان کے لئے فاصلاتی تعلیمی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مربوط نظام قائم کیا جائے۔ اس ضرورت کے پیش نظر انتیسویں اجلاس عام کے موقع پر ”دینی تعلیمی بورڈ“ کے احیاء کی تجویز منظور کی گئی، اس کے مطابق ”دینی تعلیمی بورڈ“ کی تشکیل عمل میں آگئی ہے،اس سمت میں ابتدائی اقدامات کیے گئے ہیں، ضروری امور پر غور بورڈ کو فعال بنانے کے لیے متعدد میٹنگیں ہوچکی ہیں اور قدرے پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ مزید سرگرمی سے کام لیا جائے،جمعیۃ علماء ہند اس سلسلہ میں ہر ممکن جدوجہد کرنے کا پورا عزم رکھتی ہے اور ملک کے فکر مند اصحاب کے تعاون پر یقین رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کام کرنے والے افراد اوراسباب مہیا فرمائیں،آمین۔

فنی، سائنسی تعلیم کی ضرورت موجود ہ دور میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ ملک کے ہر صوبے میں سخت اور قربانی دے کر ذیل کے یہ چند ادارے بنائیں:

(1) میڈیکل کالج (2) سائنس کالج (3) لاء کالج (4) کامرس کالج (5) ٹیچرس ٹریننگ کالج (6) آئی ٹی آئی (7) پولی ٹیکنک (8) الائڈ سائنس (9) ڈائیکنوسٹک سنٹر۔

اس سمت میں جمعیۃ علماء ہند نے حضرت فدائے ملتؒ کے وقت سے خاص پیش رفت کی ہے، ملک کے مختلف حصوں میں کمپیوٹر سینٹر،آئی ٹی آئی قائم کیے گئے، ووکیشنل سینٹر کا قیام عمل میں آچکا ہے، کلاسیں جاری ہوگئی ہیں، طبی امداد او رمیڈیکل تعلیم،مفتی کفایت اللہ ڈائیکنوسٹک سنٹر کی تعمیر ہوکر کام شروع ہوگیا ہے۔ جمعیۃ کالج آف فارمیسی،جمعیۃ مہیلا پی ٹی سی کالج، جمعیۃ ویمن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر، جمعیۃ چلڈرن ولیج،مدنی گرلز ہاسٹل،حاجی پیرز کریا انگلش میڈیم پرائمری اسکول، حاجی پیرزکریا گجراتی میڈیم پرائمری و سکنڈری اسکول تیار ہوکر کام شروع ہوگیا ہے۔

معززاراکین گرامی! کسی بھی جماعت کے لیے افراد ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جماعت کی ترقی کا مدار مخلص کارکنان پر ہی ہوتا ہے،تنظیم کے مقاصد کتنے ہی اعلیٰ کیوں نہ ہوں اگر اس کا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط نہیں ہے تو وہ کبھی بھی اپنے عزائم کو روبہ عمل نہیں لا سکتی، اس لیے میں تمام ہی اراکین و متعلقین سے گذارش کروں گا کہ وہ جماعت کی تنظیم کو مستحکم کرنے پر بھرپور توجہ دیں اور کوئی بھی تنظیم اس وقت تک مستحکم نہیں ہوسکتی جب تک کہ اپنے تعمیر پروگراموں پر بھرپور توجہ نہ دے،ہماری جماعت کے اکابر کے نزدیک تعمیری پروگراموں کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ انہیں باقاعدہ دستور اساسی کا جزو بنا دیا ہے۔

میرے محترم! یہی تعمیری پروگرام ہماری جماعت کی اصل روح ہیں او رجو اکائیاں باقاعدگی سے انہیں عمل میں لاتی ہیں انہیں عوام و خواص میں بے مثال پذیر ائی او رقبولیت حاصل ہوتی ہے،دیگر اکائیوں کو بھی ان کی تقلید کرنی چاہئے۔

حضرات! آخر میں سمع خراشی کے لیے آپ سے معذوت خواہ ہوں اور آپ حضرات کی مساعدت وعنایت کے لیے شکر گزار ہوں،وقت کے مسائل و مشکلات او رمختلف قسم کی آزمائشوں کے تعلق سے آپ کی توجہ پھر اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں گا کہ ہم خدا ہی کو تمام مشکلات کا حل کرے والا او راس کو کار ساز حقیقی سمجھ کر پورے یقین و اذاعان کے ساتھ اس پر بھروسہ کریں اور استقامت کے ساتھ اپنی دینی، ملی، قومی، انفرادی، اجتماعی،معاشی اوراقتصادی حالت سنوارنے کے لئے سرگرم عمل ہوجائیں،ملکی قومی و آئینی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی اپنی جدوجہد میں جمہوریت پسند، ملک دوست بردران وطن کو ساتھ لیں،اس متحدہ طاقت کے ساتھ آگے بڑھیں، انشاء اللہ کامرانی آپ کا استقبال کرے گی۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/qari-syed-usman-mansoorpuri/terrorists-are-criminals-president-jamiat-ul-ulema-e-hind-دہشت-پھیلانے-والے-فسادی-ہیں/d/2034


Loading..

Loading..