New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 05:19 AM

Urdu Section ( 4 Dec 2015, NewAgeIslam.Com)

The Spiritual Nizami Court Is Superior to the Royal Court of Ala-ud-din Khilji علاؤالدین خلجی کے دربار سے بھی اعلیٰ دربار نظامی

 

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

4 دسمبر، 2015

انسانیت ظلم و جبر اور جہالت کے سمندر میں جب غرق ہوگئی تو ہمیشہ کی طرح خالق ارض و سماء کو دکھی تڑپتی انسانیت پر ترس آیا اور اپنے محبوب سرتاج الانبیاء کو عرب کی سرزمین پرنجات دہندہ کے طور پر بھیجا سرورکائنات کی آمد کے بعد اور آپ کے دنیا فانی سے جانے کے بعد آج تک مسلمانوں نے اسلام کی اشاعت کے لیے دنیا کے کسی بھی خطے کو اپنی برکات سے محروم نہیں رکھا۔ مسلمان جہاں بھی گئے انسانیت نواز ثقافت اپنے ساتھ لے کر گئے، علم انسان سازی اور خدمت خلق ان کا طرہ امتیاز رہاہے۔مسلم فاتحین نے جب ہندوستان کا رخ کیا تو ان کے ساتھ اہل ہنر کےساتھ صوفیا ء کرام بھی آئے  صوفیاء کرام کی مقدس جماعت کے عظیم صوفی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ اسی سلسلے میں اجمیر شریف وارد ہوئے ۔ یہ وہ چشمہ معرفت تھا جس سے کروڑوں لوگوں نے اپنی بے نور پیاسی روحوں کی پیاس بجھائی۔ خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے فیض خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ ان سے بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ اور پھر بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ سے یہ فیض حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کو منتقل ہوا آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وقت کے فاضل ترین اساتذہ سے حدیث فقہ اصول تفسیر اور علم ہند سہ کی تعلیم حاصل کی اور پھر بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ سے روحانی تعلیم حاصل کی ، عوام میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مقبولیت کا یہ عالم تھاکہ قیامت تک کےلیے محبوب الہی قرار پائے۔

خالق بے نیاز نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی عبادت ریاضت اور مجاہدے کےبعد اپنا قرب خاص عطا کیا اور شہرت کا وہ مقام بخشا کہ قیامت تک کے لیے امر ہوگئے۔ ہزاروں بندگان ِ خدا ہر وقت آپ کے آستانہ عالیہ پر جمع رہتے ، ہزاروں بھوکے آپ کے لنگر سےاپنے پیٹ کی آگ بجھاتے ، آپ رحمۃ اللہ علیہ کےلنگر کی یہ خصوصیت تھی کہ غیر مسلموں کےلئے سبزی دال کالنگر بنایا جاتا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی شہرت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے در پر جو بھی آتا ہر قسم کی ضرورت سے بےنیاز ہوجاتا۔ دنیاوی مسائل سے ستائے ہوئے ہزاروں مجبور بے بس لوگ اپنی جھولیا ں پھیلائے آپ کے در اقدس پر آتے اور اپنی جھولیاں مرادوں سےبھر کر لوٹتے۔ جب بھی کوئی پریشان حال شخص سےکوئی پوچھتا کہ تم کہاں جارہے ہو تو وہ بے اختیار پکار اٹھتا میں شہنشاہ کے پاس جارہا ہوں ، سننے والا دوبارہ پوچھتا بادشاہ علاؤالدین خلجی کےدربار میں جارہے ہو تو جانے والا کہتا میں کسی بادشاہ کو نہیں جانتا میرے سلطان اور شہنشاہ تو حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی ہیں میں ان کے دربار جارہا ہوں ۔

 دربار نظامی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرت چاروں طرف پھیل چکی تھی ۔ یہاں تک کہ عوامی حلقوں میں حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کو ہی حقیقی بے تاج بادشاہ کہا جانے لگا ۔ پھر اِن آوازوں میں اتنی شدت پیدا ہوگئی کہ بادشاہ علاؤالدین خلجی کی سماعت بھی ان سے محفوظ نہ رہ سکی، حاسدوں نے بادشاہ سے کہنا شروع کردیا کہ حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کے ہزاروں مرید ین ہیں اور وہ کسی وقت بھی لشکر کا روپ دھار سکتے ہیں اور عوام بھی اصل دربار شاہی اور بادشاہ حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کو سمجھتی ہے۔ اور اگر بادشاہ نے اس طرح توجہ نہ دی تو کسی دن یہ بوریا نشین تخت ہندوستان کا وارث نہ بن بیٹھے ۔حاسدوں اور خوشامدوں نے دن رات اسی حاشیہ برداری سے بادشاہ کے ذہن کو منتشر کردیا اب وہ بھی پریشان نظر آنے لگا ۔ اب بادشاہ دن رات اس مسئلے کے بارے میں سوچتا رہتا کہ کس طرح پتہ چلاجائے کہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ اقتدار کی خواہش رکھتے ہیں یا نہیں کئی دن سوچنے کے بعد بادشاہ نے ایک طریقہ نکالا اور بہت چالاکی سے ایک مسودہ مرتب کرایا جس کا مضمون حسب ذیل تھا۔سلطان المشائخْ پوری دنیا کے مخدوم ہیں ۔ تمام ہند کے لوگ دنیاوی او رمذہبی معاملات میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس ملک کی حکومت مجھے بخشی ہے اور عوام کی ذمہ داریاں میرے سپرد ہیں اس لیے مجھ پر لازم ہے کہ میں تمام امور میں آپ رحمۃ اللہ علیہ سے مشورہ کروں براہِ کرم مجھے تحریر فرما دیجئے کہ میں کس طرح امور سلطنت چلاؤں او رکس کام میں میری سلطنت کی بہتری ہے اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ پوری کوشش کروں گا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کی تعمیل کر سکوں ۔

 پھربادشاہ نے اِس تحریر کو اپنے بیٹے خضر ِ خاں کے ہاتھوں حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں بھیجا۔ خضرِ خاں سلطانی تحریر کے ساتھ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کے درِ اقدس پر حاضر ہوا۔ خضر خاں شاہی مسودے اور مضمون سے بے خبر تھا ۔ اُس نے جاکر نہایت احترام سے سلطانی کا خط حضور رحمۃ اللہ علیہ کو پیش کردیا۔ محبوب الہٰی نے چند لمحے بند لفافے کو دیکھا اور کھولے پڑھے بغیر ہی بولے، بوریا نشین فقیروں کو شہنشا ہی کاموں سے کیا غرض ؟ میں ایک خاک نشین فقیر کی حیثیت سے تمہارے شہر میں رہتا ہوں اور پچھلے کئی سالوں سے یہی میرا طرز زندگی ہے، یہاں کے رہنے والوں کے لیے دعائے خیر کرتا ہوں اور میں جب تک زندہ ہوں یہ دعا کرتا رہوں گا اس کے باوجود اگر شہنشاہ ِ ہند کو میرے یہاں قیام پر اعتراض ہے تو پھر میں اس شہر کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر چلا جاتا ہوں کیونکہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ یہ بات کہہ کر خط پڑھے بغیر بادشاہ کے بیٹے کو واپس کردیا۔ اور پھر خضر خاں نے جاکر اپنے والد کو تمام تفصیلات بتا دیں ۔ بادشاہ حیران تھا کہ محبوب الہٰی نے خط پڑھے بغیر وہی جواب دیا جو خط میں درج تھا بادشاہ بہت زیادہ حیرت میں تھا اور اس طرح وہ حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی تصرف اور کشف سے بھی واقف ہوگیا۔

 پھر بادشاہ نے سب کے سامنے اعلان کیا ۔ جو لوگ مجھے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف اکسارہے تھے وہ ہمیشہ کے لیے اپنی گستاخ زبانیں بند رکھیں کیونکہ وہ تو واقعی بے نیاز مرد ِ قلندر ہیں، جنہیں میری سلطنت سے کوئی غرض نہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ وہ ایک بڑے گناہ سے بچ گیا ۔ یہ سن کر تمام حاسدوں کے منہ اتر گئے اور ان کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں ۔ پھر سلطان خلجی نے ایک معذرت نامہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیجا۔ کہ میں حضور رحمۃ اللہ علیہ کا تہہ دل سے معتقد ہوں مجھے  میری جرات بے باکی اور گستاخی پر معاف کیا جائے اور یہ اعزاز بھی بخشا جائے کہ میں خود حاضر ہوکر قدم بوسی کی عظیم سعادت حاصل کرسکوں جس کے جواب میں بے نیاز مرد قلندر نے کہا آپ رحمۃ اللہ علیہ کو میرے پاس آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں یہاں آپ کے لیے غائبانہ دعا کرتا رہا رہوں گا کہ کیونکہ غائبانہ دعا میں زیادہ تاثیر ہوتی ہے۔ ہندوستان کے بادشاہ نے جواب سنا تو بہت اداس ہوا اس کی زندگی میں حضرت محبو الٰہی واحد بزرگ جو نہ تو اُس کی نظر قبول کرتے تھے اور نہ ہی اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تھے۔ بلاشبہ دنیاوی بادشاہ تو علاؤالدین ہی تھا مگر دلوں اور روحوں کے حکمران تو محبوب الہٰی رحمۃ اللہ علیہ ہی تھے جن کے دربار میں ہزاروں سوالی اپنی جھولی پھیلائے آتے اور جھولیاں بھر لوٹتے دربار نظامی سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہ گیا ۔

4 دسمبر، 2015  بشکریہ : روز نامہ اخبار مشرق ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/professor-mohammad-abdullah-bhatti/the-spiritual-nizami-court-is-superior-to-the-royal-court-of-ala-ud-din-khilji--علاؤالدین-خلجی-کے-دربار-سے-بھی-اعلیٰ-دربار-نظامی/d/105513

 

Loading..

Loading..